Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Etiquette

Hadith 4932

Chapter on Enjoining Good and Forbidding Evil

In this book

Current reading

Etiquette

Chapter on Enjoining Good and Forbidding Evil

Zujajat al-Masabih 4932Volume 4

English

Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) stood among us after Asr prayer, delivering a sermon, leaving out nothing that will occur until the Hour, remembered by those who remembered and forgotten by those who forgot. Among what he said was: “The world is sweet and verdant, and Allah has made you successors in it, observing how you act. So beware of the world and beware of women.” He mentioned that every betrayer will have a banner on the Day of Resurrection proportional to his betrayal in the world, and no betrayal is greater than that of a public leader, whose banner will be planted at his rear. He said: “Let not the fear of people prevent any of you from speaking the truth when he knows it.” In another narration: “From changing an evil when he sees it.” Abu Sa’id wept and said: “We saw [evil], but the fear of people prevented us from speaking about it.” Then he said: “Indeed, the children of Adam were created in various classes: some are born believers, live as believers, and die as believers; some 1 are born disbelievers, live as disbelievers, and die as disbelievers; some are born believers, live as believers, and die as disbelievers; and some are born disbelievers, live as disbelievers, and die as believers.” He mentioned anger: “Some are quick to anger and quick to calm, one balancing the other; some are slow to anger and slow to calm, one balancing the other. The best of you are those slow to anger and quick to calm, and the worst are those quick to anger and slow to calm.” He said: “Beware of anger, for it is a burning coal in the heart of the son of Adam. Do you not see the swelling of his veins and the redness of his eyes? Whoever feels this should lie down and cling to the earth.” He mentioned debt: “Some of you are good in repayment but harsh in demanding; one balances the other. Some are poor in repayment but gentle in demanding; one balances the other. The best of you are those who, when indebted, repay well and, when demanding, ask gently. The worst are those who, when indebted, repay poorly and, when demanding, ask harshly.” Until, when the sun was on the tops of palm trees and the edges of walls, he said: “Indeed, what remains of the world compared to what has passed is like what remains of this day compared to what has passed.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٩٣٢ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَامَ فِيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ خَطِيبًا بَعْدَ الْعَصْرِ، فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا ذَكَرَهُ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ؟ أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ»، وَذَكَرَ أَنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ فِي الدُّنْيَا، وَلَا غَدْرَ أَكْبَرَ مِنْ غَدْرٍ أَمِيرِ الْعَامَّةِ، يُغْرَزُ لِوَاؤُهُ عِنْدَ اسْتِهِ» قَالَ: وَلَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُوْلَ بِحَقِّ إِذَا عَلِمَهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: إِنْ رَأَى مُنْكَرًا أَنْ يُغَيِّرَهُ فَبَكَى أَبُو سَعِيدٍ، وَقَالَ: قَدْ رَأَيْنَا فمنعتنا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ نَتَكَلَّمَ فِيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى، فَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا ، وَمِنْهُمْ 1 مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، قَالَ: وَذَكَرَ الْغَضَبَ فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُوْنُ سَرِيعَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ، فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُوْنُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْقَيْءِ، فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى، وَخِيَارُكُمْ مَنْ يَكُوْنُ بَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ، وَشِرَارُكُمْ مَنْ يَكُوْنُ سَرِيْعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ، قَالَ: اتَّقُوْا الْغَضَبَ؛ فَإِنَّهُ جَمْرَةٌ فِي قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، أَلَا تَرَوْنَ إِلَى انْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ وَحُمْرَةِ عَيْنَيْهِ، فَمَنْ أَحَسَّ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَضْطَجِعْ وَلْيَتَلَبَّدْ بِالْأَرْضِ. قَالَ: وَذَكَرَ الدَّيْنَ، فَقَالَ: مِنْكُمْ مَنْ يَكُوْنُ حَسَنُ الْقَضَاءِ، وَإِذَا كَانَ لَهُ أَفْحَشَ فِي الطَّلَبِ، فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُوْنُ السَّيِّئَ الْقَضَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهُ أَجْمَلَ فِي الطَّلَبِ، فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى، وَخِيَارُكُمْ مَنْ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَحْسَنَ الْقَضَاءَ، وَإِنْ كَانَ لَهُ أَجْمَلَ فِي الطَّلَبِ، وَشِرَارُكُمْ مَنْ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَسَاءَ الْقَضَاءَ، وَإِنْ كَانَ لَهُ أَفْحَشَ فِي الطَّلَبِ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى رُؤُوسِ النَّخْلِ وَأَطْرَافِ الْحِيْطَانِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنِّي وَمِنْكُمْ هَذَا فِيْمَا مَضَى مِنْهُ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6534Noor 6535
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد ہم میں خطبہ دیتے کھڑے ہوئے پس آپ نے قیام قیامت تک ہونے والی کسی چیز کو نہیں چھوڑا مگر اس کو بیان فرما دیا جس نے اس کو یاد رکھا یاد رکھا جو بھول گیا بھول گیا۔ آپ نے جو ارشاد فرمایا: اس میں یہ بات بھی تھی کہ دنیا میٹھی اور ہری بھری ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے اور وہ دیکھنے والا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ یاد رکھو! تم دنیا سے بچو اور تم عورتوں سے بچو اور آپ نے ذکر فرمایا کہ ہر دھوکہ باز کیلئے دنیا میں اس کی دھوکہ دہی کے بقدر بروز قیامت ایک جھنڈا ہوگا، حاکم کا عوام کو دھوکہ دینے سے بڑھ کر کوئی دھوکہ نہیں ہے، اس کا جھنڈا اس کی سرین کے پاس گاڑا جائے گا اور تم میں سے کسی کو جب کوئی حق بات معلوم ہو جائے تو حق کہنے سے لوگوں کی ہیبت اس کو ہرگز نہ روکے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اگر وہ جب کسی برائی کو دیکھے تو لوگوں کی ہیبت اس کو بدلنے سے نہ روکے۔ پس سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روئے اور فرمایا: ہم نے برائی کو دیکھا اور لوگوں کی ہیبت اس معاملہ میں بولنے سے ہم کو روک دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! بے شک بنی آدم مختلف طبقات کے پیدا کئے گئے ہیں، ان میں سے بعض وہ ہیں جو مومن پیدا ہوتے ہیں، مومن زندہ رہتے ہیں اور مومن انتقال کرتے ہیں اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر زندہ رہتے ہیں اور کافر مرتے ہیں اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو مومن پیدا ہوتے ہیں اور مومن زندہ رہتے ہیں اور کافر ہو کر مرتے ہیں اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر زندہ رہتے ہیں اور مومن ہو کر انتقال کرتے ہیں۔ راوی نے کہا: اور آپ نے غصہ کا ذکر فرمایا: کہ ان میں سے بعض جلد غصہ میں آتے ہیں، جلدی غصہ ختم ہو جاتا ہے، پس ان دونوں باتوں میں سے ہر ایک دوسرے کے برابر ہے اور ان میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جو دیر سے غصہ میں آتے ہیں دیر سے غصہ اترتا ہے پس ان دونوں باتوں میں سے ہر ایک دوسرے کے برابر ہے اور تم میں بہتر وہ لوگ ہیں جنہیں غصہ دیر سے آتا ہے اور جلدی چلے جاتا ہے اور تم میں برے وہ لوگ ہیں جنہیں غصہ جلدی آتا ہے اور دیر سے جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا: غصہ سے بچو! کیونکہ وہ انسان کے دل پر ایک چنگاری ہے۔ کیا تم اس کے رگوں کے پھولنے کو اور اس کی دونوں آنکھوں کی سرخی کو نہیں دیکھتے؟ پس جو شخص تھوڑا بھی غصہ محسوس کرے تو وہ لیٹ جائے اور زمین سے چمٹ جائے، راوی نے کہا: اور آپ نے قرض کا ذکر کیا اور ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی اچھی طرح ادا کرنے والا ہوتا ہے اور جب قرضہ اس کا ہوتا ہے تو وصول کرنے میں سختی کرتا ہے، پس ان دونوں باتوں میں ہر ایک دوسرے کے برابر ہے اور ان میں کوئی وہ ہوتا ہے جو ادا کرنے میں برا ہوتا ہے اور جب قرضہ اس کا ادا ہوتا ہے تو وصول کرنے میں اچھا ہوتا ہے، پس ان دو میں سے ہر ایک دوسرے کے برابر ہے اور تم میں بہترین شخص وہ ہے کہ جب اس پر قرض ہوتا ہے تو اس کو اچھی طرح ادا کرے اور جب اس کا قرضہ ہو تو وصول کرنے میں اچھا ہو، اور تم میں برا شخص وہ ہے جب اس پر قرض ہو تو بری طرح ادا کرے اور جب اس کا قرض ہو تو وصول کرنے میں سختی کرے یہاں تک کہ سورج کھجور کے درختوں کے اوپر اور دیواروں کے کناروں پر ہو گیا تو آپ نے فرمایا: سنو! دنیا میں سے اس کے گزرے ہوئے زمانہ کے مقابلہ میں باقی نہیں رہا مگر اس قدر جو تمہارے اس دن میں گزرے ہوئے حصہ کے مقابلہ میں رہ گیا ہے۔ (ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2191 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Some are born disbelievers

(1) His statement: “Some are born disbelievers”: This does not contradict the Hadith: “Every child is born upon the fitrah,” for fitrah means the capacity to accept guidance, were it not for obstacles of misguidance, as evidenced by the Hadith: “His parents make him a Jew,” etc. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله ومنهم من يولد كافرا وهو لا ينافي ما ورد كل مولود يولد على الفطرة، فإن المراد بها قابلية قبول الهداية لولا مانع من بواعث الضلالة، كما يشهد قوله

(۱) قوله ومنهم من يولد كافرا وهو لا ينافي ما ورد كل مولود يولد على الفطرة، فإن المراد بها قابلية قبول الهداية لولا مانع من بواعث الضلالة، كما يشهد قوله: «فأبواه يهودانه»، الحديث. كذا في «المرقاة».