English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: A man from the desert named Zahir ibn Haram would bring gifts to the Prophet (ﷺ) from the desert, and the Messenger of Allah (ﷺ) would equip him when he wished to leave. The Prophet (ﷺ) said, “Zahir is our desert, and we are his city.” The Prophet (ﷺ) loved him, though he was unattractive. One day, the Prophet (ﷺ) came to him while he was selling his goods and embraced him from behind, so he could not see him. He said, “Let me go, who is this?” He turned and recognized the Prophet (ﷺ), then kept his back pressed against the Prophet’s chest once he knew him. The Prophet (ﷺ) began saying, “Who will buy this slave?” He said, “O Messenger of Allah, by Allah, you will find me unsellable.” The Prophet (ﷺ) said, “But with Allah, you are not unsellable.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٦٩٢ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرَ بْنَ حَرَامٍ، وَكَانَ يُهْدِي لِلنَّبِيِّ ﷺ مِنَ الْبَادِيَةِ، فَيُجْهِزُهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُحِبُّهُ، وَكَانَ دَمِيمًا. فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ، فَقَالَ: أَرْسِلْنِي، مَنْ هَذَا؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ ﷺ فَجَعَلَ لَا يَأْلُوْ مَا أَلْزَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ ﷺ حِيْنَ عَرَفَهُ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُوْلُ: «مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ : لَكِنْ عِنْدَ اللهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ». رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6281
انہی سے روایت ہے کہ جنگل کے رہنے والوں میں سے ایک کا نام
زاہر بن حرام تھا اور وہ نبی اکرم ﷺ کو اپنے گاؤں کی چیزیں ہدیہ پیش کرتے تھے اور رسول اللہ
ﷺ بعض چیزیں ان کیلئے تیار کر کے دیتے تھے اور جب وہ اپنے گاؤں کو جانے کا ارادہ کرتے،
پس نبی اکرم ﷺ فرماتے کہ زاہر ہمارا جنگل ہے، اور ہم ان کے لئے شہری ہیں اور نبی اکرم ﷺ
ان کو چاہتے تھے اور وہ دمیم یعنی کالے کلوٹے پست قد تھے، ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف
لائے وہ اپنا سامان بیچ رہے تھے تو آپ ان کے پیچھے سے ان کو بازو میں لے لئے اور وہ آپ کو
نہیں دیکھ رہے تھے اور کہنے لگے مجھے چھوڑ دو یہ کون صاحب ہیں، پس جب وہ پلٹے تو نبی اکرم
ﷺ کو پہچان لئے اور جب پہچان لئے تو اپنی پیٹھ کو نبی اکرم ﷺ کے سینہ سے چمٹانے میں کوئی
کوتاہی نہیں کرنے لگے اور نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے کون خریدے گا (اس) غلام کو تو وہ کہنے
لگے یا رسول اللہ! تب تو خدا کی قسم آپ مجھے کھوٹا پائیں گے تو نبی اکرم ﷺ ارشاد فرمائے: بلکہ تم
اللہ کے پاس کھوٹے نہیں ہو۔ (شرح السنہ)۔