Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1801

بَابُ وُجُوْبِهَا

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ وُجُوْبِهَا

Zujajat al-Masabih 1801Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۸۰۱ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوْبُوا إِلَى اللهِ قَبْلَ أَنْ تَمُوْتُوْا، وَبَادِرُوْا بِالأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ قَبْلَ أَنْ تَشْغَلُوْا، وَصِلُوْا الَّذِي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ بِكَثْرَةِ ذِكْرِكُمْ لَهُ وَكَثْرَةِ الصَّدَقَةِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ تُرْزَقُوا وَتُنْصَرُوْا وَتُجْبَرُوا وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللهَ قَدْ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْجُمُعَةَ فِي مَقَامِي هَذَا، فِي يَوْمِي هَذَا، فِي شَهْرِي هَذَا، مِنْ عَامِي هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ تَرَكَهَا فِي حَيَاتِي أَوْ بَعْدِي وَلَهُ إِمَامٌ عَادِلُ أَوْ جَائِرُ اسْتِخْفَافًا بِهَا أَوْ جُحُودًا لَهَا فَلَا جَمَعَ اللهُ لَهُ شَمْلَهُ، وَلَا بَارَكَ لَهُ فِي أَمْرِهِ. أَلَا وَلَا صَلَاةَ لَهُ وَلَا زَكَاةَ لَهُ وَلَا حَجَّ لَهُ، وَلَا صَوْمَ لَهُ، وَلَا بِرَّ لَهُ حَتَّى يَتُوْبَ، فَمَنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِي السُّنَنِ وَالْبَزَّارُ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ» عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنه) نَحْوَهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1081 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ کے ادا کرنے کے شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ نماز جمعہ کو سلطان قائم کرے یا سلطان کے اذن اور اجازت سے قائم ہو، عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ فقہاء کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ کے لئے سلطان کا ہونا یا سلطان کی اجازت کا ہونا اَوْلَوِيَّت کے لئے ضروری نہیں ہے۔ خواہ یہ شرط اولویت کے واسطے ہو یا ضروری ہو اب یہ شرط باقی نہیں رہی۔ اس وجہ سے کہ 945 ہجری میں خلیفۂ وقت نے تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے اذن عام دے دیا ہے کہ نماز ہر امام اور خطیب پڑھا سکتا ہے اس لئے اب مزید کسی سلطان یا خلیفہ کی اجازت کی ضرورت ہی نہیں اور درمختار میں لکھا ہے کہ مجمع الانہر نے اسی پر فتوٰی دیا ہے۔12