Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1933

بَابُ صَلَاةِ الْخُسُوْفِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ صَلَاةِ الْخُسُوْفِ

Zujajat al-Masabih 1933Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۹۳۳ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُ قِرَاءَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَرَوَى أَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلَى وَأَبُو نُعَيْمٍ نَحْوَهُ.
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ ان مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسوف شمس کی نماز مثل سرّی نمازوں کے آہستہ قرأت کر کے پڑھے ہیں، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ بھی نمازِ کسوف میں سرّی قرأت کے قائل ہیں مگر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت آئی ہے کہ ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسوفِ شمس کی جو نماز پڑھائے تو جہری نمازوں کی طرح کسوف کی نماز میں جہر سے قرأت اور فرمائے، حضرت ام المؤمنین کی اس حدیث کی وجہ سے صاحبین فرمائے ہیں کہ کسوف کی نماز مثل جہری نمازوں کے جہری قرأت سے پڑھنا چاہئے اس سے معلوم ہوا کہ حنفی مذہب میں دو قول ہیں، ایک قول میں آہستہ قرأت کرنا ہے اور دوسرے قول میں جہری قرأت کرنا آیا ہے۔ ردالمحتار اور دوسرے فقہ کی کتابوں میں ایسا ہی ہے۔