English
Amr ibn Shu‘ayb, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him), narrated that the Prophet (ﷺ) said: “A contracted slave remains a slave as long as a dirham remains of his contract.” [Narrated by Abu Dawud with a good chain]
Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah narrated from him that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever contracts his slave for a hundred ounces and he pays it except for ten ounces—or he said ten dirhams—then fails, he is a slave.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٤٥٤ - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِرْهَمْ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ بِسَنَدٍ حَسَنٍ.
وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ، فَأَذَاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ أَوْ قَالَ: عَشَرَةَ دَرَاهِمَ ثُمَّ عَجَزَ فَهُوَ رَقِيقُ».
اردو
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے اور وہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا مکاتب2 یہ جب تک اس
کے بدل کتابت میں ایک درہم بھی باقی رہے تو وہ غلام ہے 1۔ (امام ابوداؤد بسند حسن)
انہی (عمرو بن شعیبؓ) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا جو کوئی آدمی اپنے غلام کو سواوقیہ (4000 ہزار درہم) پر مکاتب کرے اور اس
غلام نے (اس مقدار چاندی کو) ادا کر دیا مگر دس اوقیہ (400 سو درہم) ادا نہیں کئے یا آپ ﷺ
نے فرمایا دس دینار کے سوا باقی تمام رقم ادا کر دی، پھر وہ (ادائی رقم سے) عاجز ہو گیا تو وہ غلام ہی
رہے گا۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3926 (unverified) 92% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3927 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: “A contracted slave, etc.”: It is stated in At-Takmilah: Discussion of the contract has several aspects: first, its linguistic meaning; second, its legal meaning; third, its pillar; fourth, its condition of validity; fifth, its evidence; sixth, its ruling; seventh, its description; eighth, its reality; ninth, its cause; tenth, its rulings. Linguistically, it derives from “kataba,” meaning to gather or join, and writing is called “kitabah” for joining letters. The contracted slave is the object of “kataba,” and the master is “mukaatib” with a kasra on the ta’. Legally, it is a specific joining, combining the slave’s freedom in wealth with freedom of action immediately. Its pillar is offer and acceptance, linked together. Its condition of validity is the existence of slavery and a known specified amount. Its evidence from the Quran is: “A contracted slave, etc.,” and “Whoever contracts his slave for a hundred ounces, pays it except ten ounces, he is a slave.” Its description is that it is a recommended contract for both the righteous and unrighteous. Its ruling is the removal of restriction and establishment of freedom. Its ruling for the master is the right to demand the agreed payment. Its cause is the master’s slavery in exchange for the contract’s payment immediately and the reward of emancipation later, and the slave’s desire for freedom. Its rulings are immediate and delayed. Thus, in Al-Hidayah. In Rahmat Al-Ummah, it is said: They agreed that contracting a slave with earnings is recommended, even obligatory per Ahmad’s narration if the slave requests it for his value or more. Its description is that the master contracts his slave for a specific amount, which the slave works to pay. For a slave without earnings, Abu Hanifah, Malik, and Shafi‘i said contracting is not disliked; Ahmad has two narrations, one disliking it, the other not. Contracting a non-contracted female slave is disliked by consensus.
Note 3
(3) The statement: “A slave as long as a dirham remains”: In Al-Hidayah, it is said: He is not freed until paying the entire amount, per his saying: “Whoever was contracted for a hundred dinars and paid except ten dinars, he is a slave,” and “A contracted slave as long as a dirham remains.” The Companions differed, and we adopt Zayd’s view (may Allah be pleased with him), as it is supported by hadiths. In Nayl Al-Awtar, it is said: Abu Hanifah and Shafi‘i said he has no rights of free people, remaining a slave until fully freed, as narrated by Al-Hafiz in Al-Fath from the majority, and in Al-Bahr from Umar, Ibn Abbas, Zayd ibn Thabit, Aisha, Umm Salamah, Al-Hasan Al-Basri, Sa‘id ibn Al-Musayyib, Az-Zuhri, Ath-Thawri, Al-Utrah, Abu Hanifah, Shafi‘i, and Malik, that a contracted slave is not freed until he pays in full, even if he paid most, based on these hadiths, which they prioritized. The apparent hadith of Umm Salamah: “If one of you has a contracted slave with enough to pay, let her veil from him,” indicates the slave of a woman is her mahram, as Shafi‘i said, contra Abu Hanifah. Qadi Khan said: A slave looking at his free mistress with no kinship is like a foreign man. The interpretation of Umm Salamah’s hadith is that veiling means proper veiling, like speaking or looking at hands and face, as she veils from other foreigners, as mentioned in Al-Madarak in interpreting His saying: Or what their right hands possess [An-Nur: 31]. Sa‘id ibn Al-Musayyib said: “Let not Surah An-Nur deceive you, as it refers to female slaves, not males.” Thus, in Badhl Al-Majhud.
Note 1
۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔7۔اس کی صفت 8۔اس کی حقیقت 9۔اس کا سبب 10۔اس کی حکمتیں باعتبار لغت لفظ مکاتب ”کتب“ سے مشتق ہے اور اس کے معنی ملانا اور جمع کرنا ہے۔ لکھنے کا نام ”کتابت“ اس لئے رکھا گیا کہ اس میں حروف کو ایک دوسرے سے ملایا جاتا ہے اور ”مکاتب“ ”کَاتَبَ (باب مفاعلہ) کا اسم مفعول ہے۔ مالک یعنی آقا کو مکاتب کہتے ہیں۔ (تا کو زیر کے ساتھ) اور شریعت میں یہ ایک مخصوص جمع کا نام ہے۔ (یعنی غلام کو آخرکار حاصل ہونے والی آزادی کو موجودہ حاصل تصرفات کے ساتھ جمع کرنا۔) اس کے ارکان ایجاب و قبول ہیں اور ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کیا جانا ہے۔ اس کے جواز کی شرط غلام ہی کا موجود ہونا اور مسمی کا معین ہونا۔ اس کی دلیل قرآن مجید سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا“ ان کو مکاتب بنادو اگر تم ان میں صلاحیت اور بھلائی دیکھو“ (24۔النور، آیت نمبر:33) اور حدیث شریف سے دلیل حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: المکاتب عبد الخ اور آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ”من كاتب عبدا على مائة اوقية فاداها الا عشر اوقية فهو عبد“ (جو کوئی آدمی اپنے غلام کو سو اوقیے (4000درہم) پر مکاتب کرے اور اس غلام نے اس میں سے دس اوقیہ (400درہم) کے سوا سب ادا کردیا تو بھی وہ غلام ہی رہے گا) اس کی صفت یہ ہے کہ آزادی کی ترغیب ہر غلام کے بارے میں ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد۔ اس کا حکم یہ ہے کہ مکاتبت کی وجہ سے غلام کا محجور (ممنوع عن التصرف) ہونا ختم ہو جائے گا اور اس کے لئے آزادی ثابت ہو جائے گی۔ اور مالک کے حق میں یہ حکم ہے کہ وہ بدل کتابت کا حسب قرار داد مطالبہ کرسکتا ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس میں مالک کو دنیا میں بدل کتابت (آزاد کرنے کا مالی معاوضہ) ملنے کی اور آخرت میں اس کا ثواب ملنے کی خواہش اور غلام کو دنیا و آخرت میں آزادی اور اس پر مرتب احکام کی رغبت ہوتی ہے۔ جب آقا اپنے غلام یا باندی کو مقررہ مال کی شرط پر مکاتب بنادے اور غلام اس کو قبول کرے تو وہ مکاتب ہو جائے گا۔ یہ بات صاحب ہدایہ نے فرمائی ہے۔ اور کتاب رحمۃ الامہ میں ہے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آقا اپنے ایسے غلام کو جو کما سکتا ہے مکاتب بنادینا مستحب ہے اور مکاتب بنانے کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔ بلکہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک روایت میں ہے کہ مکاتبت واجب ہے جبکہ غلام اپنے آقا سے اپنی یا ۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ---- باقی حاشیہ ---- اپنے سے زیادہ قیمت پر اس کی درخواست کرے اور اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ مالک اپنے غلام کو ایک مقررہ مال میں مکاتب کرے گا اور غلام اس کی ادائی میں کوشش کر کے آقا کو ادا کرے گا۔ لیکن وہ غلام جس کی کوئی کمائی نہیں ہے تو حضرت امام اعظم ابو حنیفہ اور امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ نے فرمایا کہ ایسے غلام کو مکاتب بنانا مکروہ نہیں ہے۔ اور اس بارے میں امام احمد رحمة اللہ علیہ سے دو روایتیں ہیں ایک میں مکروہ بتلایا گیا ہے اور دوسری روایت میں مکروہ نہیں ہے لیکن ایسی باندی کو مکاتب بنانا جو کما نہیں سکتی بالاتفاق مکروہ ہے۔) 1 قولہ: عبد ما بقي عليه من مكاتبته درهم (جب تک اس کے بدل کتابت میں ایک درہم بھی باقی رہے تو وہ غلام ہے) ہدایہ میں ہے: مکاتب بدل کتابت کی کامل ادائی تک آزاد نہیں ہوگا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد ہے جو کوئی غلام سو دینار پر مکاتب قرار دیا جائے اور بدل کتابت ادا کرے اور اس میں دس دینار باقی ہوں تب بھی وہ غلام ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے کسی مکاتب پر ایک درہم بھی باقی ہے تو وہ غلام ہے۔ اور اس میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اختلاف ہے اور ہم نے زید رضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کیا ہے کیونکہ اس قول کی مرفوع احادیث سے تائید ہوتی ہے۔ نیل الاوطار میں ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ کا قول ہے کہ مکاتب کے حق میں آزاد کا کوئی حکم جاری نہیں ہوتا بلکہ اس پر غلاموں کے احکام ہی جاری ہوں گے تا آنکہ اس کی آزادی مکمل نہ ہو جائے۔ اور حافظ نے فتح الباری میں جمہور علماء سے اسی طرح نقل فرمایا ہے۔ بحر میں حضرات عمر، عبداللہ بن عباس، زید بن ثابت، سیدتنا عائشہ، سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہم، حسن بصری، سعید بن مسیب، محمد بن شہاب زہری اور سفیان ثوری، تمام اہل بیت اطہار، امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک رحمہم اللہ کا یہی مذہب بیان کیا گیا ہے کہ مکاتب اگرچہ بدل کتابت کا اکثر حصہ ادا کرے، لیکن جب تک وہ پورا حصہ ادا نہیں کرے گا آزاد نہیں ہوگا۔ اور انہی احادیث کو انہوں نے دلیل بنایا ہے اور انہیں احادیث کو ترجیح دی ہے۔ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے ظاہری مفہوم سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی خاتون کا غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اس کی ادائی کے بقدر مال ہو تو اس کو مکاتب غلام سے پردہ کرنا چاہئے۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا غلام اس کا محرم ہوتا ہے اور یہی قول امام شافعی رحمة اللہ علیہ کا ہے۔ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کا اس میں اختلاف ہے قاضی خان نے فرمایا کہ غلام اپنی آزاد مالکہ کو دیکھنے میں جبکہ دونوں کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے تو وہ ایک اجنبی آدمی کے درجہ میں ہے سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث شریف سے مراد درجہ پردہ کرنا ہے کیونکہ غلام کثرت سے آنے جانے اور مالکہ کی خدمت کرتے رہنے کی وجہ سے جس طرح اجنبی سے پردہ ہوتا ہے اس طرح کا غلام سے پردہ نہیں ہوسکتا کیونکہ غلام ---- بقیہ اگلے صفحہ پر --- ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔۔۔ کے ساتھ گفتگو کرنا پڑتا ہے اور اس کے ہاتھوں اور چہرہ پر نظر پڑتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”وما ملكت ايمانهن“ (24۔النور۔21) کی تفسیر میں صاحب مدارک لکھتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا سورہ نجم کو دھوکے میں نہ ڈالے کیونکہ وہ باندیوں کے بارے میں ہے مرد (غلاموں) کے بارے میں نہیں ہے۔ (اس کی تحقیق گزر چکی ہے۔ اور بذل المجهود میں ایسا ہی ہے)۔ 1 قوله : فهل ينفعها الخ (کیا یہ چیز ان کو فائدہ پہنچائے گی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں“۔ اس ارشاد کی وجہ یہ ہے کہ غلام آزاد کرنا صدقات میں سب سے افضل قسم ہے ۔۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر ۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ اور صدقہ کی تمام قسموں کا ثواب نیز عبادات مالیہ اور بدنیہ کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے اور اس کی مغفرت اور اس کے درجات کی بلندی کا باعث ہوتا ہے اس کے بارے میں حدیثیں موجود ہیں اور اس پر آثار بھی شاہد ہیں جیسا کہ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور اور ان کے علاوہ دوسروں نے اور کتابوں میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اور میت کی طرف سے غلام آزاد کرنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں اور ان میں سب سے اچھی سند سے جو حدیث ہے اس کو امام نسائی نے سیدنا واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، ہم نے عرض کیا کہ ہمارے ایک ساتھی کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ان کی طرف سے غلام آزاد کر دو اللہ تعالیٰ اس کے ہر ایک عضو کے بدلے میت کے ویسے ہی ایک عضو کو دوزخ سے آزاد کرے گا۔ (التعلیق الممجد) 1 قولہ: فاعتقت عنه عائشة اخته رقاباً كثيرة (ان کی بہن حضرت عائشہ صدیقہ نے ان کی طرف سے بہت سارے غلام آزاد کئے) اور حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ موطا میں فرماتے ہیں، ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ میت کی طرف سے آزاد کئے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر میت نے اس کے لئے وصیت کی تھی تو ولاء اس کا ہوگا اور وصیت نہیں کی تھی تو ولاء آزاد کرنے والے کا ہوگا اور میت کو ثواب ملے گا (انتھیٰ) اور تعلیق ممجد میں ہے کہ زندہ اگر میت کی طرف سے آزاد کر دے اور میت کو اس کا ثواب پہنچائے تو اس کے ثواب پہنچنے میں کوئی شبہ نہیں اگرچہ کہ انتقال کرنے والے نے اس کے لئے وصیت نہ کی ہو۔ ہاں اگر میت کے ذمہ آزاد کرنا یا کوئی صدقہ کرنا واجب تھا اور اس نے وصیت کی تھی تو وصی کے ذمہ اس کے ترکہ کے ایک تہائی حصے میں سے اس کی وصیت پورا کرنا ضروری ہے اور اس سے میت کا اپنی ذمہ داری سے بری ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔ اور میت اگر وصیت نہ کرے اور وصی اپنی طرف سے اس میت کے ذمہ جو کچھ تھا اس کو ادا کر دے اللہ نے چاہا تو ایسی صورت میں بھی میت ذمہ داری سے بری ہو جائے گی۔ یہ اللہ کا فضل و احسان ہے۔12