اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7315
حضرت انیسہ بنت زید بن ارقم اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم حضرت زید کے پاس ان کی بیماری کی وجہ سے عیادت کیلئے تشریف لائے(14)، آپ نے
فرمایا تمہاری بیماری سے تم پر کوئی حرج نہیں لیکن تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم کو میرے بعد دراز عمری
دی جائیگی، اور تم نابینا ہو جاؤ گے انھوں نے کہا میں ثواب کی نیت کروں گا اور صبر کروں گا تو آپ نے
فرمایا تب تو تم جنت میں بغیر حساب جاؤ گے وہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد وہ
نابینا ہوگئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی بینائی لوٹا دی(15) پھر وہ انتقال کئے۔ (دلائل النبوۃ
للبیہقی)۔
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: visited Zayd: Meaning himself, either in abstraction, by way of rhetorical shift, or due to the narrator’s wording. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: then Allah restored his sight: Perhaps Allah did not mention restoring his sight to increase the hardship of his patience and the reward tied to it, then he achieved victory with patience. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: على زيد: يعني نفسه إما على التجريد أو بنوع الالتفات أو بتصرف الرواة. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله : ثم رد الله عليه بصره ولعله الله لم يذكر له رد بصره ليكون مشقة صبره أكثر وأجره المرتب عليه أكبر، ثم حصل له النصر مع الصبر. كذا في «المرقاة».
Note 1
(14) وقوله: علی زید. یعنی علی نفسہ خود راوی حدیث زید مراد ہے، یہ بطور تواضع ہے یا بطور التفات ہے یعنی علی ضمیر متکلم کے بجائے علی زید کہا یا کسی راوی کا تصرف ہے۔(مرقات)۔ (15) وقوله: ثم رد الله عليه بصره. پھر اللہ نے ان کی بینائی لوٹا دی ممکن ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بینائی کے لوٹانے کے لئے دعا نہ کی تاکہ صبر کی مشقت زیادہ رہے اور اس پر جو ثواب ملنے والا ہے وہ زیادہ سے زیادہ ہو۔ پھر ان کو صبر کے ساتھ اللہ کی مدد حاصل ہوگئی۔(مرقات)۔