English
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "I prayed beside the Messenger of Allah (ﷺ) on the day the sun eclipsed, and I did not hear his recitation." [Narrated by Al-Tabarani and Al-Bayhaqi with a good chain]
Ahmad, Abu Ya’la, and Abu Nu’aym narrated something similar.
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۹۳۳ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُ قِرَاءَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَرَوَى أَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلَى وَأَبُو نُعَيْمٍ نَحْوَهُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2252
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جس دن سورج
گہن ہوا تھا (اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گہن کی نماز پڑھا رہے تھے) تو میں بھی حضور کے
پہلو میں کھڑا ہوا نمازِ کسوف پڑھ رہا تھا (حضور قرأت ایسی پڑھ رہے تھے جیسے سرّی نمازوں میں
پڑھا کرتے تھے) اس لئے میں حضرت کی قرأت کو نہیں سن سکا۔ اس کی روایت طبرانی اور بیہقی نے کی
ہے، اور اس حدیث کی سند حسن ہے اور امام احمد، ابویعلی اور ابونعیم نے اسی طرح روایت کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ان مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسوف شمس کی نماز مثل سرّی نمازوں کے آہستہ قرأت کر کے پڑھے ہیں، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ بھی نمازِ کسوف میں سرّی قرأت کے قائل ہیں مگر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت آئی ہے کہ ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسوفِ شمس کی جو نماز پڑھائے تو جہری نمازوں کی طرح کسوف کی نماز میں جہر سے قرأت اور فرمائے، حضرت ام المؤمنین کی اس حدیث کی وجہ سے صاحبین فرمائے ہیں کہ کسوف کی نماز مثل جہری نمازوں کے جہری قرأت سے پڑھنا چاہئے اس سے معلوم ہوا کہ حنفی مذہب میں دو قول ہیں، ایک قول میں آہستہ قرأت کرنا ہے اور دوسرے قول میں جہری قرأت کرنا آیا ہے۔ ردالمحتار اور دوسرے فقہ کی کتابوں میں ایسا ہی ہے۔