ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ (ظاہری اور باطنی) ننانوے (99) بیماریوں کی
دوا ہے۔ ان میں سے ایک معمولی بیماری (دین اور دنیا کا) رنج و غم ہے جس سے اس کا پڑھنے والا
نجات پاتا ہے۔
اس حدیث کی روایت بیہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔
ف: صدر کی حدیثوں میں ارشاد ہے کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ جنت کا ایک خزانہ ہے
اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ پڑھنے والا اس دن کا نفع
اٹھاوے گا کہ جس دن نہ مال نفع دے گا اور نہ اولاد۔ اور حضرت مکحول کی روایت میں ارشاد ہے کہ اس
کے پڑھنے والے کے لئے مصائب کے ستر (70) دروازے بند کر دئے جاتے ہیں جس میں کا ایک
معمولی دروازہ فقر ہے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اس سے مراد دل کا فقر ہے کہ
جب دل کا فقر دور ہو جاتا ہے تو اصل غنا حاصل ہو جاتا ہے جو حاجات سے انسان کو بے نیاز کر دیتا
ہے اور اگر ظاہری فقر کو بھی اس سے مراد لیا جائے تو کوئی بات بعید نہیں کہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ
حاجت روائی بھی فرما دیتے ہیں۔12
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صدر کی حدیثوں میں ارشاد ہے کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ جنت کا ایک خزانہ ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ پڑھنے والا اس دن کا نفع اٹھاوے گا کہ جس دن نہ مال نفع دے گا اور نہ اولاد۔ اور حضرت مکحول کی روایت میں ارشاد ہے کہ اس کے پڑھنے والے کے لئے مصائب کے ستر (70) دروازے بند کر دئے جاتے ہیں جس میں کا ایک معمولی دروازہ فقر ہے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اس سے مراد دل کا فقر ہے کہ جب دل کا فقر دور ہو جاتا ہے تو اصل غنا حاصل ہو جاتا ہے جو حاجات سے انسان کو بے نیاز کر دیتا ہے اور اگر ظاہری فقر کو بھی اس سے مراد لیا جائے تو کوئی بات بعید نہیں کہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ حاجت روائی بھی فرما دیتے ہیں۔12