English
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) went out one night and found Abu Bakr praying in a soft voice. Then he passed by Umar, who was praying in a loud voice. When they both gathered with the Prophet (peace be upon him), he said: 'O Abu Bakr, I passed by you while you were praying in a soft voice.' Abu Bakr said: 'I made audible to the One I was supplicating, O Messenger of Allah.' The Prophet (peace be upon him) said to Umar: 'I passed by you while you were praying in a loud voice.' Umar said: 'O Messenger of Allah, I was waking the drowsy and driving away Satan.' The Prophet (peace be upon him) said: 'O Abu Bakr, raise your voice slightly,' and to Umar, he said: 'Lower your voice slightly.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
١٥٨٩ - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ خَرَجَ لَيْلَةٌ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ، وَمَرَّ بِعُمَرَ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي، تَخْفِضُ صَوْتَكَ؟ قَالَ: قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللهِ. وَقَالَ لِعُمَرَ: مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُوْقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ. فَقَالَ النَّبِيُّ : يَا أَبَا بَكْرٍ، ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا». وَقَالَ لِعُمَرَ : اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكِ شَيْئًا». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1831
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں ایک رات کا واقعہ ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اتفاق سے) باہر نکلے (اور کہیں تشریف لے جا رہے تھے تو)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام پر سے گزر ہوا اس وقت ابوبکر صدیق تہجد پڑھ رہے تھے
اور بہت آہستہ آواز سے قرأت فرما رہے تھے (ان کی قرأت سماعت فرماتے ہوئے حضور آگے
بڑھے اور) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقام پر سے گزر ہوا تو حضرت عمر تہجد کی نماز میں
قرأت کر رہے تھے، حضور نے کہ حضرت عمر بہت بلند آواز سے قرأت کر رہے ہیں، ابوقتادہ کہتے ہیں
کہ (جب صبح ہوئی تو) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر دونوں حضور کی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے
(حضور باطنی امراض کے طبیب تھے جس میں جو مرض دیکھتے اس کا علاج فرما دیتے۔ اسی لئے صحابہ
کرام کو باطنی امراض سے کامل صحت حاصل ہوگئی تھی، مریض سے پہلے کیفیت سن کر علاج کیا جا سکتا
ہے اس لئے) حضور نے ارشاد فرمایا: ابوبکر میں (آج کی رات) تمہارے مقام پر سے ہو کر گزرا تو تم
کو بہت آہستہ آواز سے قرأت کرتا ہوا پایا تو ابوبکر صدیق عرض کئے: حضور میں اس ذات سے راز و
نیاز کر رہا تھا جو آہستہ سے آہستہ آواز کو بھی سن لیتا ہے اس کو بلند آواز سے سنانے کی ضرورت نہیں،
پھر حضرت عمر سے مخاطب ہو کر فرمائے: عمر! میں جب تمہارے مقام پر سے گزرا تو تم کو تہجد میں بہت
بلند آواز سے قرأت کرتے ہوئے پایا تو حضرت عمر عرض کئے: حضور میں بلند آواز سے اس لئے
قرأت کر رہا تھا کہ سوتوں کو جگاؤں (غافلوں کو ہوشیار کروں) اور شیطان کو (اپنی قرأت سے)
بھگاؤں (دونوں کی کیفیتوں کو سن کر اب حضور صحیح علاج فرماتے ہیں) ابوبکر! تم اپنی آواز کو کچھ اونچا
کرو، اور حضرت عمر سے فرمائے: عمر! تم اپنی آواز کو کچھ پست کردو (اس لئے کہ میانہ روی ہر کام میں
بہت بہتر ہے)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1329 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 447 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.