اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3628
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور (میدان
عرفات میں) جمع ہونے والوں پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں (اے
فرشتو!) تم میرے بندوں کو دیکھو کہ وہ میری بارگاہ میں پراگندہ بال، گرد آلود چہروں میں دور دراز،
تنگ اور کشادہ راستوں سے چل کر (یہاں) حاضر ہیں اور تہلیل، تسبیح، ذکر اور تلبیہ کرتے ہوئے) مجھے
پکار رہے ہیں (اے فرشتو!) تم گواہ رہو، میں نے ان سب کو بخش دیا (یہ سن کر) فرشتے عرض کرتے
ہیں پروردگار! ان میں فلاں مرد اور فلاں عورت بھی ہے جو گنہگار ہے اور متہم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ (یہ سن کر) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں (سنو!) میں نے (نیکیوں کے ساتھ)
ان کو بھی بخش دیا (یہ فرما کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی اور دن دوزخ سے
اتنے بندوں کو رہائی نہیں ملتی جتنے بندوں کو عرفہ کے دن دوزخ سے) رہائی ملتی ہے۔ اس کی روایت
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) "I have forgiven them" - Hajj wipes away previous sins. (Al-Maraqi) We will discuss this further when commenting on Ibn Majah's narration.
Note 1
(۱)قوله : قد غفرت لهم فإن الحج يهدم ما كان قبله. كذا في «المرقاة»، وسنذكر تحقيقه في حديث ابن ماجه.
Note 1
شرح السنہ میں کی ہے۔