Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "By Allah, I seek Allah’s forgiveness and repent to Him more than seventy times a day."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں دن میں ستر (70) مرتبہ سے زائد اللہ تعالیٰ
سے استغفار کرتا ہوں۔ اور اس کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اس حدیث کی روایت بخاری نے کی
ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں استغفار اور توبہ کی ترغیب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
معصوم ہونے کے باوجود دن میں ستر (70) بار سے زائد استغفار فرمائیں تو ہم گنہ گاروں کو بطریق
اولیٰ استغفار اور توبہ کرتے رہنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ زمین پر اللہ تعالیٰ
کے عذاب سے امن دو چیزوں کی وجہ سے تھا ایک کو تو اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا ہے تم کو چاہیے کہ دوسرے کو
مضبوطی کے ساتھ اختیار کریں۔ ایک امن جو اٹھا لیا گیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات
گرامی ہے۔ اور جو امن باقی ہے وہ استغفار ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۂ انفال، آیت
نمبر:33، میں) ”وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ، وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ
يَسْتَغْفِرُونَ“ (اللہ تعالیٰ ایسا نہ کریں گے کہ (اے نبی!) آپ کے ان میں ہوتے ہوئے ان کو عذاب
میں مبتلا کریں اور ایسا بھی نہ کریں گے کہ ان کو عذاب دیں اس حالت میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔
حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استغفار فرمانے کا جو ذکر ہے اس بارے میں صاحب
مرقات نے لکھا ہے کہ: حضور کا یہ استغفار امت کی طرف سے ہوا کرتا تھا جو امت کے حق میں آپ کی
جانب سے بطور سے شفاعت کے تھا۔12
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "We used to count that the Messenger of Allah (ﷺ) would say in a single sitting: ‘O Lord, forgive me and accept my repentance, for You are the Accepter of Repentance, the Most Merciful,’ a hundred times."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کبھی ایک مجلس میں سو(100) مرتبہ ”رَبِّ اغْفِرْلِيْ وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ
الْغَفُورُ“ پڑھ کر استغفار فرمایا کرتے اور ہم آپ کے اس استغفار کو سن کر گن لیا کرتے تھے۔ اس کی
روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1516 (unverified) 99% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3434 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 3814 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استغفار کرنے کا جو ذکر ہے وہ
امت کی تعلیم کے لئے تھا۔ ورنہ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ سب معاف کردئے گئے تھے اس لئے کہ
انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امت کو تعلیم دینا مقصود تھا کہ
آدمی اپنے مالک کے سامنے تضرع اور عاجزی زیادہ سے زیادہ کرے اس لئے کہ جو جتنا زیادہ مقرب
ہوگا اس کو اتنا ہی زیادہ اپنے مالک سے خوف رہے گا۔ علاوہ ازیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ
کا جلال اور استغناء بھی ظاہر کرنا منظور تھا کہ بندہ کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے مالک کے آگے اپنی
خطاؤں کی معافی مانگتا رہے۔12
Al-Agharr Al-Muzani (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Sometimes I perceive a veil over my heart, and I seek Allah’s forgiveness a hundred times a day."
اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں (کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی شان مبارک یہ تھی کہ آپ کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے حضوری رہا کرتی تھی بعض وقت
امت کی تعلیم اور منصب رسالت کی بجا آوری میں) آپ کے قلب مبارک پر کچھ حجابات آتے تھے
(اور اس یکسوئی اور حضوری میں کچھ فرق آجاتا تھا) تو آپ فرماتے ہیں کہ: میں اس حالت کے لئے
اللہ تعالیٰ سے دن میں سو(100) مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said, relaying from Allah the Exalted: "O My servants, I have forbidden injustice for Myself and have made it forbidden among you, so do not wrong one another. O My servants, all of you are astray except those whom I guide, so seek guidance from Me, and I shall guide you. O My servants, all of you are hungry except those whom I feed, so ask Me for sustenance, and I shall feed you. O My servants, all of you are naked except those whom I clothe, so ask Me for clothing, and I shall clothe you. O My servants, you sin by night and by day, and I forgive all sins, so seek My forgiveness, and I shall forgive you. O My servants, you will never attain harming Me so as to harm Me, nor will you ever attain benefiting Me so as to benefit Me. O My servants, if the first of you and the last of you, the humans and the jinn among you, were as pious as the most pious heart of any one of you, that would not increase My dominion in the slightest. O My servants, if the first of you and the last of you, the humans and the jinn among you, were as wicked as the most wicked heart of any one of you, that would not decrease My dominion in the slightest. O My servants, if the first of you and the last of you, the humans and the jinn among you, were to stand together in one place and ask of Me, and I were to give each one what he requested, that would not decrease what I possess any more than a needle decreases the sea when dipped into it. O My servants, it is only your deeds that I record for you and then recompense you for, so whoever finds good, let him praise Allah, and whoever finds other than that, let him blame no one but himself."
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اے میرے بندو! میں
نے اپنی ذات پر ظلم حرام کرلیا ہے (یعنی میں کسی پر ظلم نہیں کرتا) اور ظلم کو تمہارے درمیان بھی حرام قرار
دیا ہے اس لئے آپس میں ایک دوسرے پر ظلم مت کیا کرو۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ
ہو مگر وہ شخص (گمراہ نہیں) جس کو میں ہدایت دوں پس تم مجھ سے ہدایت طلب کیا کرو میں تم کو
ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو مگر وہ شخص (بھوکا نہیں) جس کو میں
کھلاؤں گا۔ پس تم مجھ سے کھانا مانگو میں تم کو کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب برہنہ
ہو مگر وہ شخص (برہنہ) نہیں جس کو میں کپڑا دوں پس تم مجھ سے لباس مانگو میں تم کو لباس دوں گا۔ اے
میرے بندو! تم رات دن گناہوں میں مبتلا رہتے ہو اور میں تمہارے گناہ بخشتا رہتا ہوں پس تم مجھ
سے (اپنے گناہوں کی) معافی مانگو میں تم کو بخش دوں گا۔ اے میرے بندو تم (نافرمانی کر کے) میرا
کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور (تم اطاعت کر کے) مجھے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے بلکہ تمہاری
فرمانبرداری سے تم ہی کو فائدہ پہنچے گا۔ اور نافرمانی کر کے تم خود ہی اپنا نقصان کرو گے میری ذات
ان سب سے بے نیاز ہے۔
اے میرے بندو! اگر تمہارے سب کے سب جن و انس جو گزر چکے ہیں اور (جو موجودہ
ہیں)۔ اور جو قیامت تک پیدا ہوں گے یہ تمام اگر (پرہیزگاری اختیار کر کے) سب سے زیادہ متقی
شخص کے دل کی طرح پاک دل ہو جائیں (تو یہ تمہاری پاک دلی) میری مملکت اور بادشاہت میں
کسی قسم کی زیادتی نہیں کر سکے گی۔ میرے بندو! اگر! تمہارے سب کے سب جن و انس گزر چکے ہیں
(اور جو موجود ہیں) اور جو (قیامت تک) آنے والے ہیں۔ یہ تمام اگر (برائی کر کے) بدترین سیاہ
دل والے کی طرح سیاہ دل یعنی (ابلیس کی طرح ہو جائیں۔ تو یہ تمہاری (سیاہ دلی) میری مملکت اور
بادشاہت میں کسی قسم کی کمی نہیں کر سکتی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے سب کے سب جن و انس جو
گزر چکے ہیں اور آئندہ آنے والے ہیں سب کے سب ایک مقام میں جمع ہو جائیں اور یہ سب اپنی
اپنی مراد مانگیں اور میں ہر شخص کو اس کی مراد دے دوں تو میرے پاس جو بھی خزانے ہیں ان میں
(بخشش کی وجہ سے) کسی قسم کی کمی نہ ہوگی۔ (اتنا بھی نہیں جتنا کہ ایک سوئی دریا میں ڈال کر نکالی
جائے) تو اس کے پانی میں جتنا کم کر سکتی ہے (اتنی بھی میرے خزانوں میں کمی نہیں ہوگی)۔
اے میرے بندو! صرف یہی نہیں کہ تمہارے نیک و بد اعمال کو میں جانتا ہوں بلکہ ان کا پورا
پورا بدلہ دیتا ہوں۔ پس جو شخص نیک عمل ہو تو وہ (اس نیک توفیق میں) اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور
جو شخص بدعمل ہو تو وہ خود اپنی ملامت کرے (اس لئے کہ وہ اپنے نفس کے شرارت کی وجہ سے گمراہی پر
باقی ہے)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah the Exalted says: ‘O My servants, all of you are astray except those whom I guide, so ask Me for guidance, and I shall guide you. All of you are poor except those whom I enrich, so ask Me, and I shall provide for you. All of you are sinners except those whom I pardon. So whoever among you knows that I have the power to forgive sins and seeks My forgiveness, I will forgive him, and I do not mind. Even if the first of you and the last of you, your living and your dead, your young and your old, were to gather upon the piety of the most pious heart of any one of My servants, that would not add even the wing of a mosquito to My dominion. And if they were to gather upon the wickedness of the most wicked heart of any one of My servants, that would not diminish My dominion even by the wing of a mosquito. If the first of you and the last of you, your living and your dead, your young and your old, were to gather in one place and each ask of Me whatever he desired, and I were to grant each his request, that would not diminish what I possess any more than a needle diminishes the ocean when dipped into it. That is because I am the Most Generous, the Majestic. I do what I will. My giving is but a word, and My punishment is but a word. When I intend a thing, I only say to it, “Be,” and it is.’"
Asma’ bint Yazid (may Allah be pleased with her) said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting: ‘Say, “O My servants who have transgressed against themselves [by sinning], do not despair of the mercy of Allah. Indeed, Allah forgives all sins.”’ (Az-Zumar 39:53) without hesitation."
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا ہے ”يٰعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلٰى
نمبر:53) اے میرے بندو! جنہوں نے گنہ کر کے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت
سے ناامید مت رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے (اس کی تلاوت کے بعد رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو اس بات کی پروا نہیں کہ کافر کفر سے توبہ کرے تو اس
کے پچھلے سارے گناہ معاف فرمائیں گے اور مسلمان خواہ وہ توبہ کرے یا نہ کرے اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس
کے گناہ معاف فرما دیں)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد، اور ترمذی نے کی ہے۔
Thawban (may Allah be pleased with him) reported: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘I do not love to possess the world and all it contains in exchange for this verse: “Say, ‘O My servants who have transgressed against themselves, do not despair of the mercy of Allah.’” (Az-Zumar 39:53).’ A man asked, ‘What if one has committed shirk (associating partners with Allah)?’ The Prophet (ﷺ) remained silent, then said, ‘Except for one who commits shirk,’ repeating it three times."
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس آیت کے مقابلہ میں میرے پاس
ساری دنیا اور اس کی لذتیں ہیچ ہیں (وہ آیت یہ ہے)۔ ”يٰعِبَادِىَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰى اَنْفُسِهِمْ
لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ“ (اس آیت کا ترجمہ اس سے پہلے والی حدیث میں گزر چکا ہے۔12)
(تا آخر یہ آیت) سن کر ایک شخص نے عرض کیا (اور وضاحت چاہی): کیا مشرک بھی اس
میں شامل ہے؟ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکوت اختیار فرمایا اور (تھوڑی دیر
بعد) پھر ارشاد ہوا کہ ہاں مشرک بھی اس میں داخل ہے (بشرطیکہ وہ شرک سے توبہ کر لے) حضور نے
اس جملہ کو تین بار ارشاد فرمایا۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah the Exalted says: ‘O son of Adam! As long as you call upon Me and hope in Me, I will forgive you for whatever you have done, and I do not mind. O son of Adam! Even if your sins were to reach the clouds of the sky and you were to ask for My forgiveness, I would forgive you, and I do not mind. O son of Adam! If you were to come to Me with sins nearly as great as the earth and then meet Me without associating anything with Me, I would bring you forgiveness nearly as great as the earth.’"
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی تک
پہنچ جائیں۔ پھر تو مجھ سے مغفرت چاہے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ
نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تُو زمین بھر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے اور تُو مجھ سے اس حالت میں
ملے تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا تھا تو میں بھی زمین بھر مغفرت کے ساتھ تجھ سے ملوں گا۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
اور امام احمد اور دارمی نے اس حدیث کو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔
Abu Sa’id (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Satan said, ‘By Your might, O Lord, I will continue to mislead Your servants as long as their souls remain in their bodies.’ The Lord replied, ‘By My might and majesty, I will continue to forgive them as long as they seek My forgiveness.’"
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: شیطان نے (اللہ تعالیٰ سے) عرض کیا: اے میرے رب تیری
عزت کی قسم میں تیرے بندوں کو جب تک ان کی روحیں ان کے جسموں میں رہیں یعنی ان کی زندگی
بھر ان کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ (اس کے جواب میں) رب العزّت نے فرمایا: میری عزّت کی قسم!
میرے عظمت و جلال کی قسم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم میں ان کو ہمیشہ بخشتا رہوں گا جب تک وہ مجھ
سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) recited: "He is the One worthy of reverence and the One who forgives." (Al-Muddaththir 74:56) and said: "Your Lord says: ‘I am the One deserving of reverence, so whoever fears Me without associating anything with Me, I am the One who forgives him.’"
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ
الْمَغْفِرَةِ“ (سورہ مدثر، آیت نمبر:56) (اس کی شانِ قہاری تو یہ ہے کہ بندوں کو اس سے ڈرنا
چاہئے اور اس کی شانِ رحیمی یہ ہے کہ) بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: میں اس لائق ہوں کہ لوگ مجھ سے ڈریں۔ جو
مجھ سے ڈرے گا میں اس لائق ہوں کہ اس کو بخش دوں۔
اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "By the One in whose hand is my soul, if you did not sin, Allah would replace you with people who would sin and then seek His forgiveness, and He would forgive them."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم گناہ
نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تم کو لے جاوے گا یعنی نیست و نابود کر دے گا اور (پھر تمہاری بجائے) ایسی قوم کو
لائے گا جو گناہ کرے گی اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہے گی۔ تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش
دیں گے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اہل خوف اور گنہ گاران تائب کے لئے بڑا دلا سہ ہے
اور اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ گناہ حکمت الٰہی کے خلاف نہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور غفاری
کی صفت ظاہر ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اپنے گناہوں سے نڈر ہو جائے کیونکہ یہ تو صریحاً کفر
ہے۔ (مشکاۃ)۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A servant committed a sin and said, ‘O Lord, I have sinned, so forgive me.’ His Lord said, ‘Does My servant know that he has a Lord who forgives sins and punishes for them? I have forgiven My servant.’ Then the servant remained for as long as Allah willed before committing another sin and saying, ‘O Lord, I have sinned again, so forgive me.’ His Lord said, ‘Does My servant know that he has a Lord who forgives sins and punishes for them? I have forgiven My servant.’ Then the servant remained for as long as Allah willed before committing another sin and saying, ‘O Lord, I have sinned again, so forgive me.’ His Lord said, ‘Does My servant know that he has a Lord who forgives sins and punishes for them? I have forgiven My servant—let him do as he wills.’"
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ایک بندہ نے گناہ کیا اور پھر عرض کیا: اے میرے رب میں نے گناہ
کیا ہے اس کو بخش دیجئے تو رب العزت نے (فرشتوں سے) فرمایا: کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا
ایک رب ہے جو گناہ کو بخشتا ہے اور اس پر مواخذہ بھی کرتا ہے پس میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا پھر وہ
جب تک اللہ نے چاہا یعنی ایک عرصہ تک (اپنی توبہ پر) قائم رہا۔
پھر اس نے گناہ کیا اور عرض کیا: اے میرے رب! میں نے (پھر) گناہ کر لیا ہے اس کو بخش
دیجئے تو رب العزت نے (فرشتوں سے) فرمایا: کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو
گناہوں کو بخشتا ہے اور پھر اس پر مواخذہ بھی کرتا ہے، پس میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا پھر جب تک
اللہ نے چاہا یعنی ایک مدت تک اپنی توبہ پر قائم رہا۔ پھر گناہ کر دیا اور عرض کیا: اے میرے رب میں
نے گناہ کیا ہے آپ اس کو بخش دیجئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب
ہے۔ جو گناہ کو بخشتا ہے اور اس پر مواخذہ بھی کرتا ہے میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا، اب وہ جو چاہے
کرے (یعنی گناہ کے بعد توبہ کرے تو مغفرت ملے گی اور گناہ کے بعد توبہ نہ کرے تو مواخذہ ہوگا۔)
”اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Jundub (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) narrated: "A man said, ‘By Allah, Allah will never forgive so-and-so!’ Allah the Exalted said, ‘Who is this who swears by Me that I will not forgive so-and-so? I have forgiven so-and-so and nullified your deeds.’"
جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
بیان فرمایا ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ: خدا کی قسم اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے
فرمایا: وہ کون شخص ہے جو مجھ پر قسم کھاتا ہے کہ میں فلاں شخص کو نہیں بخشوں گا۔ میں نے تو اس کو بخش
دیا (تجھے ذلیل کرنے کے لئے۔ اور تیرے تکبر کی وجہ سے) تیرے اعمال ضائع کر دئے (کہ اعمال
کا ثواب نہیں ملے گا) اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There were two men among the Children of Israel who were brothers—one was devout in worship, and the other was a sinner. The devout one kept saying to the sinner, ‘Stop what you are doing!’ The sinner replied, ‘Leave me alone with my Lord!’ One day, the devout man found the sinner committing a major sin and said, ‘Stop!’ The sinner again said, ‘Leave me alone with my Lord! Were you sent as a watcher over me?’ The devout man said, ‘By Allah, Allah will never forgive you, nor will He admit you to Paradise.’ Allah took their souls, and they were brought before Him. He said to the sinner, ‘Enter Paradise by My mercy.’ Then He said to the devout man, ‘Can you withhold My mercy from My servant?’ The man said, ‘No, O Lord.’ Allah said, ‘Take him to the Fire.’"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بنی اسرائیل میں دو شخص آپس میں گہرے دوست تھے۔ ان میں
سے ایک عبادت میں مشقت اٹھاتا تھا اور دوسرا کہتا کہ میں تو گنہ گار ہوں۔ وہ (عابد گنہ گار سے) کہتا
کہ تو جس گناہ میں مبتلا ہے اس کو چھوڑ دے۔ تو گنہ گار کہتا کہ: تو مجھے میرے رب کے حوالہ کر دے۔
(وہ غفور رحیم ہے) یہاں تک کہ اس عابد نے اس گنہ گار کو ایک بڑا گناہ کرتے پایا تو اس سے کہا کہ
اس گناہ سے باز آ۔ تو اس (گنہ گار) نے پھر وہی کہا: مجھے میرے رب کے حوالہ کر دے۔ کیا تو مجھ پر
داروغہ بنا کر بھیجا گیا ہے؟ تو اس (عابد) نے جواب دیا کہ: قسم خدا کی اللہ تعالیٰ تجھے ہرگز نہیں بخشے گا
اور نہ تجھے جنت میں داخل کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے پاس (موت کے) فرشتوں کو
بھیجا تو اس نے ان دونوں کی روح قبض کر لی۔ پس وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوئے تو اللہ
تعالیٰ نے گنہ گار سے کہا: تو میری رحمت کے سبب سے جنت میں داخل ہو جا اور دوسرے سے فرمایا۔
کیا تو میرے گنہ گار بندہ کو میری رحمت سے محروم کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا:
نہیں اے میرے رب! تو اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں سے) فرمایا: اس کو دوزخ کی طرف لے جاؤ
(تاکہ وہ اپنے غرور کی سزا بھگتے)۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو یقین کے ساتھ دوزخی کہنا درست نہیں اس لئے کہ
نجات کا مدار خاتمہ پر ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کا خاتمہ بالخیر ہو۔ (حاشیہ مشکوۃ)
Shaddad ibn Aws (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best way to seek forgiveness is to say: ‘O Allah, You are my Lord; there is no god but You. You created me, and I am Your servant. I am faithful to my covenant and promise to You as much as I can. I seek refuge in You from the evil of what I have done. I acknowledge Your favors upon me, and I confess my sins. Forgive me, for none forgives sins except You.’ Whoever says this during the day with firm faith and dies before evening will be among the people of Paradise. And whoever says it at night with firm faith and dies before morning will be among the people of Paradise."
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ سید الاستغفار یعنی بہترین استغفار یہ ہے کہ تو اس طرح
کہے:
یا الٰہی تو ہی میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ
ہوں اور میں اپنی حسب استطاعت آپ کے عہد میثاق اور وعدہ (آخرت پر) قائم ہوں۔ میں اپنے
کئے ہوئے گناہوں کی برائی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں آپ کی جو نعمتیں مجھ پر ہیں۔ میں ان کا
اقرار کرتا ہوں اور میں اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں پس آپ مجھے بخش دیجئے اس وجہ سے
کہ آپ کے سوا گناہوں کا بخشنے والا کوئی نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس استغفار کو یقین کے ساتھ دن میں پڑھے
اور شام ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ جنتی ہے اور جو اس کو رات میں یقین کے ساتھ پڑھے اور صبح
ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ (بھی) جنتی ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Bilal ibn Yasar ibn Zayd, a freed slave of the Prophet (ﷺ), reported that his father narrated from his grandfather that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Whoever says, ‘I seek forgiveness from Allah, besides whom there is no god, the Ever-Living, the Sustainer of existence, and I repent to Him,’ will be forgiven, even if he fled from battle." [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawud]
(Note: In Abu Dawud’s version, it is narrated from Hilal ibn Yasar. Al-Hafiz Al-Mundhiri said: "Its chain is good and connected. Bukhari mentioned in his history that Bilal heard from his father Yasar, who heard from his father Zayd, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ).")
حضرت بلال بن یسار بن زید جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مولیٰ یعنی
آزاد کردہ غلام ہیں ان سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے میرے دادا سے
روایت کی ہے کہ میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو
(صدق دل سے) اس استغفار کو پڑھے: اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ
وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ۔ میں اللہ تعالیٰ سے (اپنے گناہوں کی) مغفرت چاہتا ہوں، وہ اللہ جس کے سوا کوئی
معبود نہیں جو زندہ جاوید ہے اور (ساری کائنات کو) سنبھالنے والا ہے اور اسی کی طرف رجوع ہوتا
ہوں)۔ تو اس کی بخشش کر دی جاتی ہے اگرچیکہ وہ (میدان) جہاد سے بھاگا ہوا ہو (جو گناہ کبیرہ
ہے)۔
اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔ اور ابوداؤد کی روایت بلال بن یسار کے بجائے
ہلال بن یسار سے ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever consistently seeks forgiveness, Allah will grant him relief from every distress, a way out from every hardship, and provide for him from sources he could never imagine."
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو شخص (گناہ کے بعد یا کسی مصیبت میں) استغفار کو پڑھے (یا استغفار
پر مداومت کرے) تو اللہ تعالیٰ اس کو ہر تنگی سے نجات دیں گے۔ اور ہر غم سے چھٹکارہ دیں گے۔ اور
اس کو ایسی جگہ سے حلال روزی دیں گے جس کا اس کو گمان بھی نہ ہو۔
اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah the Exalted raises the rank of a righteous servant in Paradise, and the servant asks, ‘O Lord, how did I attain this?’ Allah replies, ‘Through your child’s seeking forgiveness for you.’"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بے شک اللہ بزرگ اور برتر نیک بندہ کے درجہ کو جنت میں بلند فرماتے
ہیں تو وہ بندہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے: اے میرے پروردگار! یہ درجہ مجھے کیوں کر ملا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں
گے: تیری اولاد کے تیرے لئے استغفار کرنے کی وجہ سے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Abdullah ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The deceased in the grave is like a drowning person, waiting for a supplication to reach him from his father, mother, brother, or friend. When it reaches him, it is dearer to him than the world and all it contains. Indeed, Allah sends down upon the inhabitants of the graves gifts from the supplications of the living like mountains. The best gift the living can give to the dead is to seek forgiveness for them."
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: مردہ قبر میں ڈوبنے والے فریادی کی طرح ہے جو
اپنے باپ، ماں، بھائی یا کسی دوست کی دعاؤں کا منتظر ہو۔ اور جب یہ دعا اس کو پہنچتی ہے تو یہ دعا
اس کے پاس دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ یقیناً زمین والوں کی دعاؤں کی وجہ
سے اہل قبور کو پہاڑوں جیسا ثواب پہنچاتا ہے یعنی (بے شمار رحمتیں ان پر نازل فرماتا ہے) اور بے
شک زندوں کا مردوں کے لئے تحفہ ان کے لئے استغفار کرنا ہے۔
اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Abdullah ibn Busr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Blessed is the one who finds abundant seeking of forgiveness in his record."
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: خوش حالی ہے اس شخص کے لئے جو اپنے نامہ اعمال
میں زیادہ استغفار پائے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور نسائی نے اس کی روایت ”عَمَلُ
الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ“ میں کی ہے۔
Abu Bakr As-Siddiq (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no sin too great for one who seeks forgiveness, even if he repeats it seventy times a day."
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ شخص (گناہ پر) اصرار کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا
جو (گناہ کے بعد) استغفار کرتا ہوگا اگرچہ کہ وہ دن میں 70 مرتبہ ایسا کرے۔
اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1514 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3559 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہوں پر اصرار کرنے والا وہ شخص ہے جو
استغفار نہ کرے اور اپنی بداعمالیوں پر شرمسار نہ ہو۔ واضح ہو کہ گناہوں پر اصرار برا ہے کیونکہ گناہ صغیرہ
اصرار سے کبیرہ ہوتا ہے اور کبیرہ پر اصرار کفر تک پہنچا دیتا ہے اسی لئے ارشاد ہوا ہے کہ جو کوئی استغفار
کرتا ہو۔ اور شرمندہ ہو گناہوں پر خواہ گناہ صغیرہ ہو یا کبیرہ ہو وہ گناہوں پر اصرار کرنے والا نہیں ہوگا۔
(حاشیہ مشکوٰة)۔
Aisha (may Allah be pleased with her) reported that the Prophet (ﷺ) used to say: "O Allah, make me among those who, when they do good, rejoice, and when they do wrong, seek forgiveness."
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ دعا بھی فرمایا کرتے تھے):
الٰہی مجھے ان لوگوں میں کر دے کہ وہ جب نیکی کریں تو خوش ہوں اور جب کوئی برائی کریں تو
استغفار کریں۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور بیہقی نے بھی دعوات کبیر میں کی ہے۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O people, repent to Allah, for I repent to Him a hundred times a day."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے لوگو! اللہ کی طرف توبہ کیا کرو میں خود بھی دن میں سو
(100) بار اللہ کی طرف توبہ کیا کرتا ہوں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Sa’id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Among the Children of Israel was a man who killed ninety-nine people. Then he went out seeking repentance and came to a monk, asking, ‘Is there any repentance for me?’ The monk said, ‘No,’ so the man killed him, completing his hundredth murder. He continued searching until a man told him, ‘Go to such-and-such town.’ Death overtook him on the way, so he turned his chest toward the town. The angels of mercy and the angels of punishment disputed over him. Allah commanded the town to draw nearer and the other to move away, then said, ‘Measure the distance between them.’ He was found to be a handspan closer to the town of repentance, so he was forgiven."
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے (99) انسانوں
کو قتل کیا تھا پھر (اپنی توبہ کی قبولیت کے بارے میں لوگوں سے) پوچھتے ہوئے نکلا۔ یہاں تک کہ
ایک راہب کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا کہ: کیا ایسے شخص کی توبہ قبول ہوسکتی ہے (جس نے
ننانوے قتل کئے ہوں) اس نے جواب دیا نہیں۔ تو اس شخص نے اس (راہب) کو قتل کردیا پھر اپنی
توبہ کی قبولیت کے بارے میں پوچھنے لگا تو ایک آدمی نے اس سے کہا: تُو فلاں بستی میں چلا جا
(جہاں نیک لوگوں کی کثرت ہے وہ اس بستی کی طرف چل پڑا۔ اور راستہ میں) اس کو موت آگئی۔ تو
اس نے مرتے وقت اپنے سینہ کو اس بستی کی طرف جھکایا۔ تو رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے
اس بارے میں جھگڑنے لگے (کہ کون اس کی روح کو لے جائے) اور اللہ تعالیٰ نے (اس بستی والی)
زمین کو (جس کی طرف وہ جا رہا تھا) وحی نازل فرمائی کہ تُو قریب ہوجا اور (دوسری بستی کو وحی فرمائی
کہ تو دور ہوجا (فرشتوں سے) فرمایا کہ: تم دونوں بستیوں کے فاصلہ کو ناپو تو یہ بستی جس میں نیک لوگ
تھے ایک بالشت قریب نکلی اور اس کی بخشش کردی گئی۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3470 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2766a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں ایک یہ کہ گناہ کبیرہ کے بعد توبہ قبول
ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ جس جگہ گناہ کیا ہو وہاں سے ہجرت کرنا مستحب ہے۔ اور تیسرے یہ کہ مدعا
اور مدعا علیہ کا ⟦?⟧ درست ہے۔ چوتھے یہ کہ رحمت الٰہی کی کوئی حد نہیں۔ ادھر بندہ نے خالص دل
سے توبہ کی اور ادھر دریائے رحمت و مغفرت جوش میں آئی۔ (حاشیہ مشکاۃ)۔
Aisha (may Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a servant acknowledges his sin and repents, Allah accepts his repentance."
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بندہ جب (گناہوں کا) اعتراف کرتا ہے اور
پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتے ہیں۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah the Exalted says: ‘Whoever knows that I have the power to forgive sins and seeks My forgiveness, I will forgive him, and I do not mind, as long as he does not associate anything with Me.’"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس شخص کو اس بات کا یقین
ہو کہ میں گناہوں کو بخشنے پر قدرت رکھتا ہوں تو میں اس کو بخش دیتا ہوں۔ اور مجھے کسی کی پرواہ نہیں
جب تک کہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔
اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah extends His hand at night so that the sinners of the day may repent, and He extends His hand during the day so that the sinners of the night may repent—until the sun rises from the west."
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ رات کے وقت اپنی رحمت کا
ہاتھ پھیلا دیتے ہیں تاکہ رات کا گناہ گار دن میں توبہ کرلے (بخشش کا یہ سلسلہ) سورج کے مغرب
سے نکلنے (یعنی قیامت) تک جاری رہے گا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever repents before the sun rises from the west, Allah will accept his repentance."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو شخص آفتاب کے مغرب سے نکلنے سے پہلے تک توبہ کرلے
تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Safwan ibn Assal (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah the Exalted has placed a gate in the west, the width of seventy years’ journey, for repentance. It will not be closed until the sun rises from its direction. That is the meaning of Allah’s words: ‘The day when some of the signs of your Lord will come, no soul will benefit from its faith if it had not believed before.’ (Al-An’am 6:158)"
صفوان بن عسّال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مغرب کی طرف توبہ کا ایک دروازہ بنایا ہے
(جو کھلا ہوا ہے) جس کو چوڑائی 70 برس کی مسافت ہے اور وہ آفتاب کے مغرب سے طلوع ہونے
تک بند نہیں کیا جائے گا۔ اور یہ معنی آفتاب کا طلوع ہونا قبولیت توبہ کو روکنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے
اس قول کے مطابق ہے (سورۃ انعام، آیت نمبر:158، میں) ”يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ
لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ“، جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے
گی کسی شخص کو ایمان لانا نفع نہ دے گا جو اس (نشانی کے ظاہر ہونے سے پہلے ایمان نہ لایا)۔
اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Mu’awiya (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Migration (Hijrah) will not cease until repentance ceases, and repentance will not cease until the sun rises from the west."
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ہجرت (یعنی کفر سے ایمان کی طرف اور دارکفر سے دارالاسلام کی
طرف اور گناہوں سے توبہ کی طرف آنا) توبہ کے منقطع ہونے تک بند نہیں ہوگی۔ اور توبہ (کا
دروازہ) بند نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ آفتاب اپنے مغرب سے طلوع کرے۔
اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 2479 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Migration will not cease...
(1) The statement: "Migration will not cease..." In At-Tafsirat Al-Ahmadiyyah, it is said: "In the early days of Islam, migration was obligatory, whether one could practice his religion or not. There is no doubt that this was later abrogated. In this era, if one cannot practice his religion due to oppression or disbelief, migration becomes obligatory—and this is the correct view."
Note 1
قوله
(۱)قوله : لا تنقطع الهجرة إلخ : وقال في التفسيرات الأحمدية: إن في بدء الإسلام كانت الهجرة البتة واجبة، سواء قدر على إقامة دينه أو لا، ولا شك في نسخه، وفي هذا الزمان أن لم يتمكن من إقامة دينه بسبب أيدي الظلمة أو الكفرة يفرض عليه الهجرة، وهو الحق.
Note 1
ف: واضح ہو کہ حدیث شریف میں توبہ کے منقطع ہونے سے توبہ کا قبول ہونا مراد ہے غرض یہ
ہے کہ جب تک آفتاب مغرب سے نہیں نکلتا۔ بندہ توبہ کر کے پاک ہوسکتا ہے اور جب آفتاب مغرب
سے نکلا تو پھر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ (از حاشیہ مشکوٰۃ:12)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں استغفار اور توبہ کی ترغیب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم ہونے کے باوجود دن میں ستر (70) بار سے زائد استغفار فرمائیں تو ہم گنہ گاروں کو بطریق اولیٰ استغفار اور توبہ کرتے رہنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن دو چیزوں کی وجہ سے تھا ایک کو تو اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا ہے تم کو چاہیے کہ دوسرے کو مضبوطی کے ساتھ اختیار کریں۔ ایک امن جو اٹھا لیا گیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ اور جو امن باقی ہے وہ استغفار ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۂ انفال، آیت نمبر:33، میں) ”وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ، وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ“ (اللہ تعالیٰ ایسا نہ کریں گے کہ (اے نبی!) آپ کے ان میں ہوتے ہوئے ان کو عذاب میں مبتلا کریں اور ایسا بھی نہ کریں گے کہ ان کو عذاب دیں اس حالت میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استغفار فرمانے کا جو ذکر ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ: حضور کا یہ استغفار امت کی طرف سے ہوا کرتا تھا جو امت کے حق میں آپ کی جانب سے بطور سے شفاعت کے تھا۔12