English
Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) gave him sheep to distribute among his companions as sacrifices. A young goat remained, 1 and he mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ), who said, 'Sacrifice it yourself.'" In another narration, he said, "O Messenger of Allah, I have a young goat." The Prophet (ﷺ) said, "Sacrifice it."
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۸۹۳ - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودُ1، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللهِ ، فَقَالَ: «ضَحٌ بِهِ أَنْتَ». وَفِي رِوَايَةٍ: قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ ، أَصَابَنِي جَزَعُ، قَالَ: «ضَحٌ بِهِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
14/2202-2203۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ بکریاں مجھے عنایت کئے تاکہ میں صحابہ میں قربانی کے لئے تقسیم
کردوں، اخیر میں عَتُود رہ گیا (عتود بکروں اور چھیلوں میں ایسا ہی ہے جیسے جذعہ مینڈھوں میں کہ
جذعہ (6) مہینے سے زیادہ اور سال سے کم کا ہوتا ہے اور عتود بھی ایسا ہی بکروں میں (6) مہینے سے
زیادہ اور سال سے کم کا ہوتا ہے، جذعہ اگر فربہ ہو تو ایک سال سے کم کا بھی ہو، قربانی دے سکتے ہیں
اور عتود اگرچہ فربہ ہو (6) مہینے سے زیادہ اور سال سے کم ہو تو اس کی قربانی نہیں دی جاتی ایک سال
کا ہونا ضروری ہے) اس لئے عقبہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کئے کہ
میرے حصے میں عتود یعنی ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ رہ گیا ہے (اور بکری کا بچہ ایک سال سے کم کا
ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں) تو میں قربانی کس طرح کروں تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے
سنو عقبہ! سال سے کم جو بکری کا بچہ رہ گیا ہے، اسی کی تم قربانی کرو، اور یہ حکم خاص تمہارے لئے
ہے۔ دوسروں کو سال بھر سے کم کا بکرا اگرچہ کہ وہ فربہ ہو قربانی میں جائز نہیں (بخلاف مینڈھے کہ
اگر وہ سال سے کم کا بھی ہو اور فربہ ہو تو اس کی قربانی سب کے لئے جائز ہے) (اس حدیث کا ترجمہ
اشعۃ اللمعات کے لحاظ سے کیا گیا ہے۔ 12)۔
(اس حدیث شریف کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1965a (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5547 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "A young goat." In Al-Nihayah, it is explained as a young goat that has reached one year of age. This indicates the permissibility of sacrificing a young goat that is one year old, which is the view of our school. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: عتود: في النهاية»: بفتح العين المهملة هو الصغير من أولاد المعز إذا قوي وأتى عليه حول. وفيه دليل على جواز التضحية بالمغز إذا كان له سنة، وهو مذهبنا. قاله في «المرقاة».