Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said, "None of you should intentionally pray at sunrise or sunset." In another narration, he said, "When the edge of the sun rises, refrain from prayer until it has fully risen. When the edge of the sun sets, refrain from prayer until it has fully set. Do not time your prayers with the rising or setting of the sun, for it rises between the horns of Satan."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے وقت نماز پڑھنے کا قصد نہ کرے۔
اور دوسری روایت میں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جب
آفتاب کا کنارہ طلوع ہو رہا ہو تو اس وقت نماز پڑھنا چھوڑ دو، یہاں تک کہ آفتاب خوب نمایاں طور
پر نکل نہ جائے اور اسی طرح جب آفتاب کا کنارہ ڈوب رہا ہو تو اس وقت سے لے کر آفتاب کے
غروب ہونے تک نماز چھوڑ دو، اور تم آفتاب کے عین طلوع اور عین غروب کے وقت نماز نہ پڑھا
کرو۔ کیونکہ آفتاب شیطان کے سر کے دونوں جانبوں کے درمیان سے طلوع کرتا ہے۔ (اس لئے
آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت شیطان آفتاب کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور ان اوقات میں
سورج کی عبادت کرنے والے جب عبادت کرتے ہیں تو ان کی عبادت بجائے سورج کے شیطان کو
ہو جاتی ہے اور چونکہ یہ مشرکین اور کفار کی عبادت کے اوقات ہیں اس وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نے مسلمانوں کو ان اوقات میں عبادت کرنے سے منع فرمایا تا کہ مشرکین اور کفار کی مشابہت سے دور
رہیں)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Abdullah al-Sunabihi (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said, "The sun rises with the horn of Satan. When it has risen fully, it separates from it. When it reaches its zenith, it rejoins it. When it declines, it separates from it. When it approaches sunset, it rejoins it. When it sets, it separates from it." The Messenger of Allah (peace be upon him) prohibited prayer during these times.
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ آفتاب جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے سر پر سے طلوع ہوتا ہے، پھر جب آفتاب بلند
ہو جاتا ہے تو شیطان اس سے جدا ہو جاتا ہے اور پھر جب ٹھیک دوپہر کے وقت بلند ہوتا ہے تو شیطان
آفتاب سے قریب ہو جاتا ہے، جب آفتاب ڈھل جاتا ہے تو شیطان اس سے جدا ہو جاتا ہے۔ (چونکہ یہ
تینوں اوقات شیطانی اوقات ہیں اور ان میں جو سورج کی پرستش ہوتی ہے وہ حقیقت میں شیطان کی پرستش
ہے) اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، (تا کہ
مشرکین سے مشابہت نہ ہو)۔ (اس حدیث کی روایت امام مالک، امام احمد اور نسائی نے کی ہے۔)
Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) prohibited us from praying or burying our dead during three times: when the sun is rising until it has fully risen, when the sun is at its zenith until it declines, and when the sun is setting until it has fully set. [Narrated by Muslim]
In Jam' al-Athar, it is mentioned that this prohibition applies to all places, times, and prayers. This is as mentioned in Al-Mirqat and Al-Hidayah. In Rad al-Muhtar, it is stated that the narrations prohibiting prayer except in Makkah are weak and cannot override the well-known rulings. Similarly, narrations that exclude Friday are rare and cannot be used to specify the general ruling. In Al-Ta'liq al-Mumajjad, it is mentioned that the narrations permitting voluntary prayers on Friday at midday do not match the narrations of prohibition in terms of authenticity. In Al-Binayah, it is reported from Abu Mas'ud that they were prohibited from praying during these times on Friday, and from Sa'id al-Maqburi that he found people prohibiting it.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ تین وقت ایسے ہیں
کہ جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو نماز پڑھنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ ان تینوں
اوقات میں مردوں کے دفن کرنے سے بھی منع فرمایا کرتے تھے۔ (تا کہ نماز جنازہ ان اوقات ممنوعہ
(1) ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن نصف النہار کے
وقت ہم کو نماز پڑھنے سے منع کیا جاتا تھا اور
(2) ابوسعید المقبری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمعہ
کے دن نصف النہار کے وقت لوگوں کو نماز پڑھنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔
(جامع الآثار، مرقات، ہدایہ، ردالمحتار، تعلیق ممجد، بنایہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 831 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
میں نہ پڑھنا پڑے، اس لئے کہ نماز جنازہ پڑھتے ہی میت کو دفن کرتے ہیں۔ اگر ان تینوں ممنوعہ
اوقات سے پہلے نماز جنازہ پڑھ لی گئی ہے تو ان تینوں اوقات میں مردوں کو دفن کرنا جائز ہے، منع نہیں
ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور اکثر ائمہ کا یہی قول ہے، ترمذی نے بھی اس حدیث کے یہی معنی
لئے ہیں، چنانچہ انہوں نے باب قائم کیا ہے ”بَابٌ فِى كَرَاهَةِ الصَّلٰوةِ عَلَى الْجَنَازَةِ عِنْدَ
طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوْبِهَا“ (آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت نماز جنازہ پڑھنے کی
کراہت کے بیان میں) (اور اس باب میں اوپر کی اسی حدیث کو نقل کیا ہے، وہ تین اوقات ممنوعہ یہ
ہیں): ایک جس وقت کہ آفتاب چمکتا ہوا نکل رہا ہو، یہاں تک وہ بلند ہو جائے۔ دوسرے ٹھیک
دوپہر کے وقت یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جائے۔ تیسرے جبکہ آفتاب غروب ہونے لگے یہاں
تک کہ وہ ڈوب جائے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تینوں اوقات ممنوعہ
میں نماز پڑھنے سے جو منع فرمایا ہے یہ ممانعت مطلقاً ہے یعنی کسی زمانہ یا جگہ اور کسی خاص نماز سے متعلق
نہیں، اس لئے ہر زمانہ اور ہر مقام میں تمام فرض اور نفل نمازیں خواہ ادا ہوں یا قضاء، نماز جنازہ ہو یا
سجدہ تلاوت، ان سب کا ادا کرنا تینوں اوقات میں ناجائز ہوگا اور اسی مطلقاً ممانعت کی وجہ سے مکہ
معظمہ میں بھی ان تین وقتوں میں ان تمام مذکورہ عبادات کا ادا کرنا ایسا ہی ممنوع ہوگا جیسا کہ دوسری
جگہوں میں ان عبادات کا ممنوعہ اوقات میں ادا کرنا منع ہے۔ اب رہا یہ کہ بعض حدیثوں سے مکہ معظمہ
میں ممنوعہ اوقات میں نمازوں کے پڑھنے کا جائز ہونا جو ثابت ہوتا ہے تو واضح رہے کہ یہ حدیثیں شاذ
ہیں اور اوپر کی وہ حدیث جس میں تین اوقات میں نمازوں کا ادا کرنا ممنوع ہے وہ مشہور حدیث ہے،
اور مشہور حدیث کے مطلق حکم کو شاذ حدیث سے مقید کر کے مکہ معظمہ کو مستثنیٰ نہیں کیا جا سکتا۔
اوپر کی اس حدیث کے مطلق حکم کی وجہ سے جمعہ کے دن بھی نصف النہار کے وقت نوافل اور
مذکورہ عبادات ویسے ہی ممنوع ہیں جیسے دوسرے دنوں میں نصف النہار کے وقت نوافل اور مذکورہ
عبادات ممنوع ہیں، جس کی تائید ان دونوں حدیثوں سے ہوتی ہے جن کو صاحب بنایہ نے بیان کیا ہے
وہ حدیثیں یہ ہیں:۔
Amr ibn Abasah (may Allah be pleased with him) narrated that when the Prophet (peace be upon him) arrived in Madinah, he went to him and asked, "Tell me about prayer." The Prophet (peace be upon him) said, "Pray the Fajr prayer, then refrain from prayer until the sun has fully risen, for it rises between the horns of Satan, and at that time the disbelievers prostrate to it. Then pray, for the prayer is witnessed and attended by angels until the shadow of a spear is at its shortest. Then refrain from prayer, for at that time Hell is stoked. When the shadow begins to lengthen, pray, for the prayer is witnessed and attended by angels until you pray Asr. Then refrain from prayer until the sun has fully set, for it sets between the horns of Satan, and at that time the disbelievers prostrate to it."
Amr said, "O Prophet of Allah, tell me about ablution." The Prophet (peace be upon him) said, "When one of you performs ablution, rinses his mouth, and cleans his nose, the sins of his face and nostrils fall away. When he washes his face as Allah has commanded, the sins of his face fall from the edges of his beard with the water. When he washes his hands up to the elbows, the sins of his hands fall from his fingertips with the water. When he wipes his head, the sins of his head fall from the ends of his hair with the water. When he washes his feet up to the ankles, the sins of his feet fall from his toes with the water. If he then stands to pray, praises Allah, glorifies Him, and devotes his heart to Allah, he emerges from his sins as pure as the day he was born."
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ
وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو میں مدینہ پہنچ کر خدمت اقدس میں حاضر ہوا، میں نے عرض
کیا کہ یا رسول اللہ ارشاد ہو کہ وہ اوقات کیا ہیں جن میں نماز پڑھنا جائز ہے اور یہ بھی ارشاد ہو کہ وہ
اوقات کون سے ہیں جن میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: (اچھا
سنو) فجر کی نماز سنت اور فرض جب اس کے مستحب وقت میں پڑھو تو پھر نفل نماز اس وقت تک نہ
پڑھنا کہ سورج نکل کر (ایک نیزہ برابر) اونچا نہ ہو جائے۔ (سورج نکلنے کے وقت ایک نفل ہی کی
ممانعت نہیں ہے بلکہ اس وقت تو کل نمازیں، سجدۂ تلاوت اور نماز جنازہ بھی ممنوع ہیں) کیونکہ
سورج جب نکلتا ہے تو شیطان کے سر کے دونوں جانبوں کے درمیان سے نکلتا ہے، یہ ایسا شیطانی
وقت ہے جس میں کفار سورج کو سجدہ کیا کرتے ہیں (اور سورج کی یہ پرستش حقیقت میں شیطان ہی
کی پرستش ہے اور چونکہ اس وقت عبادت کرنے سے کفار کے فعل سے مشابہت ہوتی ہے، اس لئے
تمام مذکورہ عبادتوں سے منع کیا گیا) پھر جب سورج نیزہ برابر اونچا ہو جائے تو (اشراق اور چاشت
اور ان کے سوا جو نفل نماز چاہے پڑھو اس لئے کہ یہ مقبولیت کا وقت ہے) ان اوقات میں فرشتے
حاضر ہوا کرتے ہیں اور اس وقت تم جو نمازیں ادا کرو گے فرشتے اس پر گواہ رہیں گے (یہ مقبولیت کا
وقت اس وقت تک رہتا ہے جبکہ سایہ نیزہ کے قدم میں غائب ہو جائے، یعنی ٹھیک دوپہر ہو جائے تو
اس وقت نہ کوئی نماز پڑھنا اور نہ سجدۂ تلاوت ادا کرنا اور نہ نماز جنازہ) کیونکہ اس وقت دوزخ کی
آگ دہکائی جاتی ہے، پھر جب سایہ ڈھل جائے یعنی زوال ہو جائے تو اس وقت ظہر اور نوافل جو
چاہو ادا کرو (کیونکہ زوال کے بعد مقبولیت کا وقت شروع ہوتا ہے) اس لئے اس وقت بھی فرشتے
حاضر ہوا کرتے ہیں، اور اس وقت تم جو نمازیں پڑھو گے فرشتے اس پر گواہ رہیں گے۔ پھر جب تم نماز
عصر پڑھو تو نفل نماز سے رک جاؤ، یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے (سورج ڈوبتے وقت ایک نفل
ہی کی ممانعت نہیں ہے بلکہ اس وقت تو کل نمازیں، سجدۂ تلاوت اور نماز جنازہ بھی ممنوع ہے)
کیونکہ سورج جب ڈوبتا ہے تو شیطان کے سر کے دونوں جانبوں کے درمیان میں ڈوبتا ہے (اور یہ
ایسا شیطانی وقت ہے) جس میں کفار سورج کو سجدہ کیا کرتے ہیں۔ (اور سورج کی یہ پرستش حقیقت
میں شیطان ہی کی پرستش ہے اور چونکہ اس وقت عبادت کرنے سے کفار کے فعل سے مشابہت ہوتی
ہے اس لئے تمام مذکورہ عبادتوں سے منع کیا گیا) پھر عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول
اللہ (نماز کے ممنوعہ اوقات تو معلوم کرلیا) اب کچھ وضوء کی فضیلت بیان فرمائیے۔ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو عمرو! جب تم میں سے کوئی شخص وضوء (کی نیت سے) وضوء کا پانی لے کر
بیٹھے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہوئے پہنچوں تک ہاتھ دھو کر منہ اور ناک میں پانی ڈال کر منہ دھوتا
ہے تو منہ کے گناہ (مثلاً ناجائز کھانا کھانے اور ناجائز کلام کرنے سے ہوئے ہوں) اس کے منہ کے
پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں ایسا ہی ناک کے گناہ (مثلاً حرام پیسے سے خریدی ہوئی خوشبو سونگھتا ہے)
اس کے ناک کے پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر جب وہ چہرہ کے ظاہری حصّہ کو دھوتا ہے جس
کے دھونے کو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے تو اس کے چہرہ کے گناہ (مثلاً آنکھوں کے گناہ) اس کے
داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں
سمیت دھو لیتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں کے گناہ اس کے انگلیوں کے سروں سے نکل کر پانی کے
ساتھ بہہ کر کہنیوں سے ہوتے ہوئے گر جاتے ہیں پھر جب وہ سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ
پانی کی تری کے ساتھ اس کے سر کے بالوں کے کناروں سے گر جاتے ہیں (اسی طرح کانوں کا مسح
کرتے وقت کانوں کے گناہ بھی پانی کی تری کے ساتھ کانوں سے گر جاتے ہیں) (جیسا کہ مرقاۃ
میں مذکور ہے۔12) پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لیتا ہے تو دونوں پاؤں کے
گناہ پاؤں کی انگلیوں کے سروں سے نکل کر پانی کے ساتھ بہہ کر ایڑیوں سے ہوتے ہوئے گر جاتے
ہیں (اور اس طرح کے وضوء سے ظاہری طہارت حاصل ہو جاتی ہے) پھر جب نماز پڑھنے کھڑا
ہوتا ہے اور (نماز میں) اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کی عظمت بیان کرتا ہے جس کا وہ سزاوار ہے اور حتی
الامکان حضور قلب کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے (جس سے اس کو باطنی طہارت حاصل ہو جاتی ہے)
پھر جب وہ اس طرح نماز ختم کرتا ہے تو ان دونوں ظاہری و باطنی طہارتوں کی وجہ سے وہ گناہوں
سے) اس طرح پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے وقت گناہوں سے
پاک و صاف تھا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی۔)
Abu Basrah al-Ghifari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) led them in Asr prayer at Al-Mukhammas and said, "This prayer was presented to those before you, but they neglected it. Whoever observes it will have a double reward. There is no prayer after it until the star appears."
ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے مقام مُخَمَّص میں ہم کو عصر کی نماز پڑھائی، نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ یہ عصر کی نماز سابقہ امتوں (یہود اور نصاریٰ) پر بھی پیش کی گئی تھی تو انہوں نے اس کو
جیسا چاہئے تھا ویسا پابندی کے ساتھ ادا نہیں کیا تو جو شخص اس نماز عصر کو پابندی سے پڑھے گا اس کو
دوہرا ثواب ملے گا (ایک ثواب تو نماز پڑھنے کا اور دوسرا ثواب کار و بار چھوڑ کر اس کو پابندی سے
پڑھنے کا ملے گا) اور نماز عصر کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہوتی۔ (اس لئے کہ اس وقت نفل نماز مکروہ
تحریمی ہے، البتہ قضاء نمازیں، نماز جنازہ، اور سجدہ تلاوت عصر کے بعد سے غروب کے پہلے تک ادا ء
کر سکتے ہیں) اور یہ نفل کی ممانعت اس وقت تک ہے جب تک کہ تارۂ نکل کر غروب آفتاب کا پتہ نہ
دے (اور جب آفتاب غروب ہو جاتا ہے تو یہ تو مغرب کے فرض کا وقت ہے، اس لئے مغرب کے
فرض سے پہلے بھی نفل نہیں پڑھنا چاہئے) (اسکی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said, "There is no prayer after Fajr until the sun has fully risen, and no prayer after Asr until the sun has fully set."
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، سے روایت ہے انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فجر کی نماز کے بعد آفتاب کے (ایک نیزہ بلند ہونے تک) کوئی نفل
نماز نہیں ہوتی۔ (اس لئے کہ اس وقت نفل نماز مکروہ تحریمی ہے، ہاں قضاء نمازیں، نماز جنازہ اور سجدہ
تلاوت نماز فجر کے بعد سے طلوع کے پہلے تک ادا کر سکتے ہیں)۔ اور نماز عصر کے بعد بھی آفتاب
کے ڈوب جانے تک کوئی نفل نماز نہیں ہوتی (اس لئے کہ اس وقت نفل نماز مکروہ تحریمی ہے البتہ قضاء
نمازیں، نماز جنازہ اور سجدۂ تلاوت نماز عصر کے بعد سے غروب کے پہلے تک ادا کر سکتے ہیں)۔
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 586 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 827a (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
There is no prayer after Fajr until the sun has fully risen, and no prayer after Asr until the sun has fully set.
(1) The statement: "There is no prayer after Fajr until the sun has fully risen, and no prayer after Asr until the sun has fully set." The summary is that there are five prohibited times for prayer. Abu Hanifah divided them into two categories, saying: "Prayer is not permissible during sunset, sunrise, and when the sun is at its zenith. If one prays during these times, there is a division regarding its validity or invalidity. Obligatory prayers and anything that is a religious obligation become invalid, while voluntary prayers are valid but with prohibitive dislike." As for the interpretation of "for oneself" and "for others," it is as apparent in Al-Hidayah: "What is obligatory for oneself is what is required for its own sake, and what is obligatory for others is what is required for the sake of others." The commentators said: "What is obligatory for oneself is what is from Allah, and what is obligatory for others is what is from the side of the servant."
Abu Hanifah said regarding the second category of disliked times: "Obligatory prayers and personal obligations are permissible during these times, but not voluntary prayers or obligations for others." Al-Shafi'i did not differentiate between the two categories, saying: "Obligatory prayers and prayers with specific reasons, such as the two Rak'ahs of greeting the mosque and the prayer of fear, are valid, but not others. Emphasized Sunnah prayers are also permissible." The comprehensive view of Al-Shafi'i's school is what the commentator of "Al-Hawi" mentioned, saying: "Any prayer that has a preceding or concurrent reason is not disliked during these times. This includes missed prayers, whether they are missed obligatory prayers, Sunnah prayers, or voluntary prayers that one has made a habit of. It also includes the funeral prayer, the greeting of the mosque if one enters during these times for a purpose other than the greeting, such as waiting for a prayer. However, if one enters the mosque for the purpose of the greeting, it is disliked, just as delaying a missed prayer to perform it during these times is disliked because one is seeking to pray during these times."
It also includes the prayer for rain, as the need for it exists at that time, and the prayer during an eclipse, as it might be missed if delayed until after the eclipse ends. It also includes the two Rak'ahs after Dhuhr, prostration of gratitude, and prostration of recitation. What is disliked during these times are prayers without a reason, except in the sacred precincts of Makkah. The Hanafis said: "Missed prayers and others are not permissible during the three times due to a reason connected to the times, which is that when the sun rises, it is accompanied by the horn of Satan. When it rises higher, Satan leaves it. When it reaches its zenith, Satan accompanies it again. When it declines, Satan leaves it. When it approaches sunset, Satan accompanies it again. When it sets, Satan leaves it. Therefore, there is an effect of deficiency in these times concerning obligatory and voluntary prayers."
As for the prohibition during these two times, it was not due to a reason connected to the time itself. Rather, it was prohibited to perform voluntary prayers to prioritize what is more important than voluntary prayers, which is observing the time occupied by obligatory prayers. Observing the time as occupied by obligatory prayers is more important than performing voluntary prayers. If one devotes the time to voluntary prayers, which are less important than obligatory prayers, it is disliked. As for the time itself, it is free from what causes deficiency. When one performs the missed prayer during these times, they have devoted it to its proper purpose, so it is permissible. Similarly, other obligatory prayers are also permissible. (From "An-Nihayah" and "Al-'Arf Ash-Shadhi," extracted from both)
Note 1
قوله
(١) قوله: لا صلاة بعد الصبح حتى ترتفع الشمس، ولا صلاة بعد العصر حتى تغيب الشمس الحاصل أن الأوقات المنهية فيها الصلاة خمسة، وجعل أبو حنيفة طائفتين، فقال: لا تحل الصلاة في وقت الغروب والطلوع والاستواء. ثم إن صليت فيها ففيه تقسيم البطلان وعدمه، فتبطل الفريضة وكل ما هو دين في الذمة، ووجب كاملا، وتصح النوافل مع الكراهة التحريمية. وأما تفسير لعينه ولغيره فعند ما هو ظاهر الهداية من أن الواجب لعينه ما يكون مطلوبا لنفسه والواجب لغيره ما يكون مطلوبا لغيره، وقال الشارحون إن الواجب لعين هما يكون من الله، والواجب لغيره ما يكون من جانب العبد.
وقال أبو حنيفة في الطائفة الثانية للأوقات المكروهة تجوز فيها الفرائض والواجبات العينها، لا النوافل والواجبات لغيرها. ولم يفرق الشافعي بين الطائفتين، وقال: تصح الفرائض وذوات الأسباب من النوافل، مثل التحيتين والخوف لا غيرها، وتجوز السنن الآكدة أيضًا، والوافي بمذهب الشافعي ما ذكره شارح «الحاوي» حيث قال: إن كل صلاة لها سبب متقدم أو مقارن فإنها لا تكره في هذه الأوقات، فمنها الفوائت، سواء في ذلك قضاء الفوائت والسنن والنوافل التي اتخذها وردا. ومنها صلاة الجنازة. ومنها تحية المسجد، إذا اتفق دخوله في هذه الأوقات لغرض غير التحية من انتظار صلاة وغيره. أما إذا دخل المسجد لغرض التحية فيكره، كما لو أخر الفائتة ليقضيها فيها؛ لكونه متحريا بالصلاة.
ومنها صلاة الاستسقاء؛ لأن الحاجة الداعية موجودة في الوقت ومنها صلاة الخسوف إذ ربما يفوت بالانجلاء على تقدير التأخير ومنها الركعتان بعد الظهر وسجود الشكر وسجود التلاوة، وإنما يكره في هذه الأوقات صلاة لا سبب لها إلا في حرم مكة. وقالت الحنفية: إن الفوات وغيرها في الأوقات الثلاثة إنها لا تجوز لمعنى في الأوقات، وهو أن الشمس إذا طلعت. ومعها قرن الشيطان، فإذا ارتفعت فارقها، ثم إذا استوت قارنها، فإذا زالت فارقها، فإذا دنت للغروب قارنها، فإذا غربت فارقها، فلذلك أثر في النقصان المتمكن في الوقت في حق الفرائض والنوافل.
وأما النهي الوارد في هذين الوقتين فلم يكن لمعنى اتصل بالوقت. وإنما نهي عن صلاة النفل لإقامة ما هو أولى من النفل، وهو مراعاة الوقت مشغولا بالفرض بما بقي من الوقت كأنه في الصلاة بعد، ومراعات جعل الوقت مشغولا بالفرض أولى من إقامة النفل، فإذا صرفه في النفل، وهو دون الفرض كره له. فأما الوقت فَخَالٍ عن ما يوجب النقصان. فلما أدى القضاء في هذين الوقتين فقد صرفه إلى مقتضاه، فيجوز ألا ترى أنه لو نوى فرض الوقت فيهما جاز، فكذا سائر الفرائض. (النهاية» و«العرف الشذي ملتقط منهما.
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that trustworthy men, among whom Umar (may Allah be pleased with him) was the most pleasing to him, testified that the Messenger of Allah (peace be upon him) prohibited prayer after Fajr until the sun has fully risen and after Asr until the sun has fully set. This was agreed upon (by Bukhari and Muslim] In Jam' al-Athar, it is mentioned that this prohibition includes the Sunnah prayers of Fajr and joining the congregation after completing the prayer.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ یوں تو سب صحابہ
کرام ثقہ اور عادل ہیں ان میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جو شان ہے وہ مخفی نہیں ہے حضرت عمر
اور دوسرے بعض صحابہ سے میں نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے صبح کی نماز کے بعد
آفتاب ایک نیزہ بلند ہونے تک نفل نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، اور اسی طرح عصر کے بعد سے
آفتاب کے غروب ہونے تک بھی نفل نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 581 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 826a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ جامع الآثار میں لکھا ہے کہ مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز فجر اور عصر کے فرض
کے بعد کوئی نفل نماز نہیں پڑھنا چاہئے اس لئے کوئی شخص فجر کی سنت پڑھے بغیر فجر کی جماعت میں
شریک ہو گیا اور سنتوں کو ادا نہ کر سکا تو وہ ان سنتوں کو فجر کے فرض کے بعد آفتاب کے ایک نیزہ بلند
ہونے تک نہ پڑھے اس لئے کہ یہ سنتیں بھی نفل ہی کی قسم سے ہیں جن کے ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص فجر یا عصر کی فرض نماز پڑھ چکا ہے اور اس کو یہ نمازیں دوبارہ جماعت
سے مل جائیں تو اب یہ ان میں شریک نہیں ہو سکتا اس لئے کہ یہ نمازیں نفل ہی ہوں گی اور فجر عصر کے
فرض کے بعد نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) prayed Asr, then entered her house and prayed two rak'ahs. She said, "O Messenger of Allah, you prayed a prayer that you do not usually pray." He said, "Some wealth came to me, and it distracted me from the two rak'ahs I used to pray after Dhuhr, so I prayed them now." She asked, "O Messenger of Allah, should we make them up if we miss them?" He said, "No." [Narrated by Al-Tahawi]
In another narration by Darqutni, Umm Salamah said, "He entered her house after Asr and prayed two rak'ahs. I said, 'O Messenger of Allah, has something happened to the people?' He said, 'No, but Bilal hurried the iqamah, so I did not pray the two rak'ahs before Asr, and I am making them up now.' I asked, 'O Messenger of Allah, should we make them up if we miss them?' He said, 'No.'"
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں: ایک دن کا ذکر
ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھا کر میرے حجرے میں تشریف لائے کیا دیکھتی
ہوں کہ آپ نے (خلاف عادت) دو رکعت نماز ادا فرمائی، میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم آپ نے آج عصر کی فرض کے بعد جو دو رکعت ادا فرمائے ہیں اس سے پہلے آپ کو اس
طرح کی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھی، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: سنو ام سلمہ
(رضی اللہ عنہا) میرے پاس مال آ گیا تھا میں اس مال کو اس کے مستحقین پر تقسیم کرنے میں ایسا
مشغول ہو گیا کہ ظہر کے بعد جو دو رکعت سنت پڑھی جاتی ہے ان کو میں نہ پڑھ سکا، ایسے میں عصر کی
نماز کا وقت آ گیا۔ (عصر پڑھا دیا) ظہر کے جو دو سنتیں رہ گئے تھے، اب عصر کے فرض کے بعد ان کی
قضا ادا کیا، میں عرض کی کہ اگر ہم سے بھی ایسے ہی ظہر کے فرض کے بعد کی دو سنتیں کسی وجہ سے
چھوٹ جائیں تو کیا ہم عصر کے فرض کے بعد ادا کر سکتے ہیں؟ تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد
فرمایا: ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) نہیں (تمہارے لئے عصر کے فرض کے بعد نفل نماز پڑھنے کا حکم نہیں
ہے، عصر کے فرض کے بعد فوت شدہ سنتوں کو ادا کرنا میرا خاصہ ہے)۔ اس روایت طحاوی نے کی
ہے۔
اور دارقطنی کی ایک روایت میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ (ایک
دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھا کر میرے پاس تشریف لائے اور (خلاف
عادت) دو رکعت نماز ادا فرمائے، میں عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کے بعد
نفل پڑھنے کے متعلق لوگوں کے لیے کیا کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد
فرمایا: نہیں (کوئی نیا حکم تو نہیں آیا) صرف اتنی بات ہو گئی کہ بلال (رضی اللہ عنہ) نے عصر کے فرض
کے لئے جلدی اقامت کہہ دی جس کی وجہ سے میں آج عصر کے پہلے جو دو سنتوں کو پڑھنا چاہتا تھا نہ
پڑھ سکا، اب میں ان کو قضا کر لیا ہوں، میں عرض کی کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر ہم
سے بھی ایسے ہی عصر کے پہلے کی دو سنتیں چھوٹ جائیں تو کیا ہم بھی عصر کے فرض کے بعد ان کو ادا ء
کر سکتے ہیں؟ تو حضور علیہ الصلوۃ والسّلام نے ارشاد فرمایا: امّ سلمہ! نہیں (تمہارے لئے عصر کے
فرض کے بعد نفل پڑھنے کا حکم نہیں ہے، عصر کے فرض کے بعد فوت شدہ سنتوں کو ادا ء کرنا میرا خاصّہ
ہے)۔
ف۔ اس حدیث شریف میں عصر کے فرض کے پہلے جو دو سنتوں کے پڑھنے کا ذکر ہے اس
سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ عصر کے فرض کے پہلے صرف دو سنت ہی غیر موکد ہیں بلکہ حدیثوں میں عصر کے
فرض کے پہلے دو سنتوں کا بھی ذکر ہے اور چار سنتوں کا بھی مگر افضل یہ ہے کہ چار سنتیں پڑھی جائیں۔ (ہدایہ، ملتقی)
Dhakwan, the freed slave of Aisha (may Allah be pleased with her), reported that Aisha told him: The Messenger of Allah (peace be upon him) would pray after Asr but prohibit others from doing so, and he would fast continuously but prohibit others from doing so. [Narrated by Abu Dawud]
In another narration by Darqutni, it is mentioned that he would pray two rak'ahs after Asr but prohibit others from doing so.
ذکوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ امّ المومنین عائشہ رضی اللہ
عنہا نے ان سے حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی فرض کے بعد خود نفل نماز
پڑھا کرتے تھے اور دوسروں کو اس سے منع فرماتے تھے، اسی طرح آپ خود صوم وصال رکھا کرتے
تھے اور دوسروں کو اس سے منع فرمایا کرتے تھے۔ اسکی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
اور دارقطنی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم عصر کی فرض کے بعد دو رکعت نفل پڑھا کرتے تھے اور اس سے دوسروں کو منع فرمایا کرتے تھے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ صوم وصال یہ ہے کہ جس طرح دن میں روزہ رکھتے ہیں اسی طرح رات کو بھی بغیر افطار
وسحر کے روزہ رکھے، اسی طرح کئی کئی دن مسلسل روزہ رکھتا رہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
خصوصیت تھی لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو منع فرمایا ہے۔
Mu'awiyah (may Allah be pleased with him) said, "You are praying a prayer that we never saw the Messenger of Allah (peace be upon him) pray, and he prohibited it," referring to the two rak'ahs after Asr.
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ آپ لوگ عصر کی فرض
کے بعد دو رکعتیں نماز پڑھتے ہیں حالانکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اقدس میں رہے
ہیں اور کبھی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام
نے ان کو پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 587 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ واضح ہو کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عصر کے فرض کے بعد کسی وقت بھی نفل نماز ادا فرماتے ہوئے نہیں
دیکھا اور اس حدیث سے پہلے والی حدیثیں جو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین ام سلمہ
رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عصر کی فرض کے
بعد نفل نماز پڑھی ہے، بظاہر ان حدیثوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں تعارض نہیں ہے اس
لئے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اس بات سے انکار کرنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر
کی فرض کے بعد نفل نماز نہیں پڑھی ہے اس لحاظ سے ہے کہ واقعۃً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد
میں یا باہر عصر کی فرض کے بعد نفل نماز نہیں پڑھی ہے جس کی وجہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھنے
کا موقع نہیں ملا۔ اب رہا حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما کا ارشاد فرمانا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے فرض کے بعد نفل نماز پڑھی ہے وہ اس لحاظ سے ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام نے ان کے گھروں میں یہ نماز پڑھی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس نفل کو مسجد میں
یا باہر اداء نہ فرمانا اس غرض سے تھا کہ امت اس بارے میں آپ کی اقتداء نہ کرے اور گھر میں اداء
فرمانے پر بھی یہ شبہ ہوا کہ کہیں امت اقتداء کرے گی اس لئے ذکوان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں
صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام عصر کے فرض کے بعد نفل نماز پڑھنے سے منع
فرمایا کرتے تھے۔
Abu Mijlaz reported that he entered the mosque for Fajr prayer with Ibn Umar and Ibn Abbas (may Allah be pleased with them), and the imam was leading the prayer. Ibn Umar joined the row, while Ibn Abbas prayed two rak'ahs and then joined the imam. When the imam finished the prayer, Ibn Umar remained seated until the sun rose, then he stood and prayed two rak'ahs.
ابو مجلز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں صبح کی نماز کے لئے
ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، اس وقت فجر کی جماعت ہو رہی تھی
ابن عمر رضی اللہ عنہما تو فوراً (بغیر سنت پڑھے) جماعت میں شریک ہو گئے لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما
نے فجر کی سنتیں پڑھ کر جماعت میں شرکت کی، اور جب امام نے سلام پھیر دیا تو ابن عمر اپنی جگہ
آفتاب طلوع ہونے تک بیٹھے رہے، اور جب آفتاب کچھ بلند ہو گیا تو آپ اٹھے اور فجر کے دو سنت
جو رہ گئیں تھیں ان کو ادا فرمایا۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said, "Whoever misses the two rak'ahs of Fajr should pray them after the sun has risen." 1
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی شخص نے فجر کے فرض تو پڑھ لئے لیکن وہ سنتیں ادا نہ کر سکا تو وہ فجر کی ان سنتوں کو
(فرض کے بعد نہ پڑھے بلکہ) آفتاب بلند ہونے کے بعد پڑھے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 423 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He should pray them after the sun has risen.
(1) The statement: "He should pray them after the sun has risen.") is explained in Al-Hidayah: If someone misses the two rak'ahs of Fajr, they should not pray them before sunrise because they would become voluntary prayers, which are disliked after Fajr. The accurate view is that the general rule for Sunnah prayers is that they are not made up, neither during their time nor afterward. However, since the Prophet (peace be upon him) made up the rak'ahs before Dhuhr, we ruled that they should be made up. As for the Sunnah of Fajr, since there is no evidence that the Prophet (peace be upon him) made them up specifically before sunrise, we left it according to the general rule. This was stated by Maulana Abdul Hayy Al-Laknawi.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فليصلهما بعد ما تطلع الشمس: لذلك قال في الهداية»: وإذا فاتته ركعتا الفجر لا يقضيهما قبل طلوع الشمس؛ لأنه يبقى نفلا مطلقا، وهو مكروه بعد الصبح. انتهي والتحقيق: أن الأصل في السنن أن لا تقضى، لا في الوقت ولا بعده، لكن لما ورد أن النبي ﷺ قضى الركعات التي قبل الظهر حكمنا بقضائها، ولما لم يرد قضاء سنة الفجر استقلالا قبل طلوع الشمس من النبي ﷺ أبقيناه على أصله. قاله مولانا عبد الحي اللكنوي.
Note 1
ف۔ ہدایہ میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے فجر کے فرض تو پڑھ لئے لیکن کسی وجہ سے فجر کی سنتیں
نہ پڑھ سکا تو وہ ان سنتوں کو فجر کے فرض کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے نہ پڑھے بلکہ جب آفتاب
طلوع ہو کر ایک نیزہ بلند ہو چکے تب اس کی قضا کرے، اس لئے کہ فجر کی دو سنتیں فوت ہو گئیں ہیں ان کی
حیثیت نفل کی ہو گئی ہے اور فجر کے فرض کے بعد نفل نماز کا پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔
It is narrated from Umar (may Allah be pleased with him) that he performed Tawaf after the Fajr prayer but did not pray (the two Rak'ahs of Tawaf). He left Makkah and stopped at Dhu Tuwa, where he prayed after the sun had risen.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ حضرت عمر نے نماز فجر کے بعد
طواف کیا اور طواف کے بعد جو دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں ان کو آپ نے ادا نہیں کیا، جب مکہ معظمہ
سے باہر نکلے اور مقام ذی طویٰ میں پہنچ کر اترے تو آپ نے سورج نکلنے کے بعد طواف کے بعد
کی رکعتوں کو اب ادا فرمایا۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے، اور امام مالک اور امام طحاوی نے بھی
اسی طرح روایت کی ہے۔
اور امام بخاری نے بھی اس کی روایت تعلیقاً کی ہے۔
ف۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ معظمہ میں بھی مثل دیگر مقامات کے فجر کے فرض
کے بعد نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، اب رہا یہ شبہ کے طواف کی بعد کی رکعتوں کو واجب ہونے کی
وجہ سے ان کو فجر کے فرض کے بعد ادا کیا جا سکتا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ طواف کے بعد کی دو رکعتیں
بندہ کے طواف کرنے سے اس پر واجب ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ پر یہ متعین جیسا کہ وتر
اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے، اس لئے فوت شدہ وتر کو فجر کے فرض کے بعد قضاء کر سکتے ہیں لیکن
طواف کی رکعتوں کو اس لئے ادا نہیں کر سکتے کہ یہ بندہ کے فعل سے واجب ہوئی ہیں۔ اس لئے ان کی
حیثیت نفل جیسی ہے، اور فجر کے فرض کے بعد نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، اسی لئے حضرت عمر
رضی اللہ عنہ نے طواف کی رکعتوں کو فجر کے فرض کے بعد ادا نہیں فرمایا۔
It is narrated from Aisha (may Allah be pleased with her) that she said: "If you intend to perform Tawaf around the House after the Fajr or Asr prayer, then perform Tawaf and delay the prayer until the sun sets or rises. Then pray two Rak'ahs for every circuit (of Tawaf)."
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ اگر تم میں سے
کوئی نماز فجر یا نماز عصر کے بعد بیت اللہ کا طواف کرنا چاہے، طواف تو کر لے لیکن طواف کے بعد جو
دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں ان کو اس وقت ادا نہ کرے بلکہ طلوع اور غروب کے بعد ان رکعتوں کو پڑھ
لے، بیت اللہ کے سات چکر کرتے ہیں اور اس کے بعد دو رکعت پڑھنے کو ایک طواف کہتے ہیں۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے سند حسن کے ساتھ کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
میں نہ پڑھنا پڑے، اس لئے کہ نماز جنازہ پڑھتے ہی میت کو دفن کرتے ہیں۔ اگر ان تینوں ممنوعہ اوقات سے پہلے نماز جنازہ پڑھ لی گئی ہے تو ان تینوں اوقات میں مردوں کو دفن کرنا جائز ہے، منع نہیں ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور اکثر ائمہ کا یہی قول ہے، ترمذی نے بھی اس حدیث کے یہی معنی لئے ہیں، چنانچہ انہوں نے باب قائم کیا ہے ”بَابٌ فِى كَرَاهَةِ الصَّلٰوةِ عَلَى الْجَنَازَةِ عِنْدَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوْبِهَا“ (آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت نماز جنازہ پڑھنے کی کراہت کے بیان میں) (اور اس باب میں اوپر کی اسی حدیث کو نقل کیا ہے، وہ تین اوقات ممنوعہ یہ ہیں): ایک جس وقت کہ آفتاب چمکتا ہوا نکل رہا ہو، یہاں تک وہ بلند ہو جائے۔ دوسرے ٹھیک دوپہر کے وقت یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جائے۔ تیسرے جبکہ آفتاب غروب ہونے لگے یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تینوں اوقات ممنوعہ میں نماز پڑھنے سے جو منع فرمایا ہے یہ ممانعت مطلقاً ہے یعنی کسی زمانہ یا جگہ اور کسی خاص نماز سے متعلق نہیں، اس لئے ہر زمانہ اور ہر مقام میں تمام فرض اور نفل نمازیں خواہ ادا ہوں یا قضاء، نماز جنازہ ہو یا سجدہ تلاوت، ان سب کا ادا کرنا تینوں اوقات میں ناجائز ہوگا اور اسی مطلقاً ممانعت کی وجہ سے مکہ معظمہ میں بھی ان تین وقتوں میں ان تمام مذکورہ عبادات کا ادا کرنا ایسا ہی ممنوع ہوگا جیسا کہ دوسری جگہوں میں ان عبادات کا ممنوعہ اوقات میں ادا کرنا منع ہے۔ اب رہا یہ کہ بعض حدیثوں سے مکہ معظمہ میں ممنوعہ اوقات میں نمازوں کے پڑھنے کا جائز ہونا جو ثابت ہوتا ہے تو واضح رہے کہ یہ حدیثیں شاذ ہیں اور اوپر کی وہ حدیث جس میں تین اوقات میں نمازوں کا ادا کرنا ممنوع ہے وہ مشہور حدیث ہے، اور مشہور حدیث کے مطلق حکم کو شاذ حدیث سے مقید کر کے مکہ معظمہ کو مستثنیٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اوپر کی اس حدیث کے مطلق حکم کی وجہ سے جمعہ کے دن بھی نصف النہار کے وقت نوافل اور مذکورہ عبادات ویسے ہی ممنوع ہیں جیسے دوسرے دنوں میں نصف النہار کے وقت نوافل اور مذکورہ عبادات ممنوع ہیں، جس کی تائید ان دونوں حدیثوں سے ہوتی ہے جن کو صاحب بنایہ نے بیان کیا ہے وہ حدیثیں یہ ہیں:۔