حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (دینی اور دنیوی) مصائب کی مشقت سے، بدبختی سے، بری
تقدیر اور (مصیبتوں میں گرفتار ہونے پر) دشمنوں کے خوش ہونے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔ اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ان) پانچ چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے:
بزدلی سے، بخل سے اور بڑھاپے کی برائی سے، اور سینہ کے فتنہ (یعنی وسوسوں اور بدعقیدگی)
سے اور قبر کے عذاب سے۔ اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ
آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: تم اللہ تعالیٰ سے اس لالچ سے پناہ مانگو جو تم کو طمع یعنی (دینی یا دنیوی)
ذلت تک پہنچا دے۔
اس کی روایت امام احمد نے اور بیہقی نے دعوات الکبیر میں کی ہے)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے (ایک مرتبہ) چاند کو دیکھا (جب کہ اس کو گہن لگا ہوتا تھا) تو آپ نے فرمایا: اے عائشہ!
تم اللہ تعالیٰ سے اس کی برائی سے پناہ مانگو اس لئے کہ یہی غاسق یعنی اندھیرے کو پھیلانے والا ہے
(جب کہ اس کو گہن لگ جاوے)۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
حضرت قَعْقَاع رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت کعب اَحبار رحمة اللہ علیہ
نے کہا کہ (میرے اسلام) قبول کرنے سے یہود میرے دشمن ہیں) اگر میں چند کلمات کو نہ پڑھا کرتا
تو یہود (جادو کر کے) مجھے گدھا بنا دیتے (یعنی مجھے گدھے کی طرح بے وقوف اور ذلیل بنا دیتے)
ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ کلمات کیا ہیں تو انہوں نے جواب دیا (وہ کلمات یہ ہیں)
میں اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی پناہ میں آتا ہوں جو بزرگ و برتر ہے اور جس سے بڑھ کر
عظمت والا کوئی نہیں اور اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات یعنی قرآن کے واسطے سے (جس کے وعدے اور
وعید ثواب اور عذاب سے) کوئی نیک اور بد خارج نہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں کے واسطے
سے جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا وہ سارے مخلوقات کی برائی سے جس کو اللہ تعالیٰ نے
پیدا کیا پھیلایا اور موزوں بنایا۔
اس کی روایت امام مالک رحمة اللہ علیہ نے کی ہے۔
Candidate: Muwatta Malik 1714 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 2498
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
the Jews would have turned me into a donkey
(1) The statement "the Jews would have turned me into a donkey" means they would have made me foolish and humiliated. The meaning is that they were sorcerers who were angered by my Islam. Were it not for my seeking refuge with these words, they would have overpowered me, subdued me, and made me foolish and humiliated like a donkey - which is a metaphor for humiliation. It does not mean they actually transformed him, as transforming realities is only in Allah's power, as He says: "Be as apes, despised" (2:65), and "It seemed to him from their magic that their ropes and staffs were moving" (20:66). This shows the extent of their magic, which was the pinnacle of what sorcerers could achieve in Pharaoh's time while seeking his wealth and status. If they could have done more, they would have done so against Moses. If they couldn't do it against Moses, how could they do it against the best of creation who manifested truth? As Al-Bayhawi said: Magic refers to what is achieved through seeking help from Satan in matters beyond human capability. If Satan cannot transform himself into a donkey, let alone others, how could those who seek his help transform realities?
As for the statement in Al-Madarik: "Magic has reality according to Ahl al-Sunnah (may Allah increase them) and is illusion according to Mu'tazilah (may Allah disgrace them)", it means magic is real and occurs, not that it is false illusion like seeing one thing as two or hallucinations from brain disorders. This is evidenced by the Quran and Sunnah, including the verses: "They teach people magic" (2:102), "And from the evil of those who blow on knots" (113:4), which refers to the famous Jewish magic. The consensus of Ahl al-Sunnah and Mu'tazilah against actual transformation, along with reason and the absence of such occurrences in creation, proves its impossibility. Claims of witnessing such are false tales told in coffee shops and believed by foolish women and weak-minded men.
Note 1
قوله
(۱) قوله:لجعلتني يهود حمارا: أي بليدا ذليلا، والمعنى: أنهم سَحَرَة، وقد أغضبهم إسلامي، فلولا استعاذتي بهذه الكلمات لتمكنوا مني، وغلبوا علي، وجعلوني بليدا، وأذلوني كالحمار؛ فإنه مثل في الذلة، لا أن اليهود سَحَرَته، ولولا استعاذتي بهذه الكلمات لتمكنوا من أن يقلبوا حقيقتي؛ لأن قلب الحقائق ليس إلا الله، كما قال تعالى: ﴿كُونُوا قردة (البقرة: ٦٥)، وقال: ﴿يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى () (طه: (٦٦) . فهذا يدل على غاية سحرهم الذي أجمع عليه كيد السحرة في زمان فرعون الطامعين على مال فرعون وجاهه، فلو كان في قدرتهم شيء أزيد من هذا لفعلوه في حق موسى ، فإذا لم يقدروا في حقه، فكيف يجوز أن يقدروا على سيد الخلق مظهر الحق أن يقلبوا حقيقته؛ ولذا قال البيضاوي والمراد بالسحر ما يستعان في تحصيله بالتقرب إلى الشيطان مما لا يستقل به الإنسان، فإذا كان ليس للشيطان أن يجعل نفسه حمارا حقيقة فضلا عن غيره، فكيف للمتوسل إلى قربه أن يقلب الحقيقة.
وأما قول صاحب المدارك»: وللسحر حقيقة عند أهل السنة - كثرهم الله تعالى - وتخييل وتمويه عند المعتزلة - خذلهم الله - فمعناه: قوله : السحر حق أي ثابت واقع، لا أنه خيال فاسد، كرؤية الأحوال شيئًا واحدا شيئين، وكتخيل الأشياء عند خلل الدماغ، وحصول الأفكار الفاسدة؛ لما يدلُّ عليه الكتاب والسنة من قوله تعالى: يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ (البقرة: (۱۰۲) وقوله: ﴿فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ﴾ (البقرة: (۱۰۲) وقوله عَزَّ وَجَلَّ: وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ( (الفلق : ٤) كما هو مشهور في سحر اليهود له ، ومما يدلُّ على بطلان قلب الحقائق بعد إجماع أهل السنة، والمعتزلة على خلافه أنه لم يقع مثل هذا أبدا في الكون، ويدل على بطلانه النقل والعقل ودعوى المشاهدة باطلة؛ إذ هي مجرد حكاية فاسدة مما يستمرها الناس ويحكونها في بيوت القهوة، وتجوز في عقول النساء وبعض الرجال ممن سخف عقله وسخف قلبه، والله المستعان، وعليه التكلان. المرقاة» ملتقط منه.
مسلم بن ابی بکرہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نماز
کے بعد یہ دعا ء پڑھتے تھے:
ترجمہ: یا الٰہی! میں کفر سے فقر سے اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں
راوی کا بیان ہے کہ (والد کی اتباع میں) میں بھی ان کلمات کو پڑھا کرتا تھا۔ تو (میرے)
والد نے) کہا: اے میرے بیٹے! تو نے یہ (دعا ء) کس سے سیکھی؟ میں نے جواب دیا: آپ سے! تو
(یہ سن کر ان کے والد نے) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا
کرتے تھے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔ البتہ نسائی نے دُبر الصلاۃ کے الفاظ کو نہیں بیان کیا
اور امام احمد نے صرف الفاظ حدیث (یعنی صرف دعا ء) کی روایت کی ہے (اور باپ بیٹے کے درمیان
مکالمہ کو نہیں بیان کیا) اور احمد کے پاس فِى دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ (یعنی ہر نماز کے بعد) کے الفاظ مروی
ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ
دعا ء بھی) پڑھا کرتے تھے:
یا الٰہی! میں تیرا فرماں بردار بن گیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری طرف
رجوع ہوا اور تیری (مدد) سے (دشمنوں سے) لڑا۔ اے پروردگار! میں آپ کی عزت کی پناہ میں آتا
ہوں۔ آپ کے سوا کوئی (برحق) معبود نہیں اس بات سے کہ آپ مجھے (ہدایت کے بعد) گمراہ کر
دیں آپ ہی وہ زندہ جاوید ہیں جن کو موت نہیں آتی، اور جن و انس کو موت آتی ہے اور وہ تو مرتے
ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعاء (بھی) فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میں برے اخلاق (جیسے حسد، بغض وغیرہ) سے اور برے اعمال اور بری خواہشات
یعنی برے عقیدہ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ ترمذی نے اس کی روایت کی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
یہ دعا (بھی) فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میں شقاق (یعنی حق کی مخالفت اور باہمی عداوت) سے اور نفاق سے اور برے اخلاق
سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم یہ (دعاء) بھی فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میں بھوک سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اس لئے کہ وہ تکلیف دہ ساتھی ہے اور میں
خیانت سے (بھی) آپ کی پناہ میں آتا ہوں اس لئے کہ یہ پوشیدہ بری خصلت ہے۔
اس کی روایت ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
یا الٰہی! میں محتاجی (نیکیوں میں) کمی اور ذلت (یعنی لوگوں کی نظر میں حقیر ہونے سے)
آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اور ظالم بننے یا مظلوم بننے سے (بھی) آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس
کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
یہ (دعاء بھی) فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میں کوڑ، جذام، دیوانگی اور (اسی قسم کی دوسری) بری بیماریوں سے (بھی) آپ کی پناہ
میں آتا ہوں۔ اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم یہ (دعاء بھی) فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میں فکر اور غم، عاجزی اور سستی، بزدلی اور بخل، قرض کے بوجھ اور آدمیوں کے غلبہ سے
آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا، آپ نے فرمایا:۔ ”اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ“
(میں کفر سے اور قرض سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں) یہ سن ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ کیا
آپ کفر کو قرض کے مساوی قرار دیتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ہاں!۔
اور ایک روایت میں یوں ہے: آپ نے فرمایا: ”اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ
مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ“ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ دونوں (یعنی کفر اور فقر) برابر ہیں؟
آپ نے جواب دیا: ہاں۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ (دعاء بھی) فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میں (طاعت الٰہی میں) سستی سے، بڑھاپے سے قرض سے اور گناہوں سے آپ کی
پناہ میں آتا ہوں۔ یا الٰہی! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں دوزخ کے عذاب سے اور دوزخ کی
آزمائش سے، قبر کے فتنہ (یعنی فرشتوں کے جواب میں پریشانی سے) اور قبر کے عذاب سے اور
مالداری کے فتنہ کی برائی (یعنی غفلت، غرور اور بخل) سے اور افلاس کے فتنہ کی برائی (یعنی دولت
مندوں پر حسد اور لالچ) سے اور کانا دجال کے فتنہ کی برائی سے۔
یا الٰہی! آپ میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دیجئے اور میرے دل کو
(برائیوں سے) ایسے پاک کیجئے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے اور میرے اور گناہوں
کے درمیان اتنی دوری کر دیجئے جیسا کہ آپ نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری کر رکھی ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
حضرت ابو الیسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم یہ دعا (بھی) فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی (مکان کے مجھ پر) گرنے سے میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں (بلند جگہ سے
نیچے) گرنے سے، اور (پانی میں) ڈوب جانے سے، اور (آگ وغیرہ میں) جل جانے سے اور
بڑھاپے (کی برائی جیسے عقل میں فتور وغیرہ) سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اور موت کے وقت
شیطان کے مجھے مخبوط الحواس بنا دینے یعنی پریشان کرنے سے میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور آپ
کی راہ (یعنی جہاد) میں پیٹھ پلٹا کر بھاگنے کی موت سے (بھی) آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اور میں (
سانپ بچھو وغیرہ کے) کاٹنے کے سبب سے مر جانے سے (بھی) آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس کی
روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
اور نسائی کی ایک دوسری روایت میں غم سے بھی پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں ناگہانی موت جیسے دب کر یا اوپر سے گر کر مر جانے یا
زہریلے جانور کے ڈسنے وغیرہ سے پناہ مانگی گئی ہے حالانکہ ناگہانی اموات سے شہادت کا درجہ ملتا ہے۔
صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ ناگہانی اموات میں بے انتہا اور شدید تکلیف ہوتی ہے اس لئے اندیشہ
لگا رہتا ہے کہ مرنے والا بے صبری کے عالم میں کفریہ کلمات کہہ دے اور نتیجۃً خاتمہ برا ہو جائے۔ اسی وجہ
سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناگہانی اموات سے پناہ مانگنے کی امت کو تعلیم دی ہے۔12
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم یہ دعاء (بھی) فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میں (طاعت الٰہی اور عبادت میں) معذوری سے اور سستی سے اور بزدلی سے اور بخل
سے اور بڑھاپے (کی سزاع سے) اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ یا الٰہی! میرے نفس کو
پرہیزگار بنا دے اور تو اس کو پاکی عطا فرما آپ ہی سب میں بہتر پاک کرنے والے ہیں آپ ہی اس
کے کارساز اور مالک ہیں۔
یا الٰہی! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے، اور ایسے دل سے جس میں
آپ کا ڈر نہ ہو، اور ایسے نفس سے جس میں سیری نہ ہو اور ایسی دعاء سے جو قبول نہ ہو۔ اس کی روایت
مسلم نے کی ہے۔
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں: رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے:
ترجمہ: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں چار چیزوں سے: بے فائدہ علم سے، بے خوف دل
سے، نہ سیر ہونے والے نفس سے، نہ سنی جانے والی دعاء سے۔
اس کی روایت امام احمد، اور ابوداود اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
اور امام ترمذی نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے اور نسائی نے ان دونوں سے
روایت کی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (دعاؤں میں سے) ایک دعاء یہ بھی تھی:
یا الٰہی! میں آپ کی (ہر اس) نعمت کے زوال سے (جس کا کوئی بدل نہ ہو) اور عافیت
کے (مصیبت میں) بدل جانے سے اور آپ کے اچانک آنے والے عذاب سے اور آپ کے ہر قسم
کی ناراضگی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ تم میں سے جب کوئی نیند میں
ڈر جائے تو اس کو چاہئے کہ یہ کلمات پڑھ لے:
میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات یعنی قرآن کے واسطہ سے اس کے غضب سے، اس کے عذاب
سے، اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسوں سے اور ان کے مجھ پر حاضر ہونے یعنی
مسلط ہونے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
(تو) شیاطین اس کو (ظاہراً اور باطناً) نقصان نہیں پہنچائیں گے
اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے بچوں میں سے جو بالغ ہوتے مذکورہ بالا دعاء
سکھاتے تھے اور ان میں جو نابالغ ہوتے اس دعا کو کاغذ کے ایک پرچہ پر لکھ کر اس کے گلے میں
لٹکاتے تھے۔
اس کی روایت ترمذی اور ابوداود نے کی ہے اور اس حدیث کے الفاظ ترمذی کے ہیں۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
from the whisperings of devils
(1) The statement "from the whisperings of devils" indicates that fright in dreams comes from Satan. As mentioned in Al-Mirqat.
Note 2
he would hang it around their necks
(2) The statement "he would hang it around their necks" establishes the permissibility of wearing amulets containing Allah's names. As stated in Al-Mirqat. Some people confuse amulets (ta'wiz) with talismans (tamimah), but they are different. Talismans are beads, while amulets are permissible if they contain Quran or Allah's names. Al-Zayla'i said: Some people confuse ruqya (healing recitations) with talismans, which were strings tied around necks or arms in pre-Islamic times to supposedly ward off harm - this is prohibited and considered disbelief. In Al-Mujtaba: There are differences regarding healing with Quran - whether by reciting over the sick, writing and hanging it, or washing the writing and drinking it. The Prophet (ﷺ) used to seek refuge for himself, and people today follow this practice based on authentic narrations. There is no harm in women or menstruating women wearing amulets on their arms if properly wrapped. In Al-Khaniya: A woman wanted to wear an amulet to make her husband love her - this is prohibited. Writing religious texts during non-Islamic festivals or nailing them to doors is disliked as it disrespects Allah's name. [Summarized from Al-Durr al-Mukhtar]
Note 1
قوله
(۱) قوله: من همزات الشياطين إلخ فيه دليل على أن الفزع إنما هو من الشيطان. قاله في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: ثم علقها في عنقه هذا أصل في تعليق التعويذات التي فيها أسماء الله تعالى. كذا في «المرقاة»، وفي. «المغرب»: وبعضهم يتوهم أن المعاذات هي التمائم، فليس كذلك، إنما التميمة الخرزة، ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن أو أسماء الله تعالى. وقال الزيلعي : ثم الرتيمة قد تشتبه بالتميمة على بعض الناس، وهي خيط كان يربط في العنق أو في اليد في الجاهلية لدفع المضرة عن أنفسهم على زعمهم، وهو منهي عنه، وذكر في حدود الإيمان أنه كفر. وفي المجتبى»: اختلف في الاستشفاء بالقرآن، بأن يقرأ على المريض أو الملدوغ الفاتحة أو يكتب في ورق ويعلق عليه أو في طست ويغسل ويسقى. وعن النبي الله أنه كان يُعوّذ نفسه، قال : وعلى الجواز عمل الناس اليوم، وبه وردت الآثار، ولا بأس بأن يشد الجنب والحائض التعاويذ على العضد إذا كانت ملفوفة. وفي الخانية: امرأة أرادت أن تضع تعويذا ليُحبها زوجها ذكر في الجامع الصغير : أن ذلك حرام لا يحل، وفيها: يكره كتابة الرقاع في أيام النيروز والزاقها بالأبواب؛ لأن فيه إهانة اسم الله تعالى واسم نبيه عليه ، رد المحتار» ملتقط منه.
Note 1
ف: واضح ہو کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دعاء کو کاغذ کے پرچہ پر لکھ کر بچوں کے گلے
میں لٹکاتے تھے۔ یہ حدیث تعویذ کے جواز کی دلیل ہے۔ اور روضہ میں لکھا ہے کہ دم کرنے یا کسی پر دعاء
پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں بشرطیکہ اس میں شرک کے الفاظ نہ ہوں اور جن حدیثوں میں تعویذ منع ہے
وہ اس بات پر محمول ہے کہ اس میں شرک کے مضامین ہوں اس پر بھروسہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ سے غافل
ہو جائے۔ تعویذ کے مختلف طریقے سلف سے مروی ہیں پانی پر دم کر کے مریض کو پلانا یہ حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ اور حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ قرآن کی آیتوں کو کسی برتن پر
لکھ کر بیمار کو دھو کر پلا دیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے درد زہ میں
آیتوں کو دھو کر پلانے کا حکم دیا ہے اور حضرت سعید بن المسیب رحمتہ اللہ علیہ نے آیتوں کو لکھ کر عورتوں یا
بچوں کے گلوں میں لٹکانے میں قباحت نہیں بتائی بشرطیکہ اس کو چاندی یا چمڑے میں بند کر دیا جائے 12
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعاء بھی فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میں ان کاموں کی برائی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جن کو میں نے کیا ہے اور ان
کاموں کی برائی سے بھی پناہ مانگتا ہوں جن کو میں نے نہیں کیا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
شُتَیر بن شکل بن حمید رحمتہ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے
والد نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ مجھے ایک ایسا عمل
سکھایئے جس سے میں اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا رہوں تو آپ نے فرمایا تم یہ دعا پڑھا کرو:
یا الٰہی! میں اپنے کانوں کے برا سننے سے آنکھوں کے برا دیکھنے سے، زبان کے برا بولنے
سے، دل کی برائیوں سے اور مادہ منویہ کی برائی (یعنی بدنگاہی اور بدفعلی) سے آپ کی پناہ میں آتا
ہوں۔ اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے والد سے (ان کے اسلام لانے سے پہلے) دریافت فرمایا: اے
حصین! تم دن میں کتنے خداؤں کی عبادت کرتے ہو؟ میرے والد نے جواب دیا: سات (خداؤں
کی عبادت کرتا ہوں) چھ زمین والے اور ایک آسمان والا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر
دریافت فرمایا: تو ان میں سے کس سے (بھلائی کی) امید رکھتا ہے اور ڈرتا ہے؟ میرے والد نے
جواب دیا: میں (امید اور خوف) آسمان والے سے رکھتا ہوں! (یہ سن کر) آپ نے فرمایا: اے
حصین! اگر تو اسلام قبول کر لیتا تو میں تجھ کو دو ایسے کلمے سکھاتا جو تجھے (دنیا اور آخرت میں) فائدہ
دیتے۔ حضرت عمران نے فرمایا جب (میرے والد) حصین نے اسلام قبول کیا تو عرض کیا: یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے وہ کلمات سکھایئے جن کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا۔ تو آپ نے
فرمایا یوں کہا کرو۔
یا الٰہی! مجھے ہدایت کی توفیق دیجئے اور مجھے میرے نفس کے شر سے بچایئے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے تین مرتبہ جنت طلب کرے تو جنت کہتی
ہے ”یا الٰہی تو اس کو جنت میں داخل کر دے“۔ اور جو شخص تین مرتبہ (اللہ تعالیٰ سے) دوزخ کی پناہ
مانگے تو دوزخ کہتی ہے ”الٰہی! تو اس کو دوزخ سے پناہ دے“۔
اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement "the Jews would have turned me into a donkey" means they would have made me foolish and humiliated. The meaning is that they were sorcerers who were angered by my Islam. Were it not for my seeking refuge with these words, they would have overpowered me, subdued me, and made me foolish and humiliated like a donkey - which is a metaphor for humiliation. It does not mean they actually transformed him, as transforming realities is only in Allah's power, as He says: "Be as apes, despised" (2:65), and "It seemed to him from their magic that their ropes and staffs were moving" (20:66). This shows the extent of their magic, which was the pinnacle of what sorcerers could achieve in Pharaoh's time while seeking his wealth and status. If they could have done more, they would have done so against Moses. If they couldn't do it against Moses, how could they do it against the best of creation who manifested truth? As Al-Bayhawi said: Magic refers to what is achieved through seeking help from Satan in matters beyond human capability. If Satan cannot transform himself into a donkey, let alone others, how could those who seek his help transform realities? As for the statement in Al-Madarik: "Magic has reality according to Ahl al-Sunnah (may Allah increase them) and is illusion according to Mu'tazilah (may Allah disgrace them)", it means magic is real and occurs, not that it is false illusion like seeing one thing as two or hallucinations from brain disorders. This is evidenced by the Quran and Sunnah, including the verses: "They teach people magic" (2:102), "And from the evil of those who blow on knots" (113:4), which refers to the famous Jewish magic. The consensus of Ahl al-Sunnah and Mu'tazilah against actual transformation, along with reason and the absence of such occurrences in creation, proves its impossibility. Claims of witnessing such are false tales told in coffee shops and believed by foolish women and weak-minded men.
Note 1
(۱) قوله:لجعلتني يهود حمارا: أي بليدا ذليلا، والمعنى: أنهم سَحَرَة، وقد أغضبهم إسلامي، فلولا استعاذتي بهذه الكلمات لتمكنوا مني، وغلبوا علي، وجعلوني بليدا، وأذلوني كالحمار؛ فإنه مثل في الذلة، لا أن اليهود سَحَرَته، ولولا استعاذتي بهذه الكلمات لتمكنوا من أن يقلبوا حقيقتي؛ لأن قلب الحقائق ليس إلا الله، كما قال تعالى: ﴿كُونُوا قردة (البقرة: ٦٥)، وقال: ﴿يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى () (طه: (٦٦) . فهذا يدل على غاية سحرهم الذي أجمع عليه كيد السحرة في زمان فرعون الطامعين على مال فرعون وجاهه، فلو كان في قدرتهم شيء أزيد من هذا لفعلوه في حق موسى ، فإذا لم يقدروا في حقه، فكيف يجوز أن يقدروا على سيد الخلق مظهر الحق أن يقلبوا حقيقته؛ ولذا قال البيضاوي والمراد بالسحر ما يستعان في تحصيله بالتقرب إلى الشيطان مما لا يستقل به الإنسان، فإذا كان ليس للشيطان أن يجعل نفسه حمارا حقيقة فضلا عن غيره، فكيف للمتوسل إلى قربه أن يقلب الحقيقة. وأما قول صاحب المدارك»: وللسحر حقيقة عند أهل السنة - كثرهم الله تعالى - وتخييل وتمويه عند المعتزلة - خذلهم الله - فمعناه: قوله : السحر حق أي ثابت واقع، لا أنه خيال فاسد، كرؤية الأحوال شيئًا واحدا شيئين، وكتخيل الأشياء عند خلل الدماغ، وحصول الأفكار الفاسدة؛ لما يدلُّ عليه الكتاب والسنة من قوله تعالى: يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ (البقرة: (۱۰۲) وقوله: ﴿فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ﴾ (البقرة: (۱۰۲) وقوله عَزَّ وَجَلَّ: وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ( (الفلق : ٤) كما هو مشهور في سحر اليهود له ، ومما يدلُّ على بطلان قلب الحقائق بعد إجماع أهل السنة، والمعتزلة على خلافه أنه لم يقع مثل هذا أبدا في الكون، ويدل على بطلانه النقل والعقل ودعوى المشاهدة باطلة؛ إذ هي مجرد حكاية فاسدة مما يستمرها الناس ويحكونها في بيوت القهوة، وتجوز في عقول النساء وبعض الرجال ممن سخف عقله وسخف قلبه، والله المستعان، وعليه التكلان. المرقاة» ملتقط منه.