English
Abu Rafi’ (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would, when sacrificing, buy two large, white rams. When he delivered the sermon and prayed, one of them was brought to him while he was standing at the prayer ground. He would slaughter it with his own hand and say, 'O Allah, this is on behalf of my entire Ummah, those who testify to Your Oneness and to my message.' Then the other ram would be brought, and he would slaughter it, saying, 'O Allah, this is on behalf of Muhammad and the family of Muhammad.'" [Narrated by Al-Tahawi]
In Al-Durr al-Mukhtar, it is said: "If one separates the form and meaning, such as making a supplication before placing the animal down, or making a supplication before or after the slaughter, there is no harm in it."
In Rad al-Muhtar, it is said: "There is no dislike for it."
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۸۸۸ - وَعَنْ أَبِي رَافِعِ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَانَ إِذَا أَضْحَى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ أَمْلَحَيْنِ حَتَّى إِذَا خَطَبَ النَّاسَ وَصَلَّى أُتِيَ بِأَحَدِهِمَا، وَهُوَ قَائِمٌ فِي مُصَلَّاهُ، فَذَبَحَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَذَا عَنْ أُمَّتِي جَمِيعًا مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ»، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْآخَرِ فَيَذْبَحُهُ، ثُمَّ يَقُوْلُ: «اللهُمَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ». رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.
وَقَالَ فِي الدُّرِّ الْمُخْتَارِ»: فَإِنْ فَصَلَ صُورَةً وَمَعْنَى كَالدُّعَاءِ قَبْلَ الْإِضْجَاعِ، وَالدُّعَاءِ قَبْلَ التَّسْمِيَةِ أَوْ بَعْدَ الذَّبْحِ لَا بَأْسَ بِهِ، وَقَالَ فِي رَدَّ الْمُحْتَارِ»: أَي لَا يُكْرَهُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2197
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کیا کرتے تھے تو وہ بڑے بڑے ابلق مینڈھے خرید فرمایا کرتے تھے، اور
نماز عید کے بعد عیدگاہ میں خطبہ دینے سے فارغ ہو جاتے اور آپ عیدگاہ ہی میں کھڑے رہتے تو
اس وقت مذکورہ دو مینڈھوں میں سے ایک مینڈھا لایا جاتا اور (حضور جب اس مینڈھے کو ذبح
کرنا چاہتے تو ذبح کے وقت کوئی دعا نہیں پڑھتے تھے) صرف ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“ کہہ کر
ذبح کرتے، ذبح سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے:
اے اللہ! یہ قربانی میری امت کی طرف سے قبول فرمائیے یعنی میری امت میں سے ہر شخص کی
طرف سے قبول فرمائیے جو آپ کی توحید کی گواہی دیتا ہو، اور اس بات کی بھی گواہی دیتا ہو کہ میں
پورے پورے احکام پہنچا دیا ہوں۔
پھر دوسرا مینڈھا آپ کے پاس لایا جاتا تو اس کو بھی ”بسم الله و الله اكبر“ کہنے کے
بعد ذبح فرماتے اور یہ دعا پڑھتے: اللّٰهُمَّ هٰذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ
اے اللہ یہ قربانی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں کی طرف
سے ہے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ صدر میں حاکم، ابن ماجہ اور امام احمد، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کئے ہیں ”أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَشْعَرَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، أَحَدُهُمَا عَنْ نَفْسِهِ“ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مینڈھا اپنی طرف سے اپنے لئے قربانی کئے یہ واجب قربانی تھی، جس کو آپ اپنی طرف سے ادا کئے، اور اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو بکروں کی قربانی دئے: ایک بکرا تو تمام امت کی طرف سے، اور دوسرا بکرا اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی دیئے آپ اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے جو قربانی دیئے وہ حضرت کے گھر والوں پر واجب قربانی نہیں بلکہ وہ نفل قربانی تھی کہ سب گھر والوں کو ثواب میں شریک کر لئے تھے، سب گھر والوں کی طرف سے جو قربانی دی گئی تھی وہ ایسی ہی قربانی تھی جیسے امت کی طرف سے قربانی دی گئی تھی کہ ثواب میں امت کو شریک کر لیا گیا تھا نہ کہ امت کی طرف سے واجب ادا ہو گیا کیا گیا تھا۔