Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Jihad

Hadith 3921

The Chapter on The Distribution of Spoils and Misappropriation

In this book

Current reading

Jihad

The Chapter on The Distribution of Spoils and Misappropriation

Zujajat al-Masabih 3921Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5309
اُبی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نبیوں میں سے ایک نبی نے جہاد کیا تو قوم سے فرمایا: میرے ساتھ ایسا کوئی شخص نہ آئے جس نے کسی خاتون سے نکاح کیا ہے اور اس کے ساتھ خلوت کرنا چاہتا ہے مگر ابھی اس کے ساتھ خلوت نہیں ہوئی ہے اور نہ ایسا کوئی شخص جس نے گھر بنائے ہیں اور ابھی ان کے چھت نہیں ڈالے اور نہ ایسا کوئی شخص جس نے بکریاں خریدی ہیں یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہیں اور وہ ان کے بچے دینے کا انتظار کر رہا ہے۔ پس انہوں نے جنگ کی اور آبادی سے قریب پہنچ گئے عصر کا یا اس سے قریب وقت تھا۔ انہوں نے سورج سے فرمایا: بے شک تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں۔ اے اللہ تو اس کو ہم پر روک دے پس وہ روک دیا گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی عطا فرمائی۔ پھر انہوں نے مال غنیمت کو جمع کیا تو آئی یعنی آگ اس کو کھانے کے لئے آئی تو وہ اس کو کھائی نہیں تو (اس نبی نے) فرمایا تم میں کوئی خیانت ہے پس ہر قبیلہ میں ایک آدمی میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ پس آپ کے ہاتھ سے ایک آدمی کا ہاتھ چمٹ گیا تو آپ نے فرمایا تم میں خیانت ہے پس اس قبیلہ کے لوگ گائے کے سر کے برابر سونا لے کر آئے اور اس کو رکھ دیا تو آگ آئی اور اس نے اس کو کھالیا۔2 ایک روایت میں یہ زیادہ ہے۔ اموال غنیمت تم سے پہلے کسی کے لئے بھی حلال نہیں کیا گیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اموال غنیمت کو حلال کر دیا۔ اس نے ہماری ناتوانی اور کمزوری کو دیکھا تو اس کو ہمارے لئے حلال کر دیا۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3124 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1747a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

The fire came and consumed it, etc.

(1) The statement: “The fire came and consumed it, etc.”: If you ask: What is the wisdom in the fire consuming their spoils but making them lawful for us? I say: For them, it was to ensure their fighting was not for spoils due to their lack of sincerity. For this nation, spoils were made lawful because sincerity predominates among them, needing no additional incentive. As stated in (‘Umdat al-Qari).

Note 1

قوله

(١)قوله: فجاءت النار فأكلتها إلخ: فإن قلت: ما الحكمة في أكل النار غنائمهم والتحليل لنا؟ قلت: جعل هذا فيحقهم حتى لا يكون قتالهم لأجل الغنيمة؛ لقصورهم في الإخلاص، وأما تحليلها في حق هذه الأمة فلكون الإخلاصغالبًا عليهم، فلم يحتج إلى باعث آخر. كذا في (عمدة القاري).