English
Al-Muzani reported from Al-Shafi’i from Sufyan from Talhah ibn Yahya from his aunt Aisha bint Talhah from Aisha, the wife of the Prophet (ﷺ), that she said, "The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me, and I said to him, 'O Messenger of Allah, we have saved some hais for you.' He said, 'I intended to fast, but bring it to me, and I will fast another day in its place.'" [Narrated by Al-Tahawi] The author of Al-Urf al-Shadhi said, "The chain is extremely authentic." Al-Bayhaqi narrated it in his Sunan al-Kubra from the chain of Al-Tahawi, and in his book Al-Ma’rifah as well. Nasa’i narrated it in Al-Kubra, and Al-Daraqutni narrated it in his Sunan.
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٥٣٥ - وَعَنِ الْمُزَنِي عَنِ الشَّافِعِي عَنْ سُفْيَانَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَدْ خَبَأْنَا لَكَ حَيْسًا، فَقَالَ: «أَمَّا إِنِّي كُنْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ وَلَكِنْ قَرِّبِيهِ سَأَصُوْمُ يَوْمًا مَكَانَ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.
وَقَالَ صَاحِبُ الْعَرْفِ الشَّذِي»: وَالسَّنَدُ صَحِيحٌ غَايَةَ الصِحَّةِ. وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي سُنَنِهِ الْكُبْرَى مِنْ طَرِيقِ الطَّحَاوِيِّ، وَفِي كِتَابِهِ الْمُعَرَّفَةِ أَيْضًا، وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ فِي الْكُبْرَى وَالدَّارَ قُطْنِيُّ فِي سُنَنِهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2990
مزنی امام شافعی سے اور امام شافعی، سفیان سے اور سفیان طلحہ بن یحییٰ سے اور
طلحہ بن یحییٰ اپنی پھوپھی عائشہ بنت طلحہ سے اور عائشہ بنت طلحہ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
سے روایت کرتی ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم نے
آپ ہی کے لئے حیس اٹھا کر رکھا ہے (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے
(نفل) روزہ کی نیت کرلی تھی اچھا اس کو لے آؤ (اس کو کھالیتا ہوں) اور آج کے روزہ کے بدلہ کسی
دن اس کی قضاء کرلوں گا۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور صاحب العرف الشذی نے کہا ہے کہ اس کی سند نہایت صحیح ہے اور ”بیہقی“ نے بھی اس حدیث کی اپنی ”سنن کبیر“ اور ”المعرفۃ“ میں ان ہی اسناد سے روایت کی ہے جیسا کہ امام طحاوی نے روایت کی ہے۔ اور ”نسائی“ نے بھی اس کی روایت ”سنن کبریٰ“ میں اور ”دارقطنی“ نے اپنی ”سنن“ میں اس کی روایت کی ہے۔