Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5673

Chapter on Miracles

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on Miracles

Zujajat al-Masabih 5673Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7350
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اس حال میں کہ آپ مقام زوراء میں تھے آپ اپنا دست مبارک برتن میں رکھ دئے پس پانی آپ کی مبارک انگلیوں کے درمیان پھوٹ کر بہنے لگا(76) تو قوم وضوء بنائی قتادہؓ نے کہا میں انسؓ سے پوچھا تم کتنے تھے تین سو یا تقریباً تین سو؟(متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3572 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2279c (unverified) 68% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

I saw water gushing from his fingers.

(1) His statement: water began gushing from between his fingers: Al-Nawawi said: There are two views on this gushing, as cited by Al-Qadi and others. First: Water came from his fingers themselves, as held by Al-Muzani and most scholars, which is greater as a miracle than gushing from a stone. This is supported by a narration: “I saw water gushing from his fingers.” Second: Allah multiplied the water itself, making it surge between his fingers. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فجعل الماء ينبع من بين أصابعه قال النووي في كيفية هذا النبع قولان، حكاهما القاضي وغيره، أحدهما: أن الماء يخرج من نفس أصابعه، وينبع من ذاتها، وهو قول المزني وأكثر العلماء، وهو أعظم في المعجزة من نبعه من حجر، ويؤيده ما جاء في رواية، فرأيت الماء ينبع من أصابعه. وثانيهما: أنه تعالى أكثر الماء في ذاته، فصار يفور من بين أصابعه. كذا في «المرقاة».

Note 1

(76) وقوله فجعل الماء ينبع من بين اصابعه. امام نووی نے فرمایا: پانی کے پھوٹ نکلنے کی صفت سے متعلق دو قول ہیں اور یہ دونوں قول علامہ قاضی اور دیگر بزرگوں نے بھی بیان کیا ہے۔ ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ پانی خود انگلیوں سے پھوٹ نکلتا تھا۔ علامہ مزنی اور اکثر علماء نے یہی فرمایا ہے اور یہ معجزہ پتھر سے پانی کے پھوٹ نکلنے سے بھی بڑھ کر ہے، اور اس قول کی تائید ایک دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ (راوی نے کہا) آپ کی مبارک انگلیوں سے پانی کو پھوٹ نکلتے میں نے دیکھا ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نفس پانی میں اس قدر زیادتی پیدا کر دی کہ انگلیوں کے درمیان سے فوارے جوش مارنے لگے۔(مرقات)۔