English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed two white, horned rams. He slaughtered them with his own hand, recited Allah’s name, and said the takbir. I saw him placing his foot on their sides and saying, 'In the name of Allah, and Allah is the Greatest.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
١٨٨٤ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: ضَحَى رَسُولُ اللهِ ﷺ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ، قَالَ: رَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صَفَاحِهِمَا، وَيَقُولُ: «بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2190
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (عید الاضحیٰ تھی) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو مینڈھے قربانی دئے یہ دو مینڈھے ابلق یعنی چتکبرے تھے ان کا رنگ سفید
تھا اور بعض بعض جگہ سیاہ رنگ کے دھبے تھے۔ اب دونوں کے سینگ مڑے ہوئے تھے (میں نے
خود دیکھا کہ) حضور والا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دست مبارک سے بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ کہہ کر
ان کو ذبح کر رہے تھے، حضرت انس فرماتے میں نے یہ بھی دیکھا کہ حضور ان کے پہلوؤں پر قدم
مبارک رکھ کر بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ فرماتے ہوئے ذبح فرمائے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم
نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Qur’an-related source paragraphs
And the saying of Allah, the Almighty: "So pray (1) to your Lord and sacrifice." (Qur’an 108:2)
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
(1) The statement: "So pray..." means to pray the Eid prayer and offer the sacrifice. This is mentioned in Al-Mirqat.
(2) The statement: "And whoever honors..." In Tafsir al-Ahmadi, it is said: "This verse establishes that sacrificial animals should possess the qualities mentioned. Perhaps for this reason, jurists do not permit sacrificing animals that are blind, one-eyed, emaciated, lame, unable to walk to the place of sacrifice, or those with a limb cut off, or those with more than a third of their ear, tail, eye, or udder missing. This is because the sacrifice, like offerings, must be honored, and these defects diminish its value. The verse serves as evidence for excluding such animals from being permissible for sacrifice. However, animals that are hornless, castrated, or have a small defect are permissible, as their defects do not reach the level of those mentioned."
Chapter-heading commentary
(۱) قوله فصل إلخ : أي صل صلاة العيد. وانحر النسك. قاله في «المرقاة».
(۲) قوله : ومن يعظم إلخ : قال في التفسير الأحمدي»: فهذه الآية أصل في أنه ينبغي أن يكون الهدايا متصفة بالأوصاف المذكورة. ولعله لهذا المعنى لم يجوز الفقهاء في الأضحية العمياء والعوراء والعجفاء والعرجاء التي لا يمشي إلى المنسك والمقطوع يدها ورجلها وما ذهب أكثر من ثلث أذنها أو ذنبها أو عينها أو إليتها. وذلك لأن الأضحية كالهدايا واجب التعظيم، وهذه المذكورات متصفا بالعيب والنقصان فضلا عن أن يكون معظمة؛ إذ التعظيم على ما " ذكر أمر زائد عليه، فتقيم الآية دليلا على استخراجها عن الجواز، بخلاف الجماء والخصي والثولاء؛ لأنها لا تبلغ في حد النقصان إلى ما ذكر، فيجوز التضحية بها.
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ ذبح کے وقت ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ واؤ کے ساتھ قدیم سے کہنے کی عادت ہے۔ اور بعض فقہاء کے قول سے معلوم ہوا کہ ذبح کے وقت ’بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُ أَكْبَرُ“ بغیر واؤ کے کہنا چاہئے، اس کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ فقہاء میں سے اکثر فقہاء، جیسے امام اتقانی، علامہ عینی، علامہ اتقانی، صاحب المجمع، علامہ خیر الدین ایلی اور علامہ اترازی وغیرہم نے بسم اللہ و اللہ اکبر واؤ کے ساتھ کہنے کو ترجیح دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ذبح کے وقت ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“، واؤ کے ساتھ کہنا چاہئے لیکن تنہا امام حلوانی ”بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُ أَكْبَرُ“ بغیر واؤ کے کہنے کو ترجیح دیتے ہیں، اس لئے متقدمین پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سلف سے خلف تک سب کے پاس استدلال اور متواتر لفظ ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ واؤ کے ساتھ ہے اس کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے کہ احادیث میں بھی ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ واؤ کے ساتھ ہے، اور مرفوع احادیث میں مسلم، ابوداؤد، ترمذی نسائی، ابن ماجہ، طحاوی اور خصاص بھی ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ واؤ کے ساتھ ہی روایت کئے ہیں حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم بھی ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ واؤ کے ساتھ کہنے کے قائل ہیں، اس لئے مرقات میں لکھا ہے کہ ذبح کے وقت ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ واؤ کے ساتھ کہنا اولی اور افضل ہے۔ ف(2): ایک ضروری مسئلہ یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جانور کے ذبح کرنے والوں میں ایک شریک ہوتا ہے اور ایک معین۔ شریک مثلاً ذبح کرنے والے کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہے اور دونوں مل کر ذبح کر رہے ہیں تو دونوں کو ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہنا چاہئے۔ اور اگر دونوں میں سے ایک نے ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہا اور دوسرے نہ کہا تو جانور حلال نہ ہوگا۔ اس لئے دونوں کو ذبح کے وقت ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہنا چاہیے۔ بخلاف اس کے جو ذبح کرنے والے کا معین ہے، مثلاً بکرے کو گرایا ہے اور اس کو تھام کر ذبح کرنے والے کی مدد کر رہا ہے تو اس مدد کرنے والے کو ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہنا ضروری نہیں ہے۔