Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3260

The Six Prohibited Commodities

In this book

Current reading

Sales

The Six Prohibited Commodities

Zujajat al-Masabih 3260Volume 2

English

Umar (may Allah be pleased with him) reported: "The Prophet (ﷺ) said, ‘Gold for gold is riba unless hand to hand; wheat for wheat is riba unless hand to hand…’"

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٢٦٠ - وَعَنْ عُمَرَ (رضي الله عنه)قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3880
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمائے ہیں کہ سونے کو سونے کے بدلہ بیچنا اگر دست بدست نہ ہو تو سود ہو جائے گا اور (اسی طرح) چاندی کو چاندی کے بدلہ بیچنا اگر دست بدست نہ ہو تو سود ہو جائے گا اور (اسی طرح) گیہوں کو گیہوں کے بدلہ بیچنا اگر دست بدست نہ ہو تو سود ہو جائے گا اور (اسی طرح) جو کو جو کے بدلہ بیچنا اگر دست بدست نہ ہو تو سود ہو جائے گا اور (اسی طرح) کھجور کو کھجور کے بدلہ بیچنا اگر دست بدست نہ ہو تو سود ہو جائے گا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2134 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1586a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ تول اور ناپ کی چیزوں کے بدلے لینے اور بیچنے میں دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ ایک ہی جنس کا بدلنا جیسے چاندی کو چاندی سے یا جو کو جو سے تو اس میں شرط یہ ہے کہ معاملہ دست بدست ہو۔ ادھار نہ ہو۔ اور ناپ یا تول میں کمی بیشی نہ ہو اور اگر ناپ یا تول میں کمی بیشی ہوئی یا ایک چیز موجود ہوئی اور دوسری غائب تو سود ہو جائے گا، مثلاً سونے کو سونے سے اسی طرح بدلا جائے کہ ایک طرف سونا ہو اور بدلہ میں سونے کا زیور ہو لیکن ان کی مقدار برابر نہ ہو تو یہ معاملہ سودی ہو جائے گا اور اس طرح اجناس میں اسی قسم کا تبادلہ ناجائز ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دو مختلف جنس کا باہم تبادلہ جیسے چاندی کا تبادلہ سونے سے یا گیہوں کا تبادلہ جو سے تو اس میں جواز کی صورت یہ ہے کہ معاملہ دست بدست ہو تو وزن یا مقدار میں کمی بیشی بھی ہو تو سود نہیں مثلاً ایک سیر گیہوں کا دو سیر جو سے بدلنا درست ہے بشرطیکہ دونوں اجناس موجود ہوں اور معاملہ ادھار نہ ہو اس کے برخلاف اگر گیہوں کو آج دیا جائے اور بدلہ میں جو کل لی جائے تو یہ سود ہو جائے گا جو کسی طرح جائز نہیں۔