اردو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امام (مقتدیوں کی نماز کا) ضامن ہے (کہ مقتدیوں کی نماز کی صحت امام
کے صحت نماز پر منحصر ہے) اور مؤذن امانت دار ہے (کہ لوگ نمازوں کے پڑھنے اور روزوں کے
افطار میں مؤذن پر اعتماد کرتے ہیں) اے اللہ! اماموں کو علم و عمل کی ہدایت فرما، اور مؤذنین (کی
کوتاہیوں) کو بخش دے۔ (اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی اور امام شافعی نے کی ہے۔)
اور مصابیح میں بھی اس کی روایت موجود ہے۔
اور امام احمد نے بھی مرفوعاً اس کی روایت کی ہے جس کی سند صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 517 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 207 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 663 (unverified) 88% confidence
Mishkat (candidate) 663
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement "It is established" etc.: At-Tahawi said: As for its ruling from a rational perspective, we have observed that the prayer of the followers is tied to the prayer of their imam in terms of its validity and invalidity. This is supported by sound reasoning, such as the fact that if the imam makes a mistake, those behind him are required to make up for it, whereas if they make a mistake and the imam does not, they are not required to do what the imam must do if he makes a mistake. Since it is established that the followers are obligated to address the imam's mistake and are exempt if the imam does not make a mistake, it is clear that their prayer is tied to the imam's prayer. Therefore, their prayer cannot be contrary to the imam's prayer. Additionally, it is evident from rational analysis that scholars agree that if a person prays behind someone in a state of major impurity (janabah) while knowing it, their prayer is invalid. They consider the follower's prayer tied to the imam's prayer. Since this is the case when the follower knows about the invalidity of the imam's prayer, it should logically apply even if they do not know. For example, if a follower prays while in a state of major impurity—whether they know it or not—their prayer is invalid. Thus, what invalidates their prayer when they know also invalidates it when they do not know. Therefore, it is reasonable to conclude that their ignorance of the imam's invalid prayer also invalidates their own prayer.
Note 1
(۱) قوله: فتعين إلخ : قال الطحاوي: وأما حكمه من طريق النظر : فإنا قد رأينا صلاة المأمومين مضمنة بصلاة إمامهم بصحتها وفسادها يوجب ذلك النظر الصحيح، من ذلك أنا رأينا الإمام إذا سها وجب على من خلفه لسهوه ما وجب عليه، ولو سَهَوْا هُمْ ولم يسه هو لم يجب عليهم ما يجب على الإمام إذا سها. فلما ثبت أن المأمومين يجب عليهم حكم السهو لسهو الإمام وينتفي عنهم حكم السهو بانتفائه عن الإمام، ثبت أن حكمهم في صلاتهم حكم الإمام في صلاته، وكان صلاتهم مضمنة بصلاته، ولما كانت صلاتهم مُضمَّنة بصلاته لم يجز أن يكون صلاتهم خلاف صلاته وأيضًا مما يدل عليه النظر أنهم أجمعوا أن رجلا لو صلى خلف جنب، وهو يعلم بذلك أن صلاته باطلة، وجعلوا صلاته مضمنة بصلاة الإمام. فلما كان ذلك كذلك إذا كان يعلم بفساد صلاة إمامه كان كذلك في النظر إذا كان لا يعلم بها. ألا ترى أن المأموم لو صلى وهو جنب - وهو يعلم أو لا يعلم - كانت صلاته باطلة، فكان ما يفسد صلاته في حال علمه به هو الذي يفسد صلاته في حال جهله به، وكان علمه بفساد صلاة إمامه تفسد به صلاته، فالنظر على ذلك أن يكون كذلك جهله بفساد صلاة إمامه.
Note 1
ف: اس حدیث شریف کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وجوب اور اداء کو سمجھ لیا جائے۔ وجوب یہ ہے کہ امام اور مقتدی کی نماز واجب ہونے کے لحاظ سے ایک ہو، یعنی امام پر جو نماز واجب ہے مقتدی بھی اسی نماز کو امام کے ساتھ ادا کر رہا ہو، مثلاً امام ظہر کی فرض نماز ادا کر رہا ہے، اور مقتدی بھی اسی وقت کی نماز ظہر ادا کر رہا ہے تو امام اور مقتدی دونوں کی یہ نماز وجوب کے لحاظ سے متحد ہوئی۔ اگر امام جمعہ پڑھ رہا ہو اور مقتدی ظہر کی نیت سے اس امام کی اقتداء کرے تو یہ اقتداء صحیح نہ ہوگی، اس لئے کہ وجوب کے لحاظ سے امام اور مقتدی کی نماز ایک نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امام جمعہ کی نیت سے نماز ادا کر رہا ہے اور مقتدی ظہر کی نیت سے اقتداء کرنا چاہتا ہے تو امام اور مقتدی کے نمازوں کا وجوب جدا جدا ہونے سے امام اور مقتدی میں جس وجوب کا اتحاد ضروری ہے وہ حاصل نہ ہوا، اس لئے اقتداء درست نہ ہوئی۔ اب رہی اداء تو واضح ہو کہ وجوب کے لحاظ سے جیسے امام اور مقتدی کی نماز میں اتحاد ضروری ہے ایسے ہی یہ بھی ضروری ہے کہ امام اور مقتدی کی نمازوں میں امام کی نماز اداء کی حیثیت سے مقتدی کی اداء کی حیثیت کے برابر ہو یا قوی ہو، امام اور مقتدی کے اداء کی حیثیت برابر ہونے کی مثال یہ ہے کہ امام بھی طاہر ہو اور کسی عذر میں مبتلا نہ ہو، اور ایسے ہی مقتدی بھی طاہر ہو اور کسی عذر میں مبتلا نہ ہو، اس طرح دونوں کی اداء ایک ہی حیثیت کی ہوگی۔ امام کے اداء کی حیثیت قوی ہونے کی مثال یہ ہے کہ امام طاہر ہو اور مقتدی کسی عذر مثلاً سلسل البول وغیرہ میں مبتلا ہو تو چونکہ امام کی حیثیت قوی ہے، اور مقتدی کی حیثیت ضعیف ہے اس صورت میں بھی دونوں کی اداء ایک ہی حیثیت کی سمجھی جائے گی، اس کے برخلاف اگر مقتدی طاہر ہو اور کسی عذر میں مبتلا نہ ہو، اور امام کسی عذر میں جیسے سلسل البول وغیرہ میں مبتلا ہو تو چونکہ امام کی حیثیت ضعیف ہے اور مقتدی کی حیثیت قوی ہے، اس لئے دونوں کی اداء ایک نہیں سمجھی جائے گی اور ایسے معذور امام کے پیچھے طاہر مقتدی نماز ادا نہیں کرسکتا۔ حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ امام (مقتدیوں کی نماز کا) ضامن ہے حالانکہ ہر شخص اپنی نماز کا ضامن ہوا کرتا ہے تو یہاں امام کا مقتدیوں کی نماز کا ضامن ہونا اس لحاظ سے ہے جبکہ امام اور مقتدی کی نماز وجوب اور اداء کے لحاظ سے متحد ہو تو مقتدی کی ایسی نماز امام کی نماز میں ضم ہو کر ایک ہی سمجھی جائے گی۔ امام اور مقتدی دونوں کی نماز ایک ہونے پر دلیل یہ ہے کہ امام کے سورہ فاتحہ پڑھ لینے سے مقتدی کی طرف سے بھی سورہ فاتحہ کی قرأت اداء ہو جاتی ہے۔ امام اور مقتدی دونوں کی نماز ایک ہونے پر دوسری دلیل یہ ہے کہ مثلاً اگر امام کسی واجب کے ترک ہونے سے سجدہ سہو کر رہا ہو تو مقتدی پر بھی سجدہ سہو کرنا ضروری ہے اگرچہ مقتدی سے کوئی واجب ترک نہیں ہوا ہو، چونکہ امام اور مقتدی دونوں کی نماز ایک ہی ہے اس لئے مقتدی کو بھی امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنا ضروری ہے۔ اس کے برخلاف اگر مقتدی سہواً کسی واجب کو چھوڑ دے تو نہ امام پر سجدہ سہو واجب ہے اور نہ خود مقتدی پر، اس لئے کہ امام کی نماز مقتدی کی نماز میں ضم نہیں ہوتی ہے بلکہ مقتدی کی نماز امام کی نماز میں ضم ہے، پس جب امام کی نماز مقتدی کی نماز میں ضم نہیں ہوئی ہے تو مقتدی کے سہو سے امام پر سجدہ سہو لازم نہیں آئے گا اور چونکہ مقتدی کی نماز امام کی نماز میں ضم ہوئی ہے، اور اس وجہ سے امام مقتدی کی نماز کا ضامن بھی ہے اس لئے مقتدی کی نماز سہو کے باوجود بھی ناقص نہیں سمجھی جائے گی۔ جب ثابت ہو چکا کہ امام اور مقتدی کی نماز ایک ہی ہے اور امام مقتدی کی نماز کا ضامن ہے تو مقتدی کی صحت نماز امام کی صحت نماز پر منحصر ہوگی، اس لئے امام کی نماز صحیح ہوئی تو مقتدی کی نماز بھی صحیح ہوگی اور ایسا ہی مقتدی کی نماز کا فاسد ہونا امام کی نماز کے فاسد ہونے پر موقوف ہے کہ اگر امام کی نماز فاسد ہوئی تو مقتدی کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی اگرچیکہ مقتدی کی نماز میں کوئی فساد واقع نہ ہوا ہو۔ مذکورہ تفصیل سے یہ ثابت ہوا کہ امام اور مقتدی کے وجوب اور ادا، ایک ہونے سے مقتدی کی نماز امام کی نماز میں ضم ہو کر ایک ہی نماز سمجھی جائے گی اور امام، مقتدی کی ایسی نماز کی صحت اور فساد کا ضامن ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر امام اور مقتدی کے وجوب اور ادا، ایک نہ ہوں تو مقتدی کی ایسی نماز امام کی نماز میں ضم نہ ہوگی، اس لئے امام، مقتدی کی ایسی نماز کی صحت اور فساد کا ضامن نہ ہوگا۔ (طحاوی، بنایہ، ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ)