Hadith 1269
Volume 1العربية
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 580b (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
كِتَابُ الصَّلَاةِ · Chapter 16
14 narrations · In source reading order
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اس طرح (یعنی یہ کہ حضرت وائل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو کر کے بتلایا۔ اس حدیث کے راویوں میں حضرت بشر ہیں، اس حدیث کو سناتے ہوئے انہوں نے بھی اپنے شاگرد کو یہ عمل اس طرح کر کے دکھایا کہ انگوٹھے اور بیچ کی انگلی سے حلقہ بنا کر سبابہ یعنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف(1): سعایہ میں مذکور ہے کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ میں اشارہ کرنے کے بعد جو انگلیاں بند کئے ہوئے اور شہادت کی انگلی کو ران پر کھلا رکھے ہوئے تھے قعدہ کے ختم ہونے تک ان سب کو بدستور اسی حالت میں بند رکھے ہوئے تھے کھولے نہ تھے۔ ف(2): واضح ہو کہ مذکور الصدر احادیث مآخذ ہیں اس تفصیل کے جس کو ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ ”تزیین العبارۃ“ میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ صحیح اور مختار ہمارے جمہور احناف کے پاس یہ ہے کہ قعدہ میں التحیات شروع کرتے وقت پہلے دونوں ہتھیلیوں کو دونوں رانوں پر اس طرح رکھیں کہ انگلیاں کھلی ہوئی قبلہ رخ رہیں، اور التحیات پڑھتے ہوئے جب کلمہ توحید یعنی أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ پر پہنچے تو خنصر اور بنصر دونوں چھوٹی انگلیوں کو بند کر لے اور درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنائے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ اس طرح کرے کہ لَا إِلٰهَ کہتے وقت شہادت کی انگلی کو اٹھائے اور إِلَّا اللّٰهُ کہتے وقت کلمہ کی انگلی کو کھلی ہوئی ران پر رکھ دے اور دوسری انگلیوں کو نہ کھولے، اگر قعدہ اولی ہو تو تیسری رکعت کے لئے اٹھنے تک اور اگر قعدہ اخیرہ ہو تو سلام پھیرنے تک انگلیوں کو بدستور اسی حالت پر رکھے۔
العربية
Mishkat (candidate) 916
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کئی طریقوں سے مروی ہے اور تشہد کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی حدیثیں آئی ہیں ان سب میں سب سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے اکثر علماء صحابہ کا عمل اسی حدیث پر رہا ہے اور صحابہ کے بعد اکثر علماء تابعین بھی اسی پر عمل کیا کرتے تھے اور حضرت سفیان ثوری و حضرت ابن المبارک امام احمد اور امام اسحاق کا بھی تشہد کے بارے میں یہی قول ہے۔ (ترمذی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) اور حضرت بزار نے کہا ہے کہ تشہد کے بارے میں میرے پاس سب سے زیادہ صحیح حدیث یہی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو بیس سے زیادہ سندوں سے مروی ہے اور انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تشہد کے بارے میں جتنی حدیثیں مروی ہیں ان سب میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے بڑھ کر قوی اور سند کے لحاظ سے اس حدیث سے بڑھ کر صحیح کوئی حدیث نہیں ملی اور راویوں کے اعتبار سے یہ حدیث سب سے زیادہ مشہور راویوں سے مروی ہے اور سند کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے کی تائید کرنے والی اس حدیث کی سند سے بڑھ کر کسی حدیث کی سند نہیں ہے۔ (بزار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) تعلیق مجد میں امام مسلم کا قول اس طرح مذکور ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی صحت پر اکثر فقہاء اور محدثین نے اس وجہ سے بھی اتفاق کیا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تمام شاگردوں نے آپ سے تشہد کے جن الفاظ کی روایت کی ہے وہ سب ایک ہی ہیں ان کے الفاظ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کے برخلاف دوسرے راویوں نے جس تشہد کی روایت کی ہے اُس کو ان کے شاگردوں نے مختلف الفاظ سے نقل کیا ہے اور ان کے الفاظ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی طرح ایک نہیں ہیں اور محمد بن یحیٰ ذہلی نے کہا ہے کہ تشہد کے بارے میں جتنی حدیثیں مروی ہیں ان سب میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے اور طبرانی نے الکبیر میں بریدہ بن الحصیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد سے بہتر کوئی تشہد نہیں سنا اور حافظ ابن حجر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
فرماتے ہیں کہ حماد بن سلیمان رحمہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور حماد فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس طرح تشہد سکھائے جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو قرآن کی سورتیں سکھایا کرتے تھے (یہ تشہد وہی ہے جو حدیث (دو حدیث پہلے ”حضرت ابن مسعودؓ کی منقولہ التحیات کے عنوان سے گزری ہے“) میں مذکور ہے۔ امام ابن الہمام نے اس کو بیان کیا ہے۔)
العربية
العربية
العربية
اور امام نووی رحمہ اللہ نے خلاصہ میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سند جید ہے اور سعایہ میں مذکور ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تشہد پڑھا کرتے تھے وہی تشہد ہے جس کو ہم پڑھا کرتے ہیں۔
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) His saying: "As if he were sitting on hot stones until he stood up" means that he would not remain in the first Tashahhud for long; rather, he would keep it brief and stand up quickly, as if he were sitting on a hot stone. According to our school of thought, he would suffice with the Tashahhud without the prayer (upon the Prophet ﷺ) and supplication, or according to the Shafi‘i school, he would suffice with Tashahhud and prayer upon the Prophet ﷺ without supplication. This is mentioned in "Al-Mirqat." And in another narration by Ahmad from the Prophet ﷺ: "Then if he was in the middle of the prayer, he would rise as soon as he finished his Tashahhud."
(۱) قوله: كأنه على الرضف حتى يقوم: يعني لا يلبث في التشهد الأول كثيرًا، بل يخففه ويقوم مسرعًا، كمن هو قاعد على حجر حار، فيكون مكتفيا بالتشهد دون الصلاة والدعاء على مذهبنا، أو مكتفيا بالتشهد والصلاة على الدعاء عند الشافعية. كذا في «المرقاة». وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ عَنِ النَّبِيَّ ﷺ : ثُمَّ إِنْ كَانَ فِي وَسْطِ الصَّلَاةِ نَهَضَ حِيْنَ يَفْرُغُ مِنْ تَشَهُدِهِ.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں ایک یہ کہ قعدہ میں بجائے گھٹنوں کے سیدھے ہاتھ کو سیدھی ران پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھے، دوسرے یہ کہ التحیات پڑھتے ہوئے جب کلمہ شہادت پر پہنچے تو سیدھے ہاتھ کی تمام انگلیوں کو بند کر کے شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے۔(فتح القدیر)