العربية
Typed, pending editorial approval
۱۸۸۸ - وَعَنْ أَبِي رَافِعِ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَانَ إِذَا أَضْحَى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ أَمْلَحَيْنِ حَتَّى إِذَا خَطَبَ النَّاسَ وَصَلَّى أُتِيَ بِأَحَدِهِمَا، وَهُوَ قَائِمٌ فِي مُصَلَّاهُ، فَذَبَحَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَذَا عَنْ أُمَّتِي جَمِيعًا مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ»، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْآخَرِ فَيَذْبَحُهُ، ثُمَّ يَقُوْلُ: «اللهُمَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ». رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.
وَقَالَ فِي الدُّرِّ الْمُخْتَارِ»: فَإِنْ فَصَلَ صُورَةً وَمَعْنَى كَالدُّعَاءِ قَبْلَ الْإِضْجَاعِ، وَالدُّعَاءِ قَبْلَ التَّسْمِيَةِ أَوْ بَعْدَ الذَّبْحِ لَا بَأْسَ بِهِ، وَقَالَ فِي رَدَّ الْمُحْتَارِ»: أَي لَا يُكْرَهُ.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ صدر میں حاکم، ابن ماجہ اور امام احمد، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کئے ہیں ”أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَشْعَرَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، أَحَدُهُمَا عَنْ نَفْسِهِ“ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مینڈھا اپنی طرف سے اپنے لئے قربانی کئے یہ واجب قربانی تھی، جس کو آپ اپنی طرف سے ادا کئے، اور اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو بکروں کی قربانی دئے: ایک بکرا تو تمام امت کی طرف سے، اور دوسرا بکرا اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی دیئے آپ اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے جو قربانی دیئے وہ حضرت کے گھر والوں پر واجب قربانی نہیں بلکہ وہ نفل قربانی تھی کہ سب گھر والوں کو ثواب میں شریک کر لئے تھے، سب گھر والوں کی طرف سے جو قربانی دی گئی تھی وہ ایسی ہی قربانی تھی جیسے امت کی طرف سے قربانی دی گئی تھی کہ ثواب میں امت کو شریک کر لیا گیا تھا نہ کہ امت کی طرف سے واجب ادا ہو گیا کیا گیا تھا۔