Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 48

Chapter on The Atirah (Sacrifice in Rajab)

Section: (2)

2 narrations · In source reading order

Hadith 1918

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "There is no Far’ (firstborn animal sacrifice) or Atirah (sacrifice in Rajab)." He explained, "The Far’ was the first offspring of their livestock, which they used to sacrifice for their idols, and the Atirah was a sacrifice in Rajab."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۹۱۸ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «لَا فَرْعَ وَلَا عَتِيْرَةَ قَالَ: وَالْفَرْعُ أَوَّلُ نِتَاجٍ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ ، كَانُوا يَذْبَحُوْنَهُ لِطَوَاغِيْتِهِمْ، وَالْعَتِيْرَةُ فِي رَجَبَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2233
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: فرع اور عتیرہ اب باقی نہ رہے، یہ دونوں منسوخ کر دئے گئے ہیں۔ (کوئی مسلمان ان دونوں کو خواہ نیت کسی ہی خالصاً لِلّٰہ ہو نہ کرے۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "So leave them in their falsehood." (Qur’an 6:112)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5473 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1976a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1919

Volume 1

English

Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Zakah has replaced all forms of charity mentioned in the Qur’an, fasting Ramadan has replaced all other fasts, the ghusl for janabah (major impurity) has replaced all other ghusls, and the Udhiyah (Eid al-Adha sacrifice) has replaced all other sacrifices." [Narrated by Al-Daraqutni and Al-Bayhaqi] Abu Dawud said: "The Atirah is abrogated." 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۹۱۹ - وَعَنْ عَلِيَّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : «نَسَخَتِ الزَّكَاةُ كُلَّ صَدَقَةٍ فِي الْقُرْآنِ، وَنَسَخَ صَوْمُ رَمَضَانَ كُلَّ صَوْمٍ، وَنَسَخَ غُسْلُ الْجَنَابَةِ كُلَّ غُسْلٍ، وَنَسَخَتْ الْأَضَاحِي كُلَّ ذَبْح». رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ ، وَقَالَ أَبُوْ دَاوُدَ: وَالْعَتِيْرَةُ مَنْسُوْخَةٌ. 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2234
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ زکات (جو صدقۂ فطر اور عُشر کو بھی شامل ہے) جب یہ فرض ہوئی تو قرآن میں جو جو خیرات زکات فرض ہونے کے پہلے واجب تھے ان کا وجوب منسوخ ہوگیا (اب اس خیرات کا دینا مستحب باقی رہا) اور رمضان کے روزے فرض ہونے کے پہلے دوسرے مہینوں میں جن روزوں کا روزہ رکھنا فرض تھا مثلاً دسویں محرم کا روزہ، رمضان کے فرض ہونے سے ایسے سب روزوں کا وجوب منسوخ ہوگیا (اب ان روزوں کا مستحب ہونا باقی رہا) اور غسل جنابت فرض ہونے سے دوسرے غسل مثلاً جمعہ وغیرہ کا وجوب منسوخ ہوگیا (اب دوسرے غسل مستحب رہے) اور قربانی واجب ہونے سے اور جانور جو عبادت کے طور پر ذبح کئے جاتے تھے، مثلاً عقیقہ اور فرع اور عتیرہ کا وجوب بھی منسوخ ہوگیا (عقیقہ، فرع اور عتیرہ کا مستحب ہونا باقی رہا، عقیقہ کرنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں تھی، اس لئے عقیقہ کرنا مستحب رہا، مگر فرع اور عتیرہ کہ اس میں مشرکین کے ساتھ
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1481 (unverified) 60% confidence

Mishkat (candidate) 1481

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The Atirah is abrogated.

(1) The statement: "The Atirah is abrogated." Ali al-Qari said: "The general prohibition was to avoid resembling the idolaters." I say: Therefore, it is not recommended either.

Note 1

قوله

(۱) قوله : منسوخة وقال علي القاري : ثم وقع النهي العام للتشبه بأهل الأصنام انتهى. قلت: فلا تستحب أيضا.

Note 1

مشابہت ہو رہی تھی، گو مشرکین بتوں کے لئے کرتے تھے اور مسلمان اللہ تعالیٰ کے لئے ذبح کرتے تھے مگر مشرکین کی مشابہت کی وجہ سے فرع اور عتیرہ کا مستحب ہونا بھی منسوخ ہو گیا، اسی وجہ سے ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات میں فرع اور عتیرہ کا منسوخ ہونا ظاہر کیا ہے اور ابوداؤد نے بھی اپنی سنن میں عتیرہ کا منسوخ ہونا لکھا ہے۔) اس حدیث کی روایت دارقطنی اور بیہقی نے کی ہے۔