English
Ubadah ibn as-Samit (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said, "Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt—like for like, equal for equal, hand to hand. If the commodities differ, sell as you wish, provided it is hand to hand." [Muslim]
Ash-Shafi‘i’s version adds: "Do not sell gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, or salt for salt unless equal and hand to hand. But sell gold for silver and wheat for barley hand to hand as you wish."
Another narration specifies: "Gold must be weighed, silver weighed, wheat measured, barley measured."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢٥٧ - وَعَنْ عُبَادَةِ بْنِ الصَّامِتِ (رضي الله عنه)قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «الذَّهَبُ1 بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلًا2 بِمِثْلٍ، سَوَاءً بِسَوَاءٍ، يَدًا بِيَدِ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوْا كَيْفَ شِئْتُمْ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ عَنْهُ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «لَا تَبِيْعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيْرِ، وَلَا التَّمَرَ بِالتَّمَرِ، وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، عَيْنًا3 بِعَيْنِ، يَدًا بِيَدِ، وَلَكِنْ بِيْعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ، وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِيْرِ، وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ، وَالثَّمَرَ بِالْمِلْحِ، وَالْمِلْحَ بِالتَّمَرِ، يَدًا بِيَدِ، كَيْفَ شِئْتُمْ.
وَفِي رِوَايَةِ الصَّحَاوِي عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَنْعَانِي: أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ أَنَّهُ حَدَّثَعَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ يُوْزَن، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنَا4 بِوَزْنٍ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ كَيْلًا بِكَيْلٍ، وَالشَّعِيْرُ بِالشَّعِيْرِ، وَلَا بَأْسَ بِبِيْعِ الشَّعِيْرِ بِالتَّمَرِ، وَالتَّمَرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدِ، وَالثَّمَرُ بِالثَّمَرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى». وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي حَنِيفَةَ نَحْوُهُ.
وَفِي5 رِوَايَةِ الدَّارَ قُطْنِي وَالْبَزَّارِ عَنْ عُبَادَةَ وَأَنَسٍ مَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: كُلُّ مَا يُوزَنُ6 مِثْلُ بِمِثْلٍ إِذَا كَانَ مِنْ نَوْعٍ، وَمَا يُكَالُ مِثْلَهُ، وَإِذَا اخْتَلَفَ التَّوْعَانِ فَلَا بَأْسَ بِهِ».
اردو
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
ﷺ ارشاد فرماتے ہیں (کہ کاروبار میں سود سے بچنے کے لئے تم کو چاہئے کہ) سونے کو سونے
کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گیہوں کو گیہوں کے بدلے، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور
کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے (اس طرح سے بیچا کرو کہ یہ) (جنس میں) ایک ہوں اور
(وزن میں) برابر ہوں اور (معاملہ) دست بدست ہو (ادھار نہ ہو) البتہ اگر ان میں جنس بدل
جائے (یعنی چاندی کے بدلے سونا یا گیہوں کے بدلے جو) تو تم کو اختیار ہے کہ جس طرح چاہو
خرید و فروخت کرو بشرطیکہ (معاملہ) دست بدست ہو (اور ادھار نہ ہو اور ایسی صورت میں ان کا ہم
وزن ہونا یا برابر برابر ہونا ضروری نہیں)۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ ہی
سے اس طرح مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سونے کو سونے کے بدلے چاندی
کو چاندی کے بدلے، گیہوں کو گیہوں کے بدلے، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، اور نمک کو
نمک کے بدلے بیچا نہ جائے مگر یہ کہ یہ چیزیں برابر برابر ہوں، جنس ایک ہو اور (معاملہ) دست
بدست ہو اور لیکن سونے کو چاندی کے بدلے اور چاندی کو سونے کے بدلے اور گیہوں کو جو کے بدلے اور
جو کو گیہوں کے بدلے اور کھجور کو نمک کے بدلے اور نمک کو کھجور کے بدلے جیسا چاہو بیچ سکتے ہو جب کہ ان
میں (معاملہ) دست بدست ہو۔
امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ابوالاشعث صنعانی رحمۃ اللہ علیہ سے
اسی طرح مروی ہے کہ وہ حضرت عبادۃ رضی اللہ عنہ کے خطبہ کے موقع پر حاضر تھے جس میں حضرت
عبادۃ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث اس طرح سنائی کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ
سونے کو سونے کے بدلے میں بیچنا اس وقت درست ہوگا جب کہ) وہ وزن میں برابر ہوں (اسی
طرح) چاندی کو چاندی کے بدلے میں بیچنا اس وقت درست ہوگا جب کہ) وہ وزن میں برابر ہوں
اور گیہوں کو گیہوں بدلے (اس وقت درست ہوگا جب کہ) وہ ناپ میں برابر ہوں اور (اسی طرح)
جو کو جو کے بدلے بیچنا جائز ہے جب کہ وہ ناپ میں برابر ہوں) اس کے برخلاف (مثلاً) جو کو کھجور
سے بیچنے میں کوئی حرج نہیں جب کہ کھجور (وزن میں) زیادہ ہوں اور جبکہ یہ معاملہ دست بہ دست
ہو رہا ہو، اور اگر (ایسا نہ ہو بلکہ) کسی نے (فروخت کے وقت مثلاً) کھجور کو کھجور کے بدلے نمک کو
نمک کے بدلے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سودی معاملہ کیا اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی روایت
میں بھی اسی طرح مروی ہے۔
اور دارقطنی اور بزار کی ایک روایت حضرت عبادہ اور حضرت انس رضی اللہ
عنہ سے اس طرح مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ چیزیں جب ایک جنس ہوں اور
ان کو ایک دوسرے سے بدلنا ہو تو وزن برابر برابر ہونا چاہئے اور اسی طرح ناپ میں بھی برابر برابر
ہونا چاہئے (اگر وہ چیزیں ناپ کر بیچی جاتی ہوں) البتہ اگر جنس بدل جائے تو (خرید) ان کا ہم وزن
یا ناپ میں برابر برابر ہونا ضروری نہیں اس لئے ایسی خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1587c (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (10)
Note 1
(1) The statement "Gold for gold…": Scholars agree these six items are prohibited for riba al-fadl (excess in exchange) and riba an-nasi’ah (deferment).
Note 2
(2) "Like for like, hand to hand": Exact equivalence in weight/volume for the same genus. Immediate exchange (no deferment).
Note 3
(3) "If the commodities differ": Different genera (e.g., gold for wheat) can be traded unevenly, but deferment remains prohibited.
Note 1
(۱) قوله : الذهب بالذهب إلخ : اعلم أنه ذكر الأشياء الستة، والحديث مشهور يجوز به الزيادة على الكتاب، وظن بعض العلماء أنه متواتر، وقال الجصاص: هذا الحديث يقرب من التواتر لكثرة رواته، والنص معلول بإجماع القائمين خلافا للظاهرية، فإنهم يقصرون الحكم على ما ورد به النص نفيًا للقياس، وهو مردود ببراهين حجة القياس، ثم اختلف الأئمة في علة حرمة الربا، فمذهب أبي حنيفة له القدر والجنس، أي كون العوضين مما يكال أو يوزن، ومتماثلين في الجنس لا في النوع والصفة، فاستبدال قليل الجيد بكثير الردي ربا، والجيد والردي سواء، ومذهب الشافعي له الطعم في الأربعة والثمنية في الحجرين، ومذهب مالك يالله الاقتيات والادخار، ومذهب عبد الملك بن الماجشون الله الانتفاع، والأرجح الأقيس الأقرط إلى معنى النص بظاهره مذهب أبي حنيفة الله، كما بسطوه في الفقه، كيف وقد نقل عن الدار قطني والبزار أنهما أخرجا عن عبادة وأنس ما أن النبي ﷺ قال: كل ما يوزن مثل بمثل إلخ. كذا في تنسيق النظام».
Note 2
(۲) قوله: مثلا بمثل سواء بسواء يدا بيد المراد بالأول المماثلة بالوزن والكيل، وبالثاني اتحاد مجلس تقابض العوضين بشرط عدم افتراق الأبدان، وبالثالث الحلول لا النسيئة. كذا في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله: عينا بعين: عقد الصرف ما وقع على جنس الإثمان يعتبر فيه قبض عوضيه في المجلس، وما سواه مما فيه الربا يعتبر فيه التعيين، ولا يعتبر فيه التقابض خلافا للشافعي له في بيع الطعام بالطعام، ولنا قوله : «عينا بعين»، فإن قيل: بعين هذا اللفظ أريد القبض في الصرف حتى لو افترقا قبل القبض بطل الصرف، فكيف يجوز أن يراد به التعيين في بيع الطعام؟ قلنا : بل أريد التعيين فيهما إلا أن التعيين في الصرف لا يكون إلا بالقبض، فاشتراط القبض للتعيين لا لعينه، فلم يختلف المراد، الهداية» و«الكفاية» ملتقط منهما.
Note 4
(٤) قوله: وزنا بوزن إلخ في قوله: «وزنا بوزن وقوله: «كيلا بكيل وقوله: «مثلا بمثل دلالة ظاهرة لتعليل أبي حنيفة بالله الحرمة الربا بالمماثلة مع الكيل أو الوزن ويعبر عنه بالقدر والجنس، كما حقق في الفقه. كذا في تنسيق النظام».
Note 5
(٥)قوله : وفي رواية الدار قطني والبزار وفي سندهما ربيع بن صبيح فقد وثقه أبو زرعة، وقال الرامهزي: هو أولى من صنف الكتب بالبصرة، فهو من المرتبة الخامسة، وأحاديث السادسة مقبولة لا تترك. قاله في تنسيق النظام».
Note 6
(٦)قوله : كل ما يوزن إلخ : هذا أصرح وأنص وأدل ما علل به أبو حنيفة . كذا في «تنسيق النظام».
Note 1
ف: واضح ہو کہ سود کی حرمت کے بارے میں آئمہ کرام رحمہم اللہ کے مختلف اقوال ہیں۔ امام اعظم کے پاس سود کی حرمت کی علت قدر (یعنی وزن یا ناپ) اور جنس (یعنی سونے کے بدلے سونا) ہے یعنی وہ دو چیزیں جن کو ایک دوسرے سے بدلا جا رہا ہو وہ ناپ تول کی چیز ہوتی ہے ایسی صورت میں اچھی اور کم مقدار چیز کو اسی جنس کی ردی اور زیادہ مقدار میں بدل لینا سود ہوگا۔ اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مذہب سود کی حرمت کے بارے میں جو حدیثیں وارد ہیں ان کے مفہوم سے زیادہ مطابق ہے جیسا کہ تنسیق النظام میں مذکور ہے۔