Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2148

(اس باب میں جنازہ کے ساتھ کیسے چلنا اور جنازہ پر نماز کس طرح ادا کرنا چاہئے،

In this book

Current reading

Funerals

(اس باب میں جنازہ کے ساتھ کیسے چلنا اور جنازہ پر نماز کس طرح ادا کرنا چاہئے،

Zujajat al-Masabih 2148Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2520
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع فرمائے ہیں کہ امام (تنہا) کسی اونچی جگہ پر کھڑا ہو اور مقتدی نیچی جگہ پر رہیں (ایسا ہی امام تنہا نیچی جگہ پر کھڑا ہو اور مقتدی اونچی جگہ پر ہوں یہ بھی ناجائز ہے بلکہ امام اور مقتدی دونوں کی جگہ یکساں ہو، اونچی نیچی نہ ہو) نمازِ جنازہ میں جنازہ مثل امام (جیسا کہ مرقات میں ابن الہمام کے حوالے سے مذکور ہے۔12) کے ہے، امام کی طرح جنازہ بھی نہ اونچی جگہ پر ہو اور نہ نیچی جگہ پر، (بلکہ جنازہ اور جنازہ کی نماز پڑھنے والے سب کے سب یکساں ایک ہی سطح پر رہیں۔) اس حدیث کی روایت دارقطنی نے مجتبی کے کتاب الجنائز میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 2

Above something.

(2) The statement: "Above something." Ibn Al-Humam said: "It is not permissible to pray while the deceased is on an animal or carried by people, as it is like the Imam, and the difference in place prevents following (the Imam)." He also said in another place: "The conditions for its validity are the Islam of the deceased, his purity, and his placement in front of the one praying. For this reason, it is not permissible to pray over an absent person, nor over a present person on an animal or otherwise, nor over someone placed ahead of the one praying, as it is like the Imam in one aspect." This is mentioned in Al-Marqah.

Note 2

قوله

(۲) قوله: فوق شيء: قال ابن الهمام: ولا تجوز الصلاة والميت على دابة أو أيدي الناس؛ لأنه كالأمام، واختلاف المكان مانع من الاقتداء. وقال في موضع آخر : وشرط صحتها إسلام الميت وطهارته ووضعه أمام المصلي، فلهذا القيد لا تجوز على غائب، ولا حاضر على دابة وغيرها، ولا موضوع يتقدم عليه المصلي، وهو كالإمام من وجه. قاله في «المرقاة».

Note 1

ف: جب معلوم ہوا کہ جنازہ مثل امام کے ہے تو جس طرح امام کا بعض مقتدیوں کے سامنے حاضر رہنا ضروری ہے ایسا ہی جنازہ کا بھی نماز جنازہ ادا کرنے والوں کے سامنے رہنا ضروری ہے، اگر جنازہ بالکل غائب رہے تو اس پر نماز جنازہ جائز نہیں ہے، جیسے امام اور چند مقتدیوں کا ایک سطح پر ہونا ضروری ہے ایسے ہی جنازہ اور نماز جنازہ ادا کرنے والوں میں سے چند کا ایک سطح پر ہونا ضروری ہے، اس لئے اگر جنازہ سواری پر ہو، یا لوگوں کے ہاتھوں پر ہو تو ایسی صورت میں نمازِ جنازہ جائز نہیں، اسی طرح اگر نماز جنازہ پڑھنے والے آگے کھڑے ہوں اور جنازہ پیچھے رکھا ہو تو ایسی صورت میں بھی نماز جنازہ جائز نہیں، اس لئے کہ جنازہ مثل امام کے ہے اور جنازہ کا امام کی طرح مقتدیوں کے سامنے رہنا ضروری ہے۔ (یہ پورا مضمون ابن الہمام کے حوالہ سے مرقات میں مذکور ہے۔)