Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Medicine and Healing Charms

Hadith 4428

(باب الفأل والطیرۃ ختم ہوا)

In this book

Current reading

Medicine and Healing Charms

(باب الفأل والطیرۃ ختم ہوا)

Zujajat al-Masabih 4428Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5968Noor 5969
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ اُلّو کی نحوست ہے اور نہ بیماری متعدی ہے اور نہ بدفالی ہے۔ اور شگونِ بد اگر کسی چیز میں ہوتا تو گھر میں اور گھوڑے میں اور عورت میں ہوتا۔ (ابوداؤد) سعید بن مسیّبؒ سے روایت ہے کہ میں نے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بدشگونی لینے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مجھے جھڑک دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: شگونِ بد کوئی چیز نہیں ہے۔ اور اگر شگونِ بد کسی چیز میں ہوتا تو عورت میں گھر میں اور گھوڑے میں ہوتا۔ (طحاوی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3921 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور شرح معانی الآثار میں ہے کہ: پس اس حدیث میں یہ ہے کہ جس وقت کہ سعیدؒ نے سیدنا سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بدشگونی کا ذکر کیا تو انہوں نے ان کو جھڑک دیا اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شگونِ بد کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: اگر کسی چیز میں شگون بد ہوتا تو عورت میں، گھوڑے میں اور گھر میں ہوتا‘‘ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں بتایا کہ وہ واقعی ان میں ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے تو صرف فرمایا کہ اگر وہ کسی چیز میں ہوتا تو ان میں ہوتا یعنی اگر اس کا وجود ہوتا تو ضرور وہ ان اشیاء میں پایا جاتا۔ پس جب ان تینوں میں ہی اس کا وجود نہیں ہے تو پھر کسی چیز میں اس کا وجود نہیں ہے۔ اور سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں جو کلام فرمایا، اس کے کلمات اس طرح نہیں ہیں۔ اس لئے کہ ابو حسان کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عامر کے دو آدمی سیدتنا عائشہؓ کے پاس آئے اور بیان کیا کہ ابو ہریرہؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں شگون بد ہے‘‘ تو وہ غصہ ہوئیں اور ان کا ایک بازو آسمان میں اور ایک بازو زمین میں چلا گیا۔ اور وہ کہنے لگیں: قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد ﷺ پر قرآن کو نازل کیا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کبھی نہیں فرمائی، آپ ﷺ نے تو یہ فرمایا: ’’اہل جاہلیت ان اشیاء سے بدفالی لیا کرتے تھے‘‘۔ پس سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں یہ فرمایا کہ اہل جاہلیت ان چیزوں سے شگون بد لیتے تھے۔