English
Al-Miswar ibn Makhrama and Marwan ibn al-Hakam (may Allah be pleased with them) narrated: The Prophet (ﷺ) set out in the year of Hudaybiyyah with some thirteen hundred of his Companions. At Dhu al-Hulayfah, he garlanded the sacrificial animals, marked them, 1 and assumed ihram for Umrah. He proceeded until, at the pass descending to them, his she-camel Qaswa knelt. The people said, “Hal, hal! Qaswa has become obstinate!” The Prophet (ﷺ) said: “Qaswa is not obstinate; that is not her nature. Rather, she is held back by the One who held back the elephant.” Then he said: “By the One in whose hand is my soul, they will not ask me for any matter that honors Allah’s sanctities except that I will grant it.” He urged her, and she stood. He diverted from them and encamped at the farthest point of Hudaybiyyah, by a waterhole with little water, which people sipped sparingly until it was depleted. Thirst was reported to the Messenger of Allah (ﷺ), so he drew an arrow from his quiver and ordered them to place it in the hole. By Allah, it gushed with water until they left. While they were there, Budayl ibn Warqa al-Khuza‘i came with a group from Khuza‘ah, followed by Urwah ibn Mas‘ud. The narration continues until Suhayl ibn Amr arrived. The Prophet (ﷺ) said: “Write: This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has agreed upon.” 2 Suhayl said: “By Allah, if we knew you were the Messenger of Allah, we would not have barred you from the House nor fought you. Write: Muhammad ibn Abdullah.” The Prophet (ﷺ) said: “By Allah, I am the Messenger of Allah even if you belie me. Write: Muhammad ibn Abdullah.” Suhayl said: “And that 3 no man from us comes to you, 4 even if on your religion, except you return him to us.” When the agreement was finalized, the Messenger of Allah (ﷺ) told his Companions: “Rise, slaughter, then shave.” 5 Then believing women came, and Allah revealed: “O you who believe, when believing women come to you as emigrants…” [Qur’an 60:10], forbidding their return and ordering the dowry be returned. He returned to Madinah. Abu Basir, a Muslim from Quraysh, came, and they sent two men to retrieve him. He handed him over. They took him until, at Dhu al-Hulayfah, they stopped to eat dates. Abu Basir said to one: “By Allah, your sword looks fine. Let me see it.” He handed it over, and Abu Basir struck him until he died. The other fled to Madinah, entering the mosque running. The Prophet (ﷺ) said: “This man has seen terror.” He said: “By Allah, my companion is killed, and I am next.” Abu Basir arrived, and the Prophet (ﷺ) said: “Woe to his mother, a spark of war! If only he had others.” Hearing this, Abu Basir knew he would be returned, so he fled to Sayf al-Bahr. Abu Jandal ibn Suhayl escaped and joined him. Every Muslim who left Quraysh joined Abu Basir, forming a group. By Allah, whenever they heard of a Quraysh caravan to Sham, they ambushed it, killed them, and took their wealth. Quraysh sent to the Prophet (ﷺ), pleading by Allah and kinship to grant safety to anyone who came to him. The Prophet (ﷺ) sent to them. [Narrated by Bukhari]
At-Tahawi narrated from Al-Miswar: At Hudaybiyyah, the Prophet’s (ﷺ) tent was in the non-sacred area, 6 and his prayer place was in the sanctuary. In (Al-Madarik), regarding “Ask for what you spent” [Qur’an 60:10], this is abrogated, so dowry is not asked from either side. Our scholars said: The treaty with the polytheists to return Muslims coming from them is abrogated per the Hadith: “I am free of any Muslim among polytheists.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٩٦٤ - وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ رضي الله عنه قَالا: خَرَجَ النَّبِيُّ صلي الله عليه واله وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةَ قَلَدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ1وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، وَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَةِ الَتِي يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ،فقَالَ النَّاسُحَلْ حَلْخَلاتِ القَصْوَاءُفَقَال النَّبي صلي الله عليه واله وسلم (مَا خَلاتِ القَصْوَاءُ، وَ مَا ذاك لَهَا يِخْلُقٍ، وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ)، ثُمَّ قَالَ:(وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةًيُعَظَّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا) ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ، فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَبِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ، يَتَبَرّصُهُ النَّاسُ تَبَرُصًا، فَلَمْ يُلَبَّثْهُ النَّاسُ حَتَّى نَزَحُوهُ، وَشُكِيَ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم الْعَطَشُ، فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْيَجْعَلُوهُ فِيهِ، فَوَاللهِ مَا زَالَ يَجِيشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نَفَرٍ مِنْ خُزَاعَةَ، ثُمَّ أَتَاهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُوْدٍ.
وَسَاقَ الْحَدِيْثَ إِلَى أَنْ قَالَ: إِذْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرِو، فَقَالَ التَّبِيُّ صلي الله عليه واله وسلم (اكَتُبْ: هَذَا 2 مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ)، فَقَالَ سُهَيْلٌ: وَاللهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِمَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ، وَلَا قَاتَلْنَاكَ، وَلَكِنْ اكْتُبْ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: فَقَالَ النَبِيُّ صلي الله عليه واله وسلم : (وَاللهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللهِ وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي، اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ)، فَقَالَسُهَيْلٌ: وَعَلَى 3 أَنْ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا4 رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا. فَلَمَّا فَرَغَ مِنْقَضِيَّةِ الْكِتَابِ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم لِأَصْحَابِهِ (قُومُوا فَانْحَرُوا 5 ثُمَّ احْلِقُوا)، ثُمَّ جَاءَهُ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: (يَأَيُّهَاٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ إِذَا جَاءَكُمُ ٱلْمُؤْمِنَٰتُ مُهَٰجِرَاتٍ) الْآيَةَ، فَنَهَاهُمْ اللهُ أَنْ يَرُدُّوهُنَّ، وَأَمَرَهُمْأَنْ يَرُدُّوا الصَّدَاقَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ مُسْلِمٌ،فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ رَجُلَيْنِ، فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ، فَخَرَجَا بِهِ حَتَّى إِذَا بَلَغَا ذَا الْحَلَيْفَةِ نَزَلُوا
يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرِ لَهُمْ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ: وَاللهِ إِنِّي لَأَرَى سَيْفَكَ هَذَا يَا فُلَانُجَيِّدًا، أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ، فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ، وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ، فَدَخَلَ الْمَسجِدَ يَعْدُو. فَقَالَ النَبِيُّ صلي الله عليه واله وسلم :(الَقَدْ رَأْى هَذَا ذُعْرًا)، فَقَالَ: قَدْ قُتِلَ وَاللهِ صَاحِبِيوَإِنِّي لَمَقْتُولُ. فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ، فَقَالَ النَّبِيّ صلي الله عليه واله وسلم : ( وَيْلَ أَمِّهِ، مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ) فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ، فَخَرَجَ حَتَّى أَتَّى سَيْفَ الْبَحْرِ، قَالَ: وَانْفَلَتَ أَبُوجَنْدَلٍ ابْنُ سُهَيْلٍ فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلُ قَدْ أَسْلَمَ إِلَا لَحِقَبِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةُ، فَوَاللهِ مَا يَسْمَعُونَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّأْمِإِلَّا اعْتَرَضُوا لَهَا، فَقَتَلُوهُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ، فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشُ إِلَى النَّبِيِّ وَلِيِّهِ تُنَاشِدُهُ بِاللهِ وَالرَّحِمِ، لَمَّا أَرْسَلَ فَمَنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنٌ، فَأَرْسَلَ النِّبيُ صلي الله عليه واله وسلم إليْهِمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ عَنِ الْمِسْوَرِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم كَانَ بِالْحُدَيْبِيَّةِ خَبْاؤُه 6 فِي الْحِلِّوَمُصَلَّاهُ فِي الحَرَمِ. وَفِي (الْمَدَارِكِ) عِنْدَ قَوْلِهِ تَعَالَى: (وَسْئَلُواْ مَآ أنفَقْتُمْ) هُوَ مَنْسُوْخُ،فَلَمْ يَبْقَ سُؤَالُ الْمَهْرِ، لَا مِنَّا وَلَا مِنْهُمْ، وَقَالَ عُلَمَاؤُنَا: أَمَّا الصُّلْحُ الَّذِيْ وَقَعَ فِي الْقِصَّةِمَعَ الْمُشْرِكِيْنَ عَلَى أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ مَنْ جَاءَ مُسْلِمًا مِنْ عِنْدِهِمْ إِلَى بِلَادِ الْمُسْلِمِيْنَ، فَهُوَمَنْسُوْخٌ عِنْدَنَا، وَإِنَّ نَاسِخَهُ حَدِيْثُ: (أَنَا بَرِيْءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ بَيْنَ مُشْرِكِيْنَ).
اردو
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم سے روایت ہے، ان دونوں نے کہا:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے موقع پر اپنے ایک ہزار سے کچھ زائد صحابہ کے ساتھ روانہ ہوئے،
پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذو الحلیفہ پہنچے تو قربانی کے جانور کو قلادہ ڈالے اور اشعار کئے1
اور وہیں سے عمرہ کا احرام باندھے اور چلے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ اس وادی ثنیہ میں پہنچے
جہاں سے ان کے پاس پہنچا جاتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی تو لوگوں نے اس کو
(اٹھانے کے لئے) ”حل حل“ کہا، قصواء اڑ گئی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ قصواء اڑی ہے اور
نہ ہی یہ اس کی شان ہے، لیکن ہاتھی کو روکنے والے نے اس کو روک دیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ مجھ سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کریں گے
جس میں وہ اللہ کے حرمات کی تعظیم کرتے ہوں، مگر یہ کہ میں ان کو وہ عطاء کر دوں گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے اس کو ہانکا تو تیزی سے کھڑی ہوگئی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے۔ یہاں تک کہ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے کنارے کم پانی والے ایک ایسے چشمہ کے پاس اترے جس کا پانی لوگ تھوڑا تھوڑا
لے رہے تھے، پھر لوگ ٹھہرے نہیں یہاں تک کہ اس کو خالی کر دیئے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں تشنگی کی شکایت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ترکش سے ایک تیر نکالے پھر ان کو حکم فرمایا کہ
وہ اس کو اس میں ڈال دیں، پس اللہ کی قسم وہ (چشمہ کا پانی) ان کے لئے خوب سیرابی کے ساتھ ابلتا رہا۔
یہاں تک کہ وہ اس سے سیراب ہو کر واپس ہوئے، پس وہ اسی حالت پر تھے کہ اتنے میں بدیل بن ورقاء
خزاعی قبیلہ خزاعہ کی ایک جماعت کے ساتھ آیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عروہ بن مسعود حاضر
ہوئے۔ اور امام بخاری نے طویل حدیث کو بیان کیا، یہاں تک کہ انہوں نے کہا: جس وقت سہیل بن عمرو آیا
تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لکھو ”یہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہ نے صلح کی“ 2
تو سہیل نے کہا: اللہ کی قسم اگر ہم یہ بات جانتے اور یقین کرتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم
نہ آپ کو بیت اللہ سے روکتے اور نہ آپ سے جنگ کرتے، بلکہ آپ محمد بن عبداللہ تحریر فرمائیے، انہوں نے کہا:
(راوی نے کہا) پس نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں بے شک اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم مجھے جھٹلاؤ۔
محمد بن عبداللہ تحریر کرو۔ پس سہیل نے کہا: اور اس شرط پر 3
کہ آپ کے پاس ہم میں سے کوئی مرد نہیں آئے گا 4
اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہوگا ضرور آپ اس کو ہماری طرف لوٹا دیں گے۔ پس جب وہ
لکھنے کے مسئلہ سے فارغ ہوئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اٹھو، پس
قربانی دو پھر حلق کرو 5 پھر چند مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی:
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس ایمان والی عورتیں ہجرت کر کے آئیں (65۔ سورہ
ممتحنہ، آیت نمبر:10) پس اللہ تعالیٰ نے ان مسلمان عورتوں کو کفار کی طرف واپس بھیج دینے سے منع
فرمایا اور یہ حکم دیا کہ وہ مہر (سابقہ شوہروں کو) واپس کر دیں 6
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس ہوئے پس قریش کے ایک آدمی ابوبصیر مسلمان ہو کر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پس وہ کفار ان کی طلب میں دو آدمیوں کو روانہ کئے تو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان دو آدمیوں کے حوالہ کیا چنانچہ وہ دونوں ان کو لے کر نکلے یہاں تک کہ جب
وہ دونوں ذوالحلیفہ پہنچے تو وہ اپنے کھجور کھانے کے لئے اترے تو ابوبصیرؓ نے دو آدمیوں میں سے ایک
سے کہا: اے فلاں! اللہ کی قسم بے شک میں تمہاری اس تلوار کو بہت عمدہ دیکھ رہا ہوں، ذرا مجھے دکھاؤ
کہ میں اس کو دیکھوں، پس اس نے ان کو اس کا موقع دیا تو انہوں نے اس کو ضرب لگایا یہاں تک کہ
وہ ٹھنڈا ہوگیا اور دوسرا ان سے بھاگ گیا یہاں تک کہ وہ مدینہ پہنچا اور مسجد میں دوڑتے ہوئے داخل
ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اس نے کوئی خوفناک معاملہ دیکھا ہے۔ چنانچہ اس نے
کہا: اللہ کی قسم میرا ساتھی قتل کر دیا گیا اور ضرور میں بھی قتل کیا جانے والا ہوں۔ پھر ابوبصیر آئے تو نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بہت ہی ہوشیار ہے جنگ کو بھڑکا دے گا، اگر کوئی ان کے لئے
ہو جائے پس جب انہوں نے یہ سنا تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان کے حوالے کر دیں
گے تو وہ نکلے یہاں تک کہ ساحل سمندر پر آ پہنچے، انہوں (یعنی راوی) نے کہا: اور ابوجندل بن سہیلؓ
چھوٹ کر ابوبصیرؓ سے جا ملے اب قریش کا جو کوئی آدمی مسلمان ہو کر نکلتا وہ ابوبصیرؓ سے جا ملتا۔ یہاں
تک کہ ان کی ایک جماعت اکٹھا ہوگئی۔ پس اللہ کی قسم یہ (حضرات) شام کی طرف روانہ ہونے
والے قریش کے جس کسی قافلہ کے بارے میں سنتے اس کے درپے ہو کر ان کو قتل کرتے اور ان کے
اموال لے لیتے۔ پس قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ اور رشتہ داری کا واسطہ دے
کر اپیل کرتے ہوئے روانہ کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس یہ بات روانہ کریں کہ جو آپ
کی خدمت میں آجائے وہ مامون ہو جائے گا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس یہ
بات پہنچا دی۔ (بخاری)۔
امام طحاوی رحمہ اللہ نے مسور رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حدیبیہ میں رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ 7 حل میں تھا اور آپ کا مصلی حرم میں تھا۔
Qur’an-related source paragraphs
Allah, the Exalted, says: “And if they incline to peace, then incline to it and rely upon Allah” [Qur’an 8:61].
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2731 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (14)
Note 1
(1) The statement: “Marked them”: Shafi‘i permits marking, while Abu Hanifah considers it disliked, though permissible per Abu Yusuf and Muhammad, whose view is preferred. At-Tahawi said: Abu Hanifah disliked excessive marking by commoners and Bedouins that risks death, not marking itself, as chosen in (Ghayat al-Bayan) and confirmed in (Fath al-Qadir). As in (Al-Hidayah) and (Bahr ar-Ra’iq).
Note 2
(2) The statement: “This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has agreed upon”: Meaning a treaty, as (Al-Hidayah) states: If the leader sees benefit for Muslims in making a treaty with the enemy or a group, it is permissible.
Note 3
(3) The statement: “That no man from us comes to you”: Ibn al-Humam said: If they stipulate returning Muslims, the condition is void, and we do not return them, per Abu Hanifah and Malik. Shafi‘i says men must be returned, not women, as done at Hudaybiyyah. Women are not returned by consensus, per: “If you know them to be believers, do not return them to the disbelievers” [Qur’an 60:10]. This abrogates returning men too, as there is no difference, and returning Muslims is more harmful. As in (Al-Mirqat).
Note 4
(4) The statement: “From us, a man”: The treaty did not include returning women, as it specifies “a man.” As in (Al-Mirqat).
Note 5
(5) The statement: “Rise, slaughter, then shave”: This shows unblocking requires sacrifice in the sanctuary per Hanafis, as the Prophet (ﷺ) slaughtered at Hudaybiyyah within the sanctuary, per: “If you are prevented, offer what is easy of sacrificial animals, and do not shave your heads until the offering reaches its place” [Qur’an 2:196], and “An offering reaching the Ka‘bah” [Qur’an 5:95], meaning its sanctuary. At-Tahawi’s Hadith confirms his tent was in the non-sacred area, his prayer place in the sanctuary. In (An-Nihayah), Hudaybiyyah is partly in the sanctuary, per Al-Waqidi, aligning with Abu Hanifah. Al-Muhib at-Tabari said Hudaybiyyah is mostly in the sanctuary, nine miles from Makkah, not contradicting Bukhari’s statement that it is outside. As in (Al-Mirqat) and (Sharh Ma‘ani al-Athar). Dowry repayment’s obligation or recommendation is disputed. Some say it is abrogated, per Ata, Mujahid, and Qatadah. Others, including Hanafis, Malik, and Ahmad, say it is not; Shafi‘i has two views. As in (Al-Mirqat) and (Fath al-Qadir).
Note 6
(6) The statement: “His tent was in the non-sacred area, and his prayer place was in the sanctuary”: At-Tahawi said this proves the Prophet (ﷺ) was not barred from the sanctuary and could access part of it. No scholar permits slaughtering outside the sanctuary if one can enter it. Thus, the Prophet (ﷺ) did not slaughter outside, as slaughtering outside is only allowed when barred, not when access is possible. This is the view of Abu Hanifah, Abu Yusuf, and Muhammad.
Note 1
(١) قوله: وأشعروا: عليه الشافعي، وهو مكروه عن أبي حنيفة حسن عندهما، والفتوى على قولهما. وقال الطحاوي:إنما كره أبو حنيفة الإشعار المحدَث الذي يفعل عوام زمانه والأعراب على وجه المبالغة، ويخاف منه السراية إلىالموت، لا مطلق الإشعار، واختاره في(غاية البيان) وصححه. وفي (فتح القدير): أنه الأولى، هذا حاصل ما في(الهداية) و(البحر الرائق).
Note 2
(٢) قوله: هذا ما قاضى عليه محمد رسول اللّٰه إلخ: أي صالح، لذلك قال في (الهداية): وإذا رأى الإمام أن يصالح أهلالحرب أو فريقا منهم، وكان في ذلك مصلحة للمسلمين فلا بأس به.
Note 3
(٣) قوله: وعلى أن لا يأتيك منا رجل : وإن كان على دينك إلا رددته علينا. قال الشيخ ابن الهمام: ولو شرطوا فيالصلح أن يرد إليهم من جاء مسلما منهم بطل الشرط، فلا يجب الوفاء به، فلا يرد عندنا من جاءنا مسلما منه، وهو قول مالك. وقال الشافعي: يجب الوفاء بالرجال دون النساء؛ لأنه صلي الله عليه واله وسلم فعل ذلك في الحديبية، وأما لو شرط مثله فيالنساء لا يجوز ردهن إجماعا. قلنا: قال تعالى:(فَإِنْ عَلْمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ (الممتحنه١٠). وهذا هو دليل النسخ في حق الرجال أيضًا؛ إذ لا فرق بين الرجال والنساء في ذلك، بل مفسدة ردّ المسلم إليهمأكثر. كذا في (المرقاة).
Note 4
(٤) قوله: منا رجل: فيه أن الصلح لم يقع على ردّ النساء؛ لقوله: في هذا الحديث لا يأتيك منا رجل. كذا في (المرقاة).
Note 5
(٥) قوله: قوموا فانخروا ثم احلقوا: فيه أن الإحلال نسك على المحصر وإن له نحر هديه بالحرم عندنا؛ لأن الموضعالذي نحر وافيه بالحديبية من الحرم بدليل قوله تعالى: (فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْيِّ وَلَا تَجْلِقُواْ رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰيَبْلُغَ ٱلْهَدْىُ مَحِلَّةُ) (البقرة: ١٩٦). وقد قال تعالى: (هَدْيًا بَلِغَ الْكَعْبَةِ) (المائدة: ٩٥) أي حرمها، ويؤيدهحديث الطحاوي: أن رسول اللّٰه صلي الله عليه واله وسلم كان بالحديبية خباؤه في الحل ومصلاه في الحرم. وفي (النهاية): الحديبية قريةإليها ينتهي حد الحرم، ومن ذلك الصوب، وهي من الحل، وبعضها من الحرم على ما ذكره الواقدي، وهو الموافقلمذهب أبي حنيفة. وقد قال المحب الطبري: الحديبية قرية قريبة من مكة أكثرها في الحرم، وهي على تسعة أميال من مكة، وهو لا ينافي ما في (صحيح البخاري) أن الحديبية خارج الحرم. أخذته من (المرقاة) و (شرح معاني الآثار) وأمرهم أن يروا الصداق، ولا شك في انفساخ نكاحها، اختلف القول في أن ردّ المهر كان واجبًا أو مندوبًا.واختلفوا في أنه هل يجب العمل به اليوم في رد المال إذا شرط في معاقدة الكفار، فقال قوم: لا يجب، وزعموا أن الآيةمنسوخة، وهو قول عطاء ومجاهد وقتادة. وقال قوم: هي غير منسوخة للشافعي فيه قولان في قول لا يعطان، وهوقولنا وقول مالك وأحمد، وفي قول يعطاه. التقطته من (المرقاة) و(فتح القدير).
Note 6
(٦) قوله: خباؤه في الحل ومصلاه في الحرم: وقال الطحاوي: فثبنت بما ذكرنا أن النبي صلي الله عليه واله وسلم لم يكن صد عن الحرم، وأنهكان يصل إلى بعضه، ولا يجوز في قول أحد من العلماء لمن قدر على دخول شيء من الحرم أن ينحر هديه دون الحرم، فلماثبت بالحديث الذي ذكرنا: أن النبي صلي الله عليه واله وسلم كان يصل إلى بعض الحرم استحال أن يكون نحر الهدي في غير الحرم؛ لأنالذي يبح نحر الهدى في غير الحرم إنما يبيحه في حال الصد عن الحرم، لا في حال القدرة على دخوله فانتفى بما ذكرنا أنيكون النبي صلي الله عليه واله وسلم نحر الهدي في غير الحرم. وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد.
Note 1
2 قولہ: هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله الخ (یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول ﷺ نے مصالحت کی) صاحب ہدایہ نے کہا اور جب دار الحرب کے باشندوں کے ساتھ یا ان کے کسی گروہ کے ساتھ امام صلح کرنا مناسب سمجھے اور اس میں مسلمانوں کا فائدہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ 3 قولہ: و على ان لا ياتيك منا رجل و ان كان على دينك۔ ”اور اس شرط پر کہ ہم میں سے کوئی آدمی آپ کے پاس نہیں آئے گا اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہو مگر ضرور آپ اس کو ہماری طرف لوٹا دیں گے“، شیخ ابن ہمام نے کہا: اور اگر وہ لوگ صلح میں یہ شرط لگائیں کہ ان میں سے جو شخص مسلمان ہو کر آ جائے اس کو ان کے حوالے کر دیا جائے تو شرط باطل ہوگی اور اس کو پورا کرنا واجب نہیں ہوگا۔ پس ہم حنفیہ کے نزدیک ان میں سے جو شخص مسلمان ہو کر، ہمارے پاس آ جائے اس کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ اور یہی امام مالک کا قول ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: مردوں سے متعلق شرط کو پورا کرنا واجب ہے، عورتوں سے متعلق پورا کرنا نہیں ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ایسا ہی کیا، البتہ اگر ایسی شرط عورتوں کے بارے میں لگائی جائے تو ان کو واپس بھیج دینا بالاتفاق جائز نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ“۔ ”تو اگر تم کو معلوم ہو جائے کہ وہ ایمان والی ہیں تو ان کو کافروں کے پاس واپس نہ لوٹاؤ“۔ (65-سورہ ممتحنہ، آیت نمبر:10)۔ اور یہ مردوں کے حق میں بھی نفی کی دلیل ہے کیونکہ اس سلسلہ میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ مسلمان مرد کو ان کی طرف واپس بھیجنے کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ (مرقات)۔ 4 قوله: منا رجل ”ہم میں سے کوئی مرد“ اس میں یہ دلیل ہے ہے کہ عورتوں کو واپس کرنے پر صلح واقع نہیں ہوئی، اس لئے کہ اس حدیث میں ”لاياتيك منا رجل“ ”ہم میں سے کوئی مرد آپ کے پاس نہیں آئے گا“ وارد ہوا ہے۔ (مرقاۃ)۔ 5 ”قوله: قوموا فانحروا ثم احلقوا فيه الخ“ ”اٹھو پس قربانی دو پھر حلق کرو“ اس میں یہ مسئلہ ہے کہ احرام کھولنے کے لئے محصر پر قربانی واجب ہے اور یہ کہ اس کے لئے اپنی قربانی کا جانور حرم میں ذبح کرنا ہے، کیونکہ ہمارے پاس حدیبیہ کی وہ جگہ جس میں انہوں نے قربانی دی حرم میں داخل ہے، جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ”فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ“۔ ”پھر اگر تم راستہ میں] روک دیئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو کر دو اور جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے اپنے سر نہ منڈاؤ“۔ (2۔ سورۃ البقرۃ، آیت نمبر:196) و نیز اللہ تعالیٰ کا یہ قول: ”هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ“۔ ”یہ قربانی کعبہ تک پہنچائی جائے“۔ (5۔ سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:95) یعنی اس کے حرم تک اور اس کی تائید طحاوی کی یہ حدیث کرتی ہے کہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ حل میں تھا، اور آپ کے نماز پڑھنے کی جگہ حرم میں تھی اور نہایہ میں ہے حدیبیہ وہ بستی ہے جہاں حرم کی حد اس سمت ختم ہوتی ہے اور یہ ”حل“ کا حصہ ہے اور اس کا بعض حصہ حرم سے ہے جیسا کہ واقدی نے اس کو ذکر کیا ہے اور یہ امام ابو حنیفہ کے مذہب کے موافق ہے اور محب طبری نے کہا: حدیبیہ مکہ کے قریب ایک بستی ہے جس کا اکثر حصہ حرم میں داخل ہے اور وہ مکہ سے نو میل کی مسافت پر ہے۔ اور یہ اس بات کے خلاف نہیں ہے جو صحیح بخاری میں ہے کہ حدیبیہ حرم کے باہر ہے۔ (ماخوذ از مرقاۃ، شرح معانی الآثار)۔ 6 قولہ: و امرهم ان يردوا الصداق ”اور اس نے ان کو یہ حکم دیا کہ وہ مہر واپس کر دیں“ اور اس عورت کا نکاح فسخ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا مہر کا واپس کرنا واجب تھا یا مستحب۔ اور اس بارے میں بھی اختلاف ہے کہ آیا آج بھی مال (مہر) کو واپس کرنا واجب العمل ہے، جب کفار کے معاہدہ میں اس کی شرط لگائی جائے۔ چنانچہ ایک جماعت نے کہا واجب نہیں ہے اور انہوں نے یہ سمجھا کہ آیت منسوخ ہے اور یہ عطاء اور مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ اور ایک جماعت نے کہا وہ منسوخ نہیں ہے، امام شافعیؒ کے اس میں دو قول ہیں۔ ایک قول میں ہے کہ وہ اس کو نہیں دیا جائے گا اور یہ ہمارا، امام مالک کا اور امام احمد کا قول ہے اور ایک قول میں ہے کہ وہ اس کو دے دیا جائے گا۔ (ماخوذ از مرقاۃ و فتح القدیر)۔ 7 (1) قوله : خباءه فى الحل و مصلاه فى الحرم الخ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ حل میں اور آپ کا مصلی حرم میں تھا“ اور امام طحاوی نے فرمایا: پس ہم نے جو ذکر کیا ہے اس سے یہ ثابت ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے باہر روکے نہیں گئے تھے اور آپ حرم کے ایک حصے میں پہنچ گئے تھے اور کسی بھی عالم کے قول میں اس شخص کے لئے جو حرم کے کسی حصے میں داخل ہونے کی قدرت رکھتا ہے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے قربانی کے جانور کو حرم کے باہر ذبح کرے۔ پس جب اس حدیث سے جسے ہم نے ذکر کیا یہ ثابت ہوگیا کہ حرم کے ایک حصے تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ہو رہی تھی تو آپ کا قربانی کے جانور کو غیر حرم میں ذبح کرنا محال ہے کیونکہ جو لوگ غیر حرم میں قربانی کے جانور کے ذبح کو جائز قرار دیتے ہیں وہ صرف حرم سے روک دیئے جانے کی حالت میں اس کو جائز قرار دیتے ہیں اس میں داخل ہونے کی قدرت کی حالت میں نہیں۔ پس ہم نے جو بیان کیا ہے اس سے اس بات کی نفی ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے باہر قربانی کے جانور کو ذبح کئے اور امام ابوحنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کا قول ہے۔ 8 قوله: صالح النبي صلى الله عليه وسلم المشركين يوم الحديبية على ثلاثة اشياء الخ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن مشرکین سے تین چیزوں پر مصالحت فرمائی“۔ شیخ ابن ہمامؒ نے کہا: اگر دشمن مسلمانوں کا محاصرہ کر لیں اور مال پر صلح کرنے کا مطالبہ کریں کہ جس کو مسلمان انہیں ادا کریں تو امام اس طرح کی صلح نہیں کرے گا، کیونکہ اس میں ایک قسم کی ذلت ہے اور مومن کے لئے اپنے آپ کو ذلیل کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ عزت ایمان کی خاصیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ“ (63۔ سورۃ المنافقون، آیت نمبر:8) مگر جب امام اپنے آپ پر اور مسلمانوں پر ہلاکت کا اندیشہ کرے تو ایسی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Note 2
اور تفسیر مدارک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”وَسْئَلُوا مَا أَنْفَقْتُمْ“۔ (65۔ سورۃ ممتحنہ، آیت نمبر:10) ”اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہے وہ ان سے طلب کرلو“ کے بارے میں ہے کہ وہ منسوخ ہے، پس مہر کا مطالبہ باقی نہ رہا نہ ہم سے اور نہ ان سے اور ہمارے علماء نے کہا: جہاں تک اس صلح کی بات ہے جو (حدیبیہ کے) کے قصہ میں مشرکین کے ساتھ اس بات پر واقع ہوئی کہ ان کو وہ شخص واپس کر دیا جائے گا جو ان کے پاس سے مسلمان ہو کر مسلمانوں کے ملک کو آجائے تو وہ ہمارے پاس منسوخ ہے اور اس کی ناسخ یہ حدیث ہے: ”انا بريء من كل مسلم بين مشركين“ ”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان میں ہے“