Muhammad ibn Abi Bakr al-Thaqafi narrated that he asked Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) while they were traveling from Mina to Arafah, "What did you do on this day with the Messenger of Allah (ﷺ)?" He replied, "Some among us would recite the Talbiyah, and no one objected to it, while others would recite Takbir, and no one objected to it."
محمد بن ابی بکر ثقفی رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انس بن مالک رضی
اللہ عنہ سے انہوں نے دریافت کیا کہ جب کہ یہ دونوں (نویں ذوالحجہ کی صبح) منیٰ سے عرفات
جا رہے تھے تو آپ حضرات آج کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کن مشاغل میں
گزارتے تھے؟ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم میں سے کوئی لبیک پکارتا تو اس کو
اس سے منع نہیں کیا جاتا اور ہم میں سے کوئی اللہ اکبر کہتا تو اس کو بھی اس سے روکا نہیں جاتا تھا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
And the words of Allah Almighty: "Then depart from the place from where [all] the people depart" (Al-Baqarah 2:199).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1659 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1285a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Some would recite Takbir
(1) The statement: "Some would recite Takbir" indicates that the pilgrim’s primary focus on that day is the remembrance of Allah after having recited the Talbiyah once or twice. However, the Talbiyah remains superior and more in line with the Sunnah. As stated in Al-Luma’at, Imam al-Nawawi said: "This refutes those who claim the Talbiyah should be discontinued after Fajr on the day of Arafah." The authentic practice from the Prophet (ﷺ) is that he did not stop the Talbiyah until he stoned Jamarat al-Aqabah, which is the position of Abu Hanifah and al-Shafi’i.
Note 1
قوله
(۱)قوله : ويكبر المكبر : فلا ينكر عليه، علم من هذا أن المقصود للحاج ذكر الله في ذلك اليوم بعد أن لبى بعد الإحرام مرة أو مرتين. نعم، التلبية أولى وأفضل وأقرب إلى السنة. كذا في اللمعات». وقال النووي: وفيه رد على من قال بقطع التلبية بعد صبح يوم عرفة، انتهى. لأن المروي عن الشارع أنه لم يقطع التلبية حتى رمى جمرة العقبة، وهو مذهب أبي حنيفة والشافعي. قاله في عمدة القاري».
Note 1
ف: لمعات میں لکھا ہے کہ صدر کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نویں ذوالحجہ کو حاجی اللہ تعالیٰ
کے ذکر میں مشغول رہے جب کہ اس نے احرام باندھنے کے بعد ایک یا دو مرتبہ لبیک پکار لیا ہو، البتہ
فضیلت اس بات کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لبیک کہتا رہے۔ اھ
اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لبیک کو نویں ذوالحجہ کے صبح کے بعد ختم نہ کیا جائے
جیسا کہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لبیک کہنے کو دسویں ذوالحجہ کے دن پہلے جمرے
پر کنکریاں مارنے کے بعد ختم کیا، اور یہی مذہب حنفی ہے جیسا کہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔ 12
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "I slaughtered my sacrifice here, and all of Mina is a place of slaughter. So slaughter wherever you are in Mina. I stood here, and all of Arafah is a place of standing. I stood here, and all of Muzdalifah is a place of standing."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا ہے کہ میں نے (مِنیٰ کے) اس مقام پر قربانی کی ہے (اور اس مقام کو منحر النبی کہا جاتا تھا جو مسجد
خیف کے قریب تھا) اور مِنیٰ کا پورا میدان قربانی کی جگہ ہے۔ اس لئے تم اپنے اپنے خیموں میں
جہاں چاہے قربانی کر سکتے ہو۔ اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ)
(عرفہ کے دن) میں اس جگہ (یعنی جبل رحمت کے قریب سیاہ پتھروں کے پاس) ٹھہرا ہوں اور سارا
میدان عرفات (وادی عرفہ کے سوا) ٹھہرنے کی جگہ ہے اور مزدلفہ میں اس جگہ (یعنی مشعر حرام میں)
میں نے شب گزاری کی ہے اور مزدلفہ کا پورا میدان (سوائے وادی مُحسّر کے) شب گزاری کی جگہ
ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1218 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The commands in this Hadith indicate permissibility, though following the Sunnah (as demonstrated by the Prophet) remains superior. (Al-Maraqi)
Note 1
ف: مرقات میں لکھا ہے کہ اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ
میں جہاں چاہیں حاجی کرام ٹھہر سکتے ہیں اور منیٰ میں جہاں چاہیں قربانی دے سکتے ہیں لیکن افضل
مقامات وہی ہیں جہاں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی اور قیام فرمایا۔12
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "All of Arafah is a place of standing, all of Mina is a place of slaughter, all of Muzdalifah is a place of standing, and all the mountain passes of Makkah are pathways and places of slaughter."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا ہے کہ عرفات کا پورا میدان (سوائے وادی عرفہ کے نویں ذوالحجہ کو حاجیوں کے) ٹھہرنے کی جگہ
ہے اور منیٰ کا پورا میدان (دسویں ذوالحجہ کو) قربانی کی جگہ ہے (کہ جہاں چاہو قربانی دے سکتے ہو)
اور مزدلفہ کا پورا میدان (سوائے وادی مُحسّر کے (دسویں ذوالحجہ کو) شب گزاری کی جگہ ہے (جہاں
چاہے ٹھہر سکتے ہیں اور جس راستہ سے چاہیں مکہ معظمہ میں داخل ہوسکتے ہیں اور مکہ معظمہ میں جہاں
چاہیں قربانی دے سکتے ہیں۔ اس کی روایت ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1937 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
All the mountain passes of Makkah are pathways
(1) "All the mountain passes of Makkah are pathways" means one may enter Makkah from any route, though entering from Thaniyyat Kada’ is preferable. (Al-Maraqi)
(2) "Pathways and places of slaughter" means sacrifices may be performed anywhere within the sacred precincts, as the objective is to remove hardship. However, Mina is superior for Hajj sacrifices, and Makkah (particularly al-Marwah) is preferable for Umrah sacrifices. (Al-Maraqi, Fath al-Qadir)
Note 1
قوله
(۱) قوله: كل فجاج مكة طريق : أي يجوز دخول مكة من جميع طرقها، وإن كان الدخول من ثنية كداء أفضل. قاله في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: وطريق ومنحر : أي ويجوز النحر في جميع نواحيها؛ لأنها من الحرم، والمقصود نفي الحرج، ذكره الطيبي لله ويجوز ذبح جميع الهدايا في أرض الحرم بالاتفاق، إلا أن منى أفضل لدماء الحج، ومكة لا سيما المروة لدماء العمرة. كذا في المرقاة». وقال في فتح القدير: ويجوز الذبح في أي موضع شاء من الحرم، ولا يختص بمنى، ومن الناس من قال: لا يجوز إلا بمنى، والصحيح ما قلنا، ويؤيده هذا الحديث.
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ مکہ معظمہ میں جس راستہ سے چاہیں داخل ہوسکتے ہیں لیکن کداء نامی گھاٹی
جو مکہ معظمہ کے مشرقی جانب ہے اس طرف سے داخل ہونا افضل ہے اور جب کعبۃ اللہ شریف میں
داخل ہوں تو باب السلام سے داخل ہوں جو جانب مشرق واقع ہے۔ مرقات اور عرف شذی۔12
ف(2): واضح ہو کہ مکہ معظمہ چونکہ سرزمین حرم ہے اس لئے جہاں چاہیں قربانی دے سکتے ہیں
لیکن حج کی قربانی کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ منیٰ میں دی جائے اور دیگر قربانیاں جیسے تمتع، نذر اور شکرانہ اور
جنایات کی قربانیاں مکہ معظمہ میں جہاں چاہیں دی جائیں تو جائز ہے مرقات اور اشعۃ اللمعات۔12
Amr ibn Abdullah ibn Safwan narrated from an uncle of his named Yazid ibn Shayban, who said: "We were standing at a distant place in Arafah, far from where the Imam stood. Ibn Mirba' al-Ansari came to us and said: 'I am the Messenger of the Messenger of Allah (ﷺ) to you. He commands you: "Stand at your places of ritual, for you are following the legacy of your father Ibrahim."'"
عمرو بن عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ (جو تابعین میں سے ہیں) اپنے ماموں سے
جن کا نام یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ ہے (جو صحابی ہیں) روایت کرتے ہیں، یزید بن شیبان فرماتے
ہیں کہ ہم عرفات میں اس مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے، (جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے قبیلہ کے لئے
مخصوص تھا اور یہ مقام امام سے بہت دور تھا تو راوی حدیث) عمرو بن عبداللہ اس جگہ کو امیر حج کی جگہ
سے بہت دور پا رہے تھے (انہوں نے اس دوری کو اپنے ماموں یزید بن شیبان سے بیان کیا تو انہوں
نے کہا کہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عرفات میں اسی جگہ جو دور تھی قیام کئے تھے اور
چاہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب ہوجائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب
ہمارے اس خیال کی اطلاع ملی تو آپ نے ہمارے اس اشکال کو دور کرنے کے لئے ابن مربع انصاری
رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا اور) ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ، ہمارے پاس آئے اور کہا کہ میں
آپ حضرات کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد ہوں۔ (اور یہ پیام لایا ہوں) حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم اس وقت جہاں ٹھہرے ہوئے ہو وہیں ٹھہرے رہو (پورا
میدان عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے) اور تم اپنے اس وقوف میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ
الصلوٰۃ والسلام کی میراث یعنی سنت پر ہو (اس لئے امام سے دوری کے باوجود وقوفِ عرفات کی فرضیت
ادا ہوجائے گی، اس لئے تم عرفات میں جہاں بھی ٹھہرے ہو، اس کو حقیر مت جانو)۔ اس حدیث کی
روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Stand at your places of ritual
(1) "Stand at your places of ritual" means adhere to your traditional sites of worship, inherited from Ibrahim. Do not belittle your standing place simply because it is far from the Imam's position. (Al-Luma'at)
Note 1
قوله
(۱)قوله : قفوا على مشاعركم أي مواضع نسككم ومواقفكم القديمة؛ فإنها جائتكم من إرث أبيكم إبراهيم، ولا تحقروا شأن موقفكم بسبب بعده عن موقف الإمام. كذا في «اللمعات».
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Quraysh and those who followed their religion used to stand at Muzdalifah and were called al-Hums. The rest of the Arabs would stand at Arafah. When Islam came, Allah commanded His Prophet (ﷺ) to go to Arafah, stand there, and then depart from it. This is the meaning of His words: 'Then depart from the place from where [all] the people depart.' (Al-Baqarah 2:199)."
Khalid ibn Hawdhah (may Allah be pleased with him) narrated: "I saw the Prophet (ﷺ) delivering a sermon to the people on the day of Arafah while mounted on his camel, standing in the stirrups."
خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ کے دن میدان عرفات میں اونٹ پر سوار لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے
دیکھا ہے اور آپ کے دونوں پیر رکاب میں تھے۔ (تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ کے خطبہ کو
اچھی طرح سن سکیں)۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
Amr ibn Shu'ayb narrated from his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) said: "The best supplication is the supplication on the day of Arafah, and the best thing I or the Prophets before me have said is: 'There is no deity worthy of worship except Allah alone, without partner. To Him belongs the dominion, and to Him belongs all praise, and He is over all things competent.'" [Narrated by al-Tirmidhi]
In Malik's narration from Talhah ibn Ubaydullah, it ends at: "There is no deity worthy of worship except Allah alone, without partner."
عمرو بن شعیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (عمرو بن العاص) رضی اللہ
عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (فضیلت اور قبولیت
کے اعتبار سے) بہترین دعا وہ ہے جو عرفہ کے دن کی جائے، اور بہترین کلمات جن کو میں نے اور مجھ
سے پہلے انبیاء علیہم الصلوٰۃ السلام نے (عرفات میں) پڑھا ہے یہ ہیں ’’لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no day on which Allah frees more people from the Fire than the day of Arafah. Indeed, He draws near and boasts about them to the angels, saying, 'What do these people seek?'"
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن اپنے بندوں کو دوزخ سے اتنے زیادہ تعداد
میں نجات دیتے ہیں کہ کسی اور دن اتنے زیادہ نجات نہیں دیتے (یعنی عرفہ کے دن بے شمار بندوں کو
دوزخ سے رہائی اور مغفرت ملتی ہے) اور اللہ تعالیٰ (اس دن اپنی رحمت اور مغفرت کے ساتھ)
بندوں سے قریب ہوتے ہیں اور ان پر (یعنی عرفات میں حاضری دینے والوں پر) فرشتوں کے
سامنے فخر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ان بندوں (نے میرے لئے اپنے وطن اور گھر بار کو چھوڑا اور
خود کو تھکایا اور مال خرچ کیا ہے اور یہاں جمع ہوئے ہیں اس سے ان) کا مقصود کیا ہے؟ (یہی وہ
بندے جن پر تم نے اے فرشتو! طعنہ دیا تھا کہ یہ زمین پر فساد کریں گے دیکھو! یہ میری اطاعت میں
کس طرح جمع ہیں، اور سوائے میری مغفرت کے ان کو اور کچھ درکار نہیں!)۔ اس حدیث کی روایت
مسلم نے کی ہے۔
Talhah ibn Ubaydullah ibn Kurayr narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Satan is not seen more humiliated, despised, angry, or disgraced than on the day of Arafah - except for what he witnessed on the day of Badr." It was asked, "What did he see on the day of Badr, O Messenger of Allah?" He replied, "Did he not see Jibril organizing the ranks of angels?"
طلحہ بن عبید اللہ بن کریز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شیطان کو عرفہ کے دن سے زیادہ کسی اور دن اتنا حقیر، ذلیل، پست اور
غضبناک نہیں دیکھا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان اس دن میدان عرفات میں اللہ تعالیٰ کی رحمت
کو نازل ہوتے ہوئے اور بڑے بڑے گناہوں کی مغفرت ہوتے ہوئے دیکھتا ہے اور غزوۂ بدر کے
دن بھی شیطان کو اسی طرح (ذلیل، حقیر اور غضبناک) دیکھا گیا جب کہ اس نے حضرت جبرئیل علیہ
السلام کو دیکھا کہ وہ فرشتوں کی صفوں کو ترتیب دے رہے تھے (اور اسی دن مسلمانوں کو فتح اور اسلام کو
شوکت اور عزت حاصل ہوئی)۔
اس کی روایت امام مالک نے مرسلاً کی ہے اور شرح السنہ میں بھی اسی کے قریب قریب
روایت ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "On the day of Arafah, Allah descends to the lowest heaven and boasts to the angels about the pilgrims, saying, 'Look at My servants - they have come to Me disheveled, dusty, and exhausted from every deep valley. I call you to witness that I have forgiven them.' The angels say, 'O Lord, so-and-so is known for sinning, and so-and-so and so-and-so?' Allah says, 'I have forgiven them.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There is no day on which more people are freed from the Fire than the day of Arafah.'"
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور (میدان
عرفات میں) جمع ہونے والوں پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں (اے
فرشتو!) تم میرے بندوں کو دیکھو کہ وہ میری بارگاہ میں پراگندہ بال، گرد آلود چہروں میں دور دراز،
تنگ اور کشادہ راستوں سے چل کر (یہاں) حاضر ہیں اور تہلیل، تسبیح، ذکر اور تلبیہ کرتے ہوئے) مجھے
پکار رہے ہیں (اے فرشتو!) تم گواہ رہو، میں نے ان سب کو بخش دیا (یہ سن کر) فرشتے عرض کرتے
ہیں پروردگار! ان میں فلاں مرد اور فلاں عورت بھی ہے جو گنہگار ہے اور متہم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ (یہ سن کر) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں (سنو!) میں نے (نیکیوں کے ساتھ)
ان کو بھی بخش دیا (یہ فرما کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی اور دن دوزخ سے
اتنے بندوں کو رہائی نہیں ملتی جتنے بندوں کو عرفہ کے دن دوزخ سے) رہائی ملتی ہے۔ اس کی روایت
Abbas ibn Mirdas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for his ummah on the evening of Arafah for forgiveness. He was answered: "I have forgiven them except for the wrongdoers, for I will take the right of the oppressed from them." The Prophet (ﷺ) said: "O Lord, if You will, grant the oppressed Paradise and forgive the wrongdoer." But he received no response that evening. The next morning at Muzdalifah, he repeated the supplication and was granted what he asked for. The Messenger of Allah (ﷺ) smiled, and Abu Bakr and Umar (may Allah be pleased with them) said: "May our fathers and mothers be sacrificed for you! This is not a time when you usually smile. What made you smile - may Allah keep you smiling?" He replied: "When the enemy of Allah, Iblis, learned that Allah had accepted my supplication and forgiven my ummah, he took dust and began pouring it on his head, crying out in despair. His distress made me smile."
عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے عرفہ کے (دن) شام کے وقت اپنی امت (کے تمام گنہگاروں) کی بخشش کی (اللہ تعالیٰ
سے) دعا مانگی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوشخبری دی گئی کہ میں نے آپ کی پوری امت کو بخش
دیا ہے، سوائے ظالم کے (کیونکہ اس نے بندوں کے حقوق تلف کئے ہیں) اور میں اس سے مظلوم
کے حقوق لوا دوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ بارگاہ رب العزت میں) عرض کیا
پروردگار آپ چاہیں تو مظلوم کو (اس کے حقوق کے بدلے میں) جنت عطا فرما کر ظالم کو بخش دیں لیکن
حضور کی یہ دعا عرفہ کی شام تک قبول نہ ہوئی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے (اور
شب گزاری کے بعد) صبح پھر اسی دعا کو لوٹایا تو آپ کی (خواہش کے مطابق) یہ دعا قبول کر لی گئی
(یعنی ظالم کی مغفرت کی خوشخبری بھی آپ کو دیدی گئی) راوی کا بیان ہے کہ (قبولیت دعا کی خوش
خبری سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس دئے یا مسکرائے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
مسکراتے دیکھ کر) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر فدا
ہو جائیں (یا رسول اللہ) معمولاً ایسے موقع پر آپ ہنسا نہیں کرتے، آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ اللہ
تعالیٰ آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے! آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے دشمن ابلیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ اللہ
تعالیٰ نے میری دعا قبول فرما لی ہے اور پوری امت کو بخش دیا ہے تو اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا اور
واویلا کرتا ہوا بھاگ نکلا۔ اس کی یہ پریشانی اور بدحواسی دیکھ کر مجھے ہنسی آ گئی۔
اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔ اور بیہقی نے بھی کتاب البعث والنشور میں اس طرح
روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 3013 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
And forgave my ummah
(1) "And forgave my ummah" - Does Hajj expiate major sins? Some scholars say yes, like Harbi who embraced Islam, citing this hadith. Al-Bayhaqi said this hadith has many supporting narrations mentioned in Shu'ab al-Iman. If authenticated by these narrations, it would be strong evidence. Otherwise, Allah says: "And He forgives what is less than that for whom He wills" (4:48). Wrongdoing between people is less severe than shirk. Ibn al-Mubarak narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Allah has forgiven the people of Arafah and Muzdalifah and guaranteed to settle their debts." Umar stood up and asked: "O Messenger of Allah, is this exclusively for us?" He replied: "For you and those who come after you until the Day of Judgment." Umar exclaimed: "How abundant is the goodness of our Lord!" The full discussion is in Fath al-Bari, which cites additional hadiths. In summary, while Ibn Majah's hadith is weak, it has supporting evidence that strengthens it, and the Qur'anic verse also supports it. Other evidence includes the hadith in Bukhari: "Whoever performs Hajj without obscenity or wickedness returns as sinless as the day his mother bore him," and the hadith in Muslim: "Islam wipes away what came before it." Fath al-Bari seems to lean toward the view that even rights between people may be forgiven, as held by Imam al-Sarakhsi in Sharh al-Siyar al-Kabir and extended by some scholars to include martyrs. Al-Munawi attributed this view to al-Qurtubi. However, some scholars like Abu Hanifa held that only sins against Allah (not human rights) are forgiven, unless the wronged party is compensated. Al-'Iyadh said: "The consensus of Ahl al-Sunnah is that major sins require repentance, and no one claims that financial obligations are waived." In summary, as stated in Al-Bahr al-Ra'iq: "The matter is speculative - we cannot definitively say Hajj expiates major sins against Allah, let alone human rights." Al-Bayhaqi cautioned: "No Muslim should deceive himself into thinking Hajj automatically settles all accounts, for disobedience is ominous and opposing the Almighty in His commands is grave." However, one may optimistically hope for forgiveness for those who perform an accepted Hajj with sincere effort. But who can be certain about this for themselves or others? Even the righteous cannot be certain. The balanced approach is to remain between hope and fear. (Al-Durr al-Mukhtar, Radd al-Muhtar, Al-Maraqi - summarized)
Note 1
قوله
(۱) قوله: وغفر لأمتي إلخ : هل الحج يكفر الكبائر ؟ قيل: نعم، كحربي أسلم لهذا الحديث، وقال البيهقي هذا الحديث له شواهد كثيرة، ذكرناها في كتاب الشعب، فإن صح بشواهده ففيه الحجة، وإلا فقد قال تعالى: ﴿وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ) (النساء: ٤٨) وظلم بعضهم بعضا دون الشرك، روى ابن المبارك أنه قال: إن الله عَزَّ وَجَلَّ قد غفر لأهل عرفات وأهل المشعر وضمن عنهم التبعات، فقام عمر، فقال: يا رسول الله ، هذا لنا خاصة؟ قال: هذا لكم، ولمن أتى من بعدكم إلى يوم القيامة، فقال عمر الله كثر خير ربنا وطاب. وتمامه في «الفتح»، وساق فيه أحاديث أخر،
والحاصل أن حديث ابن ماجه وإن ضعف فله شواهد تصححه، والآية أيضا تؤيده، ومما يشهد له أيضًا حديث البخاري مرفوعا: من حج ولم يرفث ولم يفسق رجع من ذنوبه كيوم ولدته أمه، وحديث مسلم مرفوعاً: إن الإسلام يهدم ما كان قبله، وإن الهجرة تهدم ما كان قبلها، وإن الحج يهدم ما كان قبله وظاهر كلام «الفتح» الميل إلى تكفير المظالم أيضًا، وعليه مشى الإمام السرخسي في شرح السير الكبير وقاس عليه الشهيد الصابر المحتسب، وعزاه أيضا المناوي إلى القرطبي.
وقيل : غير المتعلقة بالآدمي كذمي أسلم، وقال عياض: أجمع أهل السنة أن الكبائر لا يكفرها إلا التوبة، ولا قائل بسقوط الدين، ولو حقا الله تعالى كدين صلاة وزكاة. نعم، أيم المطل. وتأخير الصلاة ونحوها يسقط، وهذا معنى التكفير على القول به والحاصل كما في البحر»: أن المسألة ظنية، فلا يقطع بتكفير الحج للكبائر من حقوقه تعالى، فضلا عن حقوق العباد، ولذا قال البيهقي : فلا ينبغي لمسلم أن يغرّ نفسه بأن الحج يكفر التبعات؛ فإن المعصية شؤم وخلاف الجبار في أوامره ونواهيه عظيم انتهى. نعم، يغلب على الظن رجاء المغفرة لمن حج حجا مبرورًا وسعيا مشكورًا، وأين من يجزم بذلك في نفسه أو غيره، وإن كان عالما أو صالحا في علو مقامه هنالك، فمن المعلوم أن غير المعصوم يجب أن يكون بين الخوف والرجاء، الدر المختار» و رد المحتار» و«المرقاة» ملتقط منها.
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ علی صاحبہا آلاف
صلوات۔ امت مرحومہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو چاہیں گے اس کے حقوق العباد بھی معاف
کروا دیں گے لیکن شرک معاف نہیں ہوتا جیسا آیت شریفہ میں ارشاد ہے ”إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ
يُشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ“ (سورۃ نساء،پ:5،ع:18،آیت
نمبر:116)(اللہ تعالیٰ مشرک کو نہیں بخشتے لیکن مشرک کے سوا جس کو چاہیں بخش دیتے ہیں) تو حقوق
العباد شرک کے سوا ہیں، اس لئے ان کی بخشش کی امید ہے اس کی تائید میں بخاری کی مرفوع حدیث بھی
ہے کہ جو حج کرے اور (حج کے دوران) فساد اور گناہ نہ کرے تو وہ ایسا پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسا
کہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدائش کے وقت گناہوں سے پاک و صاف تھا۔ اور اسی طرح مسلم کی بھی
ایک مرفوع حدیث ہے کہ اسلام لانے سے (زمانہ کفر کے) سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں
اور ہجرت سے بھی (قبل ہجرت کے) سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور حج سے بھی (حج سے
پہلے کے) سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ ان احادیث شریفہ کی وجہ سے فتح الباری میں علامہ
ابن حجر نے حج کی وجہ سے حقوق العباد کے معاف کر دیئے جانے کو ترجیح دی ہے اور شرح السیر الکبیر میں
امام سرخسی نے اسی کو اختیار کیا ہے اور امام صدر الشہید بھی اسی کے قائل ہیں۔ البتہ قاضی عیاض رحمہ اللہ
نے لکھا ہے کہ اہل السنہ والجماعۃ کی اس بات پر اجماع ہے کہ کبائر توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ خواہ
حقوق اللہ ہوں، جیسے ترک نماز اور ترک زکوۃ یعنی ان کو بہر صورت قضاء کرنا پڑے گا۔ ہاں حج کی وجہ
سے تاخیر کا گناہ معاف ہوگا۔ جب حقوق اللہ کا یہ حال ہے تو حقوق العباد کیسے معاف ہوں گے اسی وجہ
سے امام بیہقی نے فرمایا ہے کہ کسی بندہ مسلم کو اس دھوکے میں نہ رہنا چاہئے کہ حج سے حقوق العباد بھی
معاف ہو جاتے ہیں اس لئے کہ گناہ بدبختی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف بڑی جسارت اور بے
باکی ہے۔ ہاں جس کسی کو حج مبرور اور مقبول نصیب ہو جائے تو اس کی مغفرت کی امید ہے لیکن وہ کون
مرد خدا ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ میرا حج مقبول ہے اگرچہ کہ وہ عالم باعمل ہو اور بڑا نیک و کار ہو، جب کہ
یہ معلوم ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سوا سارے انسانوں کا مقام خوف اور رجاء کے درمیان
ہے۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ گناہوں پر جرت نہ کریں اور حقوق العباد کے ضائع کرنے سے بچیں اور
سابقہ گناہوں پر توبہ اور استغفار اور ان کی تلافی کی کوشش کرتے رہیں۔
یہ مضمون درمختار، ردالمحتار، مرقات اور اشعۃ اللمعات سے ماخوذ ہے۔12
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Some would recite Takbir" indicates that the pilgrim’s primary focus on that day is the remembrance of Allah after having recited the Talbiyah once or twice. However, the Talbiyah remains superior and more in line with the Sunnah. As stated in Al-Luma’at, Imam al-Nawawi said: "This refutes those who claim the Talbiyah should be discontinued after Fajr on the day of Arafah." The authentic practice from the Prophet (ﷺ) is that he did not stop the Talbiyah until he stoned Jamarat al-Aqabah, which is the position of Abu Hanifah and al-Shafi’i.
Note 1
(۱)قوله : ويكبر المكبر : فلا ينكر عليه، علم من هذا أن المقصود للحاج ذكر الله في ذلك اليوم بعد أن لبى بعد الإحرام مرة أو مرتين. نعم، التلبية أولى وأفضل وأقرب إلى السنة. كذا في اللمعات». وقال النووي: وفيه رد على من قال بقطع التلبية بعد صبح يوم عرفة، انتهى. لأن المروي عن الشارع أنه لم يقطع التلبية حتى رمى جمرة العقبة، وهو مذهب أبي حنيفة والشافعي. قاله في عمدة القاري».
Note 1
ف: لمعات میں لکھا ہے کہ صدر کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نویں ذوالحجہ کو حاجی اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہے جب کہ اس نے احرام باندھنے کے بعد ایک یا دو مرتبہ لبیک پکار لیا ہو، البتہ فضیلت اس بات کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لبیک کہتا رہے۔ اھ اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لبیک کو نویں ذوالحجہ کے صبح کے بعد ختم نہ کیا جائے جیسا کہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لبیک کہنے کو دسویں ذوالحجہ کے دن پہلے جمرے پر کنکریاں مارنے کے بعد ختم کیا، اور یہی مذہب حنفی ہے جیسا کہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔ 12