English
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "I prayed beside the Messenger of Allah (ﷺ) on the day the sun eclipsed, and I did not hear his recitation." [Narrated by Al-Tabarani and Al-Bayhaqi with a good chain]
Ahmad, Abu Ya’la, and Abu Nu’aym narrated something similar.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ان مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسوف شمس کی نماز مثل سرّی نمازوں کے آہستہ قرأت کر کے پڑھے ہیں، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ بھی نمازِ کسوف میں سرّی قرأت کے قائل ہیں مگر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت آئی ہے کہ ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسوفِ شمس کی جو نماز پڑھائے تو جہری نمازوں کی طرح کسوف کی نماز میں جہر سے قرأت اور فرمائے، حضرت ام المؤمنین کی اس حدیث کی وجہ سے صاحبین فرمائے ہیں کہ کسوف کی نماز مثل جہری نمازوں کے جہری قرأت سے پڑھنا چاہئے اس سے معلوم ہوا کہ حنفی مذہب میں دو قول ہیں، ایک قول میں آہستہ قرأت کرنا ہے اور دوسرے قول میں جہری قرأت کرنا آیا ہے۔ ردالمحتار اور دوسرے فقہ کی کتابوں میں ایسا ہی ہے۔