English
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: When the Prophet (ﷺ) addressed the people, he leaned on a palm trunk from the mosque’s pillars. When the pulpit was made for him and he sat on it 1, the palm trunk he used to address near cried out until it nearly split. The Prophet (ﷺ) descended, took it, pressed it to him, and it sobbed like a child being soothed until it calmed. He said: It cried for what it heard of the remembrance.
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٨٣ - وَعَنْ جَابِر(رضي الله عنه)ٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا خَطَبَ اسْتَنَدَ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ، فَاسْتَوَى1 عَلَيْهِ، فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْطُبُ عِنْدَهَا حَتَّى كَادَتْ تَنْشَقُ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى أَخَذَهَا، فَضَمَّهَا إِلَيْهِ، فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّتُ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ، قَالَ: بَكَتْ عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7362
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم جب خطبہ دیتے تو کھجور کے درخت کے تنے کا ٹیکا لیتے جو مسجد کے ستونوں میں سے تھا۔ پس جب
آپ کے لئے منبر تیار کیا گیا اور آپ اس پر جلوہ افروز ہوگئے(96) تو کھجور کا وہ درخت آواز سے
رونے لگا جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے تھے یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ شق ہوجائے
تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر آئے یہاں تک کہ اس کو پکڑ لئے اور اپنے سے چمٹا لئے تو وہ اس بچے
کی طرح سسکیاں لینے لگا جس کو خاموش کرایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ قرار پایا۔ راوی نے کہا وہ رونا
اس ذکر کی بناء پر تھا جس کو وہ سنتا تھا۔ (بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2095 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3584 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: he sat on it: Meaning he stood. His statement: it began: Meaning the pillar or palm trunk started. It took the feminine form from what it is added to. His statement: sobs the sob of a child being soothed: With tashdid on kāf, meaning like its sob. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فاستوى أي قام. وقوله: فجعلت أي طفقت الأسطوانة أو جذع النخلة، واكتسب التأنيث من المضاف إليه. وقوله: «تئن أنين الصبي الذي يسكت بتشديد الكاف المفتوحة أي مثل أنينه. كذا في «المرقاة».
Note 1
(96) وقوله: فاستوى۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے۔ وقوله: فجعلت۔ یعنی وہ ستون یا کھجور کے درخت کا تنہ۔ اس میں جعلت تئن انين مونث کا صیغہ جذع النخلة میں مضاف الیہ کے اعتبار سے لایا گیا ہے۔ وقوله: لتئن انين الصبي الذي يسكت میں کاف کو تشدید ہے اور زبر (فتح) یہ معنی بچے کے آئیں بھرنے کی طرح۔ (مرقات)۔