English
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Every night, our Lord, the Blessed and Exalted, descends to the lowest heaven when the last third of the night remains, saying: 'Who is calling upon Me so that I may answer? Who is asking of Me so that I may give? Who is seeking My forgiveness so that I may forgive?'" [Agreed upon by Bukhari and Muslim]
In a version by Muslim: "Then He spreads His hands and says: 'Who will lend to One who is neither poor nor unjust?' until dawn breaks."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٦٠٥ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ : يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِيْنَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، يَقُولُ: مَنْ يَدْعُوْنِي فَأَسْتَجِيْبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلْنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرْنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ وَيَقُوْلُ: مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُوْمٍ وَلَا ظَلُوْمٍ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ».
اردو
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر رات جب کہ اس کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا رب جو
بڑی برکت والا اور بڑی شان والا ہے، دنیا سے جو قریب آسمان ہے اس پر نزول اجلال فرماتا
ہے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے (نزول فرمانے کے معنی تو معلوم ہیں مگر اس کی کیفیت ہم
کو معلوم نہیں ”لَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَهُ اِلَّا اللّٰهُ“ اللہ کے سوا امت میں سے کوئی اس کی تاویل اور تفسیر
کو نہیں جانتا، یہ متشابہات سے ہے اس پر ایمان لانا ضروری ہے، اس کی کیفیت معلوم کرنے کی
کھوج کرنا جائز نہیں ہے، اس لئے ہم ایمان لاتے ہیں کہ بیشک ہمارا رب رات کے آخری تہائی
حصہ میں آسمان دنیا پر نزول فرما کر نہایت محبت سے) ارشاد فرماتا ہے (اس وقت میری رحمت
عام ہے): ہے کوئی جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی جو مجھ سے
مانگے اور میں اس کو عطا کروں؟ ہے کوئی ایسا گنہگار (جو گناہوں کی وجہ سے نادم و شرمندہ ہے۔
اس کو میری رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہئے) وہ گناہوں کی معافی چاہے تو میں اس کے گناہوں کو
معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
اور مسلم کی ایک روایت میں ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور
فرماتا ہے: ہے کوئی ایسا شخص جو قرض دے اس ذات کو جو محتاج نہیں ہے (قرض کی ادائی اس پر بار
نہیں) اور نہ وہ ظالم ہے (کہ قرض کی ادائی پر قدرت رکھنے کے باوجود قرض ادا نہ کرے، اے قرض
دینے والے ہم تیرے قرض کو دوگنا، تگنا اور کئی گنا بڑھا کر پھر تجھ کو دیں گے اس وقت تجھ کو معلوم ہوگا
کہ ہم کیسے دینے والے ہیں، قرض بھی اداء کریں گے اور اس کے صلہ میں تجھے وہ وہ نعمتیں دیں گے
جن کو نہ تو تیری آنکھوں نے دیکھا اور نہ تیرے کانوں نے سنا ہے! کیا تو سمجھا کہ ہم تجھ سے جو قرض
مانگ رہے ہیں اس سے ہماری مراد کیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ تو خیرات کرے، قرض کا لفظ اس لئے
کہہ رہے ہیں کہ تیرا خیرات کرنا، تیرا روپیہ ضائع کرنا نہیں ہے، نہیں، نہیں! اس خیرات کو جو تو ہم کو
دے گا قرض سمجھ، ہم اس کو بہت بڑھا کر تجھے پھر لوٹا دیں گے اور آخرت میں کئی گنا بڑھا کر اس کا
صلہ دیں گے) اس قسم سے طرح طرح کے ارشادات ہوتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ صبح صادق
طلوع کرتی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1145 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 758a (unverified) 98% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1223 (unverified) 94% confidence
Mishkat (candidate) 1223
Confidence and text similarity are not editorial verification.