Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat · Chapter 7

Chapter on The Virtue of Charity

78 narrations · In source reading order

Hadith 2353

Volume 1

English

Fatimah bint Qays (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is a right in wealth besides Zakat.” Then he recited: “Righteousness is not in turning your faces toward the east or the west...” (Al-Baqarah 2:177).

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٥٣ - وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ فِي الْمَالِ لَحَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ، ثُمَّ تَلَا : لَيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ (البقرة: ١٧٧) الْآيَةَ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2758
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ یقیناً مال میں زکات کے علاوہ اور بھی حقوق (اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسان پر) عائد کئے گئے ہیں (جیسے یہ کہ سائل اور قرض خواہ کو محروم نہ کرے اور گھر کے متعلقہ ساز و سامان میں سے مثلاً برتن، دیگ وغیرہ کوئی مستعار مانگے تو ان کو دینے سے انکار نہ کرے) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (استدلال میں) اس آیت کو تلاوت فرمائی:۔ ”لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ الزَّكٰوةَ‘‘ (آیت شریفہ کا ترجمہ باب فضل الصدقہ کی ابتداء میں ملاحظہ ہو)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the words of Allah, the Almighty: “And He increases charity.” (Al-Baqarah 2:276), and His words: “But righteousness is in one who believes in Allah, the Last Day, the angels, the Book, and the prophets and gives wealth, in spite of love for it, to relatives, orphans, the needy, the traveler, those who ask, and for freeing slaves.” (Al-Baqarah 2:177).

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 659 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Chapter-heading commentary

Gives wealth.

(1) The statement: “Gives wealth.” In Al-Madarik: “This refers to voluntary charity and good deeds.”

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله : آتى المال: قال في المدارك»: المراد به نوافل الصدقات والمبار.

Hadith 2354

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever gives charity equal to a date from good earnings—and Allah does not accept except what is good—Allah will accept it with His right hand and nurture it for its owner, just as one of you nurtures his foal, until it becomes like a mountain.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٥٤ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، وَإِنَّ اللهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوْهُ، حَتَّى تَكُوْنَ مِثْلَ الْجِبَلِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2759
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنی جائز اور حلال کمائی سے ایک کھجور برابر بھی خیرات کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرماتے ہیں اور اس کو اپنے سیدھے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حلال مال ہی میں سے خیرات کو قبول فرماتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اس خیرات کئے ہوئے مال کو خیرات کرنے والے کے لئے اس طرح بڑھاتے جاتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک وہ خیرات بڑھتے بڑھتے پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1410 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1014a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال مال سے تھوڑی سی خیرات بھی ثواب میں اللہ تعالیٰ کے پاس مقبول اور بے حساب ہے اس کے برخلاف اگر حرام مال سے لاکھوں روپیہ بھی خرچ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول نہیں فرماتے اور نہ اس کا کوئی ثواب ہے، اس سے مسلمانوں کو چاہئے کہ راہ خدا میں خرچ کرتے وقت حلال مال کا خیال رکھیں، تھوڑے، بہت کا خیال نہ کریں۔

Hadith 2355

Volume 1

English

Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated that Abu Dharr (may Allah be pleased with him) said: “O Prophet of Allah, what is charity?” He said: “It is multiplied many times over, and with Allah is even more.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٥٥ - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الصَّدَقَةَ مَاذَا هِيَ؟ قَالَ: «أَضْعَافُ مُضَاعَفَةٌ، وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2760
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے نبی! مجھے بتائیے کہ صدقہ (کا ثواب اور اس کی فضیلت) کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اس کا ثواب کئی گنا ثواب ہے (اور اس زیادتی کی کم سے کم مقدار ہر نیکی پر دس گنا ہے) بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ (اور اس زیادتی کی ایک مقدار ہر نیکی پر سات سو گنا تک ہے) اور اللہ تعالیٰ کے پاس تو اس سے بھی زیادہ ہے (اور اللہ تعالیٰ چاہیں تو ہر نیکی پر سات سو گنا سے بھی زیادہ ثواب عطا فرماتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ“۔ (سورۂ بقرہ، پ:3، ع:36، آیت نمبر:261) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1891 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 1891

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2356

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Charity does not decrease wealth, and Allah increases the honor of the one who forgives. No one humbles himself for Allah except that Allah raises him.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٥٦ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : «مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوِ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ. رَوَاهُ مُسْلِمُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2761
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ خیرات کرنے سے مال کم نہیں ہوتا (بلکہ اس میں برکت ہوتی ہے) اور باوجود انتقام کی قدرت رکھنے کے) کسی کا قصور معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ اس بندہ کی عزت بڑھاتے ہیں (جس نے کہ قصور معاف کئے) اور جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع اور انکساری اختیار کی تو اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ بڑھاتے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2588 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2357

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever spends a pair in the way of Allah will be called from the gates of Paradise: ‘O servant of Allah, this is good.’ Paradise has gates, and whoever was among the people of prayer will be called from the gate of prayer. Whoever was among the people of jihad will be called from the gate of jihad. Whoever was among the people of charity will be called from the gate of charity. Whoever was among the people of fasting will be called from the gate of Ar-Rayyan.” Abu Bakr (may Allah be pleased with him) said: “O Messenger of Allah, is there anyone who will be called from all these gates?” He said: “Yes, and I hope that you will be among them.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٥٧ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابُ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ». فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلَّهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَأَرْجُوْ أَنْ تَكُوْنَ مِنْهُمْ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2762
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص راہ خدا میں کسی مال کا جوڑا دے (مثلاً دو بکرے یا دو گھوڑے یا دو روپیہ) دے تو اس کو جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا اور جنت کے کئی دروازے ہیں پس جو شخص نمازی (یعنی زیادہ نوافل پڑھنے والا) ہوگا تو اس کو جنت کے ”بَابُ الصَّلٰوةِ“ (نماز کے دروازے) سے بلایا جائے گا اور جو کوئی شخص جہاد کرنے والا یعنی راہ خدا میں بہت لڑنے والا ہوگا تو اس کو ”بَابُ الْجِهَادِ“ (جہاد کے دروازے) سے بلایا جائے گا اور جو شخص بہت خیر خیرات کرنے والا ہوگا تو اس کو ”بَابُ الصَّدَقَةِ“ (صدقے کے دروازے) سے بلایا جائے گا اور جو شخص کثرت سے روزے رکھنے والا ہوگا اس کو ”بَابُ الرَّيَّانِ“ (پیاس بجھانے والا دروازہ) سے بلایا جائے گا یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بظاہر تو اس کی ضرورت نہیں کہ سب دروازوں سے (بیک وقت) کسی کو بلایا جائے (جب کہ اس کو ایک دروازے سے بلایا جا چکا ہو اور وہ جنت میں داخل ہو چکا ہو لیکن) پھر بھی کیا کوئی ایسا شخص ہوگا جس کو جنت کے ان سارے دروازوں سے بلایا جائے گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے: ہاں (بعض ایسے لوگ ہوں گے جن کو ان کے کثرت صلوٰۃ، کثرت صوم، کثرت جہاد، کثرت خیرات کی وجہ سے ان کی تعظیم اور تکریم کے لئے ان کو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا) اور مجھے امید ہے کہ تم ان لوگوں میں سے ہوں گے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1897 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1027a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2358

Volume 1

English

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “No Muslim servant spends a pair from his wealth in the way of Allah except that the gatekeepers of Paradise will call him to what they have.” I asked: “How is that?” He said: “If it is camels, then two camels; if it is cattle, then two cattle.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٥٨ - وَعَنْ أَبِي ذَرَّ(رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ، كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ»، قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2763
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو مسلمان راہ خدا میں اپنے مال سے دو دو چیزیں خرچ کرے تو جنت کے سارے دربان اس کا استقبال کریں گے اور ہر دربان اپنے دروازے والی نعمت کی طرف اس شخص کو دعوت دے گا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اس کی کیا صورت ہوگی، یعنی دو دو چیزیں کس طرح خرچ کی جائیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام ارشاد فرمائے: اگر اونٹ ہو تو دو اونٹ اور گائے ہوں تو دو گائے (راہ خدا میں خیرات کرے)۔ اس حدیث کی روایت نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 3185 (unverified) 70% confidence · Validation similarity: 0.847

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2359

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) asked: “Who among you is fasting today?” Abu Bakr (may Allah be pleased with him) said: “I am.” He asked: “Who among you has followed a funeral today?” Abu Bakr said: “I have.” He asked: “Who among you has fed a poor person today?” Abu Bakr said: “I have.” He asked: “Who among you has visited a sick person today?” Abu Bakr said: “I have.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “These qualities do not come together in a person except that he enters Paradise.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٥٩ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةٌ؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: «فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِيْنًا؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: «فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2764
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا کہ آج تم میں سے کون روزہ دار ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون آج جنازہ کے ساتھ گیا؟ (یعنی جنازہ کی نماز پڑھی اور جنازہ کے پیچھے چلا (اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :میں (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا: تم میں سے آج کس نے مسکین کو کھانا کھلایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں (یارسول اللہ ﷺ) (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پھر) دریافت فرمایا کہ تم میں سے آج کس نے بیمار کی عیادت کی؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے (یارسول اللہ ﷺ) (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جس کسی شخص میں یہ (چار چیزیں ایک دن میں) جمع ہو جائیں وہ یقیناً جنت میں جائے گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1028a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(2): اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دریافت فرمانے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ”اَنَا“ (میں) کہا ہے، اس بارے میں صاحب مرقات اور صاحب اشعۃ اللمعات نے لکھا ہے ”اَنَا“ (میں) کہنا دو حیثیتوں سے ہوتا ہے، ایک مذموم (یعنی برا) دوسرے محمود (یعنی اچھا) ”اَنَا“ کہنے کی مذموم حیثیت یہ ہے کہ بطور فخر ”اَنَا“ کہا جائے جیسے ابلیس کا قول ”اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ“، یا ”اَنَا الْعَالِمُ“ ”اَنَا الزَّاهِدُ“، وغیرہ۔ اور ”اَنَا“ کہنے کی محمود حیثیت یہ ہے کہ طلب ثواب کے موقع پر یا بطور (انکساری) ”اَنَا“ کہا جائے، جیسے: ”اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ“، ”اَنَا سَيِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ“ یا ”اَنَا الْحَقِيرُ“، ”اَنَا الْعَبْدُ“، وغیرہ۔12

Hadith 2360

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “O Muslim women, let no neighbor look down on her neighbor, even if it is a sheep’s hoof.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٦٠ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةً الجَارِتِهَا وَلَوْ فِرْسَنَ شَاةٍ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2765
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عورتوں سے) ارشاد فرمائے: اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی پڑوسن اپنے پڑوسن کی (حقیر سے حقیر تحفہ پر) حقارت نہ کرے اگرچہ وہ (تحفہ) بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو (خواہ وہ تحفہ دینے والی ہو یا لینے والی ہو)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2566 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1030 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2361

Volume 1

English

Jabir and Hudhaifah (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every good deed is charity.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٦١ - وَعَنْ جَابِرٍ وَحُذَيْفَةَ (رضي الله عنهما) قَالَا : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2766
جابر اور حذیفہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ہر نیکی (خواہ وہ قولی ہو یا فعلی، جس سے اللہ تعالیٰ کی رضاء مقصود ہو) خیرات (کا ثواب رکھتی) ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6021 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1005 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ کا تعلق صرف مال سے ہی نہیں بلکہ ہر وہ عمل جس سے رضاء الٰہی حاصل ہو، صدقہ ہے مثلاً کسی کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا وغیرہ۔ اشعۃ اللمعات۔12

Hadith 2362

Volume 1

English

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Do not belittle any good deed, even if it is meeting your brother with a cheerful face.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٦٢ - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ : لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهِ طَلِيْقٍ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2767
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کسی نیکی کو حقیر اور معمولی نہ سمجھو، اگرچہ وہ (نیکی) یہ ہو کہ تم اپنے (مسلمان) بھائی سے خندہ پیشانی سے ملاقات کرو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2626 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2363

Volume 1

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every good deed is charity. Among the good deeds is meeting your brother with a cheerful face and pouring water from your bucket into your brother’s vessel.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٦٣ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: كُلُّ مَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهِ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دُلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيْكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2768
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر نیک کام (پر) خیرات (کا ثواب ملتا) ہے اور یہ کام بھی یقیناً نیکی میں شامل ہے کہ تم اپنے (مسلمان) بھائی سے خندہ پیشانی سے ملو، اور یہ بھی (نیکی میں شامل ہے) کہ تم اپنے ڈول سے اپنے (مسلمان) بھائی کے برتن میں پانی بھر دو۔ اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1970 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2364

Volume 1

English

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Your smile at your brother is charity. Enjoining good and forbidding evil is charity. Guiding a man in a land of misguidance is charity. Helping a man with poor eyesight is charity. Removing a stone, thorn, or bone from the road is charity. Pouring water from your bucket into your brother’s bucket is charity.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٦٤ - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ(رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ] صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَبَصَرُكَ لِلرَّجُلِ الرَّدِيْءِ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوْكَةَ وَالْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2769
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ تمہارا اپنے (مسلمان) بھائی سے مسکراتے ہوئے (ملنا) صدقہ ہے (یعنی اس پر ثواب ملتا ہے) اور تمہارا نیک کاموں کی تلقین کرنا (بھی) صدقہ ہے، اور تمہارا برائی سے منع کرنا (بھی) صدقہ ہے، اور تمہارا کسی راہ بھولے ہوئے شخص کو راہ دکھانا (بھی) تمہارے لئے صدقہ ہے اور تمہارا کسی نابینا یا کمزور بینائی والے شخص کی رہبری کرنا (بھی) تمہارے لئے صدقہ ہے اور تمہارا راستے سے پتھر، کانٹا، ہڈی (اور اسی قسم کی تکلیف دہ چیزوں) کا ہٹا دینا (بھی) تمہارے لئے صدقہ ہے اور اپنے ڈول سے اپنے (مسلمان) بھائی کے ڈول میں پانی بھر دینا (بھی) تمہارے لئے صدقہ ہے (یعنی ان تمام کاموں پر صدقہ کے جیسا ثواب ملتا ہے)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1956 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1911 (unverified) 94% confidence

Mishkat (candidate) 1911

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2365

Volume 1

English

Abu Jurayy Jabir ibn Sulaym (may Allah be pleased with him) narrated: “I came to Madinah and saw a man whose opinion people followed. He did not say anything except that people acted upon it. I asked: ‘Who is this?’ They said: ‘This is the Messenger of Allah.’ I said: ‘Peace be upon you, O Messenger of Allah,’ twice. He said: ‘Do not say: “Peace be upon you,” for that is the greeting of the dead. Say: “Peace be upon you.”’ I said: ‘Are you the Messenger of Allah?’ He said: ‘I am the Messenger of Allah. If harm befalls you and you call upon Him, He will remove it. If a year of drought befalls you and you call upon Him, He will make it grow for you. If you are in a barren land and your mount strays, and you call upon Him, He will return it to you.’ I said: ‘Advise me.’ He said: ‘Do not curse anyone.’ After that, I did not curse any free person, slave, camel, or sheep. He said: ‘Do not belittle any good deed, even if it is speaking to your brother with a cheerful face. That is a good deed. Raise your garment to mid-calf, and if you refuse, then to the ankles. Beware of letting your garment drag, for it is a sign of arrogance, and Allah does not love arrogance. If someone insults you and shames you with what he knows about you, do not shame him with what you know about him, for the burden of that will be on him.’”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٦٥ - وَعَنْ أَبِي جُرَيٌّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ (رضي الله عنه) قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ لَا يَقُوْلُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا رَسُوْلُ اللَّهِ. قَالَ: قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُوْلَ اللهِ، مَرَّتَيْنِ. قَالَ: «لَا تَقُلْ: عَلَيْكَ السَّلَامُ؛ فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلْ : السَّلَامُ عَلَيْكَ». قُلْتُ: أَنْتَ رَسُوْلُ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «أَنَا رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضِ قَفْرَاءَ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ». قُلْتُ: اعْهَدْ إِلَيَّ. قَالَ: «لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا» قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً. قَالَ: «وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوْفِ، وَأَنْ تُكَلَّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطُ إِلَيْهِ وَجْهُكَ، إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوْفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ؛ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيْكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيْهِ؛ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ». رواهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ مِنْهُ حَدِيثَ السَّلَامِ. وَفِي رِوَايَةٍ: فَيَكُوْنُ لَكَ أَجْرُ ذَلِكَ وَوَبَالُهُ عَلَيْهِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2770Noor 2771
ابو جُرَیّ جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (جب) میں مدینہ منورہ آیا تو ایک حضرت کو دیکھا کہ لوگ ان کی رائے پر چلتے ہیں وہ جو کچھ فرماتے ہیں ان (کے ہر حکم) کی پوری تعمیل کرتے ہیں۔ میں نے (لوگوں سے) دریافت کیا یہ کون حضرت ہیں تو لوگوں نے کہا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں! تو میں (آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور) کہا: عليك السلام، يا رسول الله! اور میں نے دو مرتبہ یہ الفاظ کہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایا: علیک السلام نہ کہہ! (کیونکہ) علیک السلام (کہنا) مردہ کا سلام ہے (اس لئے) تم ”السلام علیک“ کہا کرو (پھر) میں نے عرض کیا: کیا آپ ہی اللہ کے رسول ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ہاں! میں اس اللہ کا رسول ہوں کہ اگر تم پر کوئی مصیبت آن پڑے اور تم (میرے وسیلہ سے جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) اللہ سے دعا کرو تو اللہ تعالیٰ تمہاری اس مصیبت کو دور کر دیں گے اور اگر تم پر قحط سالی آ جائے اور تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو وہ تمہارے لئے غلہ اور گھاس پیدا کر دیں گے اور اگر تم (کسی وقت) کسی بنجر زمین میں یا کسی ایسے جنگل میں ہو جو آبادی سے دور ہو اور ایسے میں تمہاری سواری گم ہو جائے اور تم اللہ سے دعا کرو تو وہ تمہاری سواری تمہارے پاس واپس بھیج دیں گے (صاحب اشعۃ اللمعات کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میں اس اللہ کا رسول ہوں جس میں یہ صفات ہیں، اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ میری بعثت وسیلۂ رحمت اور اس اللہ تعالیٰ سے خیر و برکات کے حاصل کرنے کا ذریعہ اور واسطہ ہے جو حاجتوں کا پورا کرنے والا اور مشکلات کا دور کرنے والا ہے) جابر بن سلیم (راوی) کہتے ہیں کہ میں (یہ سن کر) عرض کیا: حضور! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ تم کسی کو گالی نہ دیا کرو!۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے نہ تو کسی آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو گالی دی (اس کے بعد) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ تو کسی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھ (یہاں تک کہ) اگر تو اپنے کسی (مسلمان) بھائی سے خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی سے ملے تو یہ بھی نیکی ہے (اور ثواب کا کام ہے) اور تو اپنے ازار (یعنی تہہ بند اور پاجامہ) کو اپنی نصف پنڈلی تک اونچا رکھ، اگر اتنا اونچا تجھے پسند نہ ہو تو ٹخنے سے کم ٹخنوں سے اونچا رکھ اور ازار کو (ٹخنوں سے) نیچا رکھنے سے بچ، اس لئے کہ یہ تکبر کی نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں فرماتے اور اگر کوئی شخص تجھے گالی دے اور تجھ کو تیرے ایسے عیب سے جو اسے معلوم ہے عار (یعنی شرم) دلائے تو تو (اس کے جواب میں) اس کو اس کے اس عیب سے جس سے تو واقف ہے عار نہ دلا، اس لئے کہ اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے اور ترمذی نے صرف سلام کی حد تک کے واقعہ کی روایت کی ہے۔ اور ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ (حضور علیہ الصلوۃ والسلام) ارشاد فرمائے ہیں کہ کسی شخص کے تجھ کو عار دلانے پر) تیری خاموشی کا ثواب تجھے ملے گا اور اس (عار دلانے) کا وبال اس شخص پر ہوگا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4084 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2722 (unverified) 86% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر بن سلیم کو علیک السلام کہنے سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کی عادت تھی کہ جب وہ کسی قبر پر سلام کرتے تو ”علیک السلام“ کہتے، اسی عام عادت کی بناء پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر بن سلیم کو زندوں پر علیک السلام کہنے سے منع فرمایا اور ان کو تعلیم دی کہ جب وہ کسی کو سلام کریں تو ”السلام علیک“ کہا کریں، ویسے تو مردوں پر ”السلام علیکم“ کہنا اور احادیث سے ثابت ہے۔12

Hadith 2366

Volume 1

English

Abu Musa Al-Ash’ari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every Muslim must give charity.” They said: “What if he cannot?” He said: “Let him work with his hands, benefit himself, and give charity.” They said: “What if he cannot do that?” He said: “Let him help someone in need.” They said: “What if he cannot do that?” He said: “Let him enjoin good.” They said: “What if he cannot do that?” He said: “Let him refrain from evil, for that is charity.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٦٦ - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ». قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: «فَلْيَعْمَلْ بِيَدَيْهِ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ». قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ ؟ قَالَ: «فَيُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ» قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْهُ؟ قَالَ: «فَيَأْمُرُ بِالْخَيْرِ». قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ؟ قَالَ: «فَيُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ؛ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2772
ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (اللہ تعالیٰ کی گوناگوں نعمتوں کے شکریہ میں) ہر مسلمان پر صدقہ (یعنی خیرات) واجب ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا (یا رسول اللہ!) اگر کسی کے (پاس صدقہ دینے کے لئے) کچھ بھی نہ ہو (تو کیا کرے؟) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اپنے ہاتھوں سے کوئی کسب کرے (اور مال حاصل کرے کہ) خود بھی فائدہ حاصل کرے اور خیرات بھی کرے، پھر صحابہؓ نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) کسی میں اس کی بھی قوت نہ ہو یا ایسا نہ کرسکے (تو وہ کیا کرے؟) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ وہ غمگین حاجت مند اور داد خواہ کی (کسی طرح بھی) مدد کرے۔ صحابہؓ نے (پھر) عرض کیا کہ اگر کوئی ایسا بھی نہ کرسکے (تو وہ کیا کرے؟) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ وہ (لوگوں کو) نیکی کا حکم کرے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے (پھر) عرض کیا کہ اگر کوئی یہ بھی نہ کرسکے (تو پھر کیا کرے؟) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے (کہ اگر کسی سے یہ سب کچھ نہ ہوسکے تو کم از کم) وہ اپنے آپ کو برائی سے بچائے رکھے اور یہی اس کے حق میں خیرات ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6022 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1008 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2367

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every joint of a person must give charity every day the sun rises. Acting justly between two people is charity. Helping a man mount his animal or lifting his belongings onto it is charity. A good word is charity. Every step you take toward prayer is charity. Removing harm from the road is charity.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٦٧ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ الاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَيُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوْهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2773
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ہر روز جبکہ دن نکلتا ہے انسان پر اس کے بدن میں جتنے جوڑ ہیں، ان میں سے ہر ایک کے لئے صدقہ دینا واجب ہے۔ اگر کسی نے دو آدمیوں کے درمیان انصاف کیا تو یہ (بھی) صدقہ ہے اور اگر کسی نے کسی آدمی کو اس کی سواری پر سوار ہونے میں مدد دی، اور اس کو سواری پر سوار کر دیا، یا اس کا سامان سواری پر اٹھا کر رکھ دیا۔ یہ (بھی) اس کے لئے خیرات ہے، اور (ہر) اچھی بات کہنا (یا سائل) کو نرمی سے جواب دینا بھی) اس کے لئے صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لئے (مسجد کی طرف) جانے میں وہ اٹھاتا ہے وہ (بھی) صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ (بھی) صدقہ ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2989 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1009 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2368

Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every human being is created with three hundred and sixty joints. Whoever glorifies Allah, praises Allah, declares Allah’s oneness, and removes a stone, thorn, or bone from the road, or enjoins good or forbids evil, to the number of those joints, he will walk on the Day of Resurrection having distanced himself from the Fire.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٦٨ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَهَلَّلَ اللَّهَ وَسَبَّحَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ شَوْكَةً أَوْ عَظْمًا [عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِ مِائَةِ [السُّلَامَى فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ] زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2774
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ہر انسان کو تین سو ساٹھ جوڑوں سے پیدا کیا گیا ہے (یعنی ہر انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور یہ ضروری ہے کہ ہر جوڑ کے کار آمد ہونے کے شکر یہ میں ہر روز کچھ نہ کچھ خیرات کرے) تو جو کوئی ”اللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہے، ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہے، ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ پڑھا کرے۔ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ“ کہے، اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور لوگوں کے راستہ سے پتھر یا کانٹا یا ہڈی دور کر دے یا کسی کو نیک بات بتائے یا برائی سے روکے، اور یہ سب چیزیں (جس دن) تین سو ساٹھ ہو جائیں تو (چونکہ اس نے ہر جوڑ کے بدلے میں ایک ایک نیکی کر لی ہے اس لئے) اس روز وہ (گناہوں سے پاک و صاف ہو کر) ایسا چلے گا کہ گویا اس نے اپنے آپ کو دوزخ سے بچا لیا ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1007a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے مسلمان ہر دن ان اعمال کو انجام دیتا رہے تا کہ وہ دوزخ سے اس کی براءت ہر روز لکھی جایا کرے۔ 12

Hadith 2369

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “A man passed by a branch of a tree on the road and said: ‘I will remove this from the path of the Muslims so it does not harm them.’ He was admitted to Paradise because of it.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٦٩ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنٍ شَجَرَةٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقٍ، فَقَالَ: لَأُنَحَيَنَّ هَذَا عَنِ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ لَا يُؤْذِيهِمْ فَأُدْخِلَ بِهِ الْجَنَّةَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2775
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ایک شخص ایک درخت کی شاخ پر گزرا، جو سڑک کے درمیان راہ آ گئی تھی تو اس نے کہا: میں ضرور اس شاخ کو مسلمانوں کے راستہ سے دور کر دوں گا تا کہ یہ ان کو تکلیف نہ دے۔ پس وہ شخص اس (کار خیر) کی وجہ سے جنت میں داخل کر دیا گیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور سے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2618a (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2472 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2370

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “I saw a man enjoying himself in Paradise because of a tree he had cut from the road that was harming people.”

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۳۷۰ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ فِي شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ كَانَتْ تُؤْذِي النَّاسَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2776
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ میں نے جنت میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ وہاں سیر کرتا پھر رہا تھا (کیونکہ) اس نے (دنیا میں ایک کار خیر یہ کیا تھا کہ) (لوگوں کے) راستہ سے ایک درخت کو کاٹ دیا تھا جو لوگوں کو (راستہ میں ہونے کی وجہ سے) تکلیف دیا کرتا تھا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1914c (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2371

Volume 1

English

Abu Barzah (may Allah be pleased with him) narrated: “I said: ‘O Prophet of Allah, teach me something I can benefit from.’ He said: ‘Remove harm from the path of the Muslims.’”

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۳۷۱ - وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ عَلَّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ، قَالَ: «اعْزِلِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2777
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا نبی اللہ! مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئے جس سے مجھے فائدہ حاصل ہو تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2618a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2372

Volume 1

English

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every glorification of Allah is charity. Every declaration of His greatness is charity. Every praise of Him is charity. Every declaration of His oneness is charity. Enjoining good is charity. Forbidding evil is charity. And in the sexual act of one of you is charity.” They said: “O Messenger of Allah, does one of us fulfill his desire and receive reward for it?” He said: “Do you not see that if he had done it unlawfully, he would have sinned? Similarly, if he does it lawfully, he is rewarded.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٧٢ - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ بكل إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً، وَكُلَّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً، وَأَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُوْنُ لَهُ فِيْهَا أَجْرُ؟ قَالَ: «أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيْهَا وِزْرُ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2778
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ہر دفعہ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ“ کہنے پر اور ہر دفعہ ”اللّٰه اكبر“ کہنے پر، اور ہر دفعہ ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ“ کہنے پر اور ہر نیک کام کے بتانے پر اور ہر برے کام سے روکنے پر خیرات کا ثواب ملتا ہے اور (یہاں تک کہ) تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی سے ہم بستری کرے تو اس پر (بھی) نیکی کا ثواب ملتا ہے (یہ سن کر حیرت سے) صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کہ ہم میں سے ایک شخص اپنی خواہش نفس کی تکمیل کرتا ہوا اور اس پر بھی اس کو ثواب ملتا ہو! (یہ بات کیسے ممکن ہے؟) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: دیکھو! اگر وہ حرام (یعنی ناجائز) طریقہ پر اپنی خواہش نفسانی کی تکمیل کرتا تو کیا اس کو عذاب نہ ہوتا؟ چونکہ اس نے (حرام طریقہ سے بچ کر) حلال طریقہ سے اپنی خواہش پوری کی ہے (اور اپنی بیوی کا حق ادا کیا ہے) اس لئے اس کو (اس پر خیرات) کا ثواب ملے گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1006 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1898 (unverified) 75% confidence

Mishkat (candidate) 1898

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ نفس جماع نہ تو صدقہ ہے اور نہ عبادت، البتہ کوئی شخص جماع کے ذریعے حرام سے اپنے نفس کی نگہداشت کرتا ہے اور اپنی بیوی کا حق بھی ادا کرتا ہے اور نیک اولاد پیدا ہونے کی نیت کرتا ہے، اس لئے اس طرح اپنی بیوی سے جماع کرنے پر مسلمان کو ثواب ملتا ہے۔12

Hadith 2373

Volume 1

English

Buhaysah reported from her father that she said: “O Messenger of Allah, what is the thing that it is not permissible to withhold?” He said: “Water.” She said: “O Prophet of Allah, what is the thing that it is not permissible to withhold?” He said: “Salt.” She said: “O Prophet of Allah, what is the thing that it is not permissible to withhold?” He said: “Doing good is better for you.”

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۳۷۳ - وَعَنْ بُهَيْسَةَ عَنِ ابِيهَا قَالَتْ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: «الْمَاءُ» قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: «الْمِلْحُ» قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: «أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2779
بُهَيْسَةَ رضی اللہ عنہا اپنے والد سے دریافت کرتی ہیں کہ ان کے والد نے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! وہ کونسی چیز ہے جس سے (کسی کو) روکنا درست نہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: وہ پانی ہے، انہوں نے پھر دریافت کیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (پانی کے بعد) وہ کونسی چیز ہے جس کو دینے سے انکار کرنا منع ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: وہ نمک ہے۔ انہوں نے پھر دریافت کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کونسی چیز ہے جس کا انکار کرنا درست نہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جس قدر نیک کام تم سے ہو سکے تمہارے لئے، بہتر ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1669 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2374

Volume 1

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “No Muslim plants a tree or sows a crop, and a bird, human, or animal eats from it, except that it is charity for him.” [Agreed upon] In a narration by Muslim from Jabir: “And whatever is stolen from it is charity for him.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٧٤ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرُ أَوْ إِنْسَانُ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ [بِهِ] صَدَقَةٌ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ جَابِرٍ: وَمَا سُرِقَ [مِنْهُ] لَهُ صَدَقَةٌ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2780Noor 2781
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو مسلمان کوئی درخت لگائے یا کھیتی بوئے، اور اس میں سے کوئی انسان یا پرند یا جانور کچھ کھا لے تو (اس کو اس نقصان پر صبر کرنے کی وجہ سے) خیرات کا ثواب ملتا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور مسلم کی روایت میں جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے کہ اگر اس کے (پھل یا کھیتی سے) کچھ چوری ہو جائے تو اس پر بھی اس کو خیرات کا ثواب ملتا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2320 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1552a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1553a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2375

Volume 1

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever revives a dead land, he will have reward for it, and whatever is eaten from it by living beings is charity for him.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٧٥ - وَعَنْ جَابِرٍ(رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَلَهُ فِيْهَا أَجْرُ، وَمَا أَكَلَتْ الْعَافِيَةُ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالدَّارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2782
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کسی نے بنجر زمین کو آباد کیا (یعنی افتادہ زمین میں کھیتی کی) تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے اور کھیتی کا کسی وجہ سے نقصان ہو جائے (یعنی سیلاب آ جائے یا جانور کھا جائے یا انسان لے جائے اور اس پر وہ صبر کرے) تو اس کو خیرات کا ثواب ملتا ہے۔ اس کی روایت نسائی اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 3881 (unverified) 70% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2376

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best charity is a milking she-camel given as a gift, and a milking sheep given as a gift, which goes out in the morning with a vessel and returns in the evening with another.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٧٦ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : نِعْمَ الصَّدَقَةُ اللَّقْحَةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً1، وَالشَّاةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً، تَغْدُوْ بِإِنَاءٍ وَتَرُوْحُ بِآخَرَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2783
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ بہترین صدقہ زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی ہے جو کسی کو مستعار دی جائے (تاکہ وہ اس کے دودھ سے فائدہ حاصل کرنے کے بعد اس کو واپس کر دے۔ یا بہترین صدقہ) وہ زیادہ دودھ دینے والی بکری ہے جو کسی کو مستعار دی جائے کہ وہ صبح کو برتن بھر دودھ دیتی ہو، اور شام کو بھی برتن بھر دودھ۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1019 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2629 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Given as a gift.

(1) The statement: “Given as a gift.” In Al-Bada’i: “If one gives a milking sheep, camel, or cow as a gift and says: ‘This sheep is a gift for you,’ or ‘This camel,’ or ‘This cow,’ it is considered a loan, and it is permissible for the recipient to benefit from its milk. Even though milk is a physical substance, it is considered a benefit by custom and practice, so it is treated as a benefit, as if he has permitted him to drink the milk. Thus, it is permissible for him to benefit from its milk.”

Note 1

قوله

(۱) قوله: منحة: وقال في البدائع: ولو منحه شاة حلوبًا أو ناقة حلوبًا أو بقرة حلوبا، وقال: هذه الشاة لك منحة، أو هذه الناقة، أو هذه البقرة كان عارية، وجاز له الانتفاع بلبنها؛ لأن اللبن وإن كان عينا حقيقة فهو معدود من المنافع عرفا وعادةً، فأعطى له حكم المنفعة، كأنه أباح له شرب اللبن، فيجوز له الانتفاع بلبنها.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ”مِنْحَةٌ“ کا لفظ مذکور ہے اور ”مِنْحَةٌ“ عطیہ کو کہتے ہیں اور یہ عموماً اونٹ، گائے اور بکری میں ہوا کرتا تھا۔ عرب میں یہ معمول تھا کہ صاحب ثروت جس کو اللہ تعالیٰ توفیق دے، وہ دودھ والی اونٹنی، گائے یا بکری، کسی محتاج کو مستعار دیتا تاکہ وہ دودھ استعمال کرنے کے بعد مالک کو پھر واپس کر دے، اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت پسند فرمایا اور اس کی تعریف کی ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات)۔

Hadith 2377

Volume 1

English

Al-Bara (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever gives a gift of milk, silver, or guides someone to a path, it is like freeing a slave.”

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۳۷۷ - وَعَنِ الْبَرَاءِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ مَنَحَ مِنْحَةَ لَبَنٍ أَوْ وَرِقٍ أَوْ هَدَى زُقَاقًا كَانَ لَهُ مِثْلُ عِتْقُ رَقَبَةٍ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2784
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: اگر کوئی شخص کسی کو دودھ دینے والا جانور عاریۃً دے یا کچھ درہم بطور قرض دے یا کسی کو گلی کوچہ میں راہ بتا دے (کہ وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکے) تو اس کو ایک غلام یا باندی آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1957 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2378

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “A sinful woman was forgiven because she passed by a dog panting on top of a well, almost dying of thirst. She took off her shoe, tied it with her headscarf, and drew water for it. She was forgiven because of that.” It was said: “Is there reward for us in animals?” He said: “There is reward in every living being.”

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۳۷۸ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُؤْمِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَبِّي يَلْهَثُ، [قَالَ: كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ فَنَزَعَتْ خُفَّهَا، فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا، فَنَزَعَتْ لَهُ مِنَ الْمَاءِ، فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ قِيلَ: إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ قَالَ: «فِي كُلِّ ذاتِ كَبِدٍ رَطَبَةٍ أَجْرُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2785
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ایک بدکار عورت کی بخشش (محض) اس بناء پر ہوگئی (کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلایا تھا) جبکہ وہ راستہ سے گزر رہی تھی تو اس نے ایک کتے کو کنویں کے پاس دیکھا جو (پیاس کے مارے) اپنی زبان باہر نکالے ہوئے تھا اور قریب تھا کہ وہ (پیاس کی شدت کے مارے) ہلاک ہو جائے۔ پس اس نے اپنا موزہ نکالا اور اس کو اپنی اوڑھنی سے باندھ کر کنویں سے پانی کھینچا اور کتے کو پلایا۔ اس کام کے صلہ میں اس عورت کو بخش دیا گیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ کیا جانوروں پر احسان کرنے میں بھی ہم کو ثواب ملتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: ہاں! ہر جاندار کے ساتھ احسان کرنے میں ثواب ملتا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3321 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2245b (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2379

Volume 1

English

Ibn Umar and Abu Hurairah (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “A woman was punished because of a cat she confined until it died of hunger. She did not feed it or let it go to eat from the insects of the earth.”

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۳۷۹ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) وَأَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَا : قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: «عُذِّبَتْ امْرَأَةً فِي هِرَّةٍ أَمْسَكَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ مِنَ الْجُوعِ، فَلَمْ تَكُنْ تُطْعِمُهَا وَلَا تُرْسِلُهَا، فَتَأْكُلَ مِنْ خُشَاشِ الْأَرْضِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2786
ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ایک عورت کو (محض) ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا کہ جس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی، نہ تو وہ اس کو کھلاتی اور نہ کھلا چھوڑتی کہ وہ زمین میں کے جانور (مثلاً چوہے وغیرہ) کھاتی (اور اپنا پیٹ بھرتی)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3318 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2243 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2380

Volume 1

English

Abdullah ibn Salam (may Allah be pleased with him) narrated: “When the Prophet (ﷺ) arrived in Madinah, I came to him. When I saw his face, I knew it was not the face of a liar. The first thing he said was: ‘O people, spread peace, feed the hungry, maintain family ties, and pray at night while people are asleep. You will enter Paradise in peace.’”

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۳۸۰ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ (رضي الله عنه) قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ جِئْتُ، فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلُ مَا قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوْا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ وَالدَّارِمِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2787
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں (آپ کی خدمت میں) حاضر ہوا (تا کہ آپ کے حالات معلوم کر کے دعوائے نبوت کی تصدیق کروں اور اسلام لاؤں)۔ تو جونہی میری نظر حضورﷺ کے رخ انور پر پڑی تو میں دیکھتے ہی پہچان لیا کہ ایسی (نیک) صورت کسی جھوٹے شخص کی نہیں ہو سکتی۔ (مدینہ پاک پہنچنے کے بعد لوگوں کو جمع کر کے) پہلی چیز جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمائی وہ یہ تھی کہ اے لوگو! سلام کو رواج دو (یعنی کثرت سے سلام کیا کرو، اور پکار کر سلام کرو، چاہے وہ اپنا ہو یا پرایا ہو) اور لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کیا کرو۔ اور رات میں اس وقت نماز پڑھا کرو جبکہ لوگ سوتے ہوں (تا کہ تم کو یکسوئی اور دلجمعی حاصل ہو) تو تم (ان کاموں کے صلہ میں) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2485 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3251 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1907 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1907

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2381

Volume 1

English

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Worship the Most Merciful, feed the hungry, and spread peace. You will enter Paradise in peace.”

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۳۸۱ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2788
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ بزرگ و برتر کی جو رحمن ہیں عبادت کرو۔ (جس نے اپنی رحمت سے تم کو قسم قسم کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں) اور (لوگوں کو) کھانا کھلاؤ اور سلام کو رواج دو (یعنی کثرت سے سلام کیا کرو، اور با آواز بلند اپنے اور پرائے پر سلام کیا کرو) تو تم (ان کاموں کے صلہ میں) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1855 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3694 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2382

Volume 1

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Charity extinguishes the anger of the Lord and prevents a bad death.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٨٢ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ هُ: «إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوْءِ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2789
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور برے خاتمہ سے بچاتا ہے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 664 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1909 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1909

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: صاحب مرقات اور اشعۃ اللمعات نے سوء خاتمہ کی دو صورتیں بیان کی ہیں: ایک یہ کہ انسان موت کے وقت غفلت، وسوسے اور جزع فزع میں مبتلا ہوجائے اور شہادت ایمان پر خاتمہ نہ ہو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ موت اچانک جلنے، ڈوبنے اور دب کر مرنے سے واقع ہو تو خیرات کرنے سے اللہ تعالیٰ سوء خاتمہ کی ان دونوں صورتوں سے بچاتے ہیں اور دنیا و آخرت کی سلامتی عطا فرماتے ہیں۔12