Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3256

Chapter: Riba (Usury/Interest)

In this book

Current reading

Sales

Chapter: Riba (Usury/Interest)

Zujajat al-Masabih 3256Volume 2

English

Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) said, "The last verse revealed was about riba, and the Prophet (ﷺ) passed away before explaining it fully. So avoid riba and doubtful transactions."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٥٦ - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ (رضي الله عنه)إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَتْ آيَةُ الرِّبَا، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا لَنَا، فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالدَّرِامِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3872
امیر المؤمنین حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آخری آیت (جو معاملات کے بارے میں) نازل ہوئی وہ سود (کی حرمت) کی آیت ہے اور رسول اللہ ﷺ (دنیا سے) پردہ فرمائے اور (آیت مذکورہ کے حکم اور واضح ہونے سے مزید) تفصیل نہیں فرمائے، تو تم سود کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کو بھی چھوڑ دو جن میں سود کا شبہ ہے۔ اس کی روایت ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 2276 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے چھ چیزوں یعنی سونا، چاندی، گیہوں، نمک، کھجور اور جو میں سود کی وضاحت فرما دی اور فقہائے امت نے قیاس سے ان چھ چیزوں کے علاوہ اور چیزوں میں بھی سود کو ثابت کیا ہے اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ احتیاط کو نظر رکھتے ہوئے فقہاء نے جن چیزوں میں سود کو ثابت کیا ہے ان سے بھی بچنا چاہئے۔ توضیح: ذیل میں سودی معاملات کے بارے میں چند احادیث آ رہی ہیں ان کو سمجھنے کے لئے اس توضیح کو پیش نظر رکھا جائے، ورنہ ذرا سی بے احتیاطی سے بھی معاملہ سودی ہو جائے گا۔ ان حدیثوں میں جہاں کہیں ایک جنس کو اسی جنس سے بدلنے کا ذکر آ رہا ہے وہاں اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ہم جنس اشیاء کی تبدیلی میں 1۔ کمی بیشی نہ کی جائے 2۔ معاملہ نقد ہو۔ 3۔ چیزوں کا دست بدست تبادلہ ہو۔ اور اگر ان تین صورتوں میں سے ایک صورت بھی نہ پائی جائے تو معاملہ سودی ہو جائے گا جیسے سونے کو سونے سے یا چاندی کو چاندی سے بدلنے کا جہاں ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ سونے کو اشرفی سے اور چاندی کو چاندی کے سکے سے یا سونے کے زیور کو سونے سے یا چاندی کے زیور کو چاندی سے خریدا یا بیچا جا سکتا ہے بشرطیکہ مذکورہ بالا تینوں صورتیں (ہم وزن ہونا، دست بدست ہونا اور معاملہ نقد ہونا) پائی جا رہی ہوں ورنہ معاملہ سودی ہو جائے گا۔ اسی طرح اجناس کے تبادلہ کا حال ہوگا۔ اس کی تفصیل ذیل کی احادیث میں آ رہی ہے۔