English
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said, relaying from Allah the Exalted: "O My servants, I have forbidden injustice for Myself and have made it forbidden among you, so do not wrong one another. O My servants, all of you are astray except those whom I guide, so seek guidance from Me, and I shall guide you. O My servants, all of you are hungry except those whom I feed, so ask Me for sustenance, and I shall feed you. O My servants, all of you are naked except those whom I clothe, so ask Me for clothing, and I shall clothe you. O My servants, you sin by night and by day, and I forgive all sins, so seek My forgiveness, and I shall forgive you. O My servants, you will never attain harming Me so as to harm Me, nor will you ever attain benefiting Me so as to benefit Me. O My servants, if the first of you and the last of you, the humans and the jinn among you, were as pious as the most pious heart of any one of you, that would not increase My dominion in the slightest. O My servants, if the first of you and the last of you, the humans and the jinn among you, were as wicked as the most wicked heart of any one of you, that would not decrease My dominion in the slightest. O My servants, if the first of you and the last of you, the humans and the jinn among you, were to stand together in one place and ask of Me, and I were to give each one what he requested, that would not decrease what I possess any more than a needle decreases the sea when dipped into it. O My servants, it is only your deeds that I record for you and then recompense you for, so whoever finds good, let him praise Allah, and whoever finds other than that, let him blame no one but himself."
العربية
Typed, pending editorial approval
۲۷۸۲ - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ(رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فِيمَا يَرْوِي عَنِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّهُ قَالَ: يَا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا، يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ ضَالٌ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ، يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ جَائِعُ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ، يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ، يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَجَمِيعًا فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ، يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوْا ضَرِّي فَتَضُرُّونِي وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي، يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا، يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا، يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوْا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ، يَا عِبَادِي، إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدُ اللهَ وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3275
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اے میرے بندو! میں
نے اپنی ذات پر ظلم حرام کرلیا ہے (یعنی میں کسی پر ظلم نہیں کرتا) اور ظلم کو تمہارے درمیان بھی حرام قرار
دیا ہے اس لئے آپس میں ایک دوسرے پر ظلم مت کیا کرو۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ
ہو مگر وہ شخص (گمراہ نہیں) جس کو میں ہدایت دوں پس تم مجھ سے ہدایت طلب کیا کرو میں تم کو
ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو مگر وہ شخص (بھوکا نہیں) جس کو میں
کھلاؤں گا۔ پس تم مجھ سے کھانا مانگو میں تم کو کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب برہنہ
ہو مگر وہ شخص (برہنہ) نہیں جس کو میں کپڑا دوں پس تم مجھ سے لباس مانگو میں تم کو لباس دوں گا۔ اے
میرے بندو! تم رات دن گناہوں میں مبتلا رہتے ہو اور میں تمہارے گناہ بخشتا رہتا ہوں پس تم مجھ
سے (اپنے گناہوں کی) معافی مانگو میں تم کو بخش دوں گا۔ اے میرے بندو تم (نافرمانی کر کے) میرا
کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور (تم اطاعت کر کے) مجھے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے بلکہ تمہاری
فرمانبرداری سے تم ہی کو فائدہ پہنچے گا۔ اور نافرمانی کر کے تم خود ہی اپنا نقصان کرو گے میری ذات
ان سب سے بے نیاز ہے۔
اے میرے بندو! اگر تمہارے سب کے سب جن و انس جو گزر چکے ہیں اور (جو موجودہ
ہیں)۔ اور جو قیامت تک پیدا ہوں گے یہ تمام اگر (پرہیزگاری اختیار کر کے) سب سے زیادہ متقی
شخص کے دل کی طرح پاک دل ہو جائیں (تو یہ تمہاری پاک دلی) میری مملکت اور بادشاہت میں
کسی قسم کی زیادتی نہیں کر سکے گی۔ میرے بندو! اگر! تمہارے سب کے سب جن و انس گزر چکے ہیں
(اور جو موجود ہیں) اور جو (قیامت تک) آنے والے ہیں۔ یہ تمام اگر (برائی کر کے) بدترین سیاہ
دل والے کی طرح سیاہ دل یعنی (ابلیس کی طرح ہو جائیں۔ تو یہ تمہاری (سیاہ دلی) میری مملکت اور
بادشاہت میں کسی قسم کی کمی نہیں کر سکتی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے سب کے سب جن و انس جو
گزر چکے ہیں اور آئندہ آنے والے ہیں سب کے سب ایک مقام میں جمع ہو جائیں اور یہ سب اپنی
اپنی مراد مانگیں اور میں ہر شخص کو اس کی مراد دے دوں تو میرے پاس جو بھی خزانے ہیں ان میں
(بخشش کی وجہ سے) کسی قسم کی کمی نہ ہوگی۔ (اتنا بھی نہیں جتنا کہ ایک سوئی دریا میں ڈال کر نکالی
جائے) تو اس کے پانی میں جتنا کم کر سکتی ہے (اتنی بھی میرے خزانوں میں کمی نہیں ہوگی)۔
اے میرے بندو! صرف یہی نہیں کہ تمہارے نیک و بد اعمال کو میں جانتا ہوں بلکہ ان کا پورا
پورا بدلہ دیتا ہوں۔ پس جو شخص نیک عمل ہو تو وہ (اس نیک توفیق میں) اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور
جو شخص بدعمل ہو تو وہ خود اپنی ملامت کرے (اس لئے کہ وہ اپنے نفس کے شرارت کی وجہ سے گمراہی پر
باقی ہے)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2577a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.