Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2323

(یہ باب ان لوگوں کے بیان میں ہے کہ جن کو سوال کرنا (مانگنا) جائز نہیں ہے اور

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(یہ باب ان لوگوں کے بیان میں ہے کہ جن کو سوال کرنا (مانگنا) جائز نہیں ہے اور

Zujajat al-Masabih 2323Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2726
سہل بن الحنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کسی نے ایسی حالت میں سوال کیا کہ اس وقت اس کے پاس اتنا مال موجود ہے جو اس کو سوال سے بے نیاز کر دیتا ہے (اس کے باوجود وہ سوال کرے تو) وہ حقیقت میں اپنے لئے (جہنم میں) آگ ہی کو زیادہ جمع کر رہا ہے۔ اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1629 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: محیط میں مذکور ہے کہ غنی یعنی تونگری کی تین قسمیں ہیں: ایک غنی وہ ہے جو آدمی پر زکات واجب کرتی ہے یعنی وہ ایسے مال کا مالک ہے جو نصاب کو پہنچتا ہو (ایسے شخص پر سوال کرنا اور دوسروں کی زکات لینا حرام ہے)۔ غنی کی دوسری قسم وہ ہے کہ اس پر زکات تو واجب نہیں البتہ صدقہ فطر اور قربانی واجب ہے (ایسے شخص پر بھی سوال کرنا اور دوسروں کی زکات لینا حرام ہے)۔ غنی کی تیسری قسم وہ ہے کہ آدمی کے پاس ایک دن کا خوراک اور اتنا کپڑا موجود ہو جس سے وہ اپنا ستر چھپا لے تو ایسے شخص پر بھی سوال حرام ہے، البتہ وہ دوسروں سے زکات اور خیرات لے سکتا ہے۔ یہ مرقات میں مذکور ہے۔