English
Abu Sahl as-Saman asked Abu Sa‘id (may Allah be pleased with them), "Why do you forbid currency exchange when Ibn Abbas permits it?" Abu Sa‘id replied, "I heard Usamah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrate that the Prophet (ﷺ) said, ‘Riba is only in debt.’"
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٢٦١ - وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَانِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ: تَنْهَى عَنِ الصَّرْفِ وَابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِهِ، فَقَالَ: قَدْ لَقِيْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ؟ فَقُلْتُ: مَا هَذَا الَّذِي تُفْتِي بِهِ فِي الصَّرْفِ أَشَيْءٌ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللهِ، أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ: أَنْتُمْ أَقْدَمُ صُحْبَةٍ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ مِنِّي، وَمَا أَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا مَا تَقْرَؤُوْنَ، وَلَكِنَّ أُسَامَةَ1 بْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنِي: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «لَا رِبًا إِلَّا فِي الدَّيْنِ». رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ. وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: «الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ». وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّحَاوِيِّ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَنَزَعَ2 عَنْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ.
اردو
ابو صالح سمان رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ تو (دو مختلف جنس کی چیزوں کے) تبادلہ
کو منع فرماتے ہیں حالانکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کا حکم دیتے ہیں۔ یہ سُن کر حضرت
ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس سے ملا اور دریافت کیا کہ آپ (دو مختلف جنس کی
چیزوں کے) تبادلہ (کے جائز ہونے) کا فتویٰ دیا کرتے ہیں کیا اس کی صراحت آپ نے کتاب
اللہ میں پائی ہے یا اس بارے میں آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی حکم سنا ہے (یہ سن کر) حضرت
ابن عباس نے (ابو سعید خدری) کو جواب دیا آپ رسول اللہ ﷺ کے مجھ سے زیادہ قدیم صحابی
ہیں اور جس قرآن کو آپ پڑھتے ہیں میں بھی اسی کو پڑھتا ہوں لیکن حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ
عنہ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث سنائی کہ (دو مختلف جنس کی چیزوں کے تبادلہ میں) اسی
وقت سود ہوگا جب کہ معاملہ ادھار ہو۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
اور بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے اس
بارے میں اسی طرح روایت ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دو مختلف جنس کی چیزوں کے
تبادلہ میں اس وقت) سود ہوگا جب کہ معاملہ ادھار ہو (نقد نہ ہو)
اور امام طحاوی کی ایک روایت میں اس طرح مروی ہے کہ حضرت ابو
سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے (ایسی چیزوں کے تبادلہ کا جو فتویٰ دیا
کرتے تھے) اس سے رجوع فرما لیا (کہ اگر معاملہ ادھار ہو تو جائز نہ ہوگا جب کہ تبادلہ میں اجناس
مختلف ہی کیوں نہ ہوں)۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(۱)قوله: أسامة بن زيد حدثني : قال الخطابي حديث أسامة محمول على أن أسامة سمع كلمة من آخر الحديث فحفظها ولم يدرك أوله كأن النبي الله نهى عن بيع الجنسين متفاضلا ، فقال : إنما الربا في النسيئة يعني إذا اختلف الأجناس جاز فيها التفاضل إذا كانت يدا بيد، وإنما يدخلهما الربا إذا كانت نسيئة. كذا في تنسيق النظام».
Note 2
(۲) قوله: ونزع عنها ابن عباس : أي رجع عن قوله في الصرف: إنه لا ربا إلا في النسيئة. كذا في هامش الطحاوي.