Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1888

(یہ باب قربانی کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب قربانی کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1888Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2197
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کیا کرتے تھے تو وہ بڑے بڑے ابلق مینڈھے خرید فرمایا کرتے تھے، اور نماز عید کے بعد عیدگاہ میں خطبہ دینے سے فارغ ہو جاتے اور آپ عیدگاہ ہی میں کھڑے رہتے تو اس وقت مذکورہ دو مینڈھوں میں سے ایک مینڈھا لایا جاتا اور (حضور جب اس مینڈھے کو ذبح کرنا چاہتے تو ذبح کے وقت کوئی دعا نہیں پڑھتے تھے) صرف ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“ کہہ کر ذبح کرتے، ذبح سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! یہ قربانی میری امت کی طرف سے قبول فرمائیے یعنی میری امت میں سے ہر شخص کی طرف سے قبول فرمائیے جو آپ کی توحید کی گواہی دیتا ہو، اور اس بات کی بھی گواہی دیتا ہو کہ میں پورے پورے احکام پہنچا دیا ہوں۔ پھر دوسرا مینڈھا آپ کے پاس لایا جاتا تو اس کو بھی ”بسم الله و الله اكبر“ کہنے کے بعد ذبح فرماتے اور یہ دعا پڑھتے: اللّٰهُمَّ هٰذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ اے اللہ یہ قربانی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں کی طرف سے ہے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ صدر میں حاکم، ابن ماجہ اور امام احمد، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کئے ہیں ”أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَشْعَرَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، أَحَدُهُمَا عَنْ نَفْسِهِ“ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مینڈھا اپنی طرف سے اپنے لئے قربانی کئے یہ واجب قربانی تھی، جس کو آپ اپنی طرف سے ادا کئے، اور اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو بکروں کی قربانی دئے: ایک بکرا تو تمام امت کی طرف سے، اور دوسرا بکرا اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی دیئے آپ اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے جو قربانی دیئے وہ حضرت کے گھر والوں پر واجب قربانی نہیں بلکہ وہ نفل قربانی تھی کہ سب گھر والوں کو ثواب میں شریک کر لئے تھے، سب گھر والوں کی طرف سے جو قربانی دی گئی تھی وہ ایسی ہی قربانی تھی جیسے امت کی طرف سے قربانی دی گئی تھی کہ ثواب میں امت کو شریک کر لیا گیا تھا نہ کہ امت کی طرف سے واجب ادا ہو گیا کیا گیا تھا۔