Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (ﷺ) said: “Do not argue with your brother, do not jest with him 1, and do not make a promise to him then break it.”
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے
روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تو اپنے بھائی سے جھگڑا مت کر اور نہ اُس3 سے مذاق
کر اور نہ اس سے کوئی ایسا وعدہ مت کر کہ تو اس کے خلاف کرے (ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1995 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Chapter-heading commentary
let not a people ridicule
(1) His statement: “let not a people ridicule”: Know that joking is lighthearted interaction with others without causing harm. If it reaches the point of harm, it becomes mockery. [As stated in Al-Mirqat]
and do not call each other by [offensive] nicknames
(2) His statement: “and do not call each other by [offensive] nicknames”: Some scholars said that the nicknames meant here are those the person dislikes or that imply criticism. Nicknames that have become like proper names, such as Al-A’mash or Al-A’raj and the like, are permissible if the person does not dislike them. Nicknames that bring praise and are true are not disliked, such as Abu Bakr being called Atiq, Umar called Al-Faruq, Uthman called Dhu An-Nurayn, Ali called Abu Turab, Khalid called the Sword of Allah, and so forth. [As stated in Al-Khazin]
Note 1
do not jest with him
(1) His statement: “do not jest with him”: An-Nawawi said: The prohibited joking is that which is excessive and habitual, as it leads to laughter, hardens the heart, distracts from Allah’s remembrance and reflection on religious matters, often causes harm, breeds resentment, and diminishes dignity and respect. However, joking that is free from these issues is permissible, as the Messenger of Allah (ﷺ) did so rarely for a beneficial purpose, to comfort the person addressed or show kindness, which is a recommended Sunnah. Know this, as it is greatly needed. [As stated in Al-Mirqat]
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله : لا يسخر إلخ : اعلم أن المزاح انبساط مع الغير من غير إيذاء، فإن بلغ الإيذاء يكون سخرية. كذا في «المرقاة».
قوله
(۲) قوله: ولا تنابزوا بالألقاب وقال بعض العلماء: المراد بهذه الألقاب ما يكرهه المنادى به أو يفيد ذما له، فأما الألقاب التي صارت كالأعلام لأصحابها، كالأعمش والأعرج وما أشبه ذلك، فلا بأس بها إذا لم يكرهها المدعو بها، وأما الألقاب التي تكسب حمدا ومدحا وتكون حقا وصدقا فلا تكره، كما قيل لأبي بكر: عتيق، ولعمر الفاروق ولعثمان ذو النورين، ولعلي: أبو تراب، والخالد سيف الله، ونحو ذلك. كذا في «الخازن».
Note 1
قوله
(۱) قوله: ولا تمازحه : قال النووي: اعلم أن المزاح المنهي عنه هو الذي فيه إفراط ويداوم عليه؛ فإنه يورث الضحك وقسوة القلب، ويشغل عن ذكر الله والفكر في مهمات الدين، ويؤول في كثير من الأوقات إلى الإيذاء ويورث الأحقاد، ويسقط المهابة والوقار، فأما ما سلم من هذه الأمور فهو المباح الذي كان رسول الله لا يفعله على الندرة المصلحة تطييب نفس المخاطب ومؤانسته، وهو سنة مستحبة، فاعلم هذا؛ فإنه مما يعظم لاحتياج إليه. كذا في «المرقاة».
Note 1
1 قوله: لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ (نہ مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہئے) جان لو کہ دوسرے کے ساتھ ایسی دل آزاری کے بغیر بے تکلف ہونا خوش
طبعی کرنا ”مزاح“ ہے۔ پس اگر وہ دل آزاری کی حد کو پہنچ جائے تو وہ ”سخریۃ“ (ٹھٹھا) ہے۔ (مرقات)۔
2 قوله: ”وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ“ (الحجرات، آیت:11) (اور تم ایک دوسرے کو برے القاب سے مت پکارو) بعض علماء کہتے ہیں
کہ ان القاب سے ایسے نام مراد ہیں جن کو اُن سے بلایا جانے والا ناپسند کرتا ہو یا اُن میں اس کی مذمت و تنقیص ہو۔ اب رہا وہ القاب جو اُن
سے ملقب اشخاص کے علم کے درجہ میں آگئے ہیں: جیسے اعمش (چندھی آنکھ والا) (کمزور نگاہ والا)، اعرج (لنگڑا) اور اس جیسے القاب
تو ان میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ ان سے پکارا جانے والا شخص ان کو ناپسند نہ کرتا ہو۔
رہے وہ القاب جو تعریف و ستائش کے معنی رکھتے ہوں اور ان میں حقیقت و صداقت بھی ہو تو وہ مکروہ نہیں ہیں، چنانچہ حضرت
ابوبکر رضی اللہ عنہ کو عتیق، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابوتراب
اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو سیف اللہ اور اس جیسے القاب کہا گیا ہے (خازن)۔
3 قوله: ولا تمازحه (اور نہ اس سے مذاق کر) امام نووی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں جان لو کہ جس مذاق میں افراط اور زیادتی ہو اور
ہمیشہ کیا جائے تو وہ منع ہے، کیونکہ وہ ہنسی اور سنگدلی کا باعث ہے اور اللہ کی یاد اور دینی اہم امور میں غور و فکر سے غافل کرتا ہے، اور نتیجہ میں
عموماً دل شکنی ہوتی ہے، اور کینہ و کدورت کا سبب بنتا ہے، اور رعب و وقار کو گھٹاتا ہے۔ ہاں وہ مذاق جو ان باتوں سے پاک ہو تو وہ مباح
ہے، جو کہ بسا اوقات رسول اللہ ﷺ مخاطب کی خوش دلی اور اس کو مانوس کرنے کے لئے کیا کرتے تھے۔ اور یہ سنت مستحبہ ہے۔ پس تم اس
کو یاد رکھو، کیونکہ یہ اُن امور میں سے ہے جس کی ضرورت زیادہ ہے۔ (مرقات)۔
1 قوله: انك تداعبنا (آپ ہم سے خوش طبعی کی باتیں کرتے) الملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ظاہر بات یہ ہے کہ اُن کے
سوال کا منشا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تو اُن کو مذاق سے منع فرمایا۔ اھ
اور عصام رحمۃ اللہ علیہ نے ”شرح شمائل“ میں کہا: گویا کہ وہ لوگ خوش طبعی کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ آپ کی
خصوصیات میں سے ہے اس میں آپ کی اقتداء نہیں کی جاسکتی؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا کہ میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔
لہذا جو شخص حق گوئی کی پابندی اور جھوٹ سے پرہیز کرتا ہے اور رعب و وقار کو باقی رکھتا ہے تو اُس کے لئے خوش طبعی جائز ہے۔
2 قوله: ما فعل النغير (نغیر (لال چڑیا) نے کیا کیا؟) امام اعظم ابوحنیفہ، ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ نے فرمایا: مدینہ منورہ کے حرم کا
حکم اُس طرح کا نہیں ہے جیسا کہ مکہ مکرمہ کا ہے، اس لئے یہاں کے شکار کو پکڑنے اور یہاں کے درخت کو کاٹنے سے کسی کو منع نہیں کیا جائے
گا۔ چنانچہ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان (ائمہ) کے مذہب کے لئے اس حدیث سے استدلال کیا ہے، کیونکہ ابوعمیر رضی اللہ عنہ نے نغیر
(لال چڑیا) کو مدینہ منورہ سے پکڑا تھا۔
اور امام شافعی، امام مالک، امام احمد رحمہم اللہ نے فرمایا کہ حرم مدینہ حرم مکہ کی طرح ہے۔ (ماخوذ از عرف شذی)۔
3 قوله: وهل تلد الابل الا النوق (اونٹ کو سوائے اونٹنیوں کے کوئی دوسرا نہیں جنتا) مطلب یہ ہے کہ اگر تم غور کرتے تو یہ بات نہ
کہتے، کیونکہ ہر اونٹ اونٹنی کا بچہ ہوتا ہے۔ بس اس حدیث میں خوش مزاجی کے ساتھ ساتھ اس شخص کی اور اس کے سوا دوسرے کے لئے اس
بات کی طرف رہنمائی کا اشارہ ہے کہ جو شخص کسی بات کو سنتا ہے تو چاہئے کہ وہ اس میں غور کرے، اور اس میں غور کرنے سے پہلے فوراً اس کا انکار
نہ کرے۔ (ماخوذ از مرقات)۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ صحابہ
کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ آپ ہم سے خوش طبعی کی باتیں کرتے1 ہیں، تو
آپ نے فرمایا: میں سوائے سچی بات کے نہیں بولتا۔ (ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1990 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
you jest with us
(1) His statement: “you jest with us”: Ali Al-Qari said: The apparent reason for their question was that he prohibited them from jesting. Issam, in Sharh Ash-Shamail, said: It is as if they asked whether jesting was exclusive to him, not to be emulated. He responded, “I only speak the truth,” meaning one who maintains truthfulness, avoids lying, and preserves dignity and respect may jest.
Note 1
قوله
(۱) قوله: إنك تداعبنا : قال علي القاري والأظهر أن منشأ سؤالهم أنه لا نهاهم عن المزاح.
وقال عصام في شرح الشمائل»: كأنهم قصدوا السؤال عن المداعبة هل هي من خصائصه فلا يقتدى به فيها، فأجاب بأني لا أقول إلا حقا، فمن حافظ على قول الحق وتجنب الكذب وإبقاء المهابة والوقار فله أن يمزح.
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) would interact with us to the extent that he would say to my young brother, “O Abu Umair, what has the little bird done? 1” He had a little bird he played with, and it died.
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ نبی اکرم ﷺ
ہم میں گھل مل کر رہتے تھے یہاں تک کہ میرے ایک چھوٹے بھائی سے فرماتے: اے ابوعمیر نغیر2 نے کیا
کیا اور ان کے پاس ایک نغیر (لال چونچ کا ایک پرندہ) تھا جس سے وہ کھیلتے تھے اور وہ مر گیا۔ (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6129 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2150a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
what has the little bird done
(1) His statement: “what has the little bird done”: Abu Hanifah, Abu Yusuf, and Muhammad said there is no sanctuary for Madinah as there is for Makkah, so no one is prevented from hunting its game or cutting its trees. At-Tahawi supported their view with this Hadith, as Abu Umair took the little bird from Madinah. Ash-Shafi’i, Malik, and Ahmad said the sanctuary of Madinah is like that of Makkah. [As stated in Al-Urf Ash-Shadhi]
Note 1
قوله
(۱) قوله : ما فعل النغير: قال أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد ليس للمدينة حرم كما كان لمكة، فلا يمنع أحد من أخذ صيدها وقطع شجرها، فتمسك الطحاوي لمذهبهم بهذا الحديث؛ لأن أبا عمير أخذ النغير (لال چڑيا) من المدينة.
وقال الشافعي ومالك وأحمد: إن حرم المدينة كحرم مكة. أخذته من «العرف الشذي».
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: A man asked the Messenger of Allah (ﷺ) for a mount. He said, “I will let you ride the foal of a she-camel.” The man said, “What would I do with the foal of a she-camel?” The Messenger of Allah (ﷺ) said, “Do camels give birth to anything but she-camels? 1”
انہی سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ سے سواری طلب کیا،
تو آپ نے فرمایا: میں تمھکو سواری کے لئے اونٹنی کا بچہ دوں گا تو اس نے کہا: میں اونٹنی کا بچہ لے کر کیا کروں
گا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اونٹ کو سوائے اونٹنیوں کے کوئی دوسرا تو نہیں3 جنتا۔ (ترمذی، ابوداؤد)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Do camels give birth to anything but she-camels?
(1) His statement: “Do camels give birth to anything but she-camels?”: The meaning is that if you had reflected, you would not have said that, as every camel is born from a she-camel. This combines kindness with guidance for him and others, indicating that one should reflect on a statement before rejecting it until its depth is understood. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: وهل تلد الإبل إلا النوق والمعنى أنك لو تدبرت لم تقل ذلك؛ لأن كل إبل ولد الناقة، ففيه مع المباسطة له الإشارة إلى إرشاده وإرشاد غيره بأنه ينبغي لمن سمع قولا أن يتأمله، ولا يبادر إلى رده إلا بعد أن يدرك غوره. أخذته من «المرقاة».
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said to an elderly woman, “An old woman does not enter Paradise.” She said, “What is wrong with them?” She was one who recited the Qur’an, so he said to her, “Do you not recite the Qur’an: Indeed, We will recreate them anew and make them virgins [Al-Waqi’ah: 35-36]?”
انہی سے روایت ہے وہ حضور اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم
ﷺ نے ایک بوڑھی عورت سے فرمایا: کوئی بوڑھی عورت جنت میں نہیں جائے گی تو اُس نے کہا: کیوں
ان کو کیا ہوا؟ وہ (بوڑھی) قرآن پڑھتی تھی تو آپ نے اس سے فرمایا: کیا تم قرآن میں نہیں پڑھتی: ”
ان کو (جنت کی عورتوں کو) اچھی طرح بنایا اور ان کو کنواریاں بنایا ہے۔ (رزین)۔
اور کتاب شرح السنہ میں مصابیح کے لفظ کے ساتھ ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: A man from the desert named Zahir ibn Haram would bring gifts to the Prophet (ﷺ) from the desert, and the Messenger of Allah (ﷺ) would equip him when he wished to leave. The Prophet (ﷺ) said, “Zahir is our desert, and we are his city.” The Prophet (ﷺ) loved him, though he was unattractive. One day, the Prophet (ﷺ) came to him while he was selling his goods and embraced him from behind, so he could not see him. He said, “Let me go, who is this?” He turned and recognized the Prophet (ﷺ), then kept his back pressed against the Prophet’s chest once he knew him. The Prophet (ﷺ) began saying, “Who will buy this slave?” He said, “O Messenger of Allah, by Allah, you will find me unsellable.” The Prophet (ﷺ) said, “But with Allah, you are not unsellable.”
انہی سے روایت ہے کہ جنگل کے رہنے والوں میں سے ایک کا نام
زاہر بن حرام تھا اور وہ نبی اکرم ﷺ کو اپنے گاؤں کی چیزیں ہدیہ پیش کرتے تھے اور رسول اللہ
ﷺ بعض چیزیں ان کیلئے تیار کر کے دیتے تھے اور جب وہ اپنے گاؤں کو جانے کا ارادہ کرتے،
پس نبی اکرم ﷺ فرماتے کہ زاہر ہمارا جنگل ہے، اور ہم ان کے لئے شہری ہیں اور نبی اکرم ﷺ
ان کو چاہتے تھے اور وہ دمیم یعنی کالے کلوٹے پست قد تھے، ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف
لائے وہ اپنا سامان بیچ رہے تھے تو آپ ان کے پیچھے سے ان کو بازو میں لے لئے اور وہ آپ کو
نہیں دیکھ رہے تھے اور کہنے لگے مجھے چھوڑ دو یہ کون صاحب ہیں، پس جب وہ پلٹے تو نبی اکرم
ﷺ کو پہچان لئے اور جب پہچان لئے تو اپنی پیٹھ کو نبی اکرم ﷺ کے سینہ سے چمٹانے میں کوئی
کوتاہی نہیں کرنے لگے اور نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے کون خریدے گا (اس) غلام کو تو وہ کہنے
لگے یا رسول اللہ! تب تو خدا کی قسم آپ مجھے کھوٹا پائیں گے تو نبی اکرم ﷺ ارشاد فرمائے: بلکہ تم
اللہ کے پاس کھوٹے نہیں ہو۔ (شرح السنہ)۔
Nu’man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) narrated: Abu Bakr sought permission to enter upon the Prophet (ﷺ) and heard Aishah’s voice raised. When he entered, he reached for her to strike her, saying, “Do I not see you raising your voice to the Messenger of Allah (ﷺ)?” The Prophet (ﷺ) restrained him, and Abu Bakr left angrily. The Prophet (ﷺ) said after Abu Bakr left, “How did you find me saving you from the man?” Abu Bakr stayed away for a few days, then sought permission again and found them reconciled. He said to them, “Include me in your peace as you included me in your conflict.” The Prophet (ﷺ) said, “We have done so, we have done so.”
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آنے کی اجازت طلب کی، حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا کی آواز بلند ہوتے سنا، جب داخل ہوئے تو ان کو پکڑ لیا تا کہ ان کو طمانچہ ماریں،
اور کہا: میں تم کو رسول اللہ ﷺ پر اپنی آواز بلند کرتے ہوئے نہیں دیکھوں گا۔ اور نبی اکرم ﷺ
ان کو روکنے لگے اور حضرت ابوبکر ناراض ہو کر چلے گئے۔ جس وقت حضرت ابوبکر چلے گئے نبی
اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نے مجھے دیکھا میں کس طرح تم کو ان صاحب سے چھڑایا، راوی نے کہا:
حضرت ابوبکر چند دن رکے رہے پھر آپ آنے کی اجازت لئے تو ان دونوں کو پایا کہ وہ دونوں
صلح کئے ہوئے ہیں۔ تو دونوں سے کہا: مجھے بھی اپنی صلح میں داخل کرلو جس طرح اپنی لڑائی میں
داخل کئے تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک ہم نے کرلیا، ہم نے کرلیا۔ (ابوداؤد)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
O you with the two ears
(1) His statement: “O you with the two ears”: In Al-Madarij, it is said: The prohibited nicknaming is that which the person dislikes, as it implies a shortcoming or criticism. If the person likes it, there is no harm in it.
Note 1
قوله
(۱) قوله : قال له : يا ذا الأذنين : قال في المدارك»: والتلقيب المنهي عنه هو ما يتداخل المدعو به كراهة؛ لكونه تقصيرا به وذما له، فأما ما يحبه فلا بأس به.
Awf ibn Malik Al-Ashja’i (may Allah be pleased with him) narrated: I came to the Messenger of Allah (ﷺ) during the Tabuk expedition while he was in a leather tent. I greeted him, and he responded, saying, “Enter.” I said, “All of me, O Messenger of Allah?” He said, “All of you,” so I entered. Uthman ibn Abi Al-Atikah said: He said, “Enter, all of me,” due to the small size of the tent.
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں
نے کہا: کہ میں جنگ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ چمڑے کے ایک
ڈیرے میں تھے میں نے سلام عرض کیا تو آپ نے جواب دیا اور فرمایا: اندر آجاؤ، تو میں نے عرض
کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا میں پورا (آجاؤں) آپ نے فرمایا: تم پورے (آجاؤ) میں داخل
ہوگیا عثمان بن ابی العاتکہ نے کہا: انہوں نے یہ جو کہا ”کیا میں پورا آجاؤں“ تو پس وہ ڈیرے
کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے تھا۔ (ابوداؤد)۔
Commentary and footnotes (7)
Chapter-heading commentary
(1) His statement: “let not a people ridicule”: Know that joking is lighthearted interaction with others without causing harm. If it reaches the point of harm, it becomes mockery. [As stated in Al-Mirqat]
(2) His statement: “and do not call each other by [offensive] nicknames”: Some scholars said that the nicknames meant here are those the person dislikes or that imply criticism. Nicknames that have become like proper names, such as Al-A’mash or Al-A’raj and the like, are permissible if the person does not dislike them. Nicknames that bring praise and are true are not disliked, such as Abu Bakr being called Atiq, Umar called Al-Faruq, Uthman called Dhu An-Nurayn, Ali called Abu Turab, Khalid called the Sword of Allah, and so forth. [As stated in Al-Khazin]
Note 1
(1) His statement: “do not jest with him”: An-Nawawi said: The prohibited joking is that which is excessive and habitual, as it leads to laughter, hardens the heart, distracts from Allah’s remembrance and reflection on religious matters, often causes harm, breeds resentment, and diminishes dignity and respect. However, joking that is free from these issues is permissible, as the Messenger of Allah (ﷺ) did so rarely for a beneficial purpose, to comfort the person addressed or show kindness, which is a recommended Sunnah. Know this, as it is greatly needed. [As stated in Al-Mirqat]
Chapter-heading commentary
(۱) قوله : لا يسخر إلخ : اعلم أن المزاح انبساط مع الغير من غير إيذاء، فإن بلغ الإيذاء يكون سخرية. كذا في «المرقاة».
(۲) قوله: ولا تنابزوا بالألقاب وقال بعض العلماء: المراد بهذه الألقاب ما يكرهه المنادى به أو يفيد ذما له، فأما الألقاب التي صارت كالأعلام لأصحابها، كالأعمش والأعرج وما أشبه ذلك، فلا بأس بها إذا لم يكرهها المدعو بها، وأما الألقاب التي تكسب حمدا ومدحا وتكون حقا وصدقا فلا تكره، كما قيل لأبي بكر: عتيق، ولعمر الفاروق ولعثمان ذو النورين، ولعلي: أبو تراب، والخالد سيف الله، ونحو ذلك. كذا في «الخازن».
Note 1
(۱) قوله: ولا تمازحه : قال النووي: اعلم أن المزاح المنهي عنه هو الذي فيه إفراط ويداوم عليه؛ فإنه يورث الضحك وقسوة القلب، ويشغل عن ذكر الله والفكر في مهمات الدين، ويؤول في كثير من الأوقات إلى الإيذاء ويورث الأحقاد، ويسقط المهابة والوقار، فأما ما سلم من هذه الأمور فهو المباح الذي كان رسول الله لا يفعله على الندرة المصلحة تطييب نفس المخاطب ومؤانسته، وهو سنة مستحبة، فاعلم هذا؛ فإنه مما يعظم لاحتياج إليه. كذا في «المرقاة».
Note 1
1 قوله: لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ (نہ مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہئے) جان لو کہ دوسرے کے ساتھ ایسی دل آزاری کے بغیر بے تکلف ہونا خوش طبعی کرنا ”مزاح“ ہے۔ پس اگر وہ دل آزاری کی حد کو پہنچ جائے تو وہ ”سخریۃ“ (ٹھٹھا) ہے۔ (مرقات)۔ 2 قوله: ”وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ“ (الحجرات، آیت:11) (اور تم ایک دوسرے کو برے القاب سے مت پکارو) بعض علماء کہتے ہیں کہ ان القاب سے ایسے نام مراد ہیں جن کو اُن سے بلایا جانے والا ناپسند کرتا ہو یا اُن میں اس کی مذمت و تنقیص ہو۔ اب رہا وہ القاب جو اُن سے ملقب اشخاص کے علم کے درجہ میں آگئے ہیں: جیسے اعمش (چندھی آنکھ والا) (کمزور نگاہ والا)، اعرج (لنگڑا) اور اس جیسے القاب تو ان میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ ان سے پکارا جانے والا شخص ان کو ناپسند نہ کرتا ہو۔ رہے وہ القاب جو تعریف و ستائش کے معنی رکھتے ہوں اور ان میں حقیقت و صداقت بھی ہو تو وہ مکروہ نہیں ہیں، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو عتیق، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابوتراب اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو سیف اللہ اور اس جیسے القاب کہا گیا ہے (خازن)۔ 3 قوله: ولا تمازحه (اور نہ اس سے مذاق کر) امام نووی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں جان لو کہ جس مذاق میں افراط اور زیادتی ہو اور ہمیشہ کیا جائے تو وہ منع ہے، کیونکہ وہ ہنسی اور سنگدلی کا باعث ہے اور اللہ کی یاد اور دینی اہم امور میں غور و فکر سے غافل کرتا ہے، اور نتیجہ میں عموماً دل شکنی ہوتی ہے، اور کینہ و کدورت کا سبب بنتا ہے، اور رعب و وقار کو گھٹاتا ہے۔ ہاں وہ مذاق جو ان باتوں سے پاک ہو تو وہ مباح ہے، جو کہ بسا اوقات رسول اللہ ﷺ مخاطب کی خوش دلی اور اس کو مانوس کرنے کے لئے کیا کرتے تھے۔ اور یہ سنت مستحبہ ہے۔ پس تم اس کو یاد رکھو، کیونکہ یہ اُن امور میں سے ہے جس کی ضرورت زیادہ ہے۔ (مرقات)۔ 1 قوله: انك تداعبنا (آپ ہم سے خوش طبعی کی باتیں کرتے) الملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ظاہر بات یہ ہے کہ اُن کے سوال کا منشا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تو اُن کو مذاق سے منع فرمایا۔ اھ اور عصام رحمۃ اللہ علیہ نے ”شرح شمائل“ میں کہا: گویا کہ وہ لوگ خوش طبعی کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ آپ کی خصوصیات میں سے ہے اس میں آپ کی اقتداء نہیں کی جاسکتی؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا کہ میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔ لہذا جو شخص حق گوئی کی پابندی اور جھوٹ سے پرہیز کرتا ہے اور رعب و وقار کو باقی رکھتا ہے تو اُس کے لئے خوش طبعی جائز ہے۔ 2 قوله: ما فعل النغير (نغیر (لال چڑیا) نے کیا کیا؟) امام اعظم ابوحنیفہ، ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ نے فرمایا: مدینہ منورہ کے حرم کا حکم اُس طرح کا نہیں ہے جیسا کہ مکہ مکرمہ کا ہے، اس لئے یہاں کے شکار کو پکڑنے اور یہاں کے درخت کو کاٹنے سے کسی کو منع نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان (ائمہ) کے مذہب کے لئے اس حدیث سے استدلال کیا ہے، کیونکہ ابوعمیر رضی اللہ عنہ نے نغیر (لال چڑیا) کو مدینہ منورہ سے پکڑا تھا۔ اور امام شافعی، امام مالک، امام احمد رحمہم اللہ نے فرمایا کہ حرم مدینہ حرم مکہ کی طرح ہے۔ (ماخوذ از عرف شذی)۔ 3 قوله: وهل تلد الابل الا النوق (اونٹ کو سوائے اونٹنیوں کے کوئی دوسرا نہیں جنتا) مطلب یہ ہے کہ اگر تم غور کرتے تو یہ بات نہ کہتے، کیونکہ ہر اونٹ اونٹنی کا بچہ ہوتا ہے۔ بس اس حدیث میں خوش مزاجی کے ساتھ ساتھ اس شخص کی اور اس کے سوا دوسرے کے لئے اس بات کی طرف رہنمائی کا اشارہ ہے کہ جو شخص کسی بات کو سنتا ہے تو چاہئے کہ وہ اس میں غور کرے، اور اس میں غور کرنے سے پہلے فوراً اس کا انکار نہ کرے۔ (ماخوذ از مرقات)۔