Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Knowledge

Hadith 200

Opening narrations

In this book

Current reading

Knowledge

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 200Volume 1

English

It is narrated from Jareer (may Allah be pleased with him) that: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in the early part of the day when a group of people arrived. They were in dire poverty, wearing torn woolen cloaks or garments, with their swords slung around their necks. Most of them, or rather all of them, were from the tribe of Mudhar. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw their poor condition, his face changed (out of concern). He went inside, then came out, and commanded Bilal (may Allah be pleased with him) to give the call to prayer (Adhan). He gave the Adhan and then the Iqamah, and the Prophet (ﷺ) led the prayer. Afterward, he addressed the people, saying: "O people, fear your Lord who created you from a single soul..." (Surah An-Nisa: 1) and he recited the entire verse. He then recited the verse from Surah Al-Hashr: "Fear Allah, and let every soul look to what it has sent forth for tomorrow..." (Surah Al-Hashr: 18). The Prophet (ﷺ) then said: "Let a man give in charity from his gold, silver, clothing, a measure of barley, a measure of dates, or even a piece of a date." Then a man from the Ansar came forward with a bundle that was so heavy it nearly overwhelmed him. After this, the people followed suit, giving in charity, until I saw two heaps of food and clothes. The face of the Messenger of Allah (ﷺ) lit up as though it was a piece of gold (out of joy). The Prophet (ﷺ) then said: "Whoever initiates a good practice in Islam will have its reward and the reward of those who act upon it after him, without their rewards diminishing in the least. And whoever initiates a bad practice in Islam will bear its burden and the burden of those who act upon it after him, without their burdens diminishing in the least."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٠ - وَعَنْ جَرِيرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنَّا فِي صَدْرِ النَّهَارِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ ، فَجَاءَهُ قَوْمٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النَّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلَّدِي السُّيُوفِ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَمَكَّرَ وَجْهُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ، لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَل ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، فَصَلَّى. ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: يَتَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ: إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (النساء: ١)وَالْآيَةَ الَّتِي فِي الْخَشْرِ»: ﴿وَاتَّقُوا اللهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر: ۱۸) تَصَدَّقَ رَجَلٌ مِنْ دِينَارِهِ، مِنْ دِرْهَمِهِ، مِنْ ثَوْبِهِ، مِنْ صَاعِ بُرِّهِ، مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ. حَتَّى قَالَ: «وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ». قَالَ: فَجَاءَ رَجَلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفَهُ تَعْجِرُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةٌ فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةٌ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهُمْ شَيْءٌ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 215
جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھے کہ آپ کی خدمت میں چند اشخاص برہنہ بدن، دھاری دار لباس کی لنگی باندھے، عبا پہنے ہوئے گلے میں تلواریں لٹکائے حاضر ہوئے، اکثر بلکہ کل قبیلہ مُضر کے تھے، ان کی حالت زار کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک غم کے آثار سے متغیر ہو گیا، فوراً آپ مکان تشریف لے گئے پھر باہر آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی پھر آپ نے نماز پڑھائی اور خطبہ دیا: ۞ يٰٓأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِىْ پ:4،ع:1،آیت نمبر:1) تلاوت فرمائی (اے لوگو! اس رب سے ڈرو جس نے تم سب کو نفس واحدہ (یعنی آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا (یہاں تک کہ آیت کا آخری حصہ) کی تلاوت فرمائی (اللہ تمہاری نگرانی کرنے والا ہے)۔ اور (سورہ حشر پ:28،ع:3،آیت نمبر:18) ۞ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ ” مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۞ تلاوت فرمائی (اے ایمان والو! ڈرتے رہو اللہ سے اور ہر شخص دیکھ لے کہ کل (قیامت) میں اس نے اپنے لئے کیا ذخیرہ بھیجا ہے) اور ہر شخص کو چاہئے کہ اپنے دینار، اپنے درہم، اپنے پارچہ (کپڑے) اور اپنے گیہوں اور کھجور کے باغ میں سے خیرات کرے، یہاں تک کہ فرمایا: کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک انصاری نے ایک تھیلی درہم یا دینار کی اٹھا لائی جس کو اٹھانا مشکل ہو رہا تھا بلکہ اس کا ہاتھ اس کے اٹھانے سے عاجز ہو گیا تھا اس کے بعد لوگ فوراً ایک بعد دیگرے خیرات لانا شروع کئے، یہاں تک کہ میں (یعنی جریر رضی اللہ عنہ) نے کھانے اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے سونے کی طرح چمکتا نظر آنے لگا۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے اسلام میں اچھا طریقہ رائج کیا تو اس کو اس کا اجر اور ان لوگوں کا بھی اجر ملے گا جو آئندہ اس طریقہ پر عمل پیرا ہوں گے اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کیا تو اس پر اس کے رواج دینے کا عذاب ہوگا اور ان لوگوں کا بھی گناہ ہوگا جو آئندہ اس طریقہ پر عمل کریں گے اور اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1017a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 210 (unverified) 93% confidence

Mishkat (candidate) 210

Confidence and text similarity are not editorial verification.