Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 16

Chapter on The Tashahhud

14 narrations · In source reading order

Hadith 1269

Volume 1

English

It is narrated from Ali ibn Abd al-Rahman al-Mu’awi who said: "Abdullah ibn Umar saw me playing with pebbles during prayer. When he finished, he forbade me and said: 'Do as the Messenger of Allah (peace be upon him) used to do.' I asked: 'How did the Messenger of Allah (peace be upon him) do it?' He said: 'When he sat in prayer, he placed his right hand on his right thigh, clenched all his fingers, pointed with the finger next to the thumb, and placed his left hand on his left thigh.'" [Narrated by Abu Dawud and Muslim] Imam Ibn al-Humam said: "There is no doubt that placing the palm while clenching the fingers is not possible. The intended meaning—and Allah knows best—is to place the palm first, then clench the fingers afterward when pointing."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٢٦٩ - عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيَّ قَالَ: رَآنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ (رضي الله عنه) وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَا فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي وَقَالَ: اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَصْنَعُ. فَقُلْتُ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَصْنَعُ ؟ قَالَ: إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، وَأَشَارَ بِأَصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، وَوَضَعَ كَفَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَمُسْلِمُ. وَقَالَ الْإِمَامُ ابْنُ الْهُمَامِ: وَلَا شَكَ أَنَّ وَضْعَ الْكَفَّ مَعَ قَبْضِ الْأَصَابِعِ لَا يَتَحَقَّقُ، فَالْمُرَادُ - وَاللهُ أَعْلَمُ - وَضَعُ الْكَفَّ، ثُمَّ قَبْضُ الْأَصَابِعِ بَعْدَ ذَلِكَ عِنْدَ الْإِشَارَةِ انْتَهَى

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1445
علی بن عبدالرحمن معاوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتا دیکھا تو انہوں نے نماز سے فارغ ہوکر مجھے منع کیا اور فرمایا جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے تم بھی وہی کیا کرو، میں نے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا عمل فرمایا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا:جب آپ نماز میں تشہد کے لئے بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھ لیتے تھے اور شہادت کے وقت تمام انگلیاں بند کر کے اپنے انگوٹھے کے قریب کی انگلی (جس کو شہادت کی انگلی کہتے ہیں) اس سے اشارہ فرماتے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے تھے۔(اس کی روایت ابوداؤد اور مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 580b (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں ایک یہ کہ قعدہ میں بجائے گھٹنوں کے سیدھے ہاتھ کو سیدھی ران پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھے، دوسرے یہ کہ التحیات پڑھتے ہوئے جب کلمہ شہادت پر پہنچے تو سیدھے ہاتھ کی تمام انگلیوں کو بند کر کے شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے۔(فتح القدیر)

Hadith 1270

Volume 1

English

It is narrated from Wa’il ibn Hujr (may Allah be pleased with him) who said: "I said to myself: 'I will observe how the Messenger of Allah (peace be upon him) prays.' He stood for prayer... (the Hadith continues) ...then he sat and spread his left leg, placed his left hand on his left thigh, rested his right elbow on his right thigh, clenched two fingers, made a circle, and pointed with his index finger."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱٢۷۰ - وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ كَيْفَ يُصَلِّي ؟ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ ... الحَدِيثَ، وَفِيهِ : ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، وَرَأَيْتُهُ يَقُوْلُ هَكَذَا وَحَلَّقَ بِشْرُ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1446
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں یہ بات ٹھان لی تھی کہ دیکھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں؟ تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا، وائل رضی اللہ عنہ نے یہاں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری نماز پڑھنے کا تذکرہ کیا جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قعدہ میں بیٹھنے کی کیفیت کو اس طرح بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں پیر بچھائے اور اس پر بیٹھ گئے اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھے اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر اس طرح رکھے کہ دائیں کہنی ران سے کچھ اٹھی ہوئی تھی، پھر سیدھے ہاتھ کی دونوں انگلیوں جن کو خنصر اور بنصر کہتے ہیں بند کر کے وسطی یعنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنایا حضرت وائل کہتے ہیں کہ ”وَرَأَيْتُهُ يَقُوْلُ أَىْ يُشِيْرُ“ (بذل المجہود۔) میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سبابہ سے اشارہ فرماتے دیکھا حضرت وائل نے یہ بھی کہا ”هٰكَذَا“
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 957 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس طرح (یعنی یہ کہ حضرت وائل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو کر کے بتلایا۔ اس حدیث کے راویوں میں حضرت بشر ہیں، اس حدیث کو سناتے ہوئے انہوں نے بھی اپنے شاگرد کو یہ عمل اس طرح کر کے دکھایا کہ انگوٹھے اور بیچ کی انگلی سے حلقہ بنا کر سبابہ یعنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)

Hadith 1271

Volume 1

English

It is narrated from Abdullah ibn al-Zubayr (may Allah be pleased with him) who said: "The Prophet (peace be upon him) used to point with his finger when supplicating and did not move it." [Narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i) Abu Dawud added: "And his gaze did not go beyond his pointing." In a narration by Ahmad: "The Prophet (peace be upon him) said: 'It is more severe against Satan than iron.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۲۷۱ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُشِيرُ بِأَصْبُعِهِ إِذَا دَعَاء وَلَا يُحَرِّكُهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: وَلَا يُجَاوِزُ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لأَحْمَدَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : لَهِيَ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1447Noor 1448
عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ میں التحیات پڑھتے ہوئے کلمہ شہادت پر پہنچتے تو سبابہ یعنی شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا کرتے مگر اس کو ہلایا نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔) اور ابوداؤد کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ مقام اشارہ سے ہٹتی نہیں تھی، یعنی اشارہ کرتے وقت مقام اشارہ ہی کو دیکھتے رہتے تھے۔ اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شہادت کی انگلی کا اشارہ شیطان پر ہتھیار کے حملہ سے زیادہ سخت ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 989 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1270 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1272

Volume 1

English

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) who said: "A man was supplicating with two fingers, so the Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'One, one.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٢٧٢ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَدْعُوْ بِأُصْبُعَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَحَدٌ أَحَدٌ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1449
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک صحابی کلمہ شہادت پڑھتے وقت دونوں ہاتھوں کے شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”ایک سے“ ”ایک سے“، یعنی صرف سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا کرو۔ (اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی الدعوات الکبیر میں اس کی روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3557 (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1272 (unverified) 72% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1273

Volume 1

English

It is narrated from Asim ibn Kulayb, from his father, from his grandfather who said: "I entered upon the Prophet (peace be upon him) while he was praying. He had placed his left hand on his left thigh and his right hand on his right thigh, clenched his fingers, extended his index finger, and was saying: 'O Turner of the hearts, make my heart firm upon Your religion.'" [Narrated by Al-Tirmidhi in his book Al-Da’awat from his Jami’] In Al-Sa’ayah: "This Hadith indicates that the Prophet (peace be upon him) continued this practice after forming the gesture and did not revert to his previous posture." Ali al-Qari said in Tazhib al-Ibara: "The correct and preferred opinion among the majority of our scholars is to place the palms on the thighs, then, upon reaching the declaration of Tawhid (لا إله إلا الله), to fold the ring and little fingers, make a circle with the middle finger and thumb, and point with the index finger, raising it during negation (لا إله) and lowering it during affirmation (إلا الله), then continuing in this manner."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۲۷۳ - وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ (رضي الله عنه) قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَهُوَ يُصَلِّي، وَقَدْ وَضَع يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ، وَبَسَطَ السَّبَّابَةَ، وَهُوَ يَقُوْلُ: «يَا مُقَلِّبَ القُلُوْبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ فِي كِتَابِ الدَّعَوَاتِ عَنْ جَامِعِهِ. وَفِي السَّعَايَةِ»: فَهَذَا الْحَدِيثُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعْدَ مَا عَقَدَ اسْتَمَرَّ عَلَيْهِ وَلَمْ يَرْجِعُ إِلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ انْتَهَى وَقَالَ عَلِيُّ الْقَارِي فِي تَزْبِيْنِ الْعِبَارَةِ وَالصَّحِيحُ الْمُخْتَارُ عِنْدَ جَمْهُورِ أَصْحَابِنَا أَنْ يَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، ثُمَّ عِنْدَ وُصُوْلِهِ إِلَى كَلِمَةِ التَّوْحِيدِ يَعْقِدُ الْخِنْصَرَ وَالْبِنْصَرَ، وَيُحَلِّقُ الْوُسْطَى وَالْإِبْهَامَ، وَيُشِيرُ بِالْمُسَبِّحَةِ رَافِعًا لَهَا عِنْدَ النَّفْيِ وَاضِعًا عِنْدَ الْإِثْبَاتِ، ثُمَّ يَسْتَمِرُّ عَلَى ذَلِكَ. انْتَهَى

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1450
عاصم بن کلیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے کہا کہ (ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اس وقت) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز (کے قعدہ) میں تھے میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر (کھلا ہوا) رکھے ہوئے ہیں اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر اس طرح رکھے ہوئے ہیں کہ انگلیاں بند ہیں اور شہادت کی انگلی ران پر کھلی رکھی ہوئی ہے، اور آپ یہ دعاء پڑھ رہے ہیں۔ ”يَامُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰى دِينِكَ“ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ (یہاں اس دعاء کے نقل کرنے سے راوی کی غرض یہ بتلانا ہے کہ قعدہ اخیرہ ہو رہا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدھے ہاتھ کی انگلیاں اور شہادت کی انگلی اب تک بدستور ویسی ہی تھیں جیسے اشارہ کے بعد رکھی ہوئی تھیں۔) (اس کی روایت ترمذی نے اپنی جامع کے کتاب الدعوات میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3522 (unverified) 78% confidence · Validation similarity: 0.473

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1): سعایہ میں مذکور ہے کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ میں اشارہ کرنے کے بعد جو انگلیاں بند کئے ہوئے اور شہادت کی انگلی کو ران پر کھلا رکھے ہوئے تھے قعدہ کے ختم ہونے تک ان سب کو بدستور اسی حالت میں بند رکھے ہوئے تھے کھولے نہ تھے۔ ف(2): واضح ہو کہ مذکور الصدر احادیث مآخذ ہیں اس تفصیل کے جس کو ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ ”تزیین العبارۃ“ میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ صحیح اور مختار ہمارے جمہور احناف کے پاس یہ ہے کہ قعدہ میں التحیات شروع کرتے وقت پہلے دونوں ہتھیلیوں کو دونوں رانوں پر اس طرح رکھیں کہ انگلیاں کھلی ہوئی قبلہ رخ رہیں، اور التحیات پڑھتے ہوئے جب کلمہ توحید یعنی أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ پر پہنچے تو خنصر اور بنصر دونوں چھوٹی انگلیوں کو بند کر لے اور درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنائے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ اس طرح کرے کہ لَا إِلٰهَ کہتے وقت شہادت کی انگلی کو اٹھائے اور إِلَّا اللّٰهُ کہتے وقت کلمہ کی انگلی کو کھلی ہوئی ران پر رکھ دے اور دوسری انگلیوں کو نہ کھولے، اگر قعدہ اولی ہو تو تیسری رکعت کے لئے اٹھنے تک اور اگر قعدہ اخیرہ ہو تو سلام پھیرنے تک انگلیوں کو بدستور اسی حالت پر رکھے۔

Hadith 1274

Volume 1

English

It is narrated from Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) who said: "We were with the Messenger of Allah (peace be upon him) and did not know anything. He said to us: 'Say in every sitting: "All compliments, prayers, and pure words are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous servants of Allah. I bear witness that there is no deity except Allah, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger.""

العربية

Typed, pending editorial approval
١٢٧٤ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ (رضي الله عنه) ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ لَا نَعْلَمُ شَيْئًا، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ: «قُوْلُوا فِي كُلِّ جَلْسَةٍ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1451
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم کچھ نہیں جانتے تھے سب کچھ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا (منجملہ ان کے یہ بھی سکھایا) کہ جب تم نماز کے قعدہ میں ہو تو یہ پڑھا کرو ”التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ زبان، جسم و جان اور مال کی تمام عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 916 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1167 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 916

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1275

Volume 1

English

It is narrated from Abu Ma’mar who said: "I heard Abdullah (ibn Mas’ud) say: 'The Messenger of Allah (peace be upon him) taught us the Tashahhud as he taught us a Surah from the Quran: "All compliments, prayers, and pure words are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous servants of Allah. I bear witness that there is no deity except Allah, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger."" [Narrated by Al-Nasa’I and similar narrations are found in Al-Bukhari, Muslim, Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Ibn Majah] Al-Tirmidhi said: "The Hadith of Ibn Mas’ud has been narrated through multiple chains, and it is the most authentic Hadith from the Prophet (peace be upon him) regarding the Tashahhud. It is the practice followed by most scholars among the companions of the Prophet (peace be upon him) and the successors, including Sufyan al-Thawri, Ibn al-Mubarak, Ahmad, and Ishaq." Al-Bazzar said: "The most authentic Hadith regarding the Tashahhud, in my view, is the Hadith of Ibn Mas’ud, narrated through more than twenty chains. No Hadith from the Prophet (peace be upon him) is more established, with a stronger chain, more renowned narrators, or more corroborated by multiple chains." Muslim said: "The people have unanimously agreed upon the Tashahhud of Ibn Mas’ud because his companions did not differ among themselves, unlike others whose companions differed." Muhammad ibn Yahya al-Dhuhali said: "The Hadith of Ibn Mas’ud is the most authentic narration regarding the Tashahhud." Al-Tabarani narrated in Al-Kabir from Buraydah ibn al-Khusayb (may Allah be pleased with him) who said: "I have not heard anything better than the Tashahhud of Ibn Mas’ud." This was mentioned by Al-Hafiz Ibn Hajar.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٢٧٥ - وَعَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ (رضي الله عنه) يَقُولُ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ التَّشَهُدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ وَكَفُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَرَوَى البُخَارِيُّ وَمُسْلِمُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه نَحْوَهُ. وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ (رضي الله عنه) قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهِ، وَهُوَ أَصَحُ حَدِيثٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي التَّشَهُدِ. وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَقَالَ الْبَزَّارُ: أَصَحٌ حَدِيْثٍ عِنْدِي فِي التَّشَهُدِ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ، رُوِيَ عَنْ نَيْفٍ وَعِشْرِينَ وَجْهَا، وَلَا يُعْلَمُ رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ أَثْبَتُ مِنْهُ، وَلَا أَصَحُ إِسْنَادًا، وَلَا أَشْهَرُ رِجَالًا، وَلَا أَشَدُّ تَظَافُرًا بِكَثْرَةِ الْأَسَانِيدِ. وَقَالَ مُسْلِمُ: إِنَّمَا اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى تَشَهُدِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه)؛ لِأَنَّ أَصْحَابَهُ لَا يُخَالِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَغَيْرُهُ قَدِ اخْتَلَفَ أَصْحَابُهُ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذَّهَلِي: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَصَحُ مَا رُوِيَ فِي التَّشَهُدِ. وَرَوَى الطَّبَرَانِي فِي الْكَبِيْرِ» عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ الْخُصَيْبِ (رضي الله عنه) قَالَ: مَا سَمِعْتُ أَحْسَنَ مِنْ تَشَهُدِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، كَذَا ذَكَرَهُ الْحَافِظُ ابْنُ حَجَرٍ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1452
ابومعمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو تشہد کی اس طرح تعلیم دی تھی جس طرح قرآن کی سورتوں کی تعلیم دیا کرتے تھے (ابومعمر کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے خوب یاد ہے کہ اس وقت جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کی تعلیم دی تھی ”واضح ہو کہ یہ ترجمہ بخاری کے باب المصافحہ کی روایت وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ“ کے لحاظ سے کیا گیا ہے۔) میرا ہاتھ (مصافحہ کی طرح) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست ہائے مبارک میں تھا (وہ تشہد یہ ہے) (اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6265 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 402a (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 289 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کئی طریقوں سے مروی ہے اور تشہد کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی حدیثیں آئی ہیں ان سب میں سب سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے اکثر علماء صحابہ کا عمل اسی حدیث پر رہا ہے اور صحابہ کے بعد اکثر علماء تابعین بھی اسی پر عمل کیا کرتے تھے اور حضرت سفیان ثوری و حضرت ابن المبارک امام احمد اور امام اسحاق کا بھی تشہد کے بارے میں یہی قول ہے۔ (ترمذی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) اور حضرت بزار نے کہا ہے کہ تشہد کے بارے میں میرے پاس سب سے زیادہ صحیح حدیث یہی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو بیس سے زیادہ سندوں سے مروی ہے اور انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تشہد کے بارے میں جتنی حدیثیں مروی ہیں ان سب میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے بڑھ کر قوی اور سند کے لحاظ سے اس حدیث سے بڑھ کر صحیح کوئی حدیث نہیں ملی اور راویوں کے اعتبار سے یہ حدیث سب سے زیادہ مشہور راویوں سے مروی ہے اور سند کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے کی تائید کرنے والی اس حدیث کی سند سے بڑھ کر کسی حدیث کی سند نہیں ہے۔ (بزار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) تعلیق مجد میں امام مسلم کا قول اس طرح مذکور ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی صحت پر اکثر فقہاء اور محدثین نے اس وجہ سے بھی اتفاق کیا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تمام شاگردوں نے آپ سے تشہد کے جن الفاظ کی روایت کی ہے وہ سب ایک ہی ہیں ان کے الفاظ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کے برخلاف دوسرے راویوں نے جس تشہد کی روایت کی ہے اُس کو ان کے شاگردوں نے مختلف الفاظ سے نقل کیا ہے اور ان کے الفاظ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی طرح ایک نہیں ہیں اور محمد بن یحیٰ ذہلی نے کہا ہے کہ تشہد کے بارے میں جتنی حدیثیں مروی ہیں ان سب میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے اور طبرانی نے الکبیر میں بریدہ بن الحصیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد سے بہتر کوئی تشہد نہیں سنا اور حافظ ابن حجر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔

Hadith 1276

Volume 1

English

It is narrated from al-Qasim ibn Mukhaymirah who said: "Alqamah took my hand and told me that Abdullah ibn Mas’ud took his hand, and the Messenger of Allah (peace be upon him) took Abdullah’s hand and taught him the Tashahhud in prayer." [Narrated by Abu Dawud] Our Imam Abu Hanifah narrated: "Hammad ibn Sulayman took my hand and taught me the Tashahhud. Hammad said: 'Ibrahim took my hand and taught me the Tashahhud.' Ibrahim said: 'Alqamah took my hand and taught me the Tashahhud.' Alqamah said: 'Abdullah ibn Mas’ud took my hand and taught me the Tashahhud.' Abdullah said: 'The Messenger of Allah (peace be upon him) took my hand and taught me the Tashahhud as he taught me a Surah from the Quran.'" This was mentioned by Ibn al-Humam.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٢٧٦ - وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) أَخَذَ بِيَدِهِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللهِ، فَعَلَّمَهُ التَّشَهُدَ فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَرَوَاهُ إِمَامُنَا أَبُو حَنِيفَةَ وَقَالَ: أَخَذَ حَمَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ بِيَدِي وَعَلَّمَنِي التَّشَهُدَ، وَقَالَ حَمَّادٌ: أَخَذَ إِبْرَاهِيمُ بِيَدِي وَعَلَّمَنِي التَّشَهُدَ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي وَعَلَّمَنِي التَّشَهُدَ، وَقَالَ عَلْقَمَة : أَخَذَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِي وَعَلَّمَنِي التَّشَهُدَ، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِيَدِي وَعَلَّمَنِي التَّشَهُدَ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ذَكَرَهُ ابْنُ الْهُمَامِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 11453Noor 11454
قاسم بن مخیمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ علقمہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت علقمہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر نماز کے قعدہ میں التحیات پڑھنا سکھلائے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔ اور ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کی روایت کی ہے۔ وہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 969 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

فرماتے ہیں کہ حماد بن سلیمان رحمہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور حماد فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس طرح تشہد سکھائے جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو قرآن کی سورتیں سکھایا کرتے تھے (یہ تشہد وہی ہے جو حدیث (دو حدیث پہلے ”حضرت ابن مسعودؓ کی منقولہ التحیات کے عنوان سے گزری ہے“) میں مذکور ہے۔ امام ابن الہمام نے اس کو بیان کیا ہے۔)

Hadith 1277

Volume 1

English

It is narrated from Abdullah (ibn Mas’ud) who said: "I took the Tashahhud directly from the mouth of the Messenger of Allah (peace be upon him), and he taught it to me word by word." [Narrated by Al-Tahawi) Muhammad (al-Shaybani) said: "Abdullah ibn Mas’ud disliked adding or removing even a single letter from it."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۲۷۷ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) أَنَّهُ قَالَ: أَخَذْتُ التَّشَهدَ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ ﷺ وَلَقَنَنِيْهَا كَلِمَةً كَلِمَةً. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ : وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ الله يَكْرَهُ أَنْ يُزَادَ فِيْهِ حَرْفٌ أَوْ يُنْقَصَ مِنْهُ حَرْفٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1455
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے تشہد سیکھا ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تشہد ایک ایک کلمہ کر کے اس طرح سکھائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک کلمہ فرماتے جاتے تھے اور میں ایک ایک کلمہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہراتا جاتا تھا۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔) اور امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے روایت کئے ہوئے تشہد کے الفاظ پر ایک حرف کے بھی بڑھانے اور گھٹانے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔

Hadith 1278

Volume 1

English

It is narrated from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) who said: "Abu Bakr used to teach us the Tashahhud on the pulpit as you teach children the Quran." Then he mentioned the Tashahhud of Ibn Mas’ud exactly.

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۲۷۸ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُدَ عَلَى الْمِنْبَرِ كَمَا تُعَلِّمُونَ الصَّبْيَانَ الْكِتَابَ. ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ تَشَهُدِ ابْنِ مَسْعُودٍ سَوَاءً. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1456
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، ہم کو برسر منبر تشہد سکھایا کرتے تھے جس طرح تم اپنے بچوں کو قرآن سکھاتے ہو پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی طرح تشہد پڑھ کر سنایا دونوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1279

Volume 1

English

It is narrated from Aisha (may Allah be pleased with her) who said: "This is the Tashahhud of the Prophet (peace be upon him): "All compliments, prayers, and pure words are due to Allah..." (similar to the Tashahhud of Ibn Mas’ud)." [Narrated by Al-Bayhaqi] Al-Nawawi said in Al-Khulasa: "Its chain is good." In Al-Sa’ayah: "It contains a good benefit, which is that his Tashahhud was not in the exact wording of our Tashahhud."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۲۷۹ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: هَذَا تَشَهُدُ النَّبِيِّ ﷺ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ إِلخَ مِثْلَ تَشَهُدِ ابْنِ مَسْعُودٍ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ النَّوَوِيُّ فِي الْخُلَاصَةِ»: سَنَدُهُ جَيَّدٌ. وَفِي السَّعَايَةِ»: وَفِيْهِ فَائِدَةٌ حَسَنَةٌ، وَهِيَ أَنْ تَشَهُدَهُ لا بِلَفْظِ تَشَهُدِنَا. انْتَهَى

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1457
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ نبی صلی کا تشہد بھی یہی ہے۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور امام نووی رحمہ اللہ نے خلاصہ میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سند جید ہے اور سعایہ میں مذکور ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تشہد پڑھا کرتے تھے وہی تشہد ہے جس کو ہم پڑھا کرتے ہیں۔

Hadith 1280

Volume 1

English

It is narrated from Khufayf who said: "I saw the Prophet (peace be upon him) in a dream and said: 'O Messenger of Allah, the people have differed regarding the Tashahhud.' He said: 'Stick to the Tashahhud of Ibn Mas’ud.'" [Narrated by Al-Tirmidhi] This was mentioned by Al-Zayla’i, Ibn al-Humam, Ibn Hajar, and Al-Ayni.

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۲۸۰ - وَعَنْ خُصَيْفِ : أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ فِي الْمَنَامِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوْا فِي التَّشَهُدِ، فَقَالَ: عَلَيْكَ بِتَشَهُدِ ابْنِ مَسْعُودٍ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ. ذَكَرَهُ الزَّيْلَعِيُّ وَابْنُ الْهُمَامِ وَابْنُ حَجَرٍ وَالْعَيْنِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1458
خصیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے متعلق لوگ اختلاف میں پڑ گئے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ نے جواب دیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کو اختیار کرو اور اس کو پڑھا کرو۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے جس کا ذکر زیلعی ابن الہمام ابن حجر اور عینی رحمہم اللہ نے کیا ہے)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 289 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1281

Volume 1

English

Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) said: "It is from the Sunnah to recite the Tashahhud quietly."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۲۸۱ - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ (رضي الله عنه) كَانَ يَقُولُ: مِنَ السُّنَّةِ إِخْفَاءُ التَّشَهُدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1459
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ التحیات کا اخفیٰ یعنی آہستہ پڑھنا سنت ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 986 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 291 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1282

Volume 1

English

He (Ibn Mas‘ud) also said: "The Prophet ﷺ, in the first two Rak‘ahs, would be as if he were sitting on hot stones until he stood up."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۲۸۲ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأَوْلَيَيْنِ كَأَنَّهُ1 عَلَى الرَّضْفِ حَتَّى يَقُوْمَ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1460Noor 1461
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں کے بعد قعدہ اولیٰ میں التحیات پڑھنے کے لئے اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا آپ گرم پتھر پر بیٹھتے ہیں۔ (اور التحیات ختم کرتے ہی درود و دعاء پڑھے بغیر تیسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوجاتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔ اور امام احمد رحمہ اللہ سے جو روایت آئی ہے اس میں اس طرح مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ اولیٰ میں التحیات پڑھتے ہوئے ”أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ“ سے فارغ ہوتے ہی فوراً (بغیر درود اور دعاء کے تیسری رکعت کے لئے) اٹھ جاتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 366 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 995 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

As if he were sitting on hot stones until he stood up

(1) His saying: "As if he were sitting on hot stones until he stood up" means that he would not remain in the first Tashahhud for long; rather, he would keep it brief and stand up quickly, as if he were sitting on a hot stone. According to our school of thought, he would suffice with the Tashahhud without the prayer (upon the Prophet ﷺ) and supplication, or according to the Shafi‘i school, he would suffice with Tashahhud and prayer upon the Prophet ﷺ without supplication. This is mentioned in "Al-Mirqat." And in another narration by Ahmad from the Prophet ﷺ: "Then if he was in the middle of the prayer, he would rise as soon as he finished his Tashahhud."

Note 1

قوله

(۱) قوله: كأنه على الرضف حتى يقوم: يعني لا يلبث في التشهد الأول كثيرًا، بل يخففه ويقوم مسرعًا، كمن هو قاعد على حجر حار، فيكون مكتفيا بالتشهد دون الصلاة والدعاء على مذهبنا، أو مكتفيا بالتشهد والصلاة على الدعاء عند الشافعية. كذا في «المرقاة». وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ عَنِ النَّبِيَّ ﷺ : ثُمَّ إِنْ كَانَ فِي وَسْطِ الصَّلَاةِ نَهَضَ حِيْنَ يَفْرُغُ مِنْ تَشَهُدِهِ.