Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said:
"When one of you sleeps, Satan ties three knots at the back of his head, striking each knot and saying: 'You have a long night, so sleep.' If he wakes up and remembers Allah, one knot is undone. If he performs ablution, another knot is undone. If he prays, the last knot is undone, and he wakes up energetic and cheerful. Otherwise, he wakes up lazy and in a bad mood."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص سوتا ہے (تو جیسے جادوگر جادو سے گرہیں
لگاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ شخص جس پر جادو کیا گیا ہو اپنی مراد سے رک جاتا ہے اسی طرح)
شیطان سونے والے کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے (تاکہ وہ تہجد اور ذکر سے رک جائے) اور ہر گرہ
لگانے کے وقت اس کے دل میں ڈالتا ہے کہ ابھی بہت رات باقی ہے سوتے رہو (جیسے وہ شخص جس
پر جادو کیا گیا ہے اپنے سے جادو کے اثر کو زائل کر دیتا ہے تو ان جادو کی گرہوں کا اثر باقی نہیں رہتا اور
جو اس کا مقصد ہو وہ پورا کر لیتا ہے ایسا ہی سونے والا جب شیطان کے اس منتر کو کہ ”ابھی رات بڑی
ہے سو جاؤ“ کا کچھ خیال نہ کر کے ایک دم اٹھ بیٹھتا ہے اور اس وقت کی مسنون دعاؤں کو پڑھنے لگتا
ہے تو شیطان کی باندھی ہوئی غفلت کی (پہلی) گرہ کھل جاتی ہے، (پھر شیطان کہتے ہی رہتا ہے کہ
”ابھی رات بڑی ہے ذرا سو جاؤ“ وہ اس کی نہ سن کر) وضو کر لیتا ہے تو شیطان کی دوسری گرہ کھل
جاتی ہے (اور یہ نجاست سے پاک ہو جاتا ہے) (اب شیطان دیکھتا ہے کہ یہ تہجد کو اٹھنے والا میرے
ہاتھ سے چلا گیا تو سستی اور کسالت اس پر ڈالتا ہے تاکہ کسی طرح وہ نماز سے رک جائے اور اگر یہ
اس کی نیند میں) نماز کے لئے کھڑے ہو جاتا ہے تو شیطان کی ڈالی ہوئی تیسری گرہ بھی (جو سستی اور
کسالت کی تھی) کھل جاتی ہے (اب کیا ہے تہجد کا پڑھنے والا) جب صبح کرتا ہے تو تازہ دم اور خوش
خرم اٹھتا ہے (اس لئے کہ وہ شیطان کی گرہوں سے نکل آیا اور غفلت اور سستی اس سے دور ہو گئی اور
سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو گئے، پھر اس کی فرحت اور خوشی کا کیا پوچھنا
،اسی وجہ سے تہجد پڑھنے والے کے چہرے پر ایک خاص نورانیت ہوتی ہے) اور اگر بیدار نہ ہوا اور
شیطان کا کہنا ”کہ ابھی رات بڑی ہے سوتے رہو“ کو اگر سن لیا، نہ وضوء کیا اور نہ تہجد پڑھی تو یہ صبح
کو جب اٹھتا ہے تو وہ پژمردہ اور سست اٹھتا ہے (نہ تو تہجد پڑھنے والے کی طرح اس کو فرحت
ہوتی ہے اور تہجد گزار کے چہرہ کی طرح اس کے چہرہ پر نورانیت رہتی ہے) (اس حدیث کی روایت
بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
And the saying of Allah, the Almighty: "Indeed, the hours of the night are more effective for concurrence [of heart and tongue] and more suitable for words." (Al-Muzzammil, 73:6)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1142 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 776 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: A man was mentioned to the Prophet (ﷺ), and it was said: "He slept until morning and did not wake up for prayer." The Prophet (ﷺ) said: "That is a man in whose ear Satan has urinated—or he said: in both ears."
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے سامنے تذکرہ آیا کہ ایک شخص رات بھر صبح صادق تک سوتا رہتا ہے تہجد کی نماز کے لئے
نہیں اٹھتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ایسا شخص ہے کہ شیطان اس کے کانوں
میں پیشاب کر دیتا ہے (کہ اس کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ رات کتنی گزری اور اس پر غفلت طاری
ہو جاتی ہے اور وہ پڑا سویا رہتا ہے، اس لئے بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ایسا شخص جو رات بھر پڑا
سو رہا ہو کان میں انگلی رکھ کر دیکھے تو کان میں پیشاب کی تری محسوس ہوگی) ۔(اس حدیث کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) woke up one night in a state of alarm, saying: 'SubhanAllah! What has been sent down tonight of treasures and trials? Who will wake the women of the chambers (his wives) so they may pray? How many a woman is clothed in this world but will be naked in the Hereafter!'"
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ ایک رات
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھی کہ آپ نیند سے گھبرائے ہوئے اٹھے ہیں (میں پوچھنا
چاہتی تھی کہ) خود آپ تعجب سے فرمانے لگے ”سُبْحَانَ اللّٰه“! آج کی رات کیا دیکھتا ہوں کہ
(میری امت کی محتاجی دور ہوگی) اور ان کو بے شمار خزانے دئے جا رہے ہیں (اور یہ بھی میری امت
پر بہت بڑا فتنہ ہے) اور کیا دیکھتا ہوں کہ طرح طرح کے فتنے بھی میری امت پر نازل ہو رہے ہیں
(جس سے فساد اور خوں ریزی میری امت میں ظاہر ہوگی) کوئی ہے کہ میرے حجرے والیوں
(ازواج مطہرات) کو جگا دے (کہ اب سونے کا وقت نہیں ہے، اٹھو! جاگو! خدا سے گڑگڑا کر
دعائیں کرو، اور تہجد پڑھو (تاکہ اللہ تعالیٰ تہجد کی برکت سے مال و دولت اور فساد و خون ریزی کے فتنہ
سے ہم کو بچائے) (مال و دولت کے فتنوں میں سے ایک فتنہ یہ ہے کہ عورتیں نہایت باریک اور قیمتی
لباس پہنیں گی جس سے ان کا جسم ظاہر ہوگا اور نخوت اور غرور پیدا ہوگا جس کے سبب سے یہ قیامت
کے دن برہنہ اٹھیں گی، دنیا میں جتنا غرور کی تھیں آخرت میں اتنا ذلیل ہوں گی) جیسے دنیا میں باریک
لباس پہن کر برہنہ تھیں، ویسے ہی آخرت میں برہنہ رہیں گی۔ (اس کی روایت بخاری نے کی
ہے۔)
Abdullah ibn Amr ibn Al-As (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: "O Abdullah, do not be like so-and-so. He used to pray at night but then abandoned it."
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے عبداللہ! تم فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا جو
رات کو تہجد کے لئے اٹھا کرتا تھا لیکن پھر اس نے رات کو تہجد کے لئے اٹھنا چھوڑ دیا (اس لئے کہ اللہ
تعالیٰ کو عبادت پر مداومت کرنا پسند ہے اگرچہ کہ وہ عبادت تھوڑی ہی کیوں نہ ہو)۔ (اس حدیث
سے معلوم ہوا کہ جو شخص رات کو عبادت کرتا ہو، اس کو رات کی عبادت بالکل ترک کر دینا مکروہ
ہے)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Every night, our Lord, the Blessed and Exalted, descends to the lowest heaven when the last third of the night remains, saying: 'Who is calling upon Me so that I may answer? Who is asking of Me so that I may give? Who is seeking My forgiveness so that I may forgive?'" [Agreed upon by Bukhari and Muslim]
In a version by Muslim: "Then He spreads His hands and says: 'Who will lend to One who is neither poor nor unjust?' until dawn breaks."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر رات جب کہ اس کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا رب جو
بڑی برکت والا اور بڑی شان والا ہے، دنیا سے جو قریب آسمان ہے اس پر نزول اجلال فرماتا
ہے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے (نزول فرمانے کے معنی تو معلوم ہیں مگر اس کی کیفیت ہم
کو معلوم نہیں ”لَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَهُ اِلَّا اللّٰهُ“ اللہ کے سوا امت میں سے کوئی اس کی تاویل اور تفسیر
کو نہیں جانتا، یہ متشابہات سے ہے اس پر ایمان لانا ضروری ہے، اس کی کیفیت معلوم کرنے کی
کھوج کرنا جائز نہیں ہے، اس لئے ہم ایمان لاتے ہیں کہ بیشک ہمارا رب رات کے آخری تہائی
حصہ میں آسمان دنیا پر نزول فرما کر نہایت محبت سے) ارشاد فرماتا ہے (اس وقت میری رحمت
عام ہے): ہے کوئی جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی جو مجھ سے
مانگے اور میں اس کو عطا کروں؟ ہے کوئی ایسا گنہگار (جو گناہوں کی وجہ سے نادم و شرمندہ ہے۔
اس کو میری رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہئے) وہ گناہوں کی معافی چاہے تو میں اس کے گناہوں کو
معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
اور مسلم کی ایک روایت میں ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور
فرماتا ہے: ہے کوئی ایسا شخص جو قرض دے اس ذات کو جو محتاج نہیں ہے (قرض کی ادائی اس پر بار
نہیں) اور نہ وہ ظالم ہے (کہ قرض کی ادائی پر قدرت رکھنے کے باوجود قرض ادا نہ کرے، اے قرض
دینے والے ہم تیرے قرض کو دوگنا، تگنا اور کئی گنا بڑھا کر پھر تجھ کو دیں گے اس وقت تجھ کو معلوم ہوگا
کہ ہم کیسے دینے والے ہیں، قرض بھی اداء کریں گے اور اس کے صلہ میں تجھے وہ وہ نعمتیں دیں گے
جن کو نہ تو تیری آنکھوں نے دیکھا اور نہ تیرے کانوں نے سنا ہے! کیا تو سمجھا کہ ہم تجھ سے جو قرض
مانگ رہے ہیں اس سے ہماری مراد کیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ تو خیرات کرے، قرض کا لفظ اس لئے
کہہ رہے ہیں کہ تیرا خیرات کرنا، تیرا روپیہ ضائع کرنا نہیں ہے، نہیں، نہیں! اس خیرات کو جو تو ہم کو
دے گا قرض سمجھ، ہم اس کو بہت بڑھا کر تجھے پھر لوٹا دیں گے اور آخرت میں کئی گنا بڑھا کر اس کا
صلہ دیں گے) اس قسم سے طرح طرح کے ارشادات ہوتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ صبح صادق
طلوع کرتی ہے۔
Amr ibn Abasah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The closest the Lord is to His servant is during the last third of the night. If you can be among those who remember Allah at that time, then do so."
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ (یوں تو ہر بندے کے رگ گردن سے زیادہ قریب ہیں
مگر) آخری تہائی رات میں اپنے بندہ سے بہت ہی قریب ہو جاتے ہیں (کیا کہوں کیسے قریب
ہو جاتے ہیں، ایسا قریب ہوتے ہیں جیسا کہ ان کی شان کے سزاوار ہے، یہ بھی متشابہات سے
ہے، قریب ہونے کے معنی معلوم ہیں مگر اس کی کیفیت معلوم نہیں، ہم ایمان لائے ہیں کہ رات
کے آخری تہائی حصہ میں اللہ تعالیٰ ہم سے بہت ہی قریب ہو جاتے ہیں۔ اے بندے! اللہ تعالیٰ
سے تجھے اس طرح قرب حاصل ہوگیا ہے، اس کو تو غنیمت جان! اس لئے) اگر تجھ سے ہو سکے تو
اس وقت اللہ کے ذکر کرنے والوں میں سے ہو جا (پھر تو کہاں اور یہ قرب کہاں!)۔
(اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated: It was asked: "O Messenger of Allah, which supplication is most likely to be answered?" He said: "During the last third of the night and after the obligatory prayers."
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! وہ کونسا وقت ہے جس میں دعاء تمام اوقات سے
زیادہ قبول ہوتی ہے تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: رات کے آخری تہائی حصہ کی
دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے اور ایسا ہی فرض نمازوں کے بعد جو دعا کی جاتی ہے وہ بھی بہت جلد
قبول ہوتی ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "The best prayer after the obligatory prayers is the night prayer." [Narrated by Ahmad]
(Note: It is said that the night prayer (Tahajjud) is superior due to its added difficulty and distance from showing off, while the regular Sunnah prayers are superior due to their emphasis on following the obligatory prayers. There is no contradiction, as mentioned in Al-Maraqat]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے (بارہ رکعت سنن موکدہ جو دن رات میں فرائض کے ساتھ
پڑھی جاتی ہیں، ان کی فضیلت کا کیا کہنا، یہ بارہ رکعت فرائض کے مکملات ہیں اس سے بڑھ کر ان
کی اور کیا فضیلت ہوسکتی ہے) فرائض (اور ان کے توابع مؤکدہ سنتوں کے) سوا رات دن کے باقی
تمام نوافل سے تہجد جو رات کے آخری تہائی حصہ میں پڑھی جاتی ہے افضل ہے (اس لئے کہ تہجد نفس
پر بہت شاق ہوتی اور اس میں ریا بھی نہیں ہے)۔ (اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
قوله
(۱) قوله: أفضل الصلاة إلخ وقد يقال: التهجد أفضل من حيث زيادة مشقة على النفس وبعده عن الرياء، والرواتب أفضل من حيث الأكدية في المتابعة للمفروضة، فلا منافات. كذا في «المرقاة».
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Prophet (ﷺ) say: "There is an hour during the night in which no Muslim asks Allah for good in this world or the Hereafter except that He grants it, and this occurs every night."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جو مسلمان چاہتا ہے کہ اپنی دعا قبول ہو تو اس کو یاد رکھنا
چاہئے کہ ہر رات ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ اس میں ضرور دعا قبول ہوتی ہے، چاہے دنیا کی بھلائی
مانگیں یا آخرت کی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Uthman ibn Abi Al-As (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Prophet Dawud (David) had a time during the night when he would wake his family, saying: 'O family of Dawud, rise and pray, for this is the hour when Allah answers supplications, except for a sorcerer or a tax collector.'"
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ داؤد علیہ السلام کا رات میں
ایک وقت ایسا مقرر تھا جس میں آپ خود بھی عبادت فرماتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے
اور فرمایا کرتے تھے: اے داؤد کے گھر والو! اٹھو! جاگو! نماز پڑھو (کیا تم کو کچھ معلوم ہے کہ یہ کیسا
وقت ہے) اس وقت اللہ تعالیٰ عبادت کرنے والے کی عبادت اور دعا کرنے والے کی دعا قبول
فرماتے ہیں (ایسے مبارک وقت کو غفلت میں مت ضائع کرو، ہاں ایسے مقبول وقت میں بھی)
جادوگر کی دعا اور ظلم سے چنگی وصول کرنے والے کی دعا قبول نہیں فرماتے۔ (یہ دونوں چیزیں اللہ
تعالیٰ کو غضب میں لاتی ہیں اور مقبولیت وقت کا بھی ان پر اثر نہیں کرتا)۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Adhere to night prayers, for it was the practice of the righteous before you, a means of drawing closer to your Lord, an expiation for sins, and a deterrent from wrongdoing."
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانو! تہجد ضرور پڑھا کرو (تم کو خبر نہیں کہ) تم سے پہلے جو صالحین
گزرے ہیں تہجد پڑھنا ان کا طریقہ خاص تھا اسی سے وہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتے تھے (تم تو
خیر الامم ہو، تم بھی تہجد ضرور پڑھا کرو) تہجد سے تم کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا اور اسی تہجد کی وجہ
سے تم سے برائیاں دور ہوں گی (اور تہجد کا ایک خاص اثر یہ ہے کہ) یہ تم کو گناہوں سے روکے گی۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah smiles at three people: a man who rises at night to pray, a group of people who line up for prayer, and a group of people who line up to fight the enemy."
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین طرح کے لوگ ہیں (جن پر اللہ تعالیٰ کی محبت آتی ہے اور ان
سے راضی ہو کر وہ جو تین کام کر رہے ہیں) ان کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں، جس طرح ان کی شان کے
سزاوار ہے (یہ ہنسنا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور راضی ہونے کی علامت ہے، اللہ تعالیٰ کا ہنسنا بھی
متشابہات سے ہے، ہم اس پر ایمان لائے ہیں، بیشک اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں، ہنسنے کے معنی تو معلوم ہیں
مگر اس کی کیفیت معلوم نہیں، کیسے خوش تقدیر ہیں وہ لوگ جن سے اللہ راضی ہو کر ہنسیں، جن کو دیکھ کر
اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں ان میں) ایک تو وہ شخص ہے جو رات کے وقت (نیند کو دور کر کے نرم بستر سے اٹھ کر
محض اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے) تہجد پڑھنے کھڑا ہو، دوسرے جن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں
وہ لوگ ہیں جو نماز کے لئے صف بندی کرتے ہیں (یہ صف بندی اللہ تعالیٰ کو نہایت پیاری معلوم
ہوتی ہے ان کے فعل کو پسند کر کے اور ان سے راضی ہو کر اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں) تیسرے جن کو دیکھ کر
اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں وہ لوگ ہیں (جو محض اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جان پر کھیل کر) اللہ کے دشمنوں سے
لڑنے کے لئے ان کے مقابلہ میں صف بستہ ڈٹے ہوئے کھڑے رہتے ہیں۔
(اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔)
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "May Allah have mercy on a man who rises at night, prays, and wakes his wife to pray. If she refuses, he sprinkles water on her face. May Allah have mercy on a woman who rises at night, prays, and wakes her husband to pray. If he refuses, she sprinkles water on his face."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمت بھیجے جو خود بھی تہجد کے لئے اٹھتا ہے اور
تہجد پڑھتا ہے اور بیوی کو (دیکھتا ہے کہ تھک گئی ہے یا سستی سے تہجد کے لئے نہیں اٹھ رہی ہے تو اس
کو) جگانے کی کوشش کرتا ہے وہ بھی اٹھ کر تہجد پڑھنے کے لئے کھڑی ہو جاتی ہے تو بہتر ہے اگر وہ
غلبہ نیند کی وجہ سے نہ جاگے تو اس کے منھ پر پانی چھڑک کر نیند سے جگاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر
بھی اپنی رحمت بھیجے جو خود بھی تہجد کے لئے اٹھتی ہے اور تہجد پڑھتی ہے خاوند کو دیکھتی ہے کہ تھک گیا
ہے یا سستی سے تہجد کے لئے نہیں اٹھ رہا ہے تو اس کو) جگانے کی کوشش کرتی ہے اگر وہ جاگ گیا اور
تہجد پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا تو بہتر ہے اگر وہ غلبۂ نیند کی وجہ سے نہ جاگے تو اس کے منھ پر پانی
چھڑک کر نیند سے جگاتی ہے (ما شاء اللہ کیسا اچھا شوہر اور کیسی اچھی بیوی ہے! اس سے معلوم ہوتا ہے
کہ ان دونوں میں کیسے محبت اور اتفاق سے گزرتی ہے، یہ دونوں اللہ کی عبادت کے لئے کیسے آپس
میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Abu Sa'id and Abu Huraira (may Allah be pleased with them) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a man wakes his family at night and they pray two rak'ahs together, they are recorded among the men and women who remember Allah abundantly."
ابو سعید اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص نیند سے تہجد کے لئے خود بھی اٹھتا ہے اور اپنے اہل
و عیال کو بھی جگاتا ہے اور یہ سب مل کر تہجد کے (آٹھ رکعت پڑھیں یا کم سے کم) دو رکعت ہی پڑھ لیں
تو اللہ تعالیٰ مردوں کا نام ذاکرین میں یعنی ان لوگوں میں جو اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کرتے ہیں اور
عورتوں کا نام ذاکرات میں یعنی اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والیوں میں لکھ دیتے ہیں، تہجد کا
کیسا مبارک وقت ہے کہ تھوڑی سی عبادت سے بہت عبادت کا ثواب ملتا ہے)
(اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Ibn Umar (may Allah be pleased with him), who reported that his father, Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him), would pray at night as much as Allah willed. When the last part of the night came, he would wake his family for prayer, saying to them: "Pray!" Then he would recite this verse: "And enjoin prayer upon your family and be steadfast therein. We ask you not for provision; We provide for you, and the best outcome is for the righteous." (Taha, 20:132)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عمر
بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عادت شریف تھی کہ وہ رات کو تہجد کے لئے بیدار ہوتے اور جتنی رکعتیں اور
جتنا وقت مقدر میں لکھا ہوتا اس کو پورا کرتے پھر جب دیکھتے کہ پچھلی رات ہوگئی ہے تو اپنے اہل و
عیال کو جگاتے اور فرماتے (اٹھو! اٹھو! اب سونے کا وقت نہیں! جاگو! جاگو! رحمت کے خزانے لٹ
رہے ہیں) تم بھی نماز پڑھو (اور خدا کی رحمت حاصل کرو! گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں) پھر (سورۂ طہ
پ16 ع8 کی) اس آیت کو تلاوت فرماتے: وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا،
تاکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہو جائے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) اپنے گھر والوں پر نماز کی تاکید رکھو،
اور خود بھی اس کے پابند رہو (دیکھو دنیا کے مالک اپنے غلاموں سے کہتے ہیں کہ ہماری روزی
کما کر لاؤ ہم ایسے مالک نہیں) ہم تم سے اپنا رزق نہیں مانگتے ہم خود تم کو روزی دیتے ہیں (ہم تو
تم سے صرف اپنی عبادت کا مطالبہ کرتے ہیں وہ بھی تمہارے ہی فائدے کے لئے، اس لئے تم
عبادت کر کے دیکھو گے کہ) جنت اور جنت کی ساری نعمتیں متقیوں کے لئے ہیں یعنی ہماری
عبادت کرنے والوں کو ہی ملیں گی۔ (اس وقت ہماری عبادت کرنے کو یاد کرو گے اور پچھتاؤ گے
کہ ہم نے اس سے زیادہ عبادت کیوں نہیں کی، ایسے وقت پچھتانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اب
وقت ہے کہ جتنی چاہو عبادت کر لو)۔ (اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔)
Abu Malik Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "In Paradise, there are rooms whose outside can be seen from inside and whose inside can be seen from outside. Allah has prepared them for those who speak kindly, feed others, fast regularly, and pray at night while people are asleep." [Narrated by Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]
Tirmidhi narrated a similar hadith from Ali (may Allah be pleased with him), with the wording: "For those who speak good words."
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک
روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جنت میں بالا خانے ہیں (ان کی لطافت و
صفائی کیا کہوں ایسے شفاف ہیں) کہ جن کے اندر کی چیزیں باہر سے اور باہر کی چیزیں اندر سے
نظر آتی ہیں (کسی نے عرض کیا: حضور! کیسا خوش تقدیر یہ ہوگا وہ شخص جس کو یہ ملیں گے، اگر یہ کوشش
سے مل سکتے ہیں تو ہم بھی کوشش کریں گے، ارشاد ہو کہ یہ کس کو ملیں گے؟) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: (کوئی خاص مرتبہ کے لوگوں کے لئے یہ بالا خانے نہیں ہیں بلکہ ہر ایسے شخص
کے لئے ہیں جو ان صفات سے متصف ہو، جو ذیل میں آ رہے ہیں وہ صفات یہ ہیں کہ) وہ خوش
اخلاق ہو، اور شیریں کلام ہو (اس کے نرم لہجے سے اس کی خوش اخلاقی کا پتہ لگتا ہو۔ اس کی مزاج
میں سخاوت ہو کہ تمام جن کو کھانا کھلاتا ہوں (اور مہمانوں کی خاطرداری کرتا ہوں) اکثر نفل روزے
رکھا کرتا ہوں (اور کم از کم ایام بیض یعنی ہر ماہ ہلالی کی 13/14/15 کے روزے رکھا کرے) اور
رات کو اٹھ کر تہجد پڑھا کرتا ہوں، نیند کے ایسے غلبے کے وقت میں جبکہ اور لوگ سو رہے ہوں (اور یہ خدا
کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوا ہے)۔ (اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)
اور رزین نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: "So-and-so prays at night, but when morning comes, he steals." The Prophet (ﷺ) said: "What you say will deter him."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں (ایک دن عجیب واقعہ
ہوا ہم سب بیٹھے ہوئے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف فرما ہیں) ایک صاحب آئے
اور کہنے لگے حضور! (ایک شخص کی حالت پر بہت افسوس ہوتا ہے) وہ پابندی سے تہجد پڑھتا ہے اور صبح
ہوتے ہوتے چوری بھی کرتا ہے (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: (یوں تو ہر نماز
آہستہ آہستہ ہر گناہ چھڑا دیتی ہے مگر تہجد میں ایک خاص اثر ہے، تہجد سے دل میں ایک نورانیت پیدا
ہونا شروع ہوتی ہے جیسے جیسے یہ نورانیت بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے تہجد پڑھنے والے کے دل میں
گناہوں سے نفرت پیدا ہوتی ہے ایسا ہی) اس شخص کو (تم دیکھو گے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ) تہجد
(کی نورانیت) اس سے چوری چھڑا کر رہے گی۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور بیہقی نے
بھی اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said:
"The noblest of my Ummah are the bearers of the Quran and those who pray at night."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (دنیا والوں کے پاس بڑی عزت ان کی ہے جن کے پاس مال و دولت
ہو، اور حکومت ہو، اور اللہ کے پاس) میری امت میں اشراف یعنی بڑے عزت والے وہ ہیں جو
باعمل حافظ ہوں یا تہجد گزار ہوں (اس سے قرآن یاد کرنے کی اور شب بیداری کرنے کی فضیلت
معلوم ہوتی ہے)۔ (اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)
Al-Mughirah (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) stood in prayer so long that his feet swelled. It was said to him: "Why do you do this when Allah has forgiven your past and future sins?" He replied: "Should I not be a grateful servant?"
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی تہجد کیا کہوں کیسی تہجد تھی؟) تہجد میں قیام اس قدر طویل ہوتا تھا جس کی وجہ سے قدم
مبارک پر ورم آ جاتا تھا (آپ کی اس مشقت کو دیکھ کر) صحابہ نے عرض کیا: حضور! اس قدر مشقت
کیوں اٹھاتے ہیں آپ کے اگلے پچھلے گناہ تو معاف کر دیئے گئے ہیں (پھر اتنی مشقت کی کیا
ضرورت ہے) تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صاحبو! (کیا گناہوں کی مغفرت ہی
کے لئے ریاضت کی جاتی ہے اور مشقت اٹھائی جاتی ہے، نہیں! نہیں! اس کے سوا اور بھی بہت سے
مواقع ہیں جن کی وجہ سے مشقت اٹھائی جاتی ہے، مجھ پر اللہ تعالیٰ کے بے گنتی احسانات ہیں اور مجھ کو
اللہ تعالیٰ سے اس قدر نعمتیں ملی ہیں کہ ان کا شکر اس طرح کی عبادت سے کیا کرتا ہوں) کیا میں اس
قدر عبادت کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ (اللہ تعالیٰ کو بھی آپ کی اس مشقت کی بڑی
قدر تھی، اس لئے ارشاد ہوا (سورہ طہ پ16 ع1 آیت نمبر:2-1) طٰهٰ. مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ
الْقُرْآنَ لِتَشْقٰى. میرے پیارے نبی (آپ کے جیسا کوئی شکر گزار بندہ نہیں، آپ کا عبادت میں
یہ مشقت اٹھانا ہم سے دیکھا نہیں جاتا) ہم آپ پر اس لئے قرآن نہیں اتارے ہیں کہ آپ اس
قدر مشقت اٹھائیں)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The most beloved prayer to Allah is the prayer of Dawud (David), and the most beloved fasting to Allah is the fasting of Dawud. He would sleep half the night, stand in prayer for a third of it, and sleep for a sixth of it. He would fast one day and break his fast the next."
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یوں تو اور لوگ بھی تہجد پڑھا کرتے ہیں مگر) حضرت داؤد علیہ
السلام کی تہجد اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھی ایسا ہی (نفل روزے اور لوگ بھی رکھا کرتے ہیں مگر) حضرت
داؤد علیہ السلام کے نفل روزے بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھے (حضرت داؤد علیہ السلام کس طرح تہجد
پڑھتے تھے اس کو سنئے: آپ رات کے چھ حصے کرتے) آدھی رات یعنی پہلے تین حصوں میں (اوراد و
وظائف کے بعد) سوجاتے تھے، اور اس کے بعد کا چوتھا اور پانچواں حصہ تہجد میں گزارتے پھر آخری
چھٹے حصے میں سوجاتے (اور صبح صادق ہوتے ہی اٹھ جاتے تھے۔ اب حضرت داؤد علیہ السلام کے
نفل روزوں کی کیفیت سنئے:) آپ ایک دن نفل روزہ رکھتے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے (کہنے کو تو
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1131 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
یہ آسان ہے مگر ان پر عمل کر کے دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ یہ نفس پر کس قدر شاق ہیں، اب رہی یہ بات
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسی تہجد کیوں نہیں پڑھے اور ایسے روزے کیوں نہیں رکھے؟ اگر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر عمل کرتے تو امت کے لئے یہ سنت ہوجاتا، ہر تہجد پڑھنے والے
کو اسی طرح کرنا پڑتا، اور ہر نفل روزہ رکھنے والے کو اسی طرح روزے رکھنا پڑتا۔ آپ رحمۃٌ للعالمین
ہیں، آپ نہیں چاہتے کہ امت کو اس طرح مجبور کریں اور مشقت میں ڈالیں، اس لئے خود اس پر عمل
نہ کر کے امت کو بتا دیئے کہ تم کو جس طرح آسان ہو تہجد پڑھو اور جس طرح تمہارے لئے نفل
روزے رکھنے میں سہولت ہو اس طرح روزے رکھو! بات بات میں آپ جو سہولت رکھے ہیں اس
سے دل چاہتا ہے کہ آپ پر قربان ہوجائیں)۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would sleep during the first part of the night and stay awake during the last part. If he had a need to be with his family, he would fulfill it, then sleep. If he was in a state of major impurity at the time of the first call to prayer, he would get up and pour water over himself. If he was not in a state of major impurity, he would perform ablution for prayer and then pray two rak'ahs."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ (عشاء کی نماز کے بعد اوراد و وظائف سے فارغ ہوکر
جن کو آپ عشاء کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے) آدھی رات تک آرام فرماتے تھے، پھر آخری
نصف رات میں آپ کی تہجد کے مختلف اوقات تھے (کبھی کسی وقت اور کبھی کسی وقت) تہجد پڑھنے
کے بعد اگر جماع کی حاجت ہوتی تو جماع سے فارغ ہو جاتے، پھر رات کے (چھٹے حصے میں) آرام
فرماتے (تاکہ صبح کی فرض اور اس کے بعد کے وظائف میں تھکان نہ ہو، اور نشاط حاصل رہے) پھر
صبح کی اذان ہوتے ہی آپ فوراً بیدار ہو جاتے اور اگر جنابت کی حالت میں ہوتے تو غسل سے
فارغ ہو جاتے اور اگر جنابت کی حالت نہ ہوتی تو وضو فرماتے اور صبح کی دو سنتیں ادا کر کے فجر کی
لئے باہر تشریف لے جاتے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(۱) قوله: أفضل الصلاة إلخ وقد يقال: التهجد أفضل من حيث زيادة مشقة على النفس وبعده عن الرياء، والرواتب أفضل من حيث الأكدية في المتابعة للمفروضة، فلا منافات. كذا في «المرقاة».