اردو
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو خطبہ دئے (اس خطبہ میں) ارشاد ہوا کہ لوگو! موت آنے سے
پہلے توبہ کر لو ورنہ (موت آنے کے بعد توبہ نہ کر سکو گے) اور دوسرے کاموں میں پھنس جانے سے
پہلے نیک کاموں کے کرنے میں جلدی کرو (کیا معلوم کہ پھر تم سے نیک کام نہ ہو سکے، اللہ تعالیٰ سے
بے تعلق ہو کر دنیا سے نہ جاؤ) تم اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کر لو، اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے
کے لئے (ایک تو) اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنا چاہئے۔ (اور دوسرے) علانیہ اور چھپا کر کثرت
سے خیرات کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور خیرات اللہ تعالیٰ سے تمہارے تعلق کو مضبوط کر دیں گے (جب
اللہ تعالیٰ سے تمہارا تعلق قوی ہوگا تو تم کو رزق کی فکر کی ضرورت نہیں) ہوگی، غیب سے تم کو رزق دیا
جائے گا اور اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائیں گے اور تمہاری تائید کی جائے گی اور تمہاری شکستہ حالت کو
درست کیا جائے گا (یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ سے تمہارا تعلق جن امور سے مضبوط ہوتا ہے منجملہ ان کے
ایک نماز جمعہ بھی ہے) اور نماز جمعہ میرے اسی مقام، میرے اسی دن، میرے اسی ماہ اور میرے اسی
سال میں تم سب پر قیامت تک کے لئے فرض قرار دی گئی ہے پس میری زندگی میں یا میرے بعد
خلیفہ وقت کے ہوتے ہوئے چاہے وہ عادل ہو یا ظالم کوئی نماز جمعہ کو حقیر سمجھ کر یا جمعہ کا منکر بن کر
نماز جمعہ ترک کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی پریشان حالی کو دور نہ کرے اور اس کے کاموں میں برکت نہ
دے، سنو! جب تک کہ وہ توبہ کر کے نماز جمعہ کا پابند نہ ہو جائے۔ اس وقت تک نہ تو اس کی نماز قبول
ہوگی اور نہ اس کی زکات اداء ہوگی اور نہ اس کا حج مقبول ہوگا اور نہ روزہ اور نہ اس کی کوئی نیکی قبول
ہوگی۔ پھر اگر وہ توبہ کر کے نماز جمعہ پابندی سے پڑھا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائیں گے
(اور اس کے دوسرے عبادات بھی قبول فرمائیں گے)۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور بیہقی نے اس کی روایت سنن میں کی ہے اور بزار نے بھی
اس کی روایت کی ہے۔)
اور طبرانی نے اس کی روایت اوسط میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1081 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ کے ادا کرنے کے شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ نماز جمعہ کو سلطان قائم کرے یا سلطان کے اذن اور اجازت سے قائم ہو، عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ فقہاء کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ کے لئے سلطان کا ہونا یا سلطان کی اجازت کا ہونا اَوْلَوِيَّت کے لئے ضروری نہیں ہے۔ خواہ یہ شرط اولویت کے واسطے ہو یا ضروری ہو اب یہ شرط باقی نہیں رہی۔ اس وجہ سے کہ 945 ہجری میں خلیفۂ وقت نے تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے اذن عام دے دیا ہے کہ نماز ہر امام اور خطیب پڑھا سکتا ہے اس لئے اب مزید کسی سلطان یا خلیفہ کی اجازت کی ضرورت ہی نہیں اور درمختار میں لکھا ہے کہ مجمع الانہر نے اسی پر فتوٰی دیا ہے۔12