Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales · Chapter 5

The Six Prohibited Commodities

9 narrations · In source reading order

Hadith 3257

Volume 2

English

Ubadah ibn as-Samit (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) said, "Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, salt for salt—like for like, equal for equal, hand to hand. If the commodities differ, sell as you wish, provided it is hand to hand." [Muslim] Ash-Shafi‘i’s version adds: "Do not sell gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates, or salt for salt unless equal and hand to hand. But sell gold for silver and wheat for barley hand to hand as you wish." Another narration specifies: "Gold must be weighed, silver weighed, wheat measured, barley measured."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٥٧ - وَعَنْ عُبَادَةِ بْنِ الصَّامِتِ (رضي الله عنه)قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «الذَّهَبُ1 بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلًا2 بِمِثْلٍ، سَوَاءً بِسَوَاءٍ، يَدًا بِيَدِ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوْا كَيْفَ شِئْتُمْ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ عَنْهُ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «لَا تَبِيْعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيْرِ، وَلَا التَّمَرَ بِالتَّمَرِ، وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، عَيْنًا3 بِعَيْنِ، يَدًا بِيَدِ، وَلَكِنْ بِيْعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ، وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِيْرِ، وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ، وَالثَّمَرَ بِالْمِلْحِ، وَالْمِلْحَ بِالتَّمَرِ، يَدًا بِيَدِ، كَيْفَ شِئْتُمْ. وَفِي رِوَايَةِ الصَّحَاوِي عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَنْعَانِي: أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ أَنَّهُ حَدَّثَعَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ يُوْزَن، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنَا4 بِوَزْنٍ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ كَيْلًا بِكَيْلٍ، وَالشَّعِيْرُ بِالشَّعِيْرِ، وَلَا بَأْسَ بِبِيْعِ الشَّعِيْرِ بِالتَّمَرِ، وَالتَّمَرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدِ، وَالثَّمَرُ بِالثَّمَرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى». وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي حَنِيفَةَ نَحْوُهُ. وَفِي5 رِوَايَةِ الدَّارَ قُطْنِي وَالْبَزَّارِ عَنْ عُبَادَةَ وَأَنَسٍ مَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: كُلُّ مَا يُوزَنُ6 مِثْلُ بِمِثْلٍ إِذَا كَانَ مِنْ نَوْعٍ، وَمَا يُكَالُ مِثْلَهُ، وَإِذَا اخْتَلَفَ التَّوْعَانِ فَلَا بَأْسَ بِهِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3873Noor 3874Noor 3875Noor 3876
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں (کہ کاروبار میں سود سے بچنے کے لئے تم کو چاہئے کہ) سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گیہوں کو گیہوں کے بدلے، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے (اس طرح سے بیچا کرو کہ یہ) (جنس میں) ایک ہوں اور (وزن میں) برابر ہوں اور (معاملہ) دست بدست ہو (ادھار نہ ہو) البتہ اگر ان میں جنس بدل جائے (یعنی چاندی کے بدلے سونا یا گیہوں کے بدلے جو) تو تم کو اختیار ہے کہ جس طرح چاہو خرید و فروخت کرو بشرطیکہ (معاملہ) دست بدست ہو (اور ادھار نہ ہو اور ایسی صورت میں ان کا ہم وزن ہونا یا برابر برابر ہونا ضروری نہیں)۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ ہی سے اس طرح مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سونے کو سونے کے بدلے چاندی کو چاندی کے بدلے، گیہوں کو گیہوں کے بدلے، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، اور نمک کو نمک کے بدلے بیچا نہ جائے مگر یہ کہ یہ چیزیں برابر برابر ہوں، جنس ایک ہو اور (معاملہ) دست بدست ہو اور لیکن سونے کو چاندی کے بدلے اور چاندی کو سونے کے بدلے اور گیہوں کو جو کے بدلے اور جو کو گیہوں کے بدلے اور کھجور کو نمک کے بدلے اور نمک کو کھجور کے بدلے جیسا چاہو بیچ سکتے ہو جب کہ ان میں (معاملہ) دست بدست ہو۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ابوالاشعث صنعانی رحمۃ اللہ علیہ سے اسی طرح مروی ہے کہ وہ حضرت عبادۃ رضی اللہ عنہ کے خطبہ کے موقع پر حاضر تھے جس میں حضرت عبادۃ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث اس طرح سنائی کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سونے کو سونے کے بدلے میں بیچنا اس وقت درست ہوگا جب کہ) وہ وزن میں برابر ہوں (اسی طرح) چاندی کو چاندی کے بدلے میں بیچنا اس وقت درست ہوگا جب کہ) وہ وزن میں برابر ہوں اور گیہوں کو گیہوں بدلے (اس وقت درست ہوگا جب کہ) وہ ناپ میں برابر ہوں اور (اسی طرح) جو کو جو کے بدلے بیچنا جائز ہے جب کہ وہ ناپ میں برابر ہوں) اس کے برخلاف (مثلاً) جو کو کھجور سے بیچنے میں کوئی حرج نہیں جب کہ کھجور (وزن میں) زیادہ ہوں اور جبکہ یہ معاملہ دست بہ دست ہو رہا ہو، اور اگر (ایسا نہ ہو بلکہ) کسی نے (فروخت کے وقت مثلاً) کھجور کو کھجور کے بدلے نمک کو نمک کے بدلے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سودی معاملہ کیا اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں بھی اسی طرح مروی ہے۔ اور دارقطنی اور بزار کی ایک روایت حضرت عبادہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ چیزیں جب ایک جنس ہوں اور ان کو ایک دوسرے سے بدلنا ہو تو وزن برابر برابر ہونا چاہئے اور اسی طرح ناپ میں بھی برابر برابر ہونا چاہئے (اگر وہ چیزیں ناپ کر بیچی جاتی ہوں) البتہ اگر جنس بدل جائے تو (خرید) ان کا ہم وزن یا ناپ میں برابر برابر ہونا ضروری نہیں اس لئے ایسی خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1587c (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (10)

Note 1

Gold for gold…

(1) The statement "Gold for gold…": Scholars agree these six items are prohibited for riba al-fadl (excess in exchange) and riba an-nasi’ah (deferment).

Note 2

Like for like, hand to hand

(2) "Like for like, hand to hand": Exact equivalence in weight/volume for the same genus. Immediate exchange (no deferment).

Note 3

If the commodities differ

(3) "If the commodities differ": Different genera (e.g., gold for wheat) can be traded unevenly, but deferment remains prohibited.

Note 1

قوله

(۱) قوله : الذهب بالذهب إلخ : اعلم أنه ذكر الأشياء الستة، والحديث مشهور يجوز به الزيادة على الكتاب، وظن بعض العلماء أنه متواتر، وقال الجصاص: هذا الحديث يقرب من التواتر لكثرة رواته، والنص معلول بإجماع القائمين خلافا للظاهرية، فإنهم يقصرون الحكم على ما ورد به النص نفيًا للقياس، وهو مردود ببراهين حجة القياس، ثم اختلف الأئمة في علة حرمة الربا، فمذهب أبي حنيفة له القدر والجنس، أي كون العوضين مما يكال أو يوزن، ومتماثلين في الجنس لا في النوع والصفة، فاستبدال قليل الجيد بكثير الردي ربا، والجيد والردي سواء، ومذهب الشافعي له الطعم في الأربعة والثمنية في الحجرين، ومذهب مالك يالله الاقتيات والادخار، ومذهب عبد الملك بن الماجشون الله الانتفاع، والأرجح الأقيس الأقرط إلى معنى النص بظاهره مذهب أبي حنيفة الله، كما بسطوه في الفقه، كيف وقد نقل عن الدار قطني والبزار أنهما أخرجا عن عبادة وأنس ما أن النبي ﷺ قال: كل ما يوزن مثل بمثل إلخ. كذا في تنسيق النظام».

Note 2

قوله

(۲) قوله: مثلا بمثل سواء بسواء يدا بيد المراد بالأول المماثلة بالوزن والكيل، وبالثاني اتحاد مجلس تقابض العوضين بشرط عدم افتراق الأبدان، وبالثالث الحلول لا النسيئة. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: عينا بعين: عقد الصرف ما وقع على جنس الإثمان يعتبر فيه قبض عوضيه في المجلس، وما سواه مما فيه الربا يعتبر فيه التعيين، ولا يعتبر فيه التقابض خلافا للشافعي له في بيع الطعام بالطعام، ولنا قوله : «عينا بعين»، فإن قيل: بعين هذا اللفظ أريد القبض في الصرف حتى لو افترقا قبل القبض بطل الصرف، فكيف يجوز أن يراد به التعيين في بيع الطعام؟ قلنا : بل أريد التعيين فيهما إلا أن التعيين في الصرف لا يكون إلا بالقبض، فاشتراط القبض للتعيين لا لعينه، فلم يختلف المراد، الهداية» و«الكفاية» ملتقط منهما.

Note 4

قوله

(٤) قوله: وزنا بوزن إلخ في قوله: «وزنا بوزن وقوله: «كيلا بكيل وقوله: «مثلا بمثل دلالة ظاهرة لتعليل أبي حنيفة بالله الحرمة الربا بالمماثلة مع الكيل أو الوزن ويعبر عنه بالقدر والجنس، كما حقق في الفقه. كذا في تنسيق النظام».

Note 5

قوله

(٥)قوله : وفي رواية الدار قطني والبزار وفي سندهما ربيع بن صبيح فقد وثقه أبو زرعة، وقال الرامهزي: هو أولى من صنف الكتب بالبصرة، فهو من المرتبة الخامسة، وأحاديث السادسة مقبولة لا تترك. قاله في تنسيق النظام».

Note 6

قوله

(٦)قوله : كل ما يوزن إلخ : هذا أصرح وأنص وأدل ما علل به أبو حنيفة . كذا في «تنسيق النظام».

Note 1

ف: واضح ہو کہ سود کی حرمت کے بارے میں آئمہ کرام رحمہم اللہ کے مختلف اقوال ہیں۔ امام اعظم کے پاس سود کی حرمت کی علت قدر (یعنی وزن یا ناپ) اور جنس (یعنی سونے کے بدلے سونا) ہے یعنی وہ دو چیزیں جن کو ایک دوسرے سے بدلا جا رہا ہو وہ ناپ تول کی چیز ہوتی ہے ایسی صورت میں اچھی اور کم مقدار چیز کو اسی جنس کی ردی اور زیادہ مقدار میں بدل لینا سود ہوگا۔ اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مذہب سود کی حرمت کے بارے میں جو حدیثیں وارد ہیں ان کے مفہوم سے زیادہ مطابق ہے جیسا کہ تنسیق النظام میں مذکور ہے۔

Hadith 3258

Volume 2

English

Abu Sa‘id al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported the same Hadith with the addition: "The giver and taker of excess are equally sinful."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٥٨ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَمَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3877
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمائے ہیں کہ سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گیہوں کو گیہوں کے بدلے، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، اور نمک کو نمک کے بدلے بیچا جا سکتا ہے جب کہ یہ ساری چیزیں (ناپ اور تول میں) برابر برابر ہوں اور (معاملہ) دست بدست ہو (اور ادھار نہ ہو) تو جس کسی نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا یا سود دیا اور لینے والا اور دینے والا (گناہ میں دونوں) برابر ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1584a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3259

Volume 2

English

He also reported that the Prophet (ﷺ) forbade selling gold for gold or silver for silver unless equal and immediate, and selling on credit.

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٥٩ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِقُوْا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُوْا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوْا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِرٍ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا تَبِيعُوْا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلَّا وَزْنَا بِوَزْنٍ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3878Noor 3879
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ سونے کو سونے کے بدلہ نہ بیچو ہاں اگر برابر برابر ہو اور کسی ایک کا وزن بھی زائد نہ ہو (تو کوئی حرج نہیں اور اسی طرح) چاندی کو چاندی کے بدلہ نہ بیچو ہاں اگر برابر برابر ہو اور کسی ایک کا وزن بھی زائد نہ ہو اور (تبادلہ میں) غائب کو حاضر کے بدلہ نہ بیچو (یعنی دونوں طرف کی چیزیں موجود ہوں اور معاملہ دست بدست ہو)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ سونے کو سونے کے بدلہ اور چاندی کو چاندی کے بدلہ نہ بیچو مگر یہ کہ وہ ہم وزن ہوں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2177 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1584a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3260

Volume 2

English

Umar (may Allah be pleased with him) reported: "The Prophet (ﷺ) said, ‘Gold for gold is riba unless hand to hand; wheat for wheat is riba unless hand to hand…’"

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٦٠ - وَعَنْ عُمَرَ (رضي الله عنه)قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3880
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمائے ہیں کہ سونے کو سونے کے بدلہ بیچنا اگر دست بدست نہ ہو تو سود ہو جائے گا اور (اسی طرح) چاندی کو چاندی کے بدلہ بیچنا اگر دست بدست نہ ہو تو سود ہو جائے گا اور (اسی طرح) گیہوں کو گیہوں کے بدلہ بیچنا اگر دست بدست نہ ہو تو سود ہو جائے گا اور (اسی طرح) جو کو جو کے بدلہ بیچنا اگر دست بدست نہ ہو تو سود ہو جائے گا اور (اسی طرح) کھجور کو کھجور کے بدلہ بیچنا اگر دست بدست نہ ہو تو سود ہو جائے گا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2134 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1586a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ تول اور ناپ کی چیزوں کے بدلے لینے اور بیچنے میں دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ ایک ہی جنس کا بدلنا جیسے چاندی کو چاندی سے یا جو کو جو سے تو اس میں شرط یہ ہے کہ معاملہ دست بدست ہو۔ ادھار نہ ہو۔ اور ناپ یا تول میں کمی بیشی نہ ہو اور اگر ناپ یا تول میں کمی بیشی ہوئی یا ایک چیز موجود ہوئی اور دوسری غائب تو سود ہو جائے گا، مثلاً سونے کو سونے سے اسی طرح بدلا جائے کہ ایک طرف سونا ہو اور بدلہ میں سونے کا زیور ہو لیکن ان کی مقدار برابر نہ ہو تو یہ معاملہ سودی ہو جائے گا اور اس طرح اجناس میں اسی قسم کا تبادلہ ناجائز ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دو مختلف جنس کا باہم تبادلہ جیسے چاندی کا تبادلہ سونے سے یا گیہوں کا تبادلہ جو سے تو اس میں جواز کی صورت یہ ہے کہ معاملہ دست بدست ہو تو وزن یا مقدار میں کمی بیشی بھی ہو تو سود نہیں مثلاً ایک سیر گیہوں کا دو سیر جو سے بدلنا درست ہے بشرطیکہ دونوں اجناس موجود ہوں اور معاملہ ادھار نہ ہو اس کے برخلاف اگر گیہوں کو آج دیا جائے اور بدلہ میں جو کل لی جائے تو یہ سود ہو جائے گا جو کسی طرح جائز نہیں۔

Hadith 3261

Volume 2

English

Abu Sahl as-Saman asked Abu Sa‘id (may Allah be pleased with them), "Why do you forbid currency exchange when Ibn Abbas permits it?" Abu Sa‘id replied, "I heard Usamah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrate that the Prophet (ﷺ) said, ‘Riba is only in debt.’"

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٦١ - وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَانِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ: تَنْهَى عَنِ الصَّرْفِ وَابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِهِ، فَقَالَ: قَدْ لَقِيْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ؟ فَقُلْتُ: مَا هَذَا الَّذِي تُفْتِي بِهِ فِي الصَّرْفِ أَشَيْءٌ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللهِ، أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ: أَنْتُمْ أَقْدَمُ صُحْبَةٍ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ مِنِّي، وَمَا أَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا مَا تَقْرَؤُوْنَ، وَلَكِنَّ أُسَامَةَ1 بْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنِي: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «لَا رِبًا إِلَّا فِي الدَّيْنِ». رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ. وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: «الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ». وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّحَاوِيِّ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَنَزَعَ2 عَنْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3881Noor 3882Noor 3883
ابو صالح سمان رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ تو (دو مختلف جنس کی چیزوں کے) تبادلہ کو منع فرماتے ہیں حالانکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کا حکم دیتے ہیں۔ یہ سُن کر حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس سے ملا اور دریافت کیا کہ آپ (دو مختلف جنس کی چیزوں کے) تبادلہ (کے جائز ہونے) کا فتویٰ دیا کرتے ہیں کیا اس کی صراحت آپ نے کتاب اللہ میں پائی ہے یا اس بارے میں آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی حکم سنا ہے (یہ سن کر) حضرت ابن عباس نے (ابو سعید خدری) کو جواب دیا آپ رسول اللہ ﷺ کے مجھ سے زیادہ قدیم صحابی ہیں اور جس قرآن کو آپ پڑھتے ہیں میں بھی اسی کو پڑھتا ہوں لیکن حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث سنائی کہ (دو مختلف جنس کی چیزوں کے تبادلہ میں) اسی وقت سود ہوگا جب کہ معاملہ ادھار ہو۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔ اور بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں اسی طرح روایت ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دو مختلف جنس کی چیزوں کے تبادلہ میں اس وقت) سود ہوگا جب کہ معاملہ ادھار ہو (نقد نہ ہو) اور امام طحاوی کی ایک روایت میں اس طرح مروی ہے کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے (ایسی چیزوں کے تبادلہ کا جو فتویٰ دیا کرتے تھے) اس سے رجوع فرما لیا (کہ اگر معاملہ ادھار ہو تو جائز نہ ہوگا جب کہ تبادلہ میں اجناس مختلف ہی کیوں نہ ہوں)۔
Commentary and footnotes (2)

Note 1

قوله

(۱)قوله: أسامة بن زيد حدثني : قال الخطابي حديث أسامة محمول على أن أسامة سمع كلمة من آخر الحديث فحفظها ولم يدرك أوله كأن النبي الله نهى عن بيع الجنسين متفاضلا ، فقال : إنما الربا في النسيئة يعني إذا اختلف الأجناس جاز فيها التفاضل إذا كانت يدا بيد، وإنما يدخلهما الربا إذا كانت نسيئة. كذا في تنسيق النظام».

Note 2

قوله

(۲) قوله: ونزع عنها ابن عباس : أي رجع عن قوله في الصرف: إنه لا ربا إلا في النسيئة. كذا في هامش الطحاوي.

Hadith 3262

Volume 2

English

Abu Sa‘id and Abu Hurairah (may Allah be pleased with them) reported that the Prophet (ﷺ) instructed a man who traded 2 poor-quality dates for 1 high-quality date: "Do not do this. Sell the poor dates for money, then buy the good dates with that money."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٦٢ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ: أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟ قَالَ: لَا ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ، فَقَالَ: «لَا تَفْعَلْ، بِعْ1 الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِم، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا». وَقَالَ فِي الْمِيزَانِ2 مِثْلَ ذَلِكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3884
ابو سعید اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا وہ صحابی (زکوٰۃ میں) اچھی قسم کے کھجور لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہوتی ہیں تو انہوں نے جواب دیا نہیں یا رسول اللہ ﷺ (خیبر کی ہر کھجور ایسی نہیں ہوتی) بلکہ ہم کبھی دو صاع معمولی قسم کی کھجوروں کے بدلہ ایک صاع اچھی قسم کی کھجوریں اور کبھی تین صاع معمولی قسم کی کھجوروں کے بدلہ دو صاع اچھی قسم کی کھجوریں لے لیتے ہیں۔ (یہ سن کر) حضور ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو (اس لئے کہ یہ سود کی ایک شکل ہے) بلکہ ساری قسم کی کھجوروں کو (جن میں اچھے اور خراب کھجور شامل ہوں) ان کو درہم کے معاوضہ میں بیچ دو اور ان درہموں سے اچھی قسم کی کھجوریں خرید لو (تاکہ سود سے بچ سکو) اور حضور ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ (جس طرح دو ہم جنس چیزوں کا ناپ میں برابر ہونا ضروری ہے اسی طرح دو ہم جنس چیزوں کا) تول میں بھی برابر برابر ہونا ضروری ہے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2201 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1593a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

قوله

(۱) قوله: بع الجمع إلخ : قال النووي له احتج أصحابنا بهذا الحديث أن الحيلة التي يعملها بعض الناس توسلا إلى مقصود الربا ليس بحرام، وذلك أن من أراد أن يعطي صاحبه مائة درهم بمائتين فيبيعه ثوبا بمائتين، ثم يشتريه منه بمائة؛ لأنه قال: بع هذا واشتر بثمنه من هذا، وهو ليس بحرام عند الشافعي، وقال مالك وأحمد الله : هو حرام، انتهى. والأول هو مذهب الإمام الأقدم الأعظم، وتبعه من تبعه من علماء الأمم، والله تعالى أعلم. قاله في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲)قوله : وقال في الميزان مثل ذلك قال النووي : وهذا الحديث مما يستدل به الحنفية على مذهبهم؛ لأنه ذكر في هذا الحديث الكيل والوزن قال الطيبي : الله وتوجيه استدلالهم أن علة الربا في الأصناف المذكورة في حديث عبادة علات الكيل والوزن لا الطعم والنقد؛ لأن النبي له لما بين حكم التمر وهو المكيل ألحق به حكم الميزان، ولو كانت العلة النقدية والمطعومية لقال: وفي النقد مثل ذلك». كذا في «المرقاة».

Hadith 3263

Volume 2

English

Bilal (may Allah be pleased with him) brought the Prophet (ﷺ) high-quality dates obtained by exchanging 2 low-quality dates for 1. The Prophet (ﷺ) said: "This is pure riba! Do not do so. If you wish to buy, sell the dates separately first."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٦٣ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: جَاءَ بِلَالُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ بِتَمْرِ بَرْنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ : مِنْ أَيْنَ هَذَا؟ قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا تَمْرُ رَدِيُّ، فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ النُطْعِمَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ عِنْدَ ذَلِكَ: «أَوَّهُ] أَوَّهُ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ، وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعْ1 التَّمْرَ بِبَيْعِ آخَرَ، ثُمَّ اشْتَرِهِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3885
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کی خدمت میں بَرنی کھجور (جو کھجور کی ایک عمدہ قسم ہے) لے کر حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے آپ سے دریافت کیا تم یہ کھجور کہاں سے لائے؟ انہوں نے عرض کیا ہمارے پاس معمولی قسم کی کھجوریں تھیں ان میں سے میں نے دو صاع کے بدلہ ایک صاع یہ (برنی) کھجوریں خرید لی ہیں۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا آہ! یہ تو قطعی سود ہے قطعی سود ہے ایسا نہ کرو بلکہ تم جب کبھی اچھی چیز کے بدلہ ایسی جنس کی چیز خریدنا چاہو تو (پہلے اپنے پاس کی) معمولی کھجوروں کو بیچ دو اور پھر اس کی قیمت سے (اچھی کھجوریں) خرید لو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2312 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1594a (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

قوله

(۱)قوله: فبع التمر ببيع آخر إلخ وهذا الحديث كالذي قبله صريح في جواز الحيلة في الربا الذي قاله به أبو حنيفة والشافعي رحمها. كذا في «المرقاة».

Hadith 3264

Volume 2

English

Jabir (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) bought a slave for two black slaves after discovering the seller was enslaved. He then ensured future transactions verified freedom status.

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٦٤ - وَعَنْ جَابِرٍ(رضي الله عنه) ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ، فَبَايَعَ النَّبِيَّ ﷺ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدُ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ: «بِعْنِيهِ» فَاشْتَرَاهُ1 بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعُ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ [أَمْ /أَوْ حُرٌّ]. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَقَدْ2 روي التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً. وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيحُ وَرَوَاهُ الْبَزَارُ فِي مُسْنَدِهِ، وَقَالَ: لَيْسَ فِي الْبَابِ أَجَلُّ إِسْنَادًا مِنْهُ. وَرَوَى ابْنُ مَاجَه عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «لَا بَأْسَ بِالْحَيَوَانِ وَاحِدًا بِاثْنَيْنِ يَدًا بِيَدِ». وَكَرِهَهُ نَسِيئَةً. فِيْهِ الْحَجَاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، قَالَ3 ابْنُ حِبَّانِ: هُوَ صَدُوْقُ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ. وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «الْحَيَوَانُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدَةٍ لَا يَصْلُحُ نَسِيئًا، وَلَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدِ». وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ. وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي مُسْنَدِهِ مُرْسَلًا عَنْ عَبْدِ الكَرِيمِ الْجَزَرِيَّ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ مُصَدِّقًا لَهُ، فَجَاءَ بِظَهْرِ مُسِنَّاتٍ، فَلَمَّا نَظَرَهُ النَّبِيُّ ﷺ قَالَ: «هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ أَبِيعُ الْبِكْرَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ بِالْبَعِيْرِ الْمُسِنِّ، يَدًا4 بِيَدٍ، وَعَلِمْتُ مِنْ حَاجَةِ رَسُولِ اللهِ ﷺ ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «فَذَاكَ إِذَا». وَعِنْدَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَلَيَّ أَنَّهُ كَرِهَ بَعِيْرًا بِبَعِيْرَيْنِ نِسِيئَةً. وَكَذَا أَخْرَجَهُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْهُ. وَأَخْرَجَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَعِيْرِ بِبَعِيْرَيْنِ إِلَى أَجَلٍ، فَكَرِهَهُ. وَرَوَى مُحَمَّدُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْبَعِيْرِ بِالْبَعِيْرَيْنِ إِلَى أَجَلٍ وَالشَّاةِ بِالشَّاتَيْنِ إِلَى أَجَلٍ. وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو الله أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَمَرَهُ أَنْ يُجَهَّزَ جَيْشًا، فَنَفِدَتِ الْإِبِلُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ فِي قِلَاصِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيْرَيْنِإلَى أَبِلِ الصَّدَقَةِ، ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ.

اردو

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک غلام نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور ہجرت کی بیعت کر لیا اور حضور ﷺ کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ غلام ہے۔ پھر (کچھ عرصہ کے بعد) اس کا مالک اس کی تلاش کرتا ہوا آیا (اور اس کی واپسی کا مطالبہ کیا) (حضور ﷺ نے اس کو مناسب نہ سمجھا کہ اس کی ہجرت باطل ہو جائے اس لئے) آپ نے اس کے مالک سے فرمایا تم اس کو مجھے بیچ دو (چنانچہ وہ صاحب اس پر راضی ہو گئے) تو آپ نے دو سیاہ رنگ کے غلام کے بدلے ان کو خرید لیا اور اس کے بعد آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک آپ اس سے دریافت نہ فرما لیں کہ وہ غلام ہے یا آزاد۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ اور ترمذی، ابوداود، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی ان سب محدثین نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جانور کے بدلہ جانور کو ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور بزّار نے اس کی روایت اپنی سند میں کی ہے۔ اور یہ بھی کہا ہے کہ اس بارے میں جتنی حدیثیں مروی ہیں ان میں اس سے بہتر سند والی حدیث کوئی نہیں۔ اور ابن ماجہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک جانور کے بدلہ دو جانوروں کو خریدنے یا بیچنے میں کوئی حرج نہیں خواہ وہ ہم جنس ہوں یا نہ ہوں) جب کہ معاملہ دست بہ دست ہو (جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے)۔ البتہ حضور ﷺ نے (جانور کے بدلے جانور کی خرید و فروخت میں) ادھار معاملہ سے منع فرمایا ہے۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہیں۔ ان کے بارے میں ابن حبان نے کہا ہے کہ وہ صدوق ہیں ان کی حدیثوں کی روایت درست ہے۔ اور ترمذی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایک جانور کے بدلہ دو جانوروں کی خرید و فروخت ادھار درست نہیں۔ ہاں دست بدست ہو تو کوئی حرج نہیں۔ اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسند میں مرسلاً عبدالکریم جزری سے روایت کی ہے کہ زیاد ابن ابی مریم جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں انہوں نے عبدالکریم کو یہ واقعہ سنایا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے عامل کو (زکوٰۃ کی وصولی کیلئے) بھیجا تو وہ بڑی عمر کے اونٹ لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کو دیکھا تو (عامل زکوٰۃ سے) ارشاد فرمایا تم خود بھی ہلاک ہوئے اور ہلاک بھی کیا انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! میں نے دو یا تین کم عمر اونٹوں کے بدلہ بڑا اونٹ دست بدست لیا ہے! اس لئے کہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ آپ کو بڑے بڑے اونٹوں کی ضرورت ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر یہ صورت ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ اور عبدالرزاق نے سعید بن مسیّب کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک اونٹ کے بدلہ دو اونٹ ادھار لینے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ اور ابن ابی شیبہ نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کی تخریج کی ہے۔ اور عبدالرزاق نے معمر سے اور معمر نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے والد طاؤس سے روایت کی ہے کہ طاؤس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا ایک اونٹ کو دو اونٹ کے بدلہ ایک معین مدت کیلئے لیا جا سکتا ہے؟ حضرت ابن عمر نے فرمایا (نہیں) یہ تو مکروہ ہے۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایک اونٹ کو دو اونٹ کے بدلہ ایک معین مدت کیلئے لینے سے منع فرمایا ہے۔ اور امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ لشکر تیار کریں (اس تیاری میں) اونٹ ختم ہو گئے تو پھر آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس کام کے لئے زکوٰۃ کی جوان اونٹنیاں استعمال کریں تو حضرت عبداللہ بن عمرو نے ایک اونٹ کے بدلہ دو اونٹنیاں لینا شروع کیا یہاں تک کہ زکوٰۃ کی اونٹنیاں آ جائیں۔ پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1602 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.675

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فاشتراه بعبدين أسودين: أي نقد لا نسيئة؛ لأنه لم يكن البيع ثمه نسيئة، بل البيع إنما تحقق بعد مجيء مولاه، ثم اعلم أن المحرم في الربا عندنا القدر والجنس، فوجود مجموعهما محرم في ربا الفضل، ووجود أحدهما كاف في ربا النسيئة، فيجوز عندنا بيع العبد بالعبدين نقدًا، ولا يجوز ذلك نسيئة، خلافا للشافعي بالله وغيره، وبقولنا: قال عطاء بن أبي رباح، وقال الترمذي : باب ما جاء في كراهية بيع الحيوان بالحيوان نسيئة، ثم روى حديث سمرة له، وقال: هذا حديث حسن صحيح، والعمل على هذا عند أكثر أهل العلم من أصحاب النبي ﷺ وغيرهم في بيع الحيوان بالحيوان نسيئة، وهو قول سفيان الثوري الله وأهل الكوفة، وبه يقول أحمد الله، وقال الترمذي: وسماع الحسن من سمرة له صحيح، هكذا قال علي بن المديني وغيره. وفي «الاستذكار»: قال الترمذي : قلت للبخاري في قولهم : لم يسمع الحسن من سمرة إلا حديث العقيقة قال: سمع منه أحاديث كثيرة، وجعل روايته عنه سماعا، وصححها، انتهى. وقال الترمذي: وفي الباب عن ابن عباس وجابر وابن عمر ، انتهى. وحديث ابن عباس عند البزار رواه الطحاوي ورجاله ثقات، وحديث ابن عمر عند الطحاوي والطبراني وحديث جابر عند الترمذي، وما رواه أبو داود عن عبد الله بن عمرو بن العاص وفيه: فكان يأخذ البعير بالبعيرين إلى إبل الصدقة، وقال التوربشتي: حديث عبد الله بن عمر ، ضعيف وحديث سمرة له أثبت وأقوى أو كان ذلك قبل النهي عن الربا، فهو منسوخ. ثم فيه ضعف آخر من جهة المتن، وهو أن البيع إلى أجل مجهول لا يجوز، فيكون قد رواه في الابتداء، ثم نسخ على أن القول مقدم على الفعل، ويمكن فيه الاختصاص بحضرة الرسالة تنسيق النظام» «عمدة القاري»، «الجوهر النقي» ملتقط منها.

Note 2

قوله

(۲) قوله : وقد روى الترمذي إلخ : وما رواه في شرح السنة عن سعيد بن السيب وفيه أن رسول الله ﷺ نهى عن بيع اللحم بالحيوان، قال في المنهاج»: ويحرم بيع اللحم بالحيوان من جنسه، وكذا بغير جنسه من مأكول وغيره، في شرح السنة: اختلف أهل العلم في بيع اللحم بالحيوان، فذهب جماعة من الصحابة والتابعين إلى تحريمه، وإليه ذهب الشافعي، وحديث ابن المسيب وإن كان مرسلا، لكنه يتقوى بعمل الصحابة، واستحسن الشافعي مرسل ابن المسيب، وذهب جماعة إلى إباحته، واختارها أبو حنفية وأبو يوسف والمزني تلميذ الشافعي له؛ إذ لم يثبت، الحديث. وكان فيه قول متقدم ممن يكون بقوله اختلاف، ولأن الحيوان ليس بمال الربا بدليل أنه يجوز بيع حيوان بحيوانين، فبيع اللحم بالحيوان بيع مال الربا بما لا ربا فيه، فيجوز ذلك في القياس إلا أن يثبت الحديث، فنأخذ به وندع القياس. وفي «الوقاية»: جاز بيع اللحم بالحيوان، وقال محمد في الموطأ»: وبهذا نأخذ من باع لحما من لحم الغنم بشاة حية لا يدري اللحم أكثر أو ما في الشاة أكثر فالبيع فاسد مكروه، ولا ينبغي، وهذا مثل المزابنة والمحاقلة، وكذا بيع الزيتون بالزيت ودهن السمسم، وتفسيره على ما في شرح الوقاية إذا بيع الحيوان بلحم الحيوان من جنسه لا يجوز البيع إلا إذا كان اللحم أكثر من لحم ذلك الحيوان؛ ليكون الزائد في مقابلة السقط أقول: والأحسن عندي أن معنى الحديث أن يقول للقصاب : كم يخرج من هذه الشاة؟ فيقول القصاب عشرون رطلا، فيقول: خذ هذه الشاة بعشرين رطلا من اللحم إن خرج أكثر فلك أو أقل فعليك، فهذا نوع من القمار، ورجع الحديث إلى القياس. قاله في المسوى»، وقال في العالمگيرية»: وإن اشترى باللحم شاة حية في القياس لا يجوز، إلا أن يعلم أن اللحم أكثر من لحم الشاة، وهو قول محمد الله، وفي الاستحسان يجوز على كل حال، وهو قولهما. كذا في فتاوى قاضيخان»، انتهى. وقال في «المرقاة»: والمراد بالنهي في الحديث ما إذا كان أحدهما نسيئة؛ لأن المتأخر حينئذ لا يمكن ضبطه.

Note 3

قوله

(۳) قوله : قال ابن حبان إلخ : وقال الذهبي في الميزان»: هو أحد الأعلام على لين فيه، وحديثه روى له مسلم مقرونا بغيره، وروى له الأربعة. كذا في «عمدة القاري».

Note 4

قوله

(٤)قوله: يدا بيد إلخ : قال ابن الأثير في شرحه: يَدلُّ على صحة قول من منع النسيئة في الحيوان بالحيوان؛ لأنه لما قال له: «يدا بيد أقره على فعله. قاله في «الجوهر النقي».

Hadith 3265

Volume 2

English

The Prophet (ﷺ) forbade selling unmeasured bulk dates for a specified quantity.

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٦٥ - وَعَنْ جَابِرٍ(رضي الله عنه) قَالَ: نَهَى1 رَسُولُ اللهِ ﷺ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلَتُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3896
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجوروں کے ایک ایسے ڈھیر کو جن کا وزن یا مقدار معلوم نہ ہو، ایسے کھجوروں کے بدلہ بیچنے کو جن کا وزن یا پیمانہ معلوم ہو منع فرمایا ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1530 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Riba is only in debt

(1) Riba in Debt: The Hadith "Riba is only in debt" refers to deferred payments, not spot exchanges. Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) later retracted his initial permissive view.

Note 2

(2) Currency Exchange: Permissible if immediate, but unequal exchange of the same currency (e.g., 1 USD for 1.1 USD) is prohibited.

Note 1

قوله

(۱) قوله : نهى رسول الله له عن بيع الصبرة إلخ ولذلك قال في «الهداية وشروحها: إنه يجوز بيع الذهب بالفضة مجازفة، وكذا سائر الأموال الربوية، بخلاف جنسها كالحنطة والشعير؛ لأن المساواة غير مشرطة فيه؛ لاختلاف الجنس، بخلاف بيعها بجنسها مجازفة؛ فإنه لا يجوز لما فيه من احتمال الربا.