English
Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) reported that a man said to the Prophet (ﷺ), “I am deceived in sales.” He replied, “When you engage in a sale, say, ‘No deception,’” and the man did so. [Agreed upon]
Muhammad (may Allah have mercy on him) said, “We consider this specific to that man.”
At-Tirmidhi narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that a man with limited understanding engaged in trade. His family asked the Prophet (ﷺ) to restrain him, but he permitted him to trade while saying, “Take it, no deception.”
Ibn Majah narrated with a hasan chain from Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) that a man complained of being deceived. The Prophet (ﷺ) said, “Say, ‘No deception,’ and you have the option for three nights.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢٤٦ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما)قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ ﷺ: «إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ». فَقَالَ: «إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُولُهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَقَالَ مُحَمَّدٌ : نَرَى1أَنَّ هَذَا كَانَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ خَاصَّةً.
وَقَدْ رَوَى التَّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيْثِ أَنَسٍ الله أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، وَكَانَ يُبَايِعُ، وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوُا النَّبِيَّ ﷺ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ﷺ احْجُرْ2 عَلَيْهِ، فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ فَنَهَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِﷺ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: «إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ هَاءَ وَلَا خِلَابَةَ. وَرَوَاهُ بَقِيَّةُ أَصْحَابِ السُّنَنِ.
وَرَوَى ابْنُ مَاجَه بِسَنَدٍ جَيْدٍ حَسَنٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ما قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يَشْكُرْ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوْعِ، فَقَالَ: «إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ، ثُمَّ أَنْتَ بِالْخِيَارِ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا ثَلَاثَ لَيَالٍ3. وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهِ بِسَنَدٍ صَحِيحٍ. وَرَوَى ابْن أَبِي شَيْبَةَ وَالدَّارَقُطْنِي وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ نَحْوَهُ.
اردو
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے نبی کریم
ﷺ سے عرض کیا کہ خرید و فروخت میں دھوکا کھا جاتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خرید
و فروخت کے وقت تم یہ کہہ دیا کرو: کیا اس میں دھوکہ تو نہیں ہے (کہ اگر دھوکا ہوگا تو میں معاملہ کو فسخ
کر دوں گا) تو وہ صحابی خرید و فروخت کے وقت ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس کی روایت بخاری اور
مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور امام محمد رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ان صحابی کو خرید و فروخت میں
نقصان کی صورت میں اختیار دینا ان کے لئے خصوصی حکم تھا اور شارع کو اس بات کا اختیار تھا کہ
جس کو چاہیں جس چیز سے خاص فرما دیں۔ اھ
اور ترمذی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اس طرح روایت کی
ہے کہ ایک صحابی کاروبار میں کمزور تھے اس کے باوجود وہ برابر خرید و فروخت کیا کرتے تو ان کے گھر
والے نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیے یا رسول اللہ (ﷺ) ان کو کاروبار
کرنے سے روک دیجئے حضور ﷺ نے ان کو بلایا اور کاروبار سے منع فرمایا: تو انہوں نے عرض کیا
یا رسول اللہ ﷺ مجھے کاروبار کے بغیر چین نہیں پڑتا تو (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
(اچھا تو ایسی صورت میں) تم خرید و فروخت کے موقع پر یہ کہا کرو: کیا اس میں دھوکہ تو نہیں اس کی
روایت چاروں اصحاب سنن (یعنی ابوداود۔ ترمذی۔ ابن ماجہ اور نسائی) نے کی ہے۔
اور ابن ماجہ نے جید اور حسن سند کے ساتھ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے
روایت کی ہے:
حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ ایک انصاری کو نبی کریم ﷺ سے یہ شکایت کرتے ہوئے سنا
کہ ان کو خرید و فروخت میں اکثر دھوکہ ہو جایا کرتا ہے تو (یہ سن کر) حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا کہ جب تم خرید و فروخت کیا کرو تو یوں کہا کرو: کیا اس میں دھوکہ تو نہیں پھر تم کو ہر خرید و
فروخت کے معاملہ میں اختیار تین راتوں تک ہے۔ (اس مدت کے اندرون چاہو تو معاملہ کو رد کردو)
اس کی روایت بیہقی نے کی ہے اور بخاری نے اس کی روایت اپنی تاریخ میں صحیح سند سے کی ہے اور
ابن ابی شیبہ، دارقطنی اور عبدالرزاق نے بھی اسی کے قریب قریب روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2117 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1533 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) The statement "We consider this specific": Some scholars restrict this ruling to that man, while others extend it to cases of significant fraud (At-Ta‘liq al-Mumajjad).
Note 2
(2) The statement "restrain him": Used by some to justify guardianship over the incompetent, but Abu Hanifah argued against it, as the Prophet (ﷺ) allowed the man to trade with conditions (‘Umdat al-Qari’).
Note 3
(3) The statement "three nights": Abu Hanifah, Ash-Shafi‘i, and Zufar limited the option to three days, based on this hadith and analogy to other rulings (‘Umdat al-Qari’).
Note 1
(۱) قوله : نرى : أي نظن أن هذا الحكم خاص به، وللنبي الله أن يخص من شاء بما شاء. قال النووي: اختلف العلماء في هذا الحديث، فجعله بعضهم . خاصا به وإنه لا خيار بغبن، وهو الصحيح، وعليه الشافعي وأبو حنفية ، وقيل : للمغبون الخيار لهذا الحديث بشرط أن يبلغ الغبن ثلث القيمة. كذا في «التعليق الممجد».
Note 2
(۲) قوله : أحجر عليه إلخ استدل به الشافعي وأحمد وإسحاق على حجر السفيه الذي لا يُحسن التصرف، ووجه ذلك أنه لما طلب أهله إلى النبي الله الحجر عليه دعاه، فنهاه عن البيع، وهذا هو الحجر، وهو المنع. قلنا: هذا نهي خاص به لضعف عقله، ولا يسري هذا في الحجر على الحر العاقل البالغ ؛ لأن في حقه إهدار الآدمية، وبه استدل أبو حنيفة لله إلى أن ضعيف العقل لا يحجر عليه؛ لأنه لما قال له: إنه لا يصبر على البيع أذن له فيه بالصفة التي ذكرها، فهذا دال على عدم الحجر، عمدة القاري ملتقط منه.
Note 3
(۳)قوله: ثلاث ليال: قال أبو حنيفة والشافعي وزفر : الخيار في البيع ثلاثة أيام، ولا يجوز الزيادة عليها، فإن زاد فسد البيع، واستدلوا به عليه لأنه حكم ورد على خلاف الأصل، فيقتصر على أقصى ما ورد فيه، ويؤيده جعل الخيار في المصراة ثلاثة أيام، واعتبار الثلاث في غير موضع، عمدة القاري» ملتقط منه.
Note 1
ف: واضح ہو کہ امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام زفر رحمہم اللہ کے پاس خیار بیع کی مدت تین دن ہے اور اگر اس سے زیادہ ہو جائے تو بیع فاسد ہو جائے گی۔ عمدۃ القاری۔