English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When the first night of Ramadan comes, the devils and rebellious jinn are chained, the gates of Hell are closed, and none of its gates are opened. The gates of Paradise are opened, and none of its gates are closed. A caller calls out, 'O seeker of good, proceed! O seeker of evil, desist!' And Allah has people whom He frees from the Fire, and that happens every night."
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٤٢٠ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ صُفَّدَتِ الشَّيَاطِينُ، وَمَرَدَةُ الجِنِّ، وَغُلَّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابُ، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَيُنَادِي مُنَادٍ: يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذَلكَ كُلُّ لَيْلَةٍ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ رَجُلٍ.
اردو
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات آ جاتی ہے تو شیاطین اور سرکش
جن قید کئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور دوزخ کا کوئی دروازہ بھی
نہیں کھولا جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جنت کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا
جاتا۔ اور ایک منادی یہ ندا کرتا ہے: اے طالب خیر متوجہ ہو جا (اور خیر کی جانب آ جا) اور اے شر پسند
(گناہوں سے) باز آ جا (کہ یہ گناہوں سے توبہ کرنے کا وقت ہے) اور اللہ تعالیٰ (اس مہینہ میں
گناہ گاروں کو) دوزخ سے نجات دیتے ہیں اور (یہ ندا رمضان المبارک میں) ہر رات ہوا کرتی
ہے۔ اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
اور امام احمد نے بھی اس کی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 682 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1642 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رمضان المبارک میں شیاطین اور سرکش جن قید کئے جاتے ہیں اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ شیاطین کو اور سرکش جنوں کو اس لئے قید کیا جاتا ہے تاکہ وہ روزہ داروں کے دلوں میں وسوسے نہ ڈالیں اور اس کی علامت یہ ہے کہ رمضان المبارک میں اکثر گناہ گار اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بعض لوگوں کو جو دیکھا جاتا ہے کہ رمضان المبارک میں بھی گناہوں سے توبہ نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شیاطین کے بہکانے کے پرانے اثرات ان کے دلوں میں جمے رہتے ہیں اور وہ اپنی عادت کے مطابق برائی کرتے رہتے ہیں۔ 12