Jabir (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) cursed the consumer of riba, the payer of riba, the scribe who records it, and the witnesses to it, saying, "They are all alike in sin."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود
لینے والے پر لعنت فرمائی ہے (کہ یہ لوگوں کو قرض دے کر سود لیتے ہیں) اور سود دینے والے پر اور
(سود کی دستاویز) لکھنے والے پر اور گواہوں پر بھی لعنت فرمائی ہے (یہ حرام فعل کے ارتکاب پر
اعانت اور امداد کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: کہ یہ سب (یعنی سود) کا لینے
والا اور دینے والا گواہی دینے والا اور دستاویز لکھنے والا (گناہ کے ارتکاب میں) برابر ہیں۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Chapter-heading commentary
Allah has permitted trade and forbidden usury
(1) The statement "Allah has permitted trade and forbidden usury": The essence is that trade is an exchange of wealth for wealth, while riba linguistically means "increase." Trade is legislated for profit, but the Hadith clarified the prohibition: "Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt—like for like, hand to hand. Any excess is riba." The Prophet (ﷺ) specified these six items, and scholars deduced the prohibition applies when:
The goods are of the same genus.
They are measured by weight or volume.
Exchanged hand-to-hand (not deferred).
Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) held the prohibition applies to measurable quantities of the same genus. Ash-Shafi‘i (may Allah have mercy on him) restricted it to edibles and monetary items. Malik (may Allah have mercy on him) linked it to staple foods and storable commodities.
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله : وأحل الله البيع وحرم الربا وتحقيق هذا المقام أن البيع مبادلة مال بمال والربا في اللغة هو الزيادة، والبيع إنما شرع لأجل الربح والزيادة، فكان مجملا ازدحمت فيه المعاني، واشتبهه أنه أي زيادة حرمت فلحقه الحديث بيانا له، وهو قوله عليلة الحنطة بالحنطة والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح والذهب بالذهب والفضة بالفضة مثلا بمثل يدا بيد والفضل ربا، فالرسول عليه نص على هذه الأشياء، فوقع الاشتباه فيما وراءها، فتأملنا في علة حرمة هذه الأشياء، فوجدنا أنه إذا كان الجنس متحدا كما يعلم بالمقابلة كان القدر كيلا أو وزنا كما يعلم بالمماثلة، ويكون يدا بيد يكون الفضل في هذه الحالة ربا، يعني إذا بيع بالحنطة أو الذهب، ويكون أحدهما زائدا في الكيل أو الوزن يكون ذلك ربا حراما له، فوجدنا الأرز وأمثاله مثلا متساوية في هذا المعنى.
فيكون الفضل فيها أيضًا حراما، وكذلك حكمنا بحرمة التفاضل في الجص والنورة؛ لأجل تلك العلة أي القدر مع الجنس، والشافعي الله قال: إن العلة في هذه الحرمة هو الطعم كما في الأربعة، والثمنية كما في الثمنين، فيكون التفاضل في الجص والنورة حلالا ؛ لأن هذه العلة مفقودة فيهما، ومالك قال: إن العلة في هذه الحرمة هو الاقتيات كما في الأربعة، والادخار في الأخيرين، فالتفاضل في اللحم الفاسد والسمك الفاسد يكون حلالا؛ لأنهما ليسا مما يقتات ويدخر، كما في التفسيرات الأحمدية».
Ali (may Allah be pleased with him) heard the Prophet (ﷺ) curse the consumer of riba, the payer of riba, the scribe, and the withholder of charity. He also forbade wailing.
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے نبی
کریم ﷺ سے سنا ہے کہ آپ سود کے لینے والے پر، سود کے دینے والے پر اور سود کی دستاویز لکھنے
والے (اور حساب جوڑنے والے پر) اور زکوٰۃ نہ دینے والے اور زکوٰۃ دینے والے کو منع کرنے
والے پر لعنت فرمائی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے (مرنے والے پر) نوحہ کرنے سے (یعنی چیخ و پکار
کرنے اور بیان کر کے رونے سے) منع فرمایا ہے۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said, "A time will come upon people when no one will remain except that they consume riba. If one does not consume it directly, its dust will reach them."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا (غفلت
اور لا پرواہی کی وجہ سے) ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا کہ کوئی شخص سود کھائے بغیر نہ رہ سکے گا اگر
وہ سود نہ کھاتا ہو تو اس کو کم از کم سود کا اثر ضرور پہنچے گا۔ اس کی روایت امام احمد، ابوداود، نسائی اور
ابن ماجہ نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ حدیث شریف کی روشنی میں ہر شخص کو حتی الامکان سودی کاروبار کے پھیلاؤ کی وجہ سے خود کو ایسے
کاروبار سے بچانا چاہئے تاکہ اس وعید سے محفوظ رہ سکے۔
Abdullah ibn Hanzalah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said, "A dirham of riba knowingly consumed is worse than thirty-six acts of fornication." [Ahmad, Ad-Daraqutni]
Al-Bayhaqi added from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): "Whoever grows flesh from unlawful earnings, the Fire is more deserving of him."
عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے جن کو فرشتوں نے غسل دیا تھا روایت ہے وہ
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے سود کا ایک درہم جس کو آدمی جان بوجھ کر کھائے
36 مرتبہ زنا کرنے (کے گناہ) سے زیادہ برا ہے (اس لئے کہ سود کھانا اللہ اور اور اس کے
رسول ﷺ سے جنگ کرنا ہے جو زنا کے گناہ سے بڑھ کر ہے)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد اور
دارقطنی نے کی ہے۔
اور بیہقی نے بھی اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے اور اس روایت میں
یہ الفاظ زائد ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کا گوشت مال حرام سے نشوونما پائے وہ
دوزخ ہی کے لائق ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said, "Riba has seventy degrees of sin. The least is like a man committing incest with his mother."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد
فرماتے ہیں کہ سود خوری کے (گناہ کے) ستر (70) حصے ہیں اور ان میں کا ایک ادنیٰ (گناہ کا)
حصہ یہ ہے کہ وہ سود خور اپنی ماں سے جماع کر رہا ہے۔
اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت شعب الایمان میں کی
ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد
فرماتے ہیں کہ سود اگرچہ کہ اس سے (مال بظاہر) زیادہ ہوتا دکھائی دیتا ہو۔ لیکن انجام کار کمی (اور
خسارہ و ذلت ہے۔ جس میں خیر و برکت نہیں ہوتی)۔ اس کی روایت ابن ماجہ، امام احمد نے کی ہے
اور بیہقی نے بھی اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said, "On the Night Journey, I saw people with bellies like houses, filled with visible snakes. I asked, ‘Who are these, O Jibril?’ He replied, ‘They are the consumers of riba.’"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا کہ جس رات مجھے معراج ہوئی میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کے
مانند (بہت بڑے) تھے جن کے پیٹوں میں سانپ بھرے ہوئے تھے۔ جو ان کے پیٹوں کے باہر سے
نظر آ رہے تھے۔ میں نے جبرئیل (علیہ الصلاۃ والسلام) سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو انہوں نے
جواب دیا کہ یہ سودخوار ہیں۔ اس کی روایت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) said, "The last verse revealed was about riba, and the Prophet (ﷺ) passed away before explaining it fully. So avoid riba and doubtful transactions."
امیر المؤمنین حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آخری
آیت (جو معاملات کے بارے میں) نازل ہوئی وہ سود (کی حرمت) کی آیت ہے اور رسول اللہ
ﷺ (دنیا سے) پردہ فرمائے اور (آیت مذکورہ کے حکم اور واضح ہونے سے مزید) تفصیل نہیں
فرمائے، تو تم سود کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کو بھی چھوڑ دو جن میں سود کا شبہ ہے۔ اس کی روایت
ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 2276 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے چھ چیزوں یعنی سونا، چاندی، گیہوں، نمک، کھجور اور جو میں سود کی وضاحت
فرما دی اور فقہائے امت نے قیاس سے ان چھ چیزوں کے علاوہ اور چیزوں میں بھی سود کو ثابت کیا ہے اس لئے
مسلمانوں کو چاہئے کہ احتیاط کو نظر رکھتے ہوئے فقہاء نے جن چیزوں میں سود کو ثابت کیا ہے ان سے بھی بچنا چاہئے۔
توضیح: ذیل میں سودی معاملات کے بارے میں چند احادیث آ رہی ہیں ان کو سمجھنے کے لئے اس توضیح کو پیش
نظر رکھا جائے، ورنہ ذرا سی بے احتیاطی سے بھی معاملہ سودی ہو جائے گا۔ ان حدیثوں میں جہاں کہیں ایک جنس کو اسی
جنس سے بدلنے کا ذکر آ رہا ہے وہاں اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ہم جنس اشیاء کی تبدیلی میں 1۔ کمی بیشی نہ کی
جائے 2۔ معاملہ نقد ہو۔ 3۔ چیزوں کا دست بدست تبادلہ ہو۔ اور اگر ان تین صورتوں میں سے ایک صورت بھی نہ پائی
جائے تو معاملہ سودی ہو جائے گا جیسے سونے کو سونے سے یا چاندی کو چاندی سے بدلنے کا جہاں ذکر ہے اس سے مراد یہ
ہے کہ سونے کو اشرفی سے اور چاندی کو چاندی کے سکے سے یا سونے کے زیور کو سونے سے یا چاندی کے زیور کو چاندی
سے خریدا یا بیچا جا سکتا ہے بشرطیکہ مذکورہ بالا تینوں صورتیں (ہم وزن ہونا، دست بدست ہونا اور معاملہ نقد ہونا) پائی
جا رہی ہوں ورنہ معاملہ سودی ہو جائے گا۔ اسی طرح اجناس کے تبادلہ کا حال ہوگا۔ اس کی تفصیل ذیل کی احادیث میں
آ رہی ہے۔
Commentary and footnotes (2)
Chapter-heading commentary
(1) The statement "Allah has permitted trade and forbidden usury": The essence is that trade is an exchange of wealth for wealth, while riba linguistically means "increase." Trade is legislated for profit, but the Hadith clarified the prohibition: "Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt—like for like, hand to hand. Any excess is riba." The Prophet (ﷺ) specified these six items, and scholars deduced the prohibition applies when: The goods are of the same genus. They are measured by weight or volume. Exchanged hand-to-hand (not deferred). Abu Hanifah (may Allah have mercy on him) held the prohibition applies to measurable quantities of the same genus. Ash-Shafi‘i (may Allah have mercy on him) restricted it to edibles and monetary items. Malik (may Allah have mercy on him) linked it to staple foods and storable commodities.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله : وأحل الله البيع وحرم الربا وتحقيق هذا المقام أن البيع مبادلة مال بمال والربا في اللغة هو الزيادة، والبيع إنما شرع لأجل الربح والزيادة، فكان مجملا ازدحمت فيه المعاني، واشتبهه أنه أي زيادة حرمت فلحقه الحديث بيانا له، وهو قوله عليلة الحنطة بالحنطة والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح والذهب بالذهب والفضة بالفضة مثلا بمثل يدا بيد والفضل ربا، فالرسول عليه نص على هذه الأشياء، فوقع الاشتباه فيما وراءها، فتأملنا في علة حرمة هذه الأشياء، فوجدنا أنه إذا كان الجنس متحدا كما يعلم بالمقابلة كان القدر كيلا أو وزنا كما يعلم بالمماثلة، ويكون يدا بيد يكون الفضل في هذه الحالة ربا، يعني إذا بيع بالحنطة أو الذهب، ويكون أحدهما زائدا في الكيل أو الوزن يكون ذلك ربا حراما له، فوجدنا الأرز وأمثاله مثلا متساوية في هذا المعنى. فيكون الفضل فيها أيضًا حراما، وكذلك حكمنا بحرمة التفاضل في الجص والنورة؛ لأجل تلك العلة أي القدر مع الجنس، والشافعي الله قال: إن العلة في هذه الحرمة هو الطعم كما في الأربعة، والثمنية كما في الثمنين، فيكون التفاضل في الجص والنورة حلالا ؛ لأن هذه العلة مفقودة فيهما، ومالك قال: إن العلة في هذه الحرمة هو الاقتيات كما في الأربعة، والادخار في الأخيرين، فالتفاضل في اللحم الفاسد والسمك الفاسد يكون حلالا؛ لأنهما ليسا مما يقتات ويدخر، كما في التفسيرات الأحمدية».