اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1831
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں ایک رات کا واقعہ ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اتفاق سے) باہر نکلے (اور کہیں تشریف لے جا رہے تھے تو)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام پر سے گزر ہوا اس وقت ابوبکر صدیق تہجد پڑھ رہے تھے
اور بہت آہستہ آواز سے قرأت فرما رہے تھے (ان کی قرأت سماعت فرماتے ہوئے حضور آگے
بڑھے اور) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقام پر سے گزر ہوا تو حضرت عمر تہجد کی نماز میں
قرأت کر رہے تھے، حضور نے کہ حضرت عمر بہت بلند آواز سے قرأت کر رہے ہیں، ابوقتادہ کہتے ہیں
کہ (جب صبح ہوئی تو) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر دونوں حضور کی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے
(حضور باطنی امراض کے طبیب تھے جس میں جو مرض دیکھتے اس کا علاج فرما دیتے۔ اسی لئے صحابہ
کرام کو باطنی امراض سے کامل صحت حاصل ہوگئی تھی، مریض سے پہلے کیفیت سن کر علاج کیا جا سکتا
ہے اس لئے) حضور نے ارشاد فرمایا: ابوبکر میں (آج کی رات) تمہارے مقام پر سے ہو کر گزرا تو تم
کو بہت آہستہ آواز سے قرأت کرتا ہوا پایا تو ابوبکر صدیق عرض کئے: حضور میں اس ذات سے راز و
نیاز کر رہا تھا جو آہستہ سے آہستہ آواز کو بھی سن لیتا ہے اس کو بلند آواز سے سنانے کی ضرورت نہیں،
پھر حضرت عمر سے مخاطب ہو کر فرمائے: عمر! میں جب تمہارے مقام پر سے گزرا تو تم کو تہجد میں بہت
بلند آواز سے قرأت کرتے ہوئے پایا تو حضرت عمر عرض کئے: حضور میں بلند آواز سے اس لئے
قرأت کر رہا تھا کہ سوتوں کو جگاؤں (غافلوں کو ہوشیار کروں) اور شیطان کو (اپنی قرأت سے)
بھگاؤں (دونوں کی کیفیتوں کو سن کر اب حضور صحیح علاج فرماتے ہیں) ابوبکر! تم اپنی آواز کو کچھ اونچا
کرو، اور حضرت عمر سے فرمائے: عمر! تم اپنی آواز کو کچھ پست کردو (اس لئے کہ میانہ روی ہر کام میں
بہت بہتر ہے)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1329 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 447 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.