جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: میرا کلام اللہ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا لیکن اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے۔ (اس کی
روایت دارقطنی نے کی ہے)۔
(1) قوله: كلامي لا ينسخ كلام الله إلخ إنما يجوز النسخ بالكتاب والسنة متفقا ومختلفًا، فيجوز نسخ الكتاب بالكتاب والسنة، وكذا يجوز نسخ السنة بالسنة والكتاب، فهي أربع صور عندنا أي نسخ الكتاب بالكتاب، ونسخ السنة بالسنة، ونسخ الكتاب بالسنة، ونسخ السنة بالكتاب، خلافًا للشافعي في المختلف، فلا يجوز عنده إلا نسخ الكتاب بالكتاب والسنة بالسنة. قلنا: لما كان النسخ بيان مدة الحكم المطلق، جاز أن يبيّن الله مدة كلام رسوله، أو رسوله مدة كلام ربه.
وقوله : «كلامي لا ينسخ كلام الله يؤيد ظاهرا مذهب الشافعي، ولكن المراد به ما أقوله اجتهادا أو رأيا، هذا كلامه لا ينسخ كلام الله، وغيره من الأحاديث الثابتة بالوحي يكون ناسخًا للكتاب، ويؤيده قوله : كنسخ القرآن في الحديث الآتي على معنى نسخ الأحاديث القرآن بإضافة المصدر إلى المفعول، فمثاله: نسخ الوصية للوالدين والأقربين بقوله (عليه السلام): لا وصية لوارث. وأجيب بأن الناسخ إنما هو آية الميراث، وفيه بحث؛ إذ الكلام في الوصية لا في مقدار الموصى به. ومن هذا القبيل قوله (عليه السلام): نحن معاشر الأنبياء لا نورث. هذا هو النوع الأول.
والنوع الثاني: وكلام الله ينسخ كلامي، وهذا يؤيد مذهب أبي حنيفة في الجواز، خلافًا للشافعي. ومثاله: نسخ التوجه إلى بيت المقدس؛ فإنه ﷺ كان متوجها إلى الكعبة، ثم تحوّل إلى بيت المقدس بالسنة، ثم نسخ بقوله تعالى: {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} (البقرة: ١٤٤).
والنوع الثالث: «وكلام الله ينسخ بعضه بعضا»، وهذا لا خلاف فيه، كآيات المسالمة بآيات القتال.
بقي في الحديث قسم رابع، وهو نسخ السنة بالسنة، وجوازه متفق عليه. مثاله: كنت نهيتكم عن زيارة القبور، ألا فزوروها.
فاجتمع في هذا الحديث الناسخ والمنسوخ، وهو مستفاد من الحديث الآتي، وهو قوله : «أحاديثنا ينسخ بعضها بعضًا». التقطته من «نور الأنوار» و«قمر الأقمار» و«اللمعات» و «المرقاة».
وقال في «رد المحتار»: اختلفوا في سجود الملائكة، قيل: كان لله تعالى، والتوجه إلى آدم للتشريف كاستقبال الكعبة، وقيل: بل لآدم على وجه التحية والإكرام، ثم نسخ بقوله (عليه السلام) : لو أمرت أحدًا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها. «التاتارخانية».
قال في «تبيين المحارم»: والصحيح الثاني، ولم يكن عبادة له، بل تحِيَّةً وإكرامًا، ولذا امتنع عنه إبليس، وكان جائزا فيما مضى، كما في قصة يوسف. قال أبو منصور الماتريدي: وفيه دليل على نسخ الكتاب بالسنة.
Note 1
ف(1): شیخ لمعی شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لمعات میں لکھا ہے کہ حنفیہ کے
نزدیک ثابت ہے کہ حدیث بھی کتاب اللہ کی ناسخ ہوتی ہے، لہذا اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے ارشاد کلامی (میرے کلام) سے مراد وہ قول ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر وحی کے
اپنے اجتہاد اور رائے سے کہا ہے یعنی میرا ایسا کلام کلام اللہ کا ناسخ نہیں ہوتا۔
البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”كنسخ القرآن“ جواز اس کے بعد والی حدیث میں
مذکور ہے اگر اس کے معنی مصدری کو مفعول کی طرف مضاف کر دیں تو اس معنی کے لحاظ سے حدیث کا ناسخ
قرآن ہونا ثابت ہوتا ہے اور اس صورت میں ”كنسخ القرآن“ کے معنی ”كنسخ الأحاديثِ
القرآنَ“ یعنی ”احادیث کا قرآن کو منسوخ کرنا ہوں گے“۔12
ف(2):(1) پہلی یہ کہ کتاب اللہ کی تنسیخ، کتاب اللہ سے ہو (2) دوسرے یہ کہ ایک سنت کی
تنسیخ دوسری سنت سے ہو (3) تیسرے یہ کہ کتاب اللہ کی تنسیخ، سنت سے ہو (4) چوتھے یہ کہ سنت کی
تنسیخ، کتاب اللہ سے ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے مختلف فیہ صورت میں اختلاف کیا ہے، لہذا ان کے پاس دو ہی صورتیں
نسخ کی جائز ہوں گی: (1) ایک یہ کہ کتاب اللہ کی ایک آیت، کتاب اللہ کی دوسری آیت کو منسوخ کر دے
(2) دوسری صورت نسخ کی یہ ہوگی کہ ایک حدیث کے ذریعہ سے دوسری حدیث منسوخ قرار پائے۔
احناف کی دلیل یہ ہے چونکہ نسخ کے معنی حکم مطلق کی مدت کو بیان کرنا ہے کہ اس حکم کی مدت اتنی
تھی پس یہ جائز ہے کہ اللہ اپنے رسول کے کلام کی مدت بیان فرما دیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اپنے رب کے کلام کی مدت بیان کر دیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”كَلَامِي لَا يَنْسَخُ
كَلَامَ اللّٰهِ“ (میرا کلام، کلام اللہ کو منسوخ نہیں کرتا) گو مذہب امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی بظاہر تائید کرتا
ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا یہ منشاء ہے کہ جس چیز کو آپ بغیر وحی بطور اجتہاد یا
بطور رائے فرمائے ہوں وہ ناسخ قرآن نہیں ہے لیکن وہ احادیث جو وحی کے ذریعہ سے ثابت ہوئے ہیں
وہ کتاب اللہ کی ناسخ ہوتی ہے اور اس کی تائید ارشاد نبوی ”تنسخ القرآن“ سے ہوتی ہے۔
اس حدیث کے بعد والی حدیث (حدیث نمبر:201)(اِنَّ اَحَادِيْثَنَا يَنْسَخُ الخ) کا مطلب
یہ ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احادیث بعض احادیث کو اسی طرح منسوخ کر دیتی ہیں جس
طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض احادیث بعض قرآن کو منسوخ کرتی ہیں، تنسخ القرآن
میں (نسخ) مصدر کی اضافت قرآن کی جانب ہے، جو مفعول ہے اور فاعل ”احادیث“ ہے یعنی حدیث کو
قرآن کے لئے ناسخ کہا جائے گا۔
نسخ کی پہلی قسم یعنی حدیث سے کتاب اللہ کے منسوخ ہونے کی مثال یہ ہے: والدین اور
قرابت داروں کے لئے وصیت کا حکم قرآنی حکم تھا جو حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ“
(وارث کے لئے وصیت نہیں کرنا چاہئے) سے منسوخ ہو گیا، اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ اس حدیث سے
وصیت والی آیت کو جو منسوخ قرار دیا جا رہا ہے اس کی ناسخ تو دراصل آیت میراث ہے نہ کہ یہ حدیث، اس
کا جواب یہ ہے کہ منسوخ آیت میں صرف وصیت کا ذکر ہے نہ کہ ورثاء کی مقدار میراث کا، تو آیت میراث
ایسی آیت کی ناسخ قرار نہیں پا سکتی جس آیت میں صرف وصیت کا ذکر ہو، البتہ وہی حدیث جس میں صرف
وصیت کا ذکر ہے منسوخ آیت کی ناسخ ہو سکتی ہے۔
اس کی دوسری مثال قول نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”نَحْنُ مَعَاشِرُ الْاَنْبِيَاءِ لَا نُوْرَثُ“ ہے (ہم
انبیاء کی جماعت کسی کو وارث نہیں بناتے) یہ حدیث بھی آیت میراث کے ایک خاص حصہ کی جو نبیوں
سے متعلق ہے ناسخ ہوتی ہے اور باقی آیت اپنے حال پر رہے گی، اس دوسری مثال سے بھی حدیث کا
کلام اللہ کے لئے ناسخ ہونا ثابت ہوتا ہے، واضح باد ہو کہ یہ نسخ کی پہلی قسم یعنی حدیث کے ناسخ قرآن
ہونے کی مثالیں ہیں۔
نسخ کی دوسری قسم ”وَكَلَامُ اللّٰهِ يَنْسَخُ كَلَامِيْ“ ہے یعنی اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ
کرتا ہے اور اس سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے اور نسخ کی اس دوسری قسم کی مثال یہ ہے: بیت
المقدس کی جانب رُخ کرنے کا حکم یوں منسوخ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی جانب رُخ کر کے نماز
اداء فرماتے تھے بعد ازاں بیت المقدس کی جانب متوجہ ہو کر نماز پڑھنے لگے اور اس پر قرآن کا کوئی حکم
موجود نہیں تھا اور پھر یہ عمل قول باری تعالیٰ ﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ (آپ اپنے
رخ کو مسجد حرام کی جانب کر دیجئے) (سورہ بقرہ، پ:2، ع:17، آیت نمبر:144) سے منسوخ ہوا۔
نسخ کی تیسری قسم کی مثال ”وَكَلَامُ اللّٰهِ يَنْسَخُ بَعْضُهُ بَعْضًا“ (کلام اللہ کی بعض آیتیں
بعض آیات کو منسوخ کر دیتی ہیں) اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں اور اس کی مثال صلح کی آیات ہیں
جو جہاد کی آیتوں سے منسوخ ہو گئیں۔
اب رہ گئی چوتھی قسم، وہ نَسْخُ السُّنَّةِ بِالسُّنَّةِ ہے یعنی ایک حدیث سے دوسری حدیث منسوخ
پائے اور اس کے جائز ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ اس کی مثال حدیث شریف: ”كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ
زِيَارَةِ الْقُبُورِ اَلَا فَزُورُوهَا“ ہے (یعنی میں نے تم کو زیارت قبور کی ممانعت کی تھی اب زیارت کیا
کرو) اس حدیث شریف میں ناسخ اور منسوخ دونوں جمع ہیں، اور حدیث ”إِنَّ أَحَادِيثَنَا يَنْسَخُ بَعْضُهُ
بَعْضًا۔“ کا مطلب یہ ہے کہ ہماری حدیثیں ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتی ہیں۔ (یہ مضامین نور
الانوار، قمر الاقمار، لمعات اور مرقات سے اخذ کئے گئے ہیں)۔12
ردالمحتار میں لکھا ہے کہ فرشتوں کے سجدہ کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے، ایک قول یہ
ہے کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی جانب صرف رخ اور توجہ تھی، اور رخ
کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ اس سے حضرت آدم علیہ السلام کی بزرگی ثابت ہو، اور یہ حکم کعبہ کی
طرف رخ کرنے کی طرح ہے اور دوم قول یہ ہے کہ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ تعظیمی
کیا لیکن یہ سجدہ تعظیمی کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ”لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ
لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا“ سے منسوخ ہے (یعنی اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ
کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے) (ماخوذ از تاتار خانیہ۔)
تبیین المحارم میں صراحت کی گئی ہے کہ فرشتوں کا سجدۂ آدم علیہ السلام کو بطور عبادت نہ تھا بلکہ
سجدۂ تعظیمی و توقیری تھا اور اسی لئے سجدہ سے ابلیس نے انکار کیا اور یہ سجدہ تعظیمی پہلے زمانہ میں جائز
تھا، چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والدین اور بھائیوں کا یوسف علیہ السلام کو سجدہ کرنا سجدہ تعظیمی تھا۔
امام ابو منصور ماتریدی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ قرآن میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت
یوسف علیہ السلام کے قصوں میں سجدہ تعظیمی کا جو جواز معلوم ہوتا تھا وہ مذکور الصدر حدیث ”لَوْ أَمَرْتُ
أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا“ سے منسوخ ہوگیا۔ اس سے ظاہر
ہوتا ہے کہ حدیث قرآن کو منسوخ کرسکتی ہے۔12
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) قوله: كلامي لا ينسخ كلام الله إلخ إنما يجوز النسخ بالكتاب والسنة متفقا ومختلفًا، فيجوز نسخ الكتاب بالكتاب والسنة، وكذا يجوز نسخ السنة بالسنة والكتاب، فهي أربع صور عندنا أي نسخ الكتاب بالكتاب، ونسخ السنة بالسنة، ونسخ الكتاب بالسنة، ونسخ السنة بالكتاب، خلافًا للشافعي في المختلف، فلا يجوز عنده إلا نسخ الكتاب بالكتاب والسنة بالسنة. قلنا: لما كان النسخ بيان مدة الحكم المطلق، جاز أن يبيّن الله مدة كلام رسوله، أو رسوله مدة كلام ربه. وقوله : «كلامي لا ينسخ كلام الله يؤيد ظاهرا مذهب الشافعي، ولكن المراد به ما أقوله اجتهادا أو رأيا، هذا كلامه لا ينسخ كلام الله، وغيره من الأحاديث الثابتة بالوحي يكون ناسخًا للكتاب، ويؤيده قوله : كنسخ القرآن في الحديث الآتي على معنى نسخ الأحاديث القرآن بإضافة المصدر إلى المفعول، فمثاله: نسخ الوصية للوالدين والأقربين بقوله (عليه السلام): لا وصية لوارث. وأجيب بأن الناسخ إنما هو آية الميراث، وفيه بحث؛ إذ الكلام في الوصية لا في مقدار الموصى به. ومن هذا القبيل قوله (عليه السلام): نحن معاشر الأنبياء لا نورث. هذا هو النوع الأول. والنوع الثاني: وكلام الله ينسخ كلامي، وهذا يؤيد مذهب أبي حنيفة في الجواز، خلافًا للشافعي. ومثاله: نسخ التوجه إلى بيت المقدس؛ فإنه ﷺ كان متوجها إلى الكعبة، ثم تحوّل إلى بيت المقدس بالسنة، ثم نسخ بقوله تعالى: {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} (البقرة: ١٤٤). والنوع الثالث: «وكلام الله ينسخ بعضه بعضا»، وهذا لا خلاف فيه، كآيات المسالمة بآيات القتال. بقي في الحديث قسم رابع، وهو نسخ السنة بالسنة، وجوازه متفق عليه. مثاله: كنت نهيتكم عن زيارة القبور، ألا فزوروها. فاجتمع في هذا الحديث الناسخ والمنسوخ، وهو مستفاد من الحديث الآتي، وهو قوله : «أحاديثنا ينسخ بعضها بعضًا». التقطته من «نور الأنوار» و«قمر الأقمار» و«اللمعات» و «المرقاة». وقال في «رد المحتار»: اختلفوا في سجود الملائكة، قيل: كان لله تعالى، والتوجه إلى آدم للتشريف كاستقبال الكعبة، وقيل: بل لآدم على وجه التحية والإكرام، ثم نسخ بقوله (عليه السلام) : لو أمرت أحدًا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها. «التاتارخانية». قال في «تبيين المحارم»: والصحيح الثاني، ولم يكن عبادة له، بل تحِيَّةً وإكرامًا، ولذا امتنع عنه إبليس، وكان جائزا فيما مضى، كما في قصة يوسف. قال أبو منصور الماتريدي: وفيه دليل على نسخ الكتاب بالسنة.
Note 1
ف(1): شیخ لمعی شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لمعات میں لکھا ہے کہ حنفیہ کے نزدیک ثابت ہے کہ حدیث بھی کتاب اللہ کی ناسخ ہوتی ہے، لہذا اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کلامی (میرے کلام) سے مراد وہ قول ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر وحی کے اپنے اجتہاد اور رائے سے کہا ہے یعنی میرا ایسا کلام کلام اللہ کا ناسخ نہیں ہوتا۔ البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”كنسخ القرآن“ جواز اس کے بعد والی حدیث میں مذکور ہے اگر اس کے معنی مصدری کو مفعول کی طرف مضاف کر دیں تو اس معنی کے لحاظ سے حدیث کا ناسخ قرآن ہونا ثابت ہوتا ہے اور اس صورت میں ”كنسخ القرآن“ کے معنی ”كنسخ الأحاديثِ القرآنَ“ یعنی ”احادیث کا قرآن کو منسوخ کرنا ہوں گے“۔12 ف(2):(1) پہلی یہ کہ کتاب اللہ کی تنسیخ، کتاب اللہ سے ہو (2) دوسرے یہ کہ ایک سنت کی تنسیخ دوسری سنت سے ہو (3) تیسرے یہ کہ کتاب اللہ کی تنسیخ، سنت سے ہو (4) چوتھے یہ کہ سنت کی تنسیخ، کتاب اللہ سے ہو۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے مختلف فیہ صورت میں اختلاف کیا ہے، لہذا ان کے پاس دو ہی صورتیں نسخ کی جائز ہوں گی: (1) ایک یہ کہ کتاب اللہ کی ایک آیت، کتاب اللہ کی دوسری آیت کو منسوخ کر دے (2) دوسری صورت نسخ کی یہ ہوگی کہ ایک حدیث کے ذریعہ سے دوسری حدیث منسوخ قرار پائے۔ احناف کی دلیل یہ ہے چونکہ نسخ کے معنی حکم مطلق کی مدت کو بیان کرنا ہے کہ اس حکم کی مدت اتنی تھی پس یہ جائز ہے کہ اللہ اپنے رسول کے کلام کی مدت بیان فرما دیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے کلام کی مدت بیان کر دیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”كَلَامِي لَا يَنْسَخُ كَلَامَ اللّٰهِ“ (میرا کلام، کلام اللہ کو منسوخ نہیں کرتا) گو مذہب امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی بظاہر تائید کرتا ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا یہ منشاء ہے کہ جس چیز کو آپ بغیر وحی بطور اجتہاد یا بطور رائے فرمائے ہوں وہ ناسخ قرآن نہیں ہے لیکن وہ احادیث جو وحی کے ذریعہ سے ثابت ہوئے ہیں وہ کتاب اللہ کی ناسخ ہوتی ہے اور اس کی تائید ارشاد نبوی ”تنسخ القرآن“ سے ہوتی ہے۔ اس حدیث کے بعد والی حدیث (حدیث نمبر:201)(اِنَّ اَحَادِيْثَنَا يَنْسَخُ الخ) کا مطلب یہ ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احادیث بعض احادیث کو اسی طرح منسوخ کر دیتی ہیں جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض احادیث بعض قرآن کو منسوخ کرتی ہیں، تنسخ القرآن میں (نسخ) مصدر کی اضافت قرآن کی جانب ہے، جو مفعول ہے اور فاعل ”احادیث“ ہے یعنی حدیث کو قرآن کے لئے ناسخ کہا جائے گا۔ نسخ کی پہلی قسم یعنی حدیث سے کتاب اللہ کے منسوخ ہونے کی مثال یہ ہے: والدین اور قرابت داروں کے لئے وصیت کا حکم قرآنی حکم تھا جو حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ“ (وارث کے لئے وصیت نہیں کرنا چاہئے) سے منسوخ ہو گیا، اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ اس حدیث سے وصیت والی آیت کو جو منسوخ قرار دیا جا رہا ہے اس کی ناسخ تو دراصل آیت میراث ہے نہ کہ یہ حدیث، اس کا جواب یہ ہے کہ منسوخ آیت میں صرف وصیت کا ذکر ہے نہ کہ ورثاء کی مقدار میراث کا، تو آیت میراث ایسی آیت کی ناسخ قرار نہیں پا سکتی جس آیت میں صرف وصیت کا ذکر ہو، البتہ وہی حدیث جس میں صرف وصیت کا ذکر ہے منسوخ آیت کی ناسخ ہو سکتی ہے۔ اس کی دوسری مثال قول نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”نَحْنُ مَعَاشِرُ الْاَنْبِيَاءِ لَا نُوْرَثُ“ ہے (ہم انبیاء کی جماعت کسی کو وارث نہیں بناتے) یہ حدیث بھی آیت میراث کے ایک خاص حصہ کی جو نبیوں سے متعلق ہے ناسخ ہوتی ہے اور باقی آیت اپنے حال پر رہے گی، اس دوسری مثال سے بھی حدیث کا کلام اللہ کے لئے ناسخ ہونا ثابت ہوتا ہے، واضح باد ہو کہ یہ نسخ کی پہلی قسم یعنی حدیث کے ناسخ قرآن ہونے کی مثالیں ہیں۔ نسخ کی دوسری قسم ”وَكَلَامُ اللّٰهِ يَنْسَخُ كَلَامِيْ“ ہے یعنی اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے اور اس سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے اور نسخ کی اس دوسری قسم کی مثال یہ ہے: بیت المقدس کی جانب رُخ کرنے کا حکم یوں منسوخ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی جانب رُخ کر کے نماز اداء فرماتے تھے بعد ازاں بیت المقدس کی جانب متوجہ ہو کر نماز پڑھنے لگے اور اس پر قرآن کا کوئی حکم موجود نہیں تھا اور پھر یہ عمل قول باری تعالیٰ ﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ (آپ اپنے رخ کو مسجد حرام کی جانب کر دیجئے) (سورہ بقرہ، پ:2، ع:17، آیت نمبر:144) سے منسوخ ہوا۔ نسخ کی تیسری قسم کی مثال ”وَكَلَامُ اللّٰهِ يَنْسَخُ بَعْضُهُ بَعْضًا“ (کلام اللہ کی بعض آیتیں بعض آیات کو منسوخ کر دیتی ہیں) اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں اور اس کی مثال صلح کی آیات ہیں جو جہاد کی آیتوں سے منسوخ ہو گئیں۔ اب رہ گئی چوتھی قسم، وہ نَسْخُ السُّنَّةِ بِالسُّنَّةِ ہے یعنی ایک حدیث سے دوسری حدیث منسوخ پائے اور اس کے جائز ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ اس کی مثال حدیث شریف: ”كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ اَلَا فَزُورُوهَا“ ہے (یعنی میں نے تم کو زیارت قبور کی ممانعت کی تھی اب زیارت کیا کرو) اس حدیث شریف میں ناسخ اور منسوخ دونوں جمع ہیں، اور حدیث ”إِنَّ أَحَادِيثَنَا يَنْسَخُ بَعْضُهُ بَعْضًا۔“ کا مطلب یہ ہے کہ ہماری حدیثیں ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتی ہیں۔ (یہ مضامین نور الانوار، قمر الاقمار، لمعات اور مرقات سے اخذ کئے گئے ہیں)۔12 ردالمحتار میں لکھا ہے کہ فرشتوں کے سجدہ کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے، ایک قول یہ ہے کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی جانب صرف رخ اور توجہ تھی، اور رخ کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ اس سے حضرت آدم علیہ السلام کی بزرگی ثابت ہو، اور یہ حکم کعبہ کی طرف رخ کرنے کی طرح ہے اور دوم قول یہ ہے کہ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ تعظیمی کیا لیکن یہ سجدہ تعظیمی کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ”لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا“ سے منسوخ ہے (یعنی اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے) (ماخوذ از تاتار خانیہ۔) تبیین المحارم میں صراحت کی گئی ہے کہ فرشتوں کا سجدۂ آدم علیہ السلام کو بطور عبادت نہ تھا بلکہ سجدۂ تعظیمی و توقیری تھا اور اسی لئے سجدہ سے ابلیس نے انکار کیا اور یہ سجدہ تعظیمی پہلے زمانہ میں جائز تھا، چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والدین اور بھائیوں کا یوسف علیہ السلام کو سجدہ کرنا سجدہ تعظیمی تھا۔ امام ابو منصور ماتریدی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ قرآن میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے قصوں میں سجدہ تعظیمی کا جو جواز معلوم ہوتا تھا وہ مذکور الصدر حدیث ”لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا“ سے منسوخ ہوگیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حدیث قرآن کو منسوخ کرسکتی ہے۔12