Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1372

Chapter on What is Not Permissible During Prayer and What is Allowed

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on What is Not Permissible During Prayer and What is Allowed

Zujajat al-Masabih 1372Volume 1

English

Ata ibn Yasar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said Takbir in one of the prayers, then gestured to the people to wait. He left and returned with traces of water on his skin, then resumed the prayer. [Narrated by Muhammad in "Al-Muwatta"] Muhammad said: "This is the ruling we follow. If someone is afflicted with an occurrence during prayer, there is no harm in leaving without speaking, performing ablution, and resuming the prayer. However, it is better to speak, perform ablution, and start the prayer anew."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۳۷۲ - وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَبَّرَ فِي صَلَاةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنِ امْكُثُوْا، فَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ثُمَّ رَجَعَ، وَعَلَى جِلْدِهِ أَثَرُ الْمَاءِ، فَصَلَّى رَوَاهُ مُحَمَّدٌ فِي الْمُوَطَّأ»، وَقَالَ: وَبِهَذَا تَأْخُذُ ، مَنْ سَبَقَهُ حَدَثُ فِي صَلَاةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْصَرِفَ، وَلَا يَتَكَلَّمَ، فَيَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَبْنِي عَلَى مَا صَلَّى، وَأَفْضَلُ ذَلِكَ أَنْ يَتَكَلَّمَ وَيَتَوَضَّأَ، وَيَسْتَقْبِلَ صَلَاتَهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1566
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں کسی ایک نماز کو تکبیر تحریمہ کہہ کر شروع فرمائے (پھر حدث ہونے پر) اپنے دست مبارک سے صحابہ کو اشارہ فرمایا (جس کا مفہوم یہ تھا کہ ٹھیرے رہو) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مصلی سے چلے گئے پھر (وضوء فرما کر) ایسی حالت میں واپس ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد مبارک پر پانی کا اثر تھا پھر آپ نے (بناء کر کے) نماز پڑھائی۔ (یعنی تکبیر تحریمہ کہے بغیر جہاں سے نماز چھوڑی تھی وہیں سے نماز شروع فرما کر نماز کی تکمیل فرمائی۔) اس کی روایت امام محمد نے موطاء میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 111 (unverified) 30% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1) امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم اسی حدیث سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ جس کسی کا وضوء نماز کی حالت میں ٹوٹ جائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ نماز کی جگہ سے ہٹ جائے اور بات نہ کرے اور وضوء کر کے جو کچھ نماز پہلے پڑھ چکا ہے اسی پر بناء کر کے باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور افضل یہ ہے کہ بات کر لے اور وضوء کر کے نماز کو از سر نو شروع سے پڑھے۔ ف(2) ردالمحتار میں لکھا ہے کہ امام کو نماز میں حدث ہو جائے اور پانی مسجد میں موجود ہو تو وہ نمازیوں کو اشارہ سے ٹھہرا کر کسی کو خلیفہ بنائے بغیر نماز کی جگہ سے ہٹ کر وضو کرے اور واپس آ کر بناء کر کے باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور اگر پانی مسجد میں موجود نہ ہو تو امام کسی کو خلیفہ بنا کر خود وضوء کے لئے چلا جائے لیکن امام کے لئے خواہ پانی مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر ہو نماز میں حدث ہونے پر ہر حالت میں وضوء کے لئے جانے کے واسطے کسی کو خلیفہ بنا لینا افضل ہے۔